تشہد،تعوذ اورسورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِانور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:
اللہ تعالیٰ کے ارشاد اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر چلتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زندگی میں ہمیں غریب پروی اور جود وسخا کے بہت سے واقعات ملتے ہیں۔
آپؑ کے دعویٰ کے اعتبار سے ہی نہیں بلکہ آپؑ کی زندگی کے ابتدائی حصے اور جوانی کی عمر میں بھی ہمیں آپؑ کے اعلیٰ اخلاق کے واقعات ملتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی جس ماں کی گود میں پرورش فرمائی ان کی زندگی کو بھی ہم دیکھتے ہیں تو وہاں بھی ہمیں غریب پروری اور جُودو سخا کے واقعات ملتے ہیں گویا آپؑ نے ایک ایسی ماں کی گودمیں پرورش پائی جنہوں نے آپؑ کو اعلیٰ اخلاق بھی سکھائے۔
حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحبؓتحریر کرتے ہیں کہ حضرت مائی چراغ صاحبہ یعنی والدہ ماجدہ حضرت اقدس علیہ السلام کا خاندان موضع آئمہ ضلع ہوشیار پور میں ایک معزز اور صحیح النسب مغل خاندان تھا۔آپ کی طبیعت میں جُودو سخا اور مہمان نوازی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی ۔ایک عفت و عصمت کی دیوی خاتون میں جو صفات عالیہ ہونی چاہئیں وہ آپ میں موجود تھیں ۔وہ ہمیشہ بشاش اور متین حالت میں رہتی تھیں۔مہمان نوازی کے لیے ان کے دل میں نہایت جوش اور سینے میں وسعت تھی۔اگر ان کو اطلاع ملتی کہ چار آدمیوں کے لیے کھانا بھیجیں تو جب کھانا جاتا تو آٹھ سے بھی سے زائد لوگوں کے لیے ہوتا۔اپنے شہر کے غرباءاور ضعفاء کا خصوصیت سے خیال رکھتی تھی اور ان کے معمولات میں ایک یہ خاص بات تھی کہ غرباءکے مُردوں کو کفن ان کے ہاں سے ملتاتھا۔
حضرت میاں اللہ یار صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ جس وقت حضورؑ سیالکوٹ میں ملازم تھے ایک دفعہ حضورؑ کے لیے حضور ؑکی والدہ نے دو پوشاکیں یعنی کپڑے اور کچھ پنیاں ایک شخص منگل حجام کے ساتھ روانہ کیں۔ اس نے بتایاجب مَیں یہ چیزیں لے کر سیالکوٹ گیا اور حضورؑ کے آگے رکھ دیں تو حضور علیہ السلام نے فرمایا:جو تیرے حصے میں آتا ہے تم لے لو اور جو میرا حصہ ہے مجھے دے دو۔مَیں نے کہا کہ حضور! یہ آپ کے لیے ہیں ۔والدہ نے آپ کے لیے بھیجی ہے ۔ فرمایا کہ تم ساری چیزیں اتنی دور اٹھا کر لائے ہو تو اپنا نصف حصہ ضرور لے لو۔ خیر مجھے ایک پوشاک اور کچھ پنیاں دے دیں اور فرمایا کہ اماں جان کو جا کر کہنا کہ مجھے یہاں سے جلد واپس منگوا لیں میرا دل یہاں نہیں لگتا۔
حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓحضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کے حوالے سے کہ میں جب سیالکوٹ میں تھاان دنوں مجھے مالی حیات بی بی صاحبہ بنت فضل دینصاحب سے ملنے کا موقع ملا۔ مائی صاحبہ نے بتایا کہ حضرت صاحبؑ سیالکوٹ میں مقیم تھے وہ گھر میں کسی سے نہیں ملتے تھے اور
جو تنخواہ مرزا صاحبؑ کوملتی تھی وہ محتاجوں میں تقسیم کر دیتے ،کپڑے بنوا دیتے یا نقد دے دیتے اور اپنے لیے صرف کھانے کا خرچ رکھ لیتے ۔
ابتدائی زمانہ میں چونکہ آپؑ گوشہ نشین رہتے تھے اوریہی آپؑ کا رجحان تھا اس لیے اس قسم کے اخلاق کا ظہوربہت مخفی طور پر ہوتا تھا۔ لیکن جب خدا تعالیٰ نے آپؑ کو پبلک میں نکالااور لوگوں کی آمد کثرت سے ہونے لگی اورآپؑ کے حالات پبلک ہونے لگے تو ان واقعات کو دیکھنے والے اور بیان کرنے والے بھی پیدا ہو گئے ۔
آپؑ سائل کو کبھی رد نہ کرتے۔
حضرت مولانا عبد الکریم صاحبؓفرماتے ہیں کہ ایک دن ایسا ہوا کہ نماز عصر کے بعد آپؑ اٹھے اور مسجد کی کھڑکی میں اندر جانے کے لیے پاؤں رکھا ۔اتنے میں ایک سائل نے آہستہ سے کہا کہ مَیں سوالی ہوں۔ حضرت ؑکو اس وقت کوئی ضروری کام بھی تھا اور کچھ اس کی آواز دوسرے لوگوں کی آوازوں میں مل جل گئی تھی۔آپؑ اندر چلے گئے تو وہی دھیمی آواز نے آپؑ کے قلب پر نمایاں اثر کیا۔ آپؑ نے خلیفہ نور الدین صاحب ؓکو آواز دی کہ ایک سائل تھا اس کو دیکھو۔مگر وہ ڈھونڈنے سے نہ ملا۔شام کو نماز کے بعد آپؑ دوبارہ بیٹھے تو وہی سوالی پھر آگیا اور سوال کیا ۔ حضرت ؑنے بہت جلدی جیب سے کچھ نکالا اور اس کے ہاتھ میں رکھ دیا اور اب ایسا معلوم ہوا کہ آپؑ ایسے خوش ہوئے ہیں کہ گویا کوئی بوجھ آپ کے اوپر سے اتر گیا۔
قادیان سے چھ میل کے فاصلے پر سٹھیالی ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔وہاں سے ایک جٹ فقیر آیا کرتا تھا ۔وہ مسجد مبارک کی چھت کے نیچے آکر کھڑکی کے پاس آواز لگایا کرتا تھا ۔ غلام احمد!ایک روپیہ لینا ہے۔اور وہاں بیٹھ جاتا تھا۔اگر حضرت صاحبؑ مصروف ہوں تو ہر تھوڑی دیر کے بعد آوازیں لگاتا۔ اکثر لوگوں کو ناگوار معلوم ہوتا ۔اگر حضرت اقدس ؑکو معلوم ہو جاتا کہ کسی نے اس سے کچھ کہا ہے تو آپؑ ناپسند فرماتے اور ہنستے ہوئے اس کو روپیہ دے دیا کرتے تھے ۔
ایک فقیر نے ایک مرتبہ حضرت صاحبؑ کی خدمت میں آ کر سوال کیا کہ مَیں جنگل میں ایک کنواں لگوانا چاہتا ہوں۔وہاں مسافروں کو آرام ملے گا اور وہ پانی پیئیں گے ۔ حضرت صاحبؑ نے اس کو اس غرض کے لیے ۲۰۰؍روپیہ دے دیا کہ لوگوں کی خدمت کے لیے تم یہ کام کر رہے ہو مَیں پیسے دیتا ہوں ۔پس
خدمت خلق کا ناصر ف حکم دیا بلکہ عملی نمونہ بن کے دکھایا۔
حضرت عبد السمیع صاحبؓبیان کرتے ہیں کہ میاں شریف احمد صاحبؓ کا عقیقہ تھا اور مہمان خانے میں سب مہمان کھانا کھا رہے تھے کہ ایک فقیر مہمان خانے کے اندر مانگنے کے لیے آگیا ہے۔لوگ اس کو نکالنے لگے تو
حضورؑ نے فقیر کو خود کھانا پکڑایا اور لوگوں کو فقیر کے جھڑکنے سے منع کیا کہ کھانا کھانے آیا ہے، جھڑکنا نہیں۔
حضرت منشی ظفر احمد صاحبؓبیان کرتے ہیں ایک دفعہ ایک مولوی قادیان آیا اور حضورؑ سے بحث کرنے لگا۔وفات حیات عیسیٰ علیہ السلام پر گفتگو تھی۔حضورؑ نے اسے جواب دینا شروع کیا تو وہ خاموش ہو گیا۔آپؑ نے جب اس کو سمجھایا اور پوچھا کہ سمجھ گئے ہو تو اس نے انتہائی دریدہ ذہنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا میں سمجھ گیا ہوں کہ آپ دجال ہیں۔( نعوذ باللہ) کیونکہ دجال کی صفت ہے کہ وہ بحث میں دوسروں کو لاجواب کر دے گا۔آپؑ نے پھر کچھ نہیں فرمایا اور وہ چلا گیا ۔امرتسر جا کر اس نے ایک اشتہار چھپوایا اور یہ واقعہ بیان کر کے کہا کہ جب آپ اندر تشریف لے گئے تو میں نے ایک رقعہ بھیجا کہ میں ضرورت مند ہوں اور میرے ساتھ کچھ حسن سلوک فرمائیں۔ آپ نے فوراً ۱۵؍روپے بھیج دیے۔آپ بہت سخی ہیں۔اور آپ کے منہ پر بھی کوئی سخت لفظ کیا جائےتو آپ رنج نہیں کرتے۔
حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓلکھتے ہیں کہ ہمارے بڑے ماموں ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحبؓمرحوم نے میری تحریک پر حضرت مسیح موعود ؑکے اخلاق و اوصاف کے متعلق ایک مضمون لکھا تھا ۔اس مضمون میں فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام نہایت رؤوف و رحیم تھے، سخی،مہمان نواز تھے، اشجع الناس تھے، چشم پوشی ،فیاضی، خاکساری ،وفاداری، سادگی، عشق الٰہی، محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم، ادب بزرگان، ایفائے عہد ،حُسن معاشرت ،وقار اولو العزمی کی مثال تھے۔
مَیں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے آپ سے بہتر ،آپ سے زیادہ خوش اخلاق ،آپ سے زیادہ نیک ،آپ سے زیادہ بزرگانہ شفقت رکھنے والا ،آپ سے زیادہ اللہ اور رسول کی محبت میں غرق رہنے والا کوئی شخص نہیں دیکھا۔
حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓکہتےہیں میری بھی یہی گواہی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان اخلاق کا حامل بنائے جن کے پیدا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں آپؑ کو بھیجا تھا۔