17 ستمبر 1946 ء بعد نماز مغرب حضرت خلیفۃُ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے مجلس میں رونق افروز ہو کر جو زرّیں نصائح فرمائیں اس کا خلاصہ قارئین بدر کے لئے پیش کیا جاتا ہے:
نماز بہت آہستگی اور وقار سے ادا کی جائے
میں نے کچھ عرصہ قبل نصیحت کی تھی کہ نماز بہت آہستگی اور وقار سے ادا کی جائے اور اس کے بعد حسب سنت اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید کی جائے۔ کچھ عرصہ تو اس پر عمل ہوا مگر اب میں پھر دیکھتا ہوں کہ آہستہ آہستہ اسے فراموش کیا جارہا ہے اور ابھی میں نے ایک رکعت ہی پڑھی ہوتی ہے کہ نیچے سے آنیوالوں کے پاؤں کی گڑگڑ کی آواز آنی شروع ہوجاتی ہے حالانکہ قرینِ قیاس یہ ہے کہ وہ نماز میں پیچھے شامل ہوتے ہیں اور پہلے اوپر آجاتے ہیں۔ ان کے پہلے آجانے کے معنے یہ ہیں کہ انہوں نے میری ایک رکعت کے اندر بقیہ نماز پوری کی۔ پھر دو سنتیں پڑھیں۔ ذکر بھی کیا اور پھر دوڑ کر اوپر آئے ہیں اور اس طرح ایک اور حکم کی خلاف ورزی کی کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے نماز میں دوڑ کر شامل ہونے کی ممانعت فرمائی ہے اور ایسی نماز جو جلدی جلدی پڑھی جائے اسے حضور نے نماز ہی قرار نہیں دیا۔ چنانچہ ایک شخص جو جلدی نماز ادا کررہا تھا اور ارکان نماز کو پوری طرح ادا نہ کرتا تھا، حضور نے فرمایا صَلِّ فَاِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ کہ تیری یہ نماز نہیں ہوئی اور بالآخر اسے بتایا کہ ہر حرکت کو نہایت وقار اور
آہستگی سے بجالائے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ نماز سنوار کر نہ پڑھی جائے تو وہ نماز نہیں ہوتی۔ پھر یہ بھی نہایت افسوس کی بات ہے کہ بعض لوگ ہماری مجلس میں آنے کے لئے نماز خراب کردیتے ہیں حالانکہ یہ مجلس تو ہماری صحبت ہے اور نماز اللہ تعالےٰ کی صحبت ہے۔ کتنا ہی بے نصیب وہ شخص ہے جو ادنیٰ چیز کی خاطر اعلیٰ چیز کو چھوڑ دیتا ہے۔ اور کیا یہ بے حرمتی نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مجلس سے بھاگ کر ہماری مجلس میں آیا جائے۔
پھر یہ بھی بڑے افسوس کی بات ہے کہ ایک چیز کی جب اہمیت واضح کردی جائے اور تاکید بھی کردی جائے تو پھر کیوں اسے فراموش کیاجائے۔ پس ایسی نماز محض دکھاوے کی نماز ہے اور ذلت و رسوائی کا موجب ہے اور اللہ تعالےٰ کی ناراضگی کا باعث۔
اللہ تعالےٰ کے فضل اور خوشنودی کو وہی عبادت جذب کرسکتی ہے جو خشوع و خضوع اور اطمینان سے بجا لائی جائے۔ بے شک یہ حکم ہے کہ جماعت کے وقت لمبی لمبی نمازیں نہ پڑھاؤ مگر انفرادی طور پر تو اس حکم کا اطلاق نہیں ہے بلکہ ان نمازوں کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سنت یہ ہے کہ آپ رات کو اتنی دیر کھڑے رہتے کہ آپ کے پاؤں سوجھ جاتے اور تقریباً تین گھنٹوں میں آپ نماز تہجد ادا کرتے تھے۔
نماز کے لئے بھاگ کر آنا شوق پر دلالت نہیں کرتا بلکہ نماز کی بے حرمتی پر دلالت کرتا ہے۔ چاہئے کہ نماز کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اسوہ کے مطابق تسبیح و تحمید کی جائے۔ کیا آپ اس قدر واضح بات کو نہیں سمجھ سکتے کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو تو تسبیح و تحمید کی ضرورت تھی اور آپ کو ضرورت نہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو آہستہ آہستہ نماز پڑھنے کی ضرورت تھی اور آپ کو نہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو وقار کے ساتھ مسجد میں آنے کی ضرورت تھی اور آپ کو نہیں حالانکہ اللہ تعالےٰ کے فضل کو جس قدر وہ جذب کرچکے تھے ہمیں اس کے لئے ہزارہا گنا زیادہ محنت کی ضرورت ہے۔
اس کے بعد حضور نے ان اصحاب کو جو حضور کے سابقہ ارشاد کی تعمیل میں بالا لتزام ۳۳ بار سبحان اللہ ۳۳ بار الحمدللہ اور ۳۴ بار اللہ اکبر پڑھتے رہے تھے، کھڑے ہونے کا ارشاد فرمایا مگر یہ تعداد کم تھی۔ پھر حضور نے روزانہ بارہ دفعہ درود شریف اور تسبیح کا التزام رکھنے والوں کو کھڑے ہونے کا ارشاد فرمایا مگر اِن کی تعداد بھی کم تھی۔ جس پر حضور نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ذات جس کے فضلوں کے نیچے ہم دبے ہوئے ہیں اور جس کے احسانوں کی وجہ سے ہم گردنیں نہیں اٹھا سکتے، اس کے احسانوں اور فضلوں کا ادنیٰ ترین بدلہ بھی ہم درود اور تحمید کی صورت میں پیش نہ کریں تو کس قدر افسوس اور ندامت کا مقام ہے۔
حضور ؓنے فرمایا جس طرح ہماری جسمانی زندگی کے برقرار رکھنے کے لئے مادی غذا ضروری ہے اسی طرح ہماری روح کو بھی قائم رکھنے کے لئے روحانی غذا کی ضرورت ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ تسبیح و تحمید اور اللہ تعالےٰ کے ذکر کے بغیر وہ کھانا انگ ہی نہیں لگتا اور اس سے جسم کا نشوونما نہیں ہوتا۔ اس فلسفہ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سورہ المومنون کی تفسیر میں براہین احمدیہ حصہ پنجم میں بیان فرمایا ہے کہ ہماری روح ہمارے جسم ہی سے بنتی ہے اور یہی وہ مسئلہ ہے جو تمام تصوف کی جڑھ اور بنیاد ہے۔ اگر اسکی تشریح کی جائے تو ہزاروں تصوف کی کتابیں اس پر قربان ہوسکتی ہیں۔ ایسی غذا جس کے ساتھ ساتھ تسبیح و تحمید کی جائے وہ صرف جسمانی غذا نہ رہیگی بلکہ روحانی غذا ہوجائے گی۔ جس طرح شربت کے مختلف اجزاء جسم کے مختلف حصوں کی پرورش کرتے ہیں مثلاً پانی معدے کی صفائی کا کام کرتا ہے اور میٹھا تقویت کا موجب ہوتا ہے اسی طرح وہ غذا جس کے ساتھ تسبیح و تحمید کی آمیزش ہوگی اس میں غذا تو معدہ میں جا کر جسم کی پرورش کرتی ہے او رتسبیح و تحمید اسکی روح بن جاتی ہے یا اسکی روحانیت کو بڑھا دیتی ہے۔
ایک انسان اللہ تعالےٰ کی گوناگوں نعمتوں کے باعث اس کے شکر اور حمد بجا لانے پر مجبور ہوتا ہے۔ ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ساری دنیا کو ہمارے لئے مسخر کردیا ہے۔ اور دنیا کی ہر قسم کی نعمتیں ہمارے لئے مہیا کردی ہیں۔ ان کا بدلہ ہم صرف شکریہ کے طور پر ہی بجا لاسکتے ہیں۔ لیکن بڑے افسوس کی بات ہے اگر ہم یہ بھی نہ کریں۔ اذان کے بعد حضور نے فرمایا میں یہ بیان کر رہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بیان فرمایا ہے کہ غذا ہی اصل چیز ہے جس سے روح بنتی ہے۔ اور اصلاح کا بہتریں طریق یہ ہے کہ منبع کی اصلاح کی جائے۔ حلال رزق کھایا جائے اور حلال مال ہی پر زندگی بسر کی جائے۔ جس طرح دنیا میں حلال رزق حاصل کرنے کے لئے قیمت ادا کرنی پڑتی ہے اسی طرح ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ جو اصل رازق ہے،کے رزق کی بھی قیمت ادا کی جائے۔ اور اسکی قیمت یہ ہے کہ اسکی تسبیح و تحمید کی جائے۔ کھانے کو بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سے شروع کیا جائے۔ درمیان میں گاہے گاہے سبحان اللہ کہا جائے۔ اور الحمد للہ پر کھانے کو ختم کیا جائے۔
(روزنامہ الفضل قادیان دارالامان مورخہ 20 ؍ستمبر 1946ء)