اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-02-20

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی المصلح الموعود رضی اللہ عنہ کے دہلی میں فرمودہ ارشادات

سیّدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ 22 ستمبر کو دہلی تشریف لائے، روزانہ حضور مغرب و عشا کی نماز کے بعد مجلس میں رونق افروز ہوتے اور معارف بیان فرماتے ہیں۔ 27 ستمبر کو حضور نے جمعہ کی نماز مسجد احمدیہ در یا گنج میں پڑھائی۔ خطبہ میں جماعت کو موجودہ زمانہ میں انبیاء کی جماعتوں کی طرح قربانیاں کرنے کی طرف توجہ دلائی۔ حضور رضی اللہ عنہ کے ارشادات کا جو خلاصہ الفضل میں درج ہوا ہے وہ ہم قارئین بدر کے استفادہ کے لئے پیش کرتے ہیں۔ (ادارہ)
حضور رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
ہماری مثال دوسرے مسلمانوں سے نہیں ملتی ۔ ہم ان جماعتوں سے نہیں ہیںجو اپنے منبع سے دور ہو چکی ہیں۔ہمارا تو دعویٰ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہم میں رسول بھیجا جس طرح حضرت موسیٰؑکو بھیجا، حضرت عیسیٰؑ کو بھیجا، حضرت رام چندرؑ، حضرت بدھؑ، حضرت زرتشت ؑکو بھیجا، اس لئے ہمارا دوسروں سے مقابلہ ہی کیا ہو سکتا ہے؟ مامور سے تعلق رکھنے والی اور مامور سے دورہو نے والی جماعتوں کا مقابلہ نہیں ہو سکتا۔ہماری مثال محمد رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جماعت کی ہے، حضرت ابراہیم ؑکی جماعت کی ہے ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جماعت کی ہے ۔جب تک ہم ان جیسی قربانیاں نہیں کرتے اس وقت تک ہماری بڑی سے بڑی قربانی کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔ دوسری اقوام سے ہمارا مقابلہ کرنا ہماری ہتک ہے۔بانی سلسلہ احمدیہ کی ہتک ہےاور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ہتک ہے۔
فرمایا: صحابہ ؓنے کس طرح اپنی زندگیاں قربان کر دیں ۔ کبھی انہوں نے خیال بھی نہ کیاکہ ہمارے کام مقدم ہیں۔ ہم تو کہتے ہیںکہ ہم نے بیوی بچوں کا بھی خیال رکھنا ہے لیکن کیا صحابہؓ کے بیوی بچےنہ تھے، ان کے پیٹ نہ تھے جب تھے تو ہم خدا تعالیٰ سے نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے بیوی بچوں کی وجہ سے قربانی میں کمی کی ۔ خدا تعالیٰ ہزاروں ہزار لوگ پیش کر دیگا اور کہے گا کہ کیا ان کے بیوی بچے نہ تھے۔ جب ان کے لئے یہ روک نہ بنے تو تمہارے لئے کیسے روک بن گئے۔ وہ کونسی تکلیف ہے جو آج ملازمین کو پہنچتی ہے،مگر اس وقت صحابہ کو نہیں پہنچی ۔ بعض صحابہ تو غلام تھے جو کہ 24 گھنٹے کا ملازم ہوتا ہے۔غلام صحابہؓ کے آقا نماز سےان کو روکتے ، تبلیغ سے روکتےاور ان لوگوں کو صرف روکا ہی نہیں جاتا تھا بلکہ یہ کام کرنے پر ان کو مارا بھی جاتا تھا۔ آخر کونسی چیز ہے جو ہمارے لئے نرالی ہے اور پہلوں کے لئے نہ تھی ۔
نبیوں کی جماعت میں داخل ہونے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ قربانیاں کی جائیں ۔ ہمارے کسی فرد کا وقت ضائع نہیں ہونا چاہئے۔ اکثر ہمارے اوقات دین کی اشاعت اور تعلیم میں صرف ہونے چاہئیں۔ ہماری مجالس میں دینی باتیں زیادہ ہونی چاہئیں ۔ہماری نماز اور دوسروں کی نماز میں فرق ہونا چاہئے۔ بہت سے لوگوں کو میں دیکھتا ہوں کہ وہ جلدی جلدی نماز پڑھتے ہیں۔ ایسے ہی مالی قربانی ہے ۔ کیا ہماری مالی قربانی اس قسم کی ہے۔ ابھی چندوں میں سستی ہے ۔ بعض دیتے ہی نہیں، بعض کم دیتے ہیںاور بعض اپنی آمدنیاں کم بتاتے ہیں۔
حضور نے دہلی کی جماعت کو خاص طور پر مخاطب کرتے ہوئے فرمایا :
یہاں کے لوگوں پر اس لئے ذمہ واری ہے کہ یہ سارے ہندوستان کا صدر مقام ہے۔ دہلی کے صدر مقام ہونے کی وجہ سے یہاں پر مدراس، بمبئی ، یو پی، پنجاب اور سرحد کے لوگ آتے ہیں ۔ وہ آنے والے لوگ جہاں دنیا کے اثرات لیکر جائیں، جماعت کے دینی اثرات بھی لے کر جائیں۔ پس یہاں کے لوگ دیوانہ وار تبلیغ شروع کر دیں۔دہلی کی جماعت کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنے مقام کو سمجھے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں بڑے بڑے اولیاء اللہ دفن ہیں۔ پھر یہ ہندوستان کا صدر مقام ہے۔ یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نےہمیں ایسے وقت کام کرنے کا موقع دیا جبکہ دوسرے لوگ غافل ہیں۔ ہمیں جلدی جلدی خدا تعالیٰ کا ثواب سمیٹ لینا چاہئے تا کہ دوسروں کے آنے پر ثواب کی قیمت نہ گھٹ جائے۔ پس اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو۔ خدا تعالیٰ سے صلح کرو اور پوری کوشش کرو تا خدا کے جانباز سپاہیوں میں تمہارا نام لکھا جائے۔
مغرب و عشا کی نماز حضور نے کوٹھی 8 یارک روڈ میں پڑھائی ۔ نمازوں کے بعد حضور نے بعض آنے والے غیر احمدی احباب کو ملاقات کا موقعہ عطا فرمایا۔ بعد ازاں حضور انور نے ایک نکاح کا اعلان فرمایا۔ خطبہ نکاح میں حضور نے فرمایا:دنیا کا سارا امن و امان شادی بیاہ پر منحصر ہے۔ بظاہر یہ اعلان معمولی معلوم ہوتا ہے لیکن درحقیقت ساری دنیا کی سیاست، حکومت، اقتصادی حالت نکاح پر منحصر ہے ۔ نکاح کی رسم تمام قوموں میں ہے اور اس موقع پر خوشیاں منائی جاتی ہیں۔کہیں باجے بجائے جاتے ہیں ۔ ہندوئوں میں مٹھائیوں کی گڑیاں بنائی جاتی ہیں ۔پھیرے دئیے جاتے ہیں۔ اس میں شبہ نہیں کہ یہ خوشی کا موقع ہے لیکن اسلام نے اس موقعہ کو صرف خوشی کا موقع ہی نہیں قرار دیا بلکہ مرد اور عورت کو سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کیلئے کہا ہےاور بتایا ہے کہ اس نکاح سے ہی ہزار ہا قسم کی خوبیاں یا عیب پیدا ہو سکتے ہیں۔
حضور رضی اللہ عنہ نے فرمایا: انبیاء عورتوں سے پیدا ہوئے اور انبیاء کے دشمن بھی عورتوں سے ہی پیدا ہوئے۔ فرعون کے ماں باپ کی شادی جب ہوئی ہوگی تو کتنی دھوم دھام سے ہوئی ہوگی ۔ لاکھوں روپے کا جہیز دیا گیا ہوگا۔ ملک میں چراغاں کیا گیا ہوگاکہ شہزادہ کی شادی ہو رہی ہے مگر کسی کے ذہن میں یہ بات نہ آئی ہوگی کہ اس دھوم دھام کی شادی میں وہ شخص پیدا ہوگا جس پر ہمیشہ لعنتیں پڑتی رہیں گی۔
اس کے مقابلہ میں حضرت موسیٰ ؑکے والدین کی شادی ہوئی ان کی خوشی زیادہ سے زیادہ یہ ہوئی ہوگی کہ پانچ سات آدمیوں کو کھانا کھلادیا ہوگا۔ سارے ملک میں چراغاں تو کجا کسی شہر میں بھی چراغاں نہ ہوا ہوگا بلکہ کسی قصبہ میں بھی نہ ہوا ہوگا۔ کسی گاؤں میں بھی نہ ہوا ہوگا بلکہ کسی گاؤں کی گلی میں بھی نہ ہوا ہوگا۔ خود انہوں نے اپنے گھر میں بھی نہ کیا ہوگا۔ مگر کون کہہ سکتا تھا کہ اس خاموش شادی کے نتیجہ میں وہ انسان پیدا ہونے والا ہے جس پر دنیا کے سارے کونوں سے رحمتیں بھیجی جائیں گی۔
اسی لئے اسلام نے نکاح کے موقع پر نصیحت فرمائی کہ یہ کام آئندہ بڑے نتائج پیدا کرنے والا ہوتا ہے ۔ اس لئے دعائیں کرتے ہوئے اسے سرانجام دو۔ غرض یہ نہایت اہم موقع ہوتا ہے۔ اسلئے دعائیں کرتے ہوئے اس میں ہاتھ ڈالنا چاہئے ۔تا خدا تعالیٰ خود حافظ و ناصر ہو جائے ۔
آخر میں حضور نے دعا فرمائی۔
(روزنامہ الفضل قادیان دار الامان مورخہ 2 اکتوبر 1946 صفحہ 2)
…٭…٭…٭…