نئی دہلی 6 ؍ اکتوبر۔ سیدنا حضرت امیرالمؤمنین خلیفۃ ُالمسیح الثانی رضی اللہ عنہ بعد نماز ظہر و عصر اور مغرب و عشا دیر تک خدام میں تشریف فرمارہے۔ اور مختلف احباب کے استفسارات کے جواب میں حقائق و معارف بیان فرماتے رہے۔ حضور کے ارشادات کا جو ملخص الفضل نے شائع کیا ہے قارئین بدر کے لئے ہم ذیل میں پیش کرتے ہیں :
ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے میں حکمت
عرض کیا گیا ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے میں کیا حکمت ہے؟
فرمایا: دعا کے لئے رقت کی کیفیت پیدا ہونا ضروری ہے جو انسان کے لئے غیر معمولی حالت ہوتی ہے اور یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ اپنی غیر معمولی حالت کو چھپانا چاہتا ہے۔ اگر نہ چھپائے تو اس قسم کی کیفیت کا جذبہ کند ہوجاتا ہے۔ پس رقت کی کیفیت کو چھپانے کے لئے اسلام نے دعا کے وقت ہاتھ اٹھانے کا حکم دیا تا کہ لوگوں اور دعا کرنے والے کے درمیان ایک پردہ حائل ہوجائے۔
نماز کے بعد دعا
عرض کیا گیا نماز کے بعد دعا کیوں نہیں کی جاتی۔
فرمایا: اس لئے کہ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ثابت نہیں۔ ہم تو بہرحال رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اتباع کرنے کی کوشش کریں گے۔ گو اگر کسی خاص کیفیت کے ماتحت کبھی نماز کے بعد بھی دعا کرلی جائے تو ہم اس سے منع نہیں کرینگے لیکن اس عمل کو لازمی قرار دینا بدعت ہے۔ اس طرح تو آئے دن نئی نئی رسوم نکلتی چلی جائیں گی اور لوگ ان رسوم کے پابند ہو کر رہ جائیں گے۔ پس اسلام نے اصولی طور پر صرف انہی امور کو لازمی قرار دیا ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے عمل سے ثابت ہیں۔
عورتیں اور نماز جمعہ
عرض کیا گیا کیا عورتیں علٰیحدہ طور پر اکٹھی ہو کر جمعہ پڑھ سکتی ہیں۔
فرمایا: اگر کوئی خاص مجبوری ہو تو اسکی بناء پر عورتوں کو علٰیحدہ اکٹھے ہوکر جمعہ پڑھنے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ تا کہ ان میں دینی رُوح قائم رہے لیکن اگر عام حالات میںبھی ایسا کرنے کی اجازت دے دی جائے تو مردوں اور عورتوں میں اختلاف پیدا ہونے کا امکان ہے۔ مردوں کے خیالات اور طرف جارہے ہوں گے عورتوں کے اور طرف۔ اس لئے عام حالات میںحکم یہی ہے کہ مرد اور عورتیں ایک مقام پر جمعہ کا فریضہ ادا کریں۔
دہلی کے احمدی بچّے
بعد نماز مغرب و عشا دہلی کے احمدی بچے حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضور نے ان سے مختلف سوالات دریافت فرمائے مثلاً اللہ کسے کہتے ہیں۔ رسول کسے کہتے ہیں۔ اور نبی کسے کہتے ہیں۔ مسیح موعود سے کیا مراد ہے۔ احمدیت کا کیا مطلب ہے۔ نماز کیوں پڑھی جاتی ہے۔ نمازیں کتنی ہیں اور ان کی رکعتیں فرائض اور سنتیں کتنی ہیں۔ شریعت کسے کہتے ہیں وغیرہ ۔ بچوں سے یہ امور دریافت فرمانے کے بعد حضور نے ان امور کے صحیح جوابات بھی نہایت عام فہم اور سادہ الفاظ میں بیان فرمائے۔ مثلاً حضور نے فرمایا دنیا میں جو کچھ بھی نظر آتا ہے سب کو پیدا کرنے والے کو اللہ کہتے ہیں۔ نبی کے معنے ہیں خبر دینے والا۔ اور رسول کا مطلب ہے بھیجا ہوا۔ اللہ تعالےٰ جب اپنے کسی بندے کو غیب کی خبریں بتاتا ہے اور اُسے دُنیا کی اصلاح کے لئے بھیجتا ہے تو اسے نبی اور رسول کہتے ہیں۔نبی اور رسول اللہ تعالےٰ کی عبادت اور دیگر معاملات کے متعلق جو طریق اس کے حکم سے بتاتے ہیں اسے شریعت کہتے ہیں۔ حضرت مسیح کے دوبارہ آنے کی پیشگوئی کی گئی تھی۔ چونکہ یہ پیشگوئی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے آنے سے پوری ہوگئی ہے اس لئے ہم آپ کو مسیح موعود کہتے ہیں۔ یعنی وہ مسیح جس کا وعدہ دیاگیا تھا۔ اسلام کی اصلی اور حقیقی شکل جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیش فرمائی ہے اسے احمدیت کہتے ہیں۔ نماز اس لئے پڑھی جاتی ہے کہ ہمارے مذہب میں اس کا حکم ہے۔ نماز ظہر کی سنتوں کے متعلق حضور نے فرمایا اس کی تین صورتیں جائز ہیں اوّل چار سنتیں فرضوں سے پہلے اور چار فرضوں کے بعد۔ دوم دو سنتیں فرضوں سے پہلے اور دو بعد۔ سوم چار سنتیں فرضوں سے پہلے اور دو فرضوں کے بعد۔
(روزنامہ الفضل قادیان دارالامان مورخہ11؍اکتوبر 1946ء )