حضرت مرزا طاہر احمد صاحب خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’حضرت عوف بن مالک النجعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک موقع پر ہم سات، آٹھ یا نو افراد آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے۔آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم اللہ کے رسول کے ساتھ ایک عہد نہیں کرو گے؟ حضرت عوف ؓبیان کرتے ہیں کہ ہم نے کچھ ہی عرصہ قبل حضور ﷺ کے دست مبارک پربیعت کی تھی چنانچہ ہم نے عرض کی یا رسول اللہ ! ہم تو پہلے ہی عہد کر چکے ہیں۔اس پرآنحضرت ﷺ نے اپنا سوال دو ہرایا اور ہم نے وہی جواب دیتے ہوئے عرض کیاکہ اے اللہ کے رسول ! اب آپ ہم سے کون سا عہد لینا چاہتے ہیں؟ آپ نے فرمایا یہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گےاور یہ کہ تم پنجوقتہ فرض نمازیں ادا کرو گے اور اللہ کی اطاعت کرو گے اور کسی سے کچھ نہیں مانگو گے۔حضرت عوف بن مالک بیان فرماتے ہیں کہ اس کے بعد میں نےدیکھا کہ ان اصحاب میں سے کسی سوار کے ہاتھ سے گھوڑے کا چابک بھی گر جاتا تو وہ کسی سے یہ بھی نہیں کہتا تھا کہ یہ چابک اٹھا کر مجھے دے دو۔ (صحیح مسلم -كتاب الزكاة - باب كراهة المسئلة للناس)
۔۔۔۔مخلوق خدا کی خدمت نصف ایمان ہے۔اسلام کا موقف بھی یہی ہے کہ نیکی بجائے خود ایک انعام ہے اور یہ ایک ایسی بات ہے جو منطق اور دلائل سے بالا ہے۔اسے صرف محسوس کیا جا سکتا ہے۔‘‘
(اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل -صفحہ 304-305)