اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-03-28

خلاصہ خطبہ جمعہ سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ22؍مارچ 2024ءبمقام مسجدمبارک (اسلام آباد)یو.کے

تشہد،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نےسورۃ البقرہ کی آیت 186کی تلاوت فرمائی اور ترجمہ پیش فرمانے کے بعد فرمایا:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے رمضان کے مہینے کی اہمیت اس حوالے سے بیان فرمائی ہے کہ اس مہینے میں قرآن اتارا گیا جو انسانوں کیلئے ایک عظیم ہدایت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کتاب میں تمام امور کا احاطہ کر کے، تمام ہدایات دے کر، انسان کے اللہ تعالیٰ کی طرف بڑھنے کے تمام راستے دکھا کر، شیطان کے تمام راستوں سے ہوشیار کر کے، موجودہ اور آئندہ آنے والے امور کی طرف رہنمائی کر کے، ان کے خطرات سے آگاہ کر کے، ان سے بچنے کے راستے دکھا کر، دہریت کا مقابلہ کرنے کے راستے دکھا کر، شرک سے ہوشیار کرنے اور اس سے بچنے کے طریقے سکھا کر، غرض کہ تمام امور جو موجودہ ہیں یا پرانے زمانے میں تھے یا آئندہ ہوں گے ان سب کو قرآن مجید میں بیان کر کے خدا تعالیٰ سے تعلق میں بڑھنے اور ہدایت پر قائم رہنے کے تمام راستے اس آخری کامل اور مکمل شریعت میں بیان کر دئیے ہیں۔ پس خوش قسمت ہیں وہ جو اس عظیم کتاب کو اپنا لائحہ عمل بنا کر اس پر عمل کریں اور اپنی دنیا و عاقبت سنوار لیں۔ سچائی کو پکڑلیں اور سچائی پر قائم ہو جائیں پھر اللہ تعالیٰ کے اپنے بندے سے پیار کے سلوک کے نظارے بھی دیکھیں گے۔
پس یہ ہے رمضان کے مہینے کی اہمیت ہےکہ اس مہینے میں اللہ تعالیٰ نے کامل شریعت ہم پر اتاری ہے اور اس کتاب میں ہمیں روزوں کی فرضیت اور عبادتوں کے طریقے بھی سکھائے۔ اگر ہم صرف یہ سمجھیں کہ رمضان کے مہینے کی اہمیت صرف اتنی ہے کہ اس میں روزے فرض کر دئیے اور قرآن کریم نازل کر دیا تو کافی نہیں ہے جب تک ہم اس کامل ہدایت کے بارے میں ادراک حاصل نہ کریں اور پھر اسے اپنی زندگی کا لائحہ عمل نہ بنائیں۔ پس اس کیلئے ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب اور تفاسیر بھی پڑھنے کی ضرورت ہے تا کہ اس عظیم کلام اور ہدایت کو سمجھ کر ہم اس پر عمل کر سکیں۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں جو قرآن کریم کے حوالے سے خزانہ عطا فرمایا ہے اسے پڑھنا اور اس پر عمل کرنا اسے اپنی زندگیوں کا حصہ بنانا بھی انتہائی اہم ہے جس کے بغیر ہمارا ایمان مکمل نہیں ہو سکتا۔ پس اس کی طرف ہمیں خاص توجہ کرنی چاہئے۔ رمضان میں روزے رکھنے یا فرض نمازیں باقاعدگی سے ادا کرنے یا کچھ نوافل پڑھ لینے سے رمضان کا حق ادا نہیں ہوتا بلکہ قرآن کریم کو پڑھنے اور اسکے احکامات تلاش کر کے اس پر عمل کرنا بھی انتہائی ضروری ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے قرآن کریم کا ادراک حاصل کرنے اور اس سے فیض پاتے ہوئے اسکی برکات حاصل کرنے کے راستے دکھانے کیلئے بیشمار ارشادات اور تحریرات ہمارے لئے چھوڑی ہیں جن کو پڑھ کر اور عمل کر کے ہم حقیقی رنگ میں قرآن کریم سے فیض اٹھانے والے بن سکتے ہیں۔
حضور انور نے فرمایا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات پیش کرنے سے پہلے قرآن کریم کی تلاوت کی اہمیت کے بارے میں بتا دوں کہ یہ بھی انتہائی ضروری ہے کہ رمضان میں کم از کم ایک سیپارہ روزانہ تلاوت کرنی چاہئے تا کہ رمضان میں قرآن کریم کا ایک دور مکمل ہو جائے۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو رمضان میں نازل شدہ قرآن کریم کا ایک دور مکمل کروایا کرتے تھے اور آخری سال میں مکمل قرآن کریم کا دو مرتبہ دور مکمل کیا۔ پس قرآن کریم کی تلاوت کی اہمیت کو ہر ایک کو اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْہِ الْقُرْاٰنُ سے رمضان کی عظمت معلوم ہوتی ہے ۔ صوفیاء نے لکھا ہے کہ یہ ماہ تنویرِ قلب کیلئے عمدہ مہینہ ہے۔ کثرت سے اس میں مکاشفات ہوتے ہیں۔ صلوۃ تزکیہ نفس کرتی ہے اور صوم تجلی قلب کرتا ہے۔ تزکیہ نفس سے مرا دیہ ہے کہ نفس امارہ کی شہوات سے بُعد حاصل ہواور تجلی قلب سے یہ مراد ہے کہ کشف کا دروازہ اس پر کھلے کہ خدا کو دیکھ لیوے۔
پھر قرآن کریم کے پڑھنے اور سمجھنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک جگہ فرماتے ہیں۔
مَیں نے قرآن کے لفظ میں غور کی تب مجھ پر کھلا کہ اس مبارک لفظ میں ایک زبر دست پیش گوئی ہے۔ وہ یہ ہے کہ یہی قرآن یعنی پڑھنے کے لائق کتاب ہے اور ایک زمانہ میں تو اور بھی زیادہ پڑھنے کے لائق کتاب ہو گی جبکہ اور کتابیں بھی اس کے ساتھ پڑھنے میں شریک ہو جائیں گی۔ فرمایا اس وقت اسلام کی عزت بچانے کیلئے اور بطلان کا استیصال کرنے کیلئے یہی ایک کتاب پڑھنے کے قابل ہو گی اور دیگر کتابیں قطعا چھوڑ دینے کے لائق ہوں گی۔
میں کہتا ہوں درحقیقت یہی ایک ہتھیار ہے جو اب بھی کارگر ہے اور ہمیشہ کیلئے کارگر ہو گا اور پہلے بھی قرن اولیٰ میں یہی ایک حربہ تھا جو خود حضور سرور عالم علیہ الصلوۃ والسلام اور صحابہ کے ہاتھ میں تھا۔ مبارکی اور صد ہزار مبارکی ہے اس قوم کو جو اس کے اختیار کرنے اور اسی یگانہ کتاب کو اپنا مایہ ایمان قرار دینے میں ذرا بھی تردد اور تذبذب میں نہیں پڑی۔ بڑے جوش اور خوشی سے آگے بڑھ کر اس فرقان اور نور کو لبیک کہا۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک جگہ فرماتے ہیں: کس قدر ظلم ہے کہ اسلام کے اصولوں کو چھوڑ کرقرآن کو چھوڑ کر جس نے ایک وحشی دنیا کو انسان اور انسان سے باخدا انسان بنایا ایک دنیا پرست قوم کی پیروی کی جائے۔جو لوگ اسلام کی بہتری اور زندگی مغربی دنیا کوقبلہ بناکے چاہتے ہیں وہ کامیاب نہیں ہو سکتے۔کامیاب وہی لوگ ہوں گے جو قرآن کریم کے ماتحت چلتے ہیں۔اور یہ دنیا کی کامیابی بھی ہے اور دین کی کامیابی بھی ہے اور آخرت کی کامیابی بھی ہے۔ دنیادار تو صرف دنیاوی کامیابیوں پہ انحصار کرتے ہیں اگر ہر قسم کی کامیابی لینی چاہئے تو قرآن کریم میں ملے گی۔ فرمایا قرآن کو چھوڑ کر کامیابی ایک ناممکن اور محال امر ہے اور ایسی کامیابی ایک خیالی امر ہے جس کی تلاش میں یہ لوگ لگے ہوئے ہیں۔ صحابہ کے نمونوں کو اپنے سامنے رکھو۔ دیکھو انہوں نے جب پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی اور دین کو دنیا پر مقدم کیا تو وہ سب وعدے جو اللہ تعالیٰ نے ان سے کئے تھے پورے ہو گئے۔ ابتدا میں مخالف ہنسی کرتے تھے کہ باہر آزادی سے نکل نہیں سکتے اور بادشاہی کے دعوے کرتے ہیں۔ آپ تو یہ حال ہے چھپ کے عبادتیں کر رہے ہیں اور کہتے ہیں ہم بادشاہ بنیں گے۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں گم ہو کر وہ پایا جو صدیوں سے ان کے حصے میں نہ آیا تھا۔ وہ قرآن کریم اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتے تھےاور انہی کی اطاعت اور پیروی میں دن رات کوشاں تھے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :یاد رکھو قرآنِ شریف حقیقی برکات کا سرچشمہ اور نجات کا سچا ذریعہ ہے۔ یہ ان لوگوں کی اپنی غلطی ہے جو قرآنِ شریف پر عمل نہیں کرتے۔ عمل نہ کرنے والوں میں سے ایک گروہ تو وہ ہے جس کو اس پر اعتقاد ہی نہیں اور وہ اس کو خدا تعالیٰ کا کلام ہی نہیں سمجھتے۔ یہ لوگ تو بہت دور پڑے ہوئے ہیں لیکن وہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں کہ وہ خداتعالیٰ کا کلام ہے اور نجات کا شفابخش نسخہ ہے اگر وہ اس پر عمل نہ کریں تو کس قدر تعجب اور افسوس کی بات ہے۔ ان میں سے بہت سے تو ایسے ہیں جنہوں نے ساری عمر میں کبھی اسے پڑھا ہی نہیں۔ پس ایسے آدمی جو خدا تعالیٰ کی کلام سے ایسے غافل اور لاپرواہ ہیں ان کی ایسی مثال ہے کہ ایک شخص کو معلوم ہے کہ فلاں چشمہ نہایت مصفیٰ اور شیریں اور خنک اور اس کا پانی بہت سے امراض کے واسطے اکسیر اور شفا ہے یہ علم اس کو یقینی ہے لیکن باوجود اس علم کے اور باوجود پیاسا ہونے کے اور بہت سی امراض میں مبتلا ہونے کے وہ اسکے پاس نہیں جاتا ۔
فرمایا: یقیناً یاد رکھو کہ جو شخص سچے دل سے اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے اور اس کی پاک کتاب پر عمل کرتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو لا انتہا برکات سے حصہ دیتاہے۔ ایسی برکات اسے دی جاتی ہیں جو اس دنیا کی نعمتوں سے بہت ہی بڑھ کر ہوتی ہیں۔ ان میں سے ایک عفو گناہ بھی ہےکہ جب وہ رجوع کرتا اور توبہ کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کے گناہ بخش دیتا ہے۔ دوسرے لوگ اس نعمت سے بالکل بے بہرہ ہیں اس لئے کہ وہ اس پرا عتقاد ہی نہیں رکھتے کہ توبہ سے گناہ بھی بخشے جایا کرتے ہیں۔
قرآن کریم کے کامل کتاب ہونے کے متعلق آپؑ فرماتے ہیں:مَیں قرآن اور احکام قرآنی کی خدمت اور آنحضرتﷺ کے پاک مذہب کی خدمت کے واسطے کمر بستہ ہوں اور جان تک میں نے اپنی اس راہ میں لگادی ہے اورمیرا یقین کامل ہے کہ قرآن کے سواجو کامل اکمل اورمکمل کتاب ہے اوراسکی پوری اطاعت اور بغیر آنحضرت ﷺ کی پیروی کے نجات ممکن ہی نہیں اورقرآن میں کمی بیشی کرنے والے آنحضرت ﷺ کی اطاعت کا جوا اپنی گردن سے اتار نے والے کو کافر اورمرتد یقین کرتا ہوں۔
حضور انور نے فرمایا: پس یہ ان سارے سوالوں کا جواب ہے جو ہم پر الزام لگائے جاتے ہیں۔ پھر فرمایا قرآن کریم کی تعلیم سے نجات کی راہ اور نور ملتا ہے۔ فرمایا اس کے علاوہ اور کوئی کتاب ہے ہی نہیں جو یہ نور دے سکے اور ہدایت دے سکے فرماتے ہیںسچا رہنما قرآن شریف ہے اور اس کی پیروی اسی جہان میں نجات کے انوار دکھلاتی ہے اور سعادت عظمی تک پہنچاتی ہے۔
بعد ازاں حضور انور نے فلسطینیوں کیلئے، پاکستان اور یمن کے اسیران راہ مولیٰ کیلئے اور پاکستان کے احمدیوں کیلئےدعا کی تحریک فرمائی ۔
خطبہ جمعہ کے آخر پر حضورانور نے درج ذیل مرحومین کا ذکیر خیر فرمایابلندی درجات کیلئے دعا کی اور جمعہ کے بعد ان کی نماز جنازہ غائب پڑھانے کا اعلان فرمایا۔ مکرم ڈاکٹر ظہیر الدین منصور احمد صاحب آف امریکہ ، مکرم حسن عابدین آغا صاحب آف سیریاحال کینیڈا، مکرم عثمان حسین محمد خیر صاحب آف سعودی عرب ،مکرم محمد ظہرابی صاحب آف الجزائر،مکرم سعید احمد وڑائچ صاحب آف ربوہ ،مکرم شہباز گوندل صاحب آف ربوہ حال ہالینڈ ۔
…٭…٭…٭…