حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں۔
’’یہ جلسہ جیسا کہ میں پہلے بھی متعدد بار بیان کر چکا ہوں اللہ تعالیٰ کے نشانوں میں سے ایک نشان ہے۔ قادیان وہ مقام ہے کہ ایک دن اس طرف کوئی رُخ بھی نہیں کرتا تھا۔ کئی لوگ اِس قسم کے تھے جو قادیان اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا نام سُن کر بڑی بڑی دُور سے قادیان پہنچنے کی خواہش سے روانہ ہوتے تھے مگر بٹالہ یا امرتسر پہنچ کر واپس ہو جاتے تھے کیونکہ انہیں بتایا جاتا تھا کہ قادیان میں بہت بڑا دجّالی فتنہ ہے۔ کئی آدمی ہماری جماعت میں آج بھی ایسے موجود ہیں جو کفِ افسوس مَل رہے ہیں کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں قادیان کیوں نہ آئے وہ بٹالہ یا امرتسر سے محض اس لئے لَوٹ گئے کہ دشمنوں نے ان سے بعض ایسی باتیں کہیں جنہیں سن کر انہوں نے قادیان آنا پسند نہ کیا۔ اگر وہ اُس وقت پہنچ جاتے تو صحابہ میں داخل ہو جاتے۔ بعد میں اللہ تعالیٰ نے ان کے اخلاص کو دیکھ کر احمدیت میں تو داخل کر دیا مگر صحابیت سے محروم رہ گئے ۔…
پس یہ بھی ایک نشان ہے جو جلسہ کے دنوں میں نظر آتا ہے کہ لوگ اتنی کثیر تعداد میں یہاں جمع ہوتے ہیں جس کا کبھی وہم و گمان بھی نہ ہو سکتا تھا اور پھر یہ نشان بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ جنہیں جاہل سمجھا جاتا تھا اس چشمہ سے اِس شوق سے پیتے ہیں کہ دوسری قوموں کے پیاسے بھی اس طرح نہیں پی سکتے۔
قادیان کے رہنے والوں کو خدا تعالیٰ نے اس دار کی حفاظت کا ذریعہ بنایا ہے جس کی برکت کے لئے وہ لوگوں کو جمع کر کے یہاں لاتا ہے۔ پس یہاں کی جماعت کے احباب کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ اِس آنے والے دن کے لئے تیاری کریں۔ مکانوں والے مہمانوں کے لئے اپنے مکان دیں اور اس کے علاوہ اپنے اجسام اور اوقات بھی خدمت کے لئے پیش کریں۔ اور جو منتظمین ہیں انہیں میں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ جیسا کہ میں نے متواتر کہا ہے کارکنوں کو کام سے پہلے مشق کرائیں۔‘‘ (خطباتِ محمود جلد12 صفحہ 509تا 513)