تشہد، تعوذاور سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انورنے سورۃ البقرہ کی آیت 187کی تلاوت فرمائی اورترجمہ پیش فرمایا:
ترجمہ :اور جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق سوال کریں تو یقیناً مَیں قریب ہوں۔ مَیں دعا کرنے والے کی دعا کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔ پس چاہئے کہ وہ بھی میری بات پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ ہدایت پائیں۔
پھر فرمایا:اللہ تعالیٰ نے یہ آیت روزوں کے احکام کے ساتھ رکھی ہے، بلکہ کہہ سکتے ہیں کہ بیچ میں رکھی ہے۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ رمضان کا دعاؤں کے ساتھ خاص تعلق ہے۔ رمضان میں اللہ تعالیٰ کی ایک خاص پیار کی نظر اپنے بندوں پر ہوتی ہے۔ یوں تو عام دنوں میں بھی اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر پیار کی نظر ہوتی ہے۔ رسول اللہﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مَیں اپنے بندے کے گمان کے مطابق اس سے سلوک کرتا ہوں جس وقت بندہ مجھے یاد کرتا ہے مَیں اس وقت اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ اگر وہ مجھے دل میں یاد کرے تو مَیں دل میں اسے یاد کرتا ہوں۔ اگر وہ میری طرف چل کر آئے تو مَیں اس کی طرف دوڑ کر جاؤں گا۔پس اللہ تعالیٰ تو عام حالات میں بھی بندے سے ایسا سلوک فرماتا ہے تو رمضان میں خدا کتنا مہربان ہوگا اس کا ہم اندازہ بھی نہیں کرسکتے۔ مگر شرط یہ ہےکہ یہ سب باتیں دل کی گہرائی سے ہوں ۔
آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بڑا حیا والا بڑا کریم اور سخی ہے۔ جب بندہ اپنے دونوں ہاتھ اس کی طرف بلند کرتا ہے تو وہ اسے خالی اور ناکام واپس کرتے ہوئے شرماتا ہے۔پس ہم بعض دفعہ جلد بازی سے کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے دعا مانگی مگر دعا قبول نہ ہوئی۔ لیکن اپنی حالت کو نہیں دیکھتے کہ کتنا صدقِ دل ہے۔ اللہ تعالیٰ کو دھوکانہیں دیا جاسکتا۔ وہ تو ہمارے دل کا حال جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے کھلے در میں داخل ہونے کیلئے اسکے لوازمات پورے کرنے ہوں گے۔اس آیت میں جو فرمایا کہ میرے بندے تو اس سے مراد ہے کہ وہ بندے جو حقیقت میں اللہ تعالیٰ کا عبد بننا چاہتے ہیں۔ رمضان میں اس کام کیلئے خاص ماحول میسر ہے۔ جب اس ماحول سے فائدہ اٹھاکر ایسی حالت ہوگی تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے ایسے بندوں اور مجھ سے عشق کرنے والوں کو کہہ دو کہ میں دعائیں سنتا ہوں اور ان کا جواب بھی دیتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا ہیکہ صرف زبانی محبت کے دعوے کافی نہیں بلکہ تمہیں میرے احکامات پر چلنا پڑے گا۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے ہوں گے۔ ایمان میں مضبوطی پیدا کرنی ہوگی۔
حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے دعا کی حقیقت، حکمت، قبولیت اور اس کی فلاسفی بڑی تفصیل کیساتھ بیان فرمائی ہے۔ آپؑفرماتے ہیں خدا کے وجود پر دلیل کیا ہے؟ تو اس کا یہ جواب ہے کہ مَیں بہت نزدیک ہوں۔ یعنی کچھ بڑے دلائل کی حاجت نہیں ہے۔ میرا وجود نہایت اقرب طریق سے سمجھ آسکتا ہے اور نہایت آسانی سے میری ہستی پر دلیل پیدا ہوتی ہے اور وہ دلیل یہ ہے کہ جب کوئی دعا کرنے والا مجھے پکارے تو مَیں اسکی پکارکو سنتا ہوں۔آپ ؑمزید فرماتے ہیں کہ اگر سوال ہو کہ خدا کا علم کیونکر ہو تو جواب یہ ہے کہ اسلام کا خدا بہت قریب ہے۔ اگر کوئی اسے سچے دل سے بلاتا ہے تو وہ جواب دیتا ہے۔ دوسرے فرقوں (یعنی مذاہب) کے خدا قریب نہیں ہیں۔ بلکہ اس قدر دُور ہیں کہ ان کا پتا ہی ندارد۔فرمایا: اگر یہ کہو کہ ہم پکارتے ہیں مگر جواب نہیں ملتا تو دیکھو! اگر تم ایک جگہ کھڑے ہوکر ایک ایسے شخص کو جو تم سے بہت دُور ہے پکارتےہو اورتمہارے اپنےکانوں میں کوئی نقص ہے۔ اللہ تعالیٰ جواب دے بھی دے تو کیونکہ تمہارے ایمان میں مضبوطی نہیں ہے تمہاری محبت میں کمی ہے اسکی باتوں پہ عمل نہیں کر رہے یہ بہرا پن تمہارے کانوں کا ہے جس کی وجہ سے تم اس کی آواز کو سن نہیں سکتے۔
فرمایا: دعا خدا تعالیٰ کی ہستی کا بہت بڑا ثبوت ہے۔ دعا بڑی دولت اور طاقت ہے۔ انبیاء علیہم السلام کی زندگی کی جڑ اور ان کی کامیابی کی اصل اور سچا ذریعہ یہی دعا ہے۔ فرمایا:مَیں نصیحت کرتا ہوں کہ اپنی ایمانی اور عملی طاقت کو بڑھانے کے واسطے دعاؤں میں لگے رہو۔ دعاؤں کے ذریعے سے ایسی تبدیلی ہوگی کہ خاتمہ بالخیر ہوجائے گا۔دعا کی معرفت کی حقیقت کے متعلق آپ ؑ فرماتے ہیں معرفت فضل کےذریعےسےحاصل ہوتی ہے اورپھرفضل کےذریعےسےہی باقی رہتی ہے۔فضل معرفت کو نہایت مصفیٰ اور روشن کردیتا ہے۔یہ خیال مت کرو کہ ہم بھی ہر روز دعا کرتے ہیں اور تمام نماز دعا ہی ہے ۔ کیونکہ وہ دعا جو معرفت کے بعد اور فضل کے ذریعے سے حاصل ہوتی ہے وہ اَور رنگ اور کیفیت رکھتی ہے۔ وہ فنا کرنے والی چیز ہے، وہ گداز کرنے والی آگ ہے، وہ رحمت کو کھینچنے والی ایک مقناطیسی کشش ہے۔ وہ موت ہے مگر آخر کو زندہ کرتی ہے۔دعا خدا سے آتی ہےاورخدا کی طرف ہی جاتی ہے۔دعا سے خدا ایسا نزدیک ہوجاتا ہے جیسا کہ تمہاری جان تمہارے نزدیک ہے۔فرمایا: اللہ جل شانہٗ نےجودروازہ اپنی مخلوق کی بھلائی کیلئے کھولا ہے وہ ایک ہی ہے یعنی دعا۔ جب کوئی شخص بکا و زاری سے اس دروازے میں داخل ہوتا ہے تو وہ مولا کریم اس کو پاکیزگی اور طہارت کی چادر پہنا دیتا ہےاوراپنی عظمت کاغلبہ اس پراسقدرکردیتا ہےکہ بےجا کاموں اورناکارہ حرکتوں سےوہ کوسوں بھاگ جاتا ہے۔
حضورانور نے فرمایا یعنی وہ شخص صرف دنیاوی باتوں کیلئے دعا نہیں کرتا بلکہ تقویٰ اور طہارت کے حصول کیلئےدعاکرتاہے اور یہی ایک مومن کی نشانی ہے۔پھر دعا کی گہرائی کو مزید کھولتے ہوئے آپؑایک جگہ مزید فرماتے ہیں کہ حصولِ فضل کا اقرب طریق دعا ہے اور دعائے کامل کے لوازمات یہ ہیں کہ اس میں رقّت ہو، اضطراب ہو، گدازش ہو۔ جو دعا عاجزی ،اضطراب اور شکستہ دلی سے بھری ہوئی ہو وہ خدا تعالیٰ کے فضل کو کھینچ لاتی ہے۔فرمایا:یہ بھی خدا تعالیٰ کے فضل کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا۔ اسکا علاج یہی ہے کہ دعا کرتا رہے خواہ کیسی ہی بے دلی اور بےذوقی ہوجائے۔فرمایا: جو رات کو اٹھتا ہے خواہ کتنی ہی عدمِ حضوری اور بےصبری ہو لیکن اگر وہ اس حالت میں بھی دعا کرتا ہے کہ الٰہی! دل تیرے ہی قبضہ و تصرف میں ہے تُو اس کو صاف کردے اور عین قبض کی حالت میں خدا تعالیٰ سے بسط چاہتا ہے تو اس قبض میں سے بسط نکل آئے گا اور رقت پیدا ہوجائے گی۔ وہ دیکھے گا کہ اس وقت روح آستانہ الٰہی پر پانی کی طرح بہتی ہے۔فرمایا:دعا ایک ایسی چیز ہے جو ہر مشکل کو آسان کر دیتی ہے۔ لوگوں کو دعا کی قدر و قیمت معلوم نہیں وہ بہت جلد ملول ہوجاتے ہیں اور ہمت ہار کر چھوڑ بیٹھتے ہیں حالانکہ دعا ایک استقلال اور مداومت کو چاہتی ہے۔ اسکے واسطے اخلاص اور مجاہدہ شرط ہے جو دعا ہی سے پیدا ہوتا ہے۔
حضورِ انورنےفرمایا کہ اس کیلئے ہمیں اپنےدل کوٹٹولنےکی ضرورت ہےکہ کیایہ اخلاص اور مجاہدہ کی حالت ہم میں پیدا ہوگئی ہے یا ہم پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ پھر دعا کی فلاسفی بیان کرتے ہوئے حضور ؑ فرماتے ہیں: انسان کو چاہئے کہ اس زندگی کو اس قدر قبیح خیال کرکے اس سے نکلنے کی کوشش کرے اور دعا سے کام لے کیونکہ جب وہ حقِ تدبیر ادا کرتا ہے اور پھر سچی دعاؤں سے کام لیتا ہے تو آخر اللہ تعالیٰ اس کو نجات دے دیتا ہے اور وہ گناہ کی زندگی سے نکل آتا ہے کیونکہ دعا بھی کوئی معمولی چیز نہیں ہے بلکہ وہ بھی ایک موت ہی ہے۔ جب اس موت کو انسان قبول کرلیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو مجرمانہ زندگی سے جو موت کا موجب ہے بچا لیتا ہے اور اس کو ایک پاک زندگی عطا کرتا ہے۔فرمایا:پس چاہئے کہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر نہایت تضرع اور زاری اورابتہال کیساتھ خدا تعالیٰ کے حضور اپنی مشکلات کو پیش کرے اور اس دعا کو اس حد تک پہنچاوے کہ ایک موت کی سی صورت واقع ہوجاوے اسوقت دعا قبولیت کے درجے کو پہنچتی ہے۔
فرمایا: یہ بھی یاد رکھو کہ سب سے اوّل اور اہم بات یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو گناہوں سے پاک صاف کرنے کی دعاکرے۔ساری دعاؤں کا اصل اور جز ویہی ہےکیونکہ جب یہ دعا قبول ہوجائے اور انسان ہر قسم کی گندگیوں اور آلودگیوں سے پاک صاف ہوکر خداتعالیٰ کی نظر میں مطہر ہوجائے گا تو پھر دوسری دعائیں جو اس کی حاجاتِ ضروریہ کے متعلق ہوتی ہیں وہ اس کو مانگنی بھی نہیں پڑتیں اور وہ خود بخود پوری ہوجاتی ہیں۔دعا کی قبولیت کیلئے کیا حالت ہونی چاہئے اسکے متعلق آپؑفرماتے ہیں دعا کے اندر قبولیت کا اثر اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وہ انتہائی درجے کے اضطرار تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ چھوٹی سی بات نہیں ہے بلکہ عظیم الشان حقیقت ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ جسکو خدائی کا جلوہ دیکھنا ہو اسے چاہئے کہ دعا کرے۔
حضورِانور نے فرمایا: ہمیں ان دنوں میں جبکہ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر یہ برکت کا مہینہ ہمارے لیے مہیا فرمایا ہےاپنےاندرپاک تبدیلیاں پیداکرتے ہوئے دعاؤں کی طرف توجہ دینی چاہئے۔یہی ہماری دنیا و آخرت سنوارنے کا ذریعہ ہے۔رمضان کا آخری عشرہ ہے اس میں خاص طور پر ہمیں اللہ تعالیٰ کے حکموں کو اپنا لائحہ عمل بناتے ہوئے ایمان میں مضبوط ہوتے ہوئے راتوں کو اٹھ کر اسکے حضور میں جھک کر اسکے قرب کو پانے کی کوشش کرنی چاہئے۔
آخر پرحضور انور نےفرمایا:رمضان کی دعاؤں میں خاص طور پر جماعت کی ترقی کیلئے دعائیں کریں، اسیران کیلئے دعائیں کریں اللہ تعالیٰ انکی رہائی کےسامان جلد پیدا فرمائے۔یمن کےاسیران کیلئے دعائیں کریں، خاص طور پر وہاں ایک خاتون کو قید میں ظالمانہ طور پر ایک تنگ سی کوٹھری میں رکھا ہوا ہے لیکن وہ بڑے صبراور ایمان کی پختگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہاں رہ رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی رہائی کےبھی سامان جلد پیدا فرمائے۔جو بد ظنیاں جماعت کے بارے میں ان مخالفین کےدلوں میں ہیں،اللہ تعالیٰ انہیں دور فرمائے۔فلسطینیوں کو بھی دعاؤں میں یاد رکھیں ۔ بظاہر تو یہ کہتے ہیں کہ بڑی تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں، لیکن حالات تو بد تر ہی ہورہے ہیں ۔ یو این کا ریزولوشن جو پاس ہوا ہے اسکے باوجود یہ ظلم اسی طرح جاری ہے۔ پس دعا ہی ہےکہ اللہ تعالیٰ ان مظلوموں کو ان ظالموں سے نجات دے اور ہمیں بھی ان مظلوموں کیلئے دعا کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ٭