قادیان 19 تبوک (ستمبر) سیّدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے بعد نماز مغرب مجلس میں رونق افروز ہو کر جو اہم امور ارشاد فرمائے اور ان کا جو خلاصہ الفضل نے اپنے الفاظ میں درج کیا ہے وہ ہم ذیل میں قارئین بدر کے لئے پیش کرتے ہیں:
اللہ تعالیٰ کے دین کی خدمت کرنیوالے لوگ کبھی ضائع نہیں ہوتے
حضور رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حضرت سلیمان علیہ السلام بغاوت کو فرو کرنے کے لئے جب شام کے زیرین علاقہ میں گئے تو آپ نے ملکۂ سبا (جو مشرکہ تھی اور سورج کی پرستش کرتی تھی) کو بھی اطاعت بجا لانے کا فرمان بھیجا۔ یہ بات سرحدوں کے بعض تنازعات کے سلسلہ میں پیدا ہوئی تھی۔ اور بصورت دیگر جنگ کی دعوت دی مگر ملکہ نے صلح کو ترجیح دی۔ اس زیرک ملکہ نے اپنے اراکین سلطنت سے مشورہ کیا۔ انہوں نے اپنے طاقتور اور آمادۂ جنگ ہونے کا ذکر کرتے ہوئے آخری فیصلہ ملکہ پر چھوڑا۔ ملکہ نے ان سے کہا
إِنَّ الْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا وَجَعَلُوا أَعِزَّةَ أَهْلِهَا أَذِلَّةً وَكَذَٰلِكَ يَفْعَلُونَ۔ کہ جب بادشاہ ظالمانہ طور پر کسی ملک میں داخل ہوتے ہیں تو اس کے نظام کو تہ و بالا کر دیتے ہیں اور معزز لوگوں کو ذلیل کردیتے ہیں۔ ملکہ نے ان الفاظ میں جس نظریہ کا اظہار کیا ہے وہ بالکل درست ہے کیونکہ سیاسی مصالح کے پیش نظر نئے حکمران سابقہ برسرِ اقتدار پارٹی یا افراد کے دوبارہ عروج پکڑ جانے کے خطرہ کو مٹانے کے لئے ان کے استیصال کی کوشش کرتے ہیں اور نظام حکومت کو چلانے کے لئے ماتحت اور کمزور افراد کی ہمدردی و تعاون حاصل کرنے کے لئے انہیں اعلیٰ منصبوں پر ممتاز کرتے ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ اس کے برعکس ذلیل آدمی ضرور ممتاز ہوجائیں لیکن یہ ضروری ہے کہ ممتاز ذلیل ہوجایا کرتے ہیں۔
یہ قانون صرف دنیا میں ہی رائج نہیں بلکہ دینی امور میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے کیونکہ جب انبیاء علیہم السلام مبعوث ہوتے ہیں تو اس زمانہ کے بڑے لوگ جو امراء و علماء ہوتے ہیں تکبر اور نخوت کے باعث قبول نہیں کرتے اور سمجھتے ہیں کہ کیاایسا معمولی آدمی نبی بن سکتا ہے۔ اگر نبی بننا ہی تھا تو ہم میں سے کوئی بنتا۔ چنانچہ اس قسم کی باتیں ہمیشہ ہی انبیاء کو کہی گئیں۔ فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہی طعنہ دیا کہ کیا تم وہی نہیں ہو جو ہمارے ٹکڑوں پر پلے ہو؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی اس قسم کے طعنے دئیے گئے کہ کیا یہ مسیح بننے کے قابل تھا۔ اور حقیقت بھی یہی ہے کہ اللہ تعالےٰ کے انبیاء پہلے معمولی حالت میں مبعوث ہوتے ہیں۔ انہیں اس وقت کوئی اہمیت حاصل نہیں ہوتی۔ اگر اللہ تعالیٰ کسی بادشاہ کو نبوت سے سرفراز فرمائے اور وہ کامیاب ہوجائے تو اس کی کامیابی مشکوک ہوسکتی ہے اور لوگ خیال کرتے ہیں کہ اسے پہلے ہی اقتدار حاصل تھا اگر مزید کامیابی ہوگئی تو کیا ہوا۔ لیکن ایک بظاہر حقیر اور کمزور انسان کا ساری دنیا کی مخالفت کے باوجود کامیاب و کامران ہونا اعجازی شان رکھتا ہے اور اللہ تعالےٰ کی تائید و نصرت اور اسکی ہستی پر دلالت کرتا ہے۔
بے شک انبیاء ابتداء ً نہایت بے بضاعتی کی حالت میں ہوتے ہیں مگر وہ اس بے سرو سامانی کے باوجود اللہ تعالےٰ کی تائید و نصرت سے کامیابی حاصل کرلیتے ہیں اور جو لوگ انہیں ذلیل گردانتے ہیں خود ذلیل ہوجاتے ہیں۔ لیکن جو انہیں قبول کر لیتے اور عسرو یسر میں ان کے رفیق ہوتے ہیں، اللہ تعالےٰ انہیں اپنے بے بہا فضلوں سے نوازتا ہے اور پستی سے نکال کر دائمی رفعت و عظمت عطا کرتا ہے۔ حتیٰ کہ وہ درخشندہ ستارے بن کر چمکنے لگتے ہیں اور غیر فانی و لازوال شہرت ان کو حاصل ہوجاتی ہے۔ دنیا کی عزتیں خواہ کتنی ہی بڑی ہوں اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی عظمت کے مقابلہ میں کوئی وقعت نہیں رکھتیں۔ دیکھ لو گورنری کتنا بڑا دنیاوی اعزاز ہے مگر آپ لوگوں میں سے بمشکل دس فی صدی ایسے ہوں گے جنہیں پنجاب کے موجودہ گورنر سے پہلے گورنر کا نام یاد ہوگا لیکن اس کے برعکس آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ایک صحابی حضرت ابوہریرہؓجنہیں سب سے زیادہ حدیثوں کی روایت کا شرف حاصل ہے، دنیاوی نقطہ نگاہ سے ایک معمولی انسان تھے مگر دنیا میں شاذ ہی کوئی ایسا مسلمان ہوگا جو ان کا نام نہ جانتا ہو اور ان کی عظمت کے لئے اپنے دل میں جگہ نہ رکھتا ہو۔
الغرض اللہ تعالیٰ کے دین کی خدمت کرنیوالے لوگ کبھی ضائع نہیں ہوتے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے حواری یعقوب اور پطرس معمولی ماہی گیر تھے اور لوگ ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانا بھی گوارا نہ کرتے تھے مگر آج بڑے سے بڑا عیسائی بادشاہ بھی اپنے آپ کو ان سے بہتر نہیں سمجھتا۔ پھر دنیا کی عزت صرف معمولی ہی نہیں بلکہ غیر مستقل بھی ہوتی ہے۔ آج لوگ جسے تخت پر بٹھاتے ہیں کل اتار دیتے ہیں۔ آج جسے حکومت کا تاج پہنا یا جاتا ہے کل اسے کانٹوں کا تاج پہنا دیتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی عزت دائمی ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ اعزاز دینا چاہے اسے دنیا کی کوئی طاقت ذلیل نہیں کرسکتی۔ افسوس کہ مسلمانوں نے اس نکتہ کو سمجھا نہیں۔ جس طرح دس کروڑ مسلمان سو سال تک انگریزوں کی خدمت کرتے رہے اور بے دریغ اپنے خون بہاتے رہے۔ اس طرح اگر وہ ایک دن ہی اللہ تعالیٰ کی خاطر قربانیاں کرتے تو انگریز ان سے اس طرح بے رخی سے پیش نہ آتے جس طرح آج ہندوؤں کی دلداری کرتے ہوئے مسلمانوں سے پیش آتے ہیں بلکہ وہ ان کے پیچھے پیچھے پھرتے اور ان کی منتیں کرتے۔ مگر افسوس کہ مسلمانوں نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا اور خدا تعالےٰ کے آستانہ پر نہ جھکے۔ اگر اب بھی مسلمانوں نے اس طرف توجہ نہ کی تو انجام بڑا خطرناک ہے۔ جماعت احمدؐیہ کو جو ایک فرستادہ کو ماننے والی ہے اس طرف خاص توجہ کرنی چاہئے۔ حقیقی اور دائمی عزت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور دین کی خدمت سے ملتی ہے۔ اگر احمدیوں نے اس کو نہ سمجھا اور اس طرف توجہ نہ دی تو نہایت ہی تعجب اور افسوس کا مقام ہوگا۔ اللہ تعالےٰ ہمیں توفیق دے۔
(روزنامہ الفضل قادیان دارالامان مورخہ 23 ستمبر 1946ء)