اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-12-25

امنِ عالم اور قومی یکجہتی کیلئے اسلام کی بے نظیر تعلیمات حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کی کتاب ’’ اسلام اورعصر حاضر کے مسائل ‘‘ سے حقیقت افروز اقتباسات

سیّدنا حضرت اقدس مرزا طاہر احمد خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنے 21 سالہ دورِ خلافت میں بین الاقوامی اتحاد اور قومی یکجہتی کے لئے بھرپور اور کامیاب کوششیں فرمائی ہیں۔ آپ کا ایک لیکچر جو 1990ء میں لنڈن میں کوئین الزبتھ ثانی کانفرنس میں آپ نے ارشاد فرمایا تھا اس سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ آپ کا یہ لیکچر جو Islam Response to Contemporary Issues کے نام سے شائع شدہ ہے اور جس کا اردو ترجمہ ’’اسلام اور عصر حاضر کے مسائل‘‘ کے عنوان سے ہوچکا ہے قابل مطالعہ ہے۔ اس کے مطالعہ سے ہر قاری اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اس خطاب کی اہمیت بڑھتی چلی جارہی ہے۔
اسی کتابچہ سے درج ذیل اقتباس قارئین کے استفادہ کے لئے پیش ہے۔
آپ نے فرمایا:
مذہب کو تو قیام امن میں بڑا اہم کردار ادا کرنا چاہئے تھا۔ اس کا کام تو یہ تھا کہ مختلف مذاہب اور فرقوں کےپیروؤں کے درمیان غلط فہمیوں کے ازالے، شائستگی کی ترویج اور’ جیو اور جینے دو‘ کے اصول کے نفاذ کے سلسلہ میں اپنا فرض ادا کرتا۔ مگر بدقسمتی یہ ہے کہ عصر حاضر میں فروغ امن کے لئے مذاہب نے اگر کہیں کوئی کردار ادا کیا بھی ہے تو وہ بہت ہی خفیف اورمعمولی نوعیت کا ہے۔ اس کے برعکس فساد اور خونریزی کو جنم دینے کے لحاظ سے مذہب آج بھی ایک بڑی فعال طاقت ہے۔دکھ اور مصائب پیدا کرنے میں مذہب کی طاقت کو کبھی کم نہیں سمجھنا چاہئے۔ پس اگر ہم دنیا میں امن کےخواہاں ہیں تو اس معاملے میں جو نقائص موجود ہیں انہیں دور کرنا ہوگا۔ عالمی امن کا کوئی خواب اس اہم مسٔلے کو حل کئے بغیر شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ اندرونی طور پر بھی مذہب کی طاقت کو منفی رنگ میں استعمال کیاجاسکتا ہے۔ ایک ہی مذہب کے متبعین کے مذہبی جذبات کو اسی مذہب سے وابستہ کچھ لوگوں کے خلاف بھڑکایا جاسکتا ہے۔ ان پر مصائب و آلام کے پہاڑ توڑے جاسکتے ہیں۔ صرف اس لئے کہ بدقسمتی سے وہ اقلیت میں ہیں۔
مسلمانوں کی ساری تاریخ ایسے بھیانک اوربدنما واقعات سے بھری پڑی ہے جب اسلام کو جو امن و آشتی کا مذہب ہے دوسرے بے گناہ مسلمانوں کے امن و چین کو تباہ و برباد کرنے کے لئے استعمال کیاگیا۔ وہ مظلوم لوگ بلاشبہ مسلمان ہی تھے صرف انکا مسلک وہ نہیں تھا جو اکثریت ان پر ٹھونسنا چاہتی تھی۔ تاریخ اسلام سے یہ بات ثابت ہے کہ خود مسلمانوں پر اسلام کے نام پر ظلم و ستم توڑے گئے ہیں۔ مسلمانوں نے جتنی صلیبی جنگیں عیسائیوں کے خلاف لڑی ہیں وہ تعداد اورشدت میں ان ’’ مقدس‘‘ جنگوں سے بہت کم ہیں جو چودہ سو سال میں مسلمانوں نے مسلمانوں کے خلاف لڑی ہیں۔ اور یہ داستان ابھی اپنے اختتام کو نہیں پہنچی۔ پاکستان میں احمدی مسلمانوں کے خلاف جو کچھ ہورہا ہے اور جو کچھ شیعہ اقلیت کے خلاف اکثر ہوتا رہتا ہے وہ اس تلخ حقیقت کی طرف ہماری توجہ مبذول کروانے کے لئے کافی ہے۔ یہ صورت حال متنبہ کررہی ہے کہ جو شرانگیز مسٔلہ مدتوں پہلے ختم ہوجانا چاہئے تھا وہ آج بھی جوں کا توں موجود ہے۔
عیسائیوں نے بھی خود عیسائیوں پر ظلم توڑے ہیں۔ اگر یورپ اور امریکہ کی تاریخ کے اوراق میں مدفون مذہبی ظلم و ستم کے واقعات امتداد زمانہ کی وجہ سے ذہنوں سے محو ہوگئے ہوں تو صرف آئرلینڈ میں جاری مذہبی و سیاسی کشمکش کو ایک نظر دیکھ لینا کافی ہوگا۔ دیگر خطوں میں بھی عیسائیت میں اندرونی فرقہ وارانہ کشمکش کے مخفی خطرات موجود ہیں اگرچہ فی الحال یہ علاقے بعض دیگر نوعیت کے جھگڑوں اور تنازعات میں الجھے ہوئے ہیں۔ ہندوستان میں ہندو مسلم فسادات‘ نائیجیریا میں عیسائیوں اور مسلمانوں کی کشمکش‘ مشرق وسطی میں یہود او رمسلمانوں کی جنگیں یا یہود و نصاریٰ کے نازک اورحساس اقتصادی و سیاسی تعلقات اور ان میں بگاڑ کا مخفی رجحان دراصل انہی پوشیدہ خطرات کی نشان دہی کرتے ہیں۔ یہ خطرات مذہبی دنیا میں خوابیدہ آتش فشاں پہاڑوں کی طرح ہیں جو کسی بھی وقت پھٹ سکتے ہیں۔ ان مسائل کے متعلق ذہنی رویوں میں اصلاح کرنے کی اہمیت اتنی واضح ہے کہ اس پر مزید زور دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسلام ان مسائل کا کیا حل پیش کرتا ہے؟ اس پر تفصیلی بحث گزر چکی ہے۔ ذیل میں اس بحث کےاہم نکات کو مختصر طور پر بیان کرکے میں اس حصّہ کو ختم کرتا ہوں۔
(۱) دنیا کے تمام مذاہب کو خواہ وہ اسلام کو سچا مذہب تسلیم کرتے ہیں یا نہیں اس بنیادی اسلامی اصول پر عمل پیرا ہونا چاہئے کہ اندرونی فرقہ وارانہ جھگڑوں اور دوسرے مذاہب کے ساتھ تنازعات حل کرنے کے لئے طاقت اور جبر کے استعمال کی کسی صورت میں بھی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ہر شخص کو مذہبی آزادی کی ضمانت دی جائے گی۔ مذہبی آزادی میں کسی شخص کو کوئی مذہب اختیار کرنے یا نہ کرنے‘ اپنے عقیدہ کااعلان کرنے، اس پر عمل اور اس کی تبلیغ کرنے‘ کسی عقیدہ کو غلط کہنے یا اسے ترک کرنے یا اپنا عقیدہ بدلنے کی پوری آزادی ہوگی اور اس آزادی کا پورا تحفظ کیا جائے گا۔
(۲) تمام اہل مذہب کے لئے کم از کم اس اسلامی اصول کی پابندی لازمی ہوگی کہ وہ تمام بانیان مذاہب اور ہر مذہب کے بزرگوں کا احترام کریں۔ دیگر مذاہب خواہ سچائی کےاسلامی تصور اور اس کی آفاقیت کے قائل نہ بھی ہوں، یہودیت، عیسائیت، بدھ ازم، کنفیوشس ازم، ہندو ازم، زرتشت ازم وغیرہ کےنقطہ نظر سے خواہ باقی مذاہب جھوٹے ہی کیوں نہ ہوں اور خدا سے ان کا کوئی بھی تعلق نہ ہو تب بھی ہر مذہب کے مقدس لوگوں کا احترام کرنا ان کے لئے لازمی ہوگا۔ اگرچہ ایسا کرتے وقت انہیں اپنے اصولوں کے بارہ میں کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی کیونکہ باہمی احترام تو بنیادی انسانی حقوق سے تعلق رکھنے والا معاملہ ہے۔ہر انسان کے اس بنیادی انسانی حق کو تسلیم کرنا ضروری ہے کہ اس کے مذہبی احساسات اور جذبات کو کسی صورت بھی ٹھیس نہ پہنچائی جائے اور اس کی دل آزاری نہ ہو۔
(۳) یہ یاد رکھنا چاہئے کہ پیشوایان مذاہب کے احترام کے اصول کو کسی قومی یا بین الاقوامی قانون کے ذریعہ نافذ نہیں کیا جاسکتا۔ مذہبی توہین کو ایک ذلیل حرکت قرار دینے کے لئے اور اس کی حوصلہ شکنی کے لئے رائے عامہ کو بیدار کرنا چاہئے تا کہ وہ ایسے غیر شائستہ، نامعقول اورقبیح فعل کی مذمت کرے۔
(۴) اس صدی کے اوائل میں جماعت احمدیہ نے جس طرز پر بین المذاہب کانفرنسوں کے انعقاد کا سلسلہ شروع کیا تھا ایسی کانفرنسوں کے وسیع پیمانے پر انعقاد کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے اور انہیں رواج دینا چاہئے۔ایسی کانفرنسوں کی جو خصوصیات ہونی چاہئیں وہ خلاصۃً درج ذیل ہیں۔
(۱) تمام مقررین کو چاہئے کہ وہ اپنے اپنے مذہب کی دلکش اور امتیازی خوبیاں بیان کریں اوردوسرے مذاہب پر کیچڑ نہ اچھالیں۔
(۲) مقررین کو چاہئے کہ وہ پوری ایمانداری اوراخلاص سے دوسرے مذاہب کی خوبیوں کو تلاش کرنے کی کوشش کریں اور پھر انہیں اپنی تقاریر میں بیان کریں اور یہ بھی بتائیں کہ وہ ان خوبیوں سے متأثر ہیں۔
(۳) مقررین کو دیگر بانیان مذاہب اور مذہبی رہنماؤں کی سیرت اور کردار کو خراج تحسین پیش کرنا چاہئے۔ مثلاً ایک یہودی مقرر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے امتیازی اوصاف بیان کرسکتا ہے یعنی ایسے اوصاف جن کی سب لوگ اپنے مذہبی عقائد سے کوئی سمجھوتہ کئے بغیر تعریف کرسکتے ہیں۔ ایسے ہی ایک مسلمان مقرر حضرت کرشن علیہ السلام کے متعلق تقریر کر سکتا ہے۔ ایک ہندو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور بدھ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سیرت بیان کر سکتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اس صدی کی تیسری دہائی میں جماعت احمدیہ کے زیر اہتمام ہندوستان میں ہندو مسلم تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے ایسی مفید اور مقبول کانفرنسیں منعقد ہوا کرتی تھیں۔
(۴) مندرجہ بالا تجویز (۳) کے متعلق کسی قسم کے استثناء کے بغیر اس امر کاخیال رکھا جانا بے حد ضروری ہوگا کہ مختلف مذاہب اور فرقوں کے مابین تبادلہ خیالات کے وقت مذہبی بحث و مباحثہ کے تقدس کی پوری حفاظت کی جائے۔ مذہبی تبادلہ خیالات کی یہ کہہ کر مذمت نہیں کی جانی چاہئے کہ اس سے نقضِ امن کا اندیشہ ہوگا۔ اگر بحث کا طریق اور انداز غلط ہے تو صرف اس غلط طریق اور غلط انداز کی مذمت ہونی چاہئے نہ کہ بحث کو فی ذاتہ غلط قرار دے دیا جائے۔ اپنے خیالات کا آزادانہ اظہار ایک انتہائی اہم بنیادی انسانی حق ہے۔ بقائے اصلح یعنی موزوں اوراعلیٰ چیز کی بقا کے لئے یہ بے حد ضروری ہے کہ کسی قیمت پر بھی اس اصول سے سمجھوتہ نہ کیاجائے۔
(۵) اختلافات کے دائرہ کو محدود کرنے اور باہمی اتفاق کےامکانات کو بڑھانے کےلئے اس اصول کو تسلیم کرنا بے حد ضروری ہے کہ تمام مذاہب اپنی بحث کو اپنے اور دوسرے مذاہب کے بنیاد تک محدود رکھیں گے۔ قرآن کریم کا یہ اعلان کہ تمام مذاہب اپنے آغاز میں یکساں تھے بڑی اہمیت کا حامل ہے اور اس میں عظیم حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ تمام مذاہب کو اپنے اورتمام بنی نوع انسان کے فائدہ کی خاطر قرآن کریم کے اس اعلان کا بغور مطالعہ کرنا چاہئے اور اس کی سچائی جانچنے کے لئے تحقیق کرنی چاہئے۔
(۶) مشترکہ مفاد کے تمام منصوبوں اورسکیموں میں تعاون کو فروغ دیا جائے اور اس کی زیادہ سے زیادہ حوصلہ افزائی کی جائے مثلاً رفاہ عامہ کے منصوبوں پر عیسائی، مسلمان، ہندو او ریہودی سب مل جل کر کام کرسکتے ہیں۔
گزشتہ زمانوں کے حکماء اور اولیاء نے بنی نوع انسان کے اتحاد کے جو خواب دیکھے تھے صرف اسی صورت میں ہم انہیں حقیقت کا روپ دینے کی امید کرسکتے ہیں۔ وہ خواب جن میں انہوں نے مذہبی، معاشی، سیاسی غرضیکہ ہر دائرہ میں بنی نوع انسان کو ایک جھنڈے تلے جمع کرنے کا تصور باندھا تھا۔
(اسلام اورعصر حاضر کے مسائل صفحہ 54 تا 59)
خ خ خ