بیعت کرنا
عرض کیا گیا بیعت کرنا ضروری ہے یا غیر ضروری؟
فرمایا: جب امام موجود ہو تو پھر بیعت کرنا ضروری ہے۔ اس صورت میں بیعت کے بغیر موت کو رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جاہلیت کی موت قرار دیا ہے۔ لیکن اگر امام موجود نہ ہو تو گو اس صورت میں بھی صوفیاء کی بیعت کا طریق موجود ہے لیکن یہ لازمی نہیں ہے۔ صرف امام کے موجود ہونے کی صورت میں ہی بیعت لازمی ہے۔ کیونکہ امام تو آتا ہی اس لئے ہے کہ لوگوں کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کرے تا دین کی اجتماعی رنگ میں خدمت کی جاسکے۔
پیدائشی احمدی کی بیعت
عرض کیا گیا پیدائشی احمدی کے لئے بیعت کرنا ضروری ہے یا نہیں۔
فرمایا: بعض دفعہ براہِ راست بیعت نہ کرنے کی وجہ سے انسان اپنے فرائض سے غفلت کرلیتا ہے اور دل پر زنگ لگ جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اس صورت میں مناسب یہی ہے کہ اگر موقع میسر آئے تو بیعت کرلے کہ بیعت کے عہد کی تجدید ہوجائے۔ ویسے احمدیوں کے بچے احمدی ہوتے ہیں۔ قاعدہ یہی ہے کہ جب ذمہ وار آدمی بیعت کرلیں تو ساری قوم کی بیعت سمجھی جاتی ہے۔ جیسا کہ خلفائے راشدین کی بیعت صرف قوم کے ذمہ وار افراد نے کی تھی۔ باقی ساری قوم نے اپنی خاموشی کے ساتھ اس کی تصدیق کردی اور اس کو کافی سمجھ لیا گیا۔
اسلام اور اجل
عرض کیا گیا لِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌ فَااِذَا جَآءَ اَجَلُہُمْ فَلَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَۃً وَّلَا یَسْتَقْدِمُوْنَ۔اس آیت سے بہائی استدلال کرتے ہیں کہ جب ہر چیز کے لئے اجل مقدر ہے تو پھر اسلام بھی اس سے باہر نہیں۔
فرمایا۔ ہمارے لئے اجل قیامت کو مقدر ہے۔ آدم سے لے کر اب تک کئی دور گزرے ہیں۔ رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سب سے آخر میں تشریف لائے۔ اس لئے آپ کا دور قیامت تک چلتا چلا جائے گا۔
رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بغض
عرض کیا گیا دنیا کی اکثر اقوام کو رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ خصوصیت کے ساتھ کیوں بغض و عناد ہے۔
فرمایا: باقی انبیاء کے دور تو گذر چکے ہیں لیکن رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا دین زندہ ہے۔ اس لئے آپ بھی زندہ ہیں۔ لوگوں کو ہر قت خدشہ لگا رہتا ہے کہ کہیں یہ ہمیں کھینچ کر نہ لے جائیں۔ اسی لئے جب تک ان کے دل میں نورِ ایمان پیدا نہیں ہوتا اس وقت تک بغض و عداوت کا جذبہ ان میں بڑھتا رہتا ہے۔ احمدیت کی بھی اسی وجہ سے مخالفت کی جاتی ہے کہ لوگ محسوس کرتے ہیںکہ یہ آہستہ آہستہ ہم میں سے لوگوں کو کھینچ کر اپنی طرف لے جارہی ہے۔
احمدی نام
عرض کیا گیا احمدی نام کیوں رکھا گیا ہے۔
فرمایا: تمام مسلمان مختلف فرقوں میں منقسم ہوچکے ہیں اور ان سب میں بڑے بڑے نقائص پیدا ہوچکےہیں۔ جب بھی ان فرقوں کا نام لیا جائے تو ان کے مخصوص نقائص سامنے آجاتے ہیں۔ احمدیت نے چونکہ ان تمام نقائص کا ازالہ کیا ہے اس لئے کوئی ایسا
امتیازی نام رکھنا ضروری تھا جس کی بناء پر دوسرے فرقوں کے عیوب ہماری طرف منسو ب نہ ہوسکیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام چونکہ احمدؐ تھا نیز رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صفت جمالی کے ماتحت آپ کا بھی ایک نام احمدؐ تھا اس لئے اس سلسلہ کا نام احمدی رکھا گیا۔
موعود خلیفہ
عرض کیا گیا موعود نبی تو ہمیشہ ہوتے رہے ہیں لیکن موعود خلیفہ کی کوئی مثال سوائے حضور کے نہیں ملتی۔
فرمایا موعود خلیفہ کی مثالیں تو موجود ہیں۔ حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ
عنہم کے متعلق پیشگوئیاں حدیث میں موجود ہیں۔ حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ کی خبر بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دی تھی۔ البتہ مصلح موعود کی خبر ایک نئی چیز معلوم ہوتی ہے۔ اس کی کوئی مثال اس وقت میرےذہن میں نہیں۔
آخر میں حضور نے پھر اس سوال پر روشنی ڈالی کہ بیعت کرنا کیوں ضروری ہے۔
حضور نے فرمایا: جب تک کوئی سلسلۂ بیعت میں شامل نہ ہو اس وقت تک اس سے کوئی کام لیا ہی نہیں جاسکتا۔ بیعت کیا ہے؟ بیعت خدائی فوج میں شامل ہونے کا اقرار کرنے کا نام ہے۔ بیعت کرنے کے بعد امام ان کو بلا سکتا ہے کہ آؤ اپنی جان مال اور اوقات دین کی خدمت کے لئے وقف کرو۔ لیکن بیعت کے بغیر وہ ایسا مطالبہ نہیں کرسکتا۔ ہماری جماعت ایک چھوٹی سی جماعت ہے لیکن اس وقت بھی چار پانچ سو ایسے افراد کے نام ہمارے رجسٹروں پر موجود ہیں جو اپنی زندگیاں اسلام کی خدمت کے لئے وقف کرچکے ہیں۔ لیکن دوسرے مسلمانوں میں باوجود تعداد اور مال کی کثرت کے کوئی آگے نہیں آتا کیونکہ ان میں بیعت کا سلسلہ موجود نہیں۔ نہ کوئی ان سے مطالبہ کرسکتا ہے اور نہ خود ان کے دلوں میں خدمت اسلام کا جوش پیدا ہوتا ہے۔