اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-02-20

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی المصلح الموعود رضی اللہ عنہ کے دہلی میں فرمودہ ارشادات

مورخہ 28 ستمبر 1946ء کے روز سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ظہر و عصر کی نماز کوٹھی 8 یارک روڈ دہلی میں پڑھائی ۔ نمازوں کے بعد حضور مجلس میں رونق افروز ہوئے۔ کئی ہندو اور غیر احمدی اصحاب ملاقات کے لئے آئے ہوئے تھے۔ حضور نے سب کو ملاقات کا شرف بخشا۔ بعض نے سوالات بھی کئے جن کے حضور نے جوابات دئیے۔ حضور رضی اللہ عنہ کے جوابات کا جو خلاصہ الفضل نے شائع کیا ہے وہ قارئین بدر کے لئے پیش ہے۔
دعا میں اثر
ایک ہندو دوست نے سوال کیا کہ اگر دعا میں اثر ہے تو آپ ایسی دعا کیوں نہیں کرتے جس سے ہندو مسلم میں صلح ہو جائے ۔ آپ اتنی دور سے لیڈروں کو ملنے کیلئے آئے ہیں ۔ اگر آپ کا خدا سے تعلق ہے تو آپ دعا کریں کہ ہندو مسلمان مل جائیں ۔ یہاں آنے کی آپ کو ضرورت نہ تھی ۔
حضور نے فرمایا : اول یہ سوال ہے کہ اگر خدا ہے جس رنگ میں آپ سمجھتے ہیں تو آپ کو میرے پاس آنے کی کیا ضرورت تھی اور مجھے یہاں بھیجنے کی کیا ضرورت تھی۔ خدا مجھے قادیان میں ہی روک دیتا اور خود ہی یہ کام کر دیتا۔اس سے معلوم ہوا کہ آپ کا سوال ٹھیک نہیں۔ بلکہ خدا تعالیٰ کا کار خانہ کسی اور طرح چل رہا ہے اگر معاملہ اسی طرح ہوتا جس طرح آپ کہتے ہیں تو پھر نہ کوشش کی ضرورت تھی نہ دعا کی ضرورت تھی کیونکہ خدا تعالیٰ آپ ہی کام چلانے والا ہے۔ وہ خود ہی سب کچھ کر دیتا ۔ لیکن خدا تعالیٰ کا کارخانہ اس طرح نہیں چلتا۔ خدا تعالیٰ اگر خود ہی سب کام کر دے تو پھر بندہ کی رغبت کا سوال پیدا نہیں ہوتا اور نہ وہ کسی اجر کا مستحق ہو سکتا ہے۔ مثلاً رام یا کرشن جی نے جو کام کیا اگر اللہ تعالیٰ آپ ہی کر دیتا تو کرشن جی کی ہمت کا پتہ نہ لگتا۔کرشن جی کے اس کام سے جہاں خدا تعالیٰ کا حسن نظر آیا وہاں کرشن جی کی ہمت بھی ظاہر ہوئی تو اللہ تعالیٰ ایک کمزور انسان سے کوئی کام کراتا ہے جس سے خدا تعالیٰ کا حسن بھی ظاہر ہوتا ہے اور انسان کی ہمت کا بھی پتہ لگتا ہے۔
ایک دوست نے سوال کیا کہ موت کے بعد روح سے کیا معاملہ ہوگا۔
حضور نے فرمایا: اس کے متعلق میری کتاب احمدیت میں پوری بحث ہے۔ ہمارا عقیدہ روح کے بارے میں یہ ہےکہ روح ایک خلاصہ ہے جو انسانی جسم سے پیدا ہوتا ہے۔ پھر اسکے متوازی وجود بن جاتا ہے۔ پس روح کبھی جسم سے علیحدہ نہیں ہوتی بلکہ ہمیشہ کسی نہ کسی جسم میں رہتی ہے۔ جب روح اس جسم سے جدا ہوتی ہے تو نئی قسم کے جسم کو پالیتی ہے۔ اسلام بتاتا ہے کہ مرنے کے بعد بھی ترقی جاری رہتی ہے۔ حتی کہ Day of judgmentآجاتا ہے۔ اس وقت برائیوں میں پڑے رہنے والے سزا بھگتتے ہیں اور نیکیاں کرنے والے انعامات پاتے ہیں ۔ خدا تعالیٰ کی طرف سے سزا کی کوئی خاص چیزیں نہیں ہیں بلکہ انسان اپنے عمل کے مطابق جو چیزیں حاصل کرتا ہے ان سے ہی تکلیف پا لیتا ہے یا آرام حاصل کرتا ہے۔ خدا تعالیٰ نے کوئی چیز بری نہیں بنائی سنکھیا زہر ہے اور خطرناک چیز ہے مگر کئی بیماریوں میں استعمال ہوتا ہے۔سلفر کتنی خطرناک ہے لیکن اس سے کتنے امراض دور ہوتے ہیں ۔ خنازیر اور آتشک کا اس سے علاج ہوتا ہے ۔ ایسا ہی اگلے جہان کیلئے سب چیزیں اچھی ہیں۔ انسان کی اندرونی بیماری کسی کو بری شکل دے دیتی ہے اور کسی کو اچھی ۔ انسان اپنی طاقتوں کا برا استعمال کرتا ہےاور اس سے اسکو دکھ ہوتا ہے۔یہاں دنیا میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کی چیزیں غیر موقع استعمال کرنے سے یا کم وبیش استعمال کرنے سے دکھ، تکلیف اور نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ دوزخ دائمی نہیں یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ علاج کیلئے جگہ ہوتی ہے ۔ہسپتال میں انسان بیماری کی حالت میں رہتا ہے ۔ اچھا ہونے کے بعد نکل جاتا ہے۔ اسی طرح جب انسان خدا تعالیٰ کی طرف راغب ہوگا ، اپنے دل کی صفائی کرے گاتو
جنت کا مستحق ہوجائیگا۔جو چیزیں پہلے اسکو بری لگتی تھیں اچھی لگیں گی کیونکہ اندر کی تبدیلی سے باہر کی تبدیلی بھی ہوجاتی ہے۔جنت آرام کی حالت اور خدا تعالیٰ کے قرب کی حالت ہےاور قرب کی حالت دائمی ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی شان کے خلاف ہےکہ اپنے پاس پہنچے ہوئے کو کبھی دھتکار دے۔
ایک سوال یہ کیا گیا کہ اسلام کے تہوار یا عبادات چاند سے کیوں تعلق رکھتی ہیں۔ حضور انور نے فرمایا: چاند کے ساتھ تعلق کی وجہ سے عبادتیں چکر کھاتی رہتی ہیں ۔ سورج کے ساتھ چکر نہیں کھاتیں ۔ مثلاً روزہ ہے چاند کے ساتھ تعلق ہونے کی وجہ سے یہ جنوری میں بھی آئے گا فروری میں بھی۔ غرض ہر مہینہ اور ہر ہفتہ اور ہر دن میں روزے آئینگے۔ کوئی ایسا مہینہ یا ہفتہ یا دن نہیں ہوگا جس میں روزہ نہ آئے۔ ایسا ہی حج ہے کوئی ایسا مہینہ نہیں ہوگا جس میں حج نہیں ہوگا ۔ کوئی ایسا ہفتہ نہ ہوگا جس میں حج نہ ہوگا۔ کوئی ایسا دن نہیں ہوگا جس میں حج نہ ہوگا۔ پس یہ تعلق اسلئے ہے کہ خدا تعالیٰ کی عبادت سارے سال میں چکر کھاتی رہے۔
(روزنامہ الفضل قادیان دار الامان مورخہ 3 اکتوبر 1946 صفحہ 2)
…٭…٭…٭…