حضرت مرزا ناصر احمد صاحب خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں بڑے ہی حسین نمونے ہمارے لئے چھوڑے ہیں ،میں ایک چھوٹی سی مثال دے دیتا ہوں۔
ایک صحابی تھے وہ مزدوری کیا کرتے تھے پتھروں کی کٹائی کیا کرتے تھے۔پتھر کوٹ کوٹ کران کے ہاتھ جسم کے رنگ سے زیادہ کالے ہو گئے تھے۔عام طور پر ہاتھ سے کام کرنے والوں کےہاتھ کالے ہو جاتے ہیں خصوصاً جو مٹی میں کام کرنے والے پتھر کی کٹائی کرنے والے لوگ ہوتےہیں اُن کے جسم پر سیاہی کا زیادہ رنگ آجاتا ہے۔غرض وہ رنگ میں بالکل سیاہ ہو گئے تھے۔ایک دن حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے پوچھا کہ تمہارے یہ ہاتھ کیوں کالے ہو گئے ہیں۔تو اس صحابی نے آگے سے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں دن بھر پتھر پر پھاؤڑا چلاتا ہوں اور اس سے اپنے اہل وعیال کی روزی کماتا ہوں جب اس نے یہ کہا تو غالباً اس رنگ میں کہا ہوگا یا اظہارکیا ہو گا کہ میں ہوں تو انسان مگر دُنیا میں میری عزت اور احترام کوئی نہیں۔لیکن آپ تو لوگوں کی عزت و احترام کو قائم کرنے کے لئے مبعوث کئے گئے تھے جب آپ نے یہ سنا تو اس صحابی کا ہاتھ پکڑ کر فرط محبت سے چوم لیا۔یہ عزت اور احترام ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے غریب سے غریب مزدور کو دیا اور یہ عزت اور شرف کا مقام یا عزت و شرف دینے کی تعلیم ہے جس کے ذریعہ سے ہم آج دُنیا میں یہ اعلان کر رہے ہیں کہ ہم نے دل محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جیت کے چھوڑنا ہے۔‘‘
(خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء)صفحہ نمبر)۴۸۵-۲۸ دسمبر ۱۹۷۰ء۔اختتامی خطاب)