28ستمبر 1946ء مغرب و عشاء کی نماز کے بعد ابتداء میں بعض موجودہ سیاسی حالات کے بارے میں گفتگو ہو تی رہی۔ نیز حضور نے بعض غیر احمدی اصحاب کو ملاقات کا شرف بخشا۔
ایک دوست نے سوال کیا کہ وَالَّذِیْنَ ہُمْ لِفُرُوْجِہِمْ حٰفِظُوْنَ اِلَّا عَلٰی اَزْوَاجِہِمْ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُہُمْسے کیا مراد ہے اور کیا انکی تعداد اتنی ہی ہے جتنی ازواج کی۔
حضور نے فرمایا: مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُہُم میں تعداد مقرر نہیں۔ اسلام نے غلام کو کتابت کا حق دیا ہے۔ جو عورت یہ سمجھے گی کہ اس کے بیٹے ہیں ، ماں ہے، باپ ہے، دوسرے رشتہ دار ہیں وہ ایسی حالت میں رہے گی کیوں۔وہ اسی وقت اس حالت میں رہے گی جب کہ کوئی اور اسکا وارث نہ ہوگا۔
فرمایا جنگ میں پکڑے آنے والے قیدیوں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاِمَّا مَنًّۢا بَعْدُ وَاِمَّا فِدَآءً قیدیوں کیلئے دو اختیارات ہیں۔اوّل یہ کہ احسان کر کے چھوڑ دو۔ دوسرے یہ کہ اگر تم احسان کر کے چھوڑ نہیں سکتے تو جنگی قرضہ پڑتا ہےوہ لیکر چھوڑ دو۔ تیسری صورت یہ ہے کہ قیدی اپنے آپ کو چھڑا لیں ،اس کیلئے کتابت ہے یعنی قیدی کہے کہ میں آزاد ہونا چاہتا ہوں اسکے بدلے میں اتنی رقم دونگااس پر اسکو آزاد کرنا ہوگا۔ سوائے اسکے کہ یہ ثابت ہوجائے کہ مطالبہ کرنے والا پاگل ہے یاکما نہیں سکتااسکے بعد وہ قسطوں میں مقررہ رقم ادا کریگااور کتابت اسکی حیثیت کے مطابق ہوگی۔ اور کتابت کرتے ہی اسکو عملی آزادی حاصل ہو جائے گی اور قانونی آزادی اُس وقت ہوگی جب وہ فدیہ ادا کر دے گا۔اس وقت تمام ملکیت کے حقوق اس سے جاتے رہیں گے۔ان حالات میں وہی عورت رہے گی جسکی اپنی مرضی ہوگی۔
29ستمبر- بعد نماز ظہر تین بجے حضور رضی اللہ عنہ نے خدام الاحمدیہ دہلی کو خطاب فرمایا۔ حضور نے فرمایا:
خدام نے مجھ سے درخواست کی ہےکہ میں انہیں نصیحت کروں ۔ انہیں کچھ باتیں بتائوں۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں باتوں کا زمانہ لمبا ہو گیا ہے۔ باتیں یا توسونے کے لئے ہوتی ہیں۔ یا باتوں کے بعد کام ہوا کرتے ہیں۔ اب سونے کا زمانہ ہمارے لئے نہیں ہے، ہر قسم کے مصائب اور تکالیف اسلام پر آرہی ہیں۔ تذلیل اور تحقیر کے سامان اسلام کے لئے ہو رہے ہیں۔ اس وقت سوناسونا نہیں ہو گابلکہ ہماری موت ہوگی۔ باقی رہی دوسری بات کہ باتوں کے بعد کام کیا جائے، سواب باتیں بہت ہو چکی ہیں۔ 1890ءمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعویٰ مسیحیت فرمایا۔ جس کو آج 56 سال گزر رہے ہیں۔ اگر اتنی لمبی باتوں سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا تو پھر کب اٹھاؤ گے؟ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُہُمْ لِذِکْرِ اللّٰہِ کیا مومنوں کے لئے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ خدا تعالیٰ کے ذکر کو سنکر ان کے دل میں خشیت پیدا ہو۔ یہی بات میں نوجوانوں سے کہتا ہوں کہ
اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُہُمْ- کیا ابھی انہیں اور باتوں کی ضرورت ہے۔ کیا ان کے لئے ابھی کام کا زمانہ نہیں آیا۔
ہر مسلمان کو محسوس ہونا چاہئے اگر اس کے دماغ میں جذبات اور کیفیات ہیں، اگر اس کے دل میں احساسات اور خواہشات ہیں،اگر اسکی آنکھیں کھلی ہیں کہ وہ کہاں سے گر کر کہاں پہنچ گیا۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ مسلمان جغرافیہ پڑھتے ہیںاور نقشہ دیکھتے ہیںمگر نقشہ دیکھتے ہی یہ دیکھ کر ان کے دل بیٹھ کیوں نہیں جاتے کہ کسی وقت یہ سارا نقشہ مسلمانوں کے قبضہ میں تھالیکن آج ہر جگہ مسلمان ذلیل ہیں۔ ایک وہ زمانہ تھا کہ اسلامی رنگ نقشہ پر چین سے لے کر آخر تک پھیلا ہوا تھا۔ مسلمانوں نے چین پر حکومت کی ۔ جاپان کی عورتیں آج تک جب اپنے بچوں کو ڈراتی ہیں تو کہتی ہیں چپ گریٹ مرغو یعنی چپ ہو جا بڑا مغل آگیا پھر یورپ کے کناروں تک اسلامی حکومتیں تھیں۔ امریکہ میں بھی پرانی مسجدیں ملی ہیں۔ وہاں حکومت مسلمانوں کو ملی یا نہ ملی مگر مسلمان وہاں پہنچے ضرور تھے ۔
پس آج میں تم کو کیا بتاؤں کہ کونسی چیز باقی ہے جو میں تمہیں سکھاؤں کیا آسمان نے تمہیں نہیں سکھایا، زمین نےتمہیں نہیں سکھایا۔ ارد گرد کے ہمسایوں نے تمہیں نہیں سکھایا ۔ پھر کونسی چیز باقی ہے جو تمہیں عمل سے روک رہی ہے۔ تم اور کس دن کا انتظار کر رہے ہو ۔ جب تمہارے نفوس کی قربانیاں پیش ہوں گی یہ زندگی کس کام آئے گی۔ آج دنیا میں ضلالت پھیل رہی ہے، گمرا ہی بڑھ رہی ہے، جھوٹ اور فریب کی کثرت ہے۔ایسی حالت میں تم اپنی زندگیاں اسلام کی اشاعت کے لئےپیش نہیں کرتے تو کب کرو گے۔
سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے حضور نے فرمایا ۔ ہر احمدی وعدہ کرتا ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم کروں گا اور مقدم کرنے کے معنی یہ ہیں کہ وقت کا اکثر حصہ دین کے لئے صرف کرے۔ اور تھوڑا دوسرے کاموں کے لئے ۔ اگر تم ایسا کرتے ہو تو واقع میں خدام الاحمدیہ ہو واقع میںتمہارے ذریعہ اسلام پھیلے گا۔ لیکن اگر تم ایسا نہیں کرتے تو کام تو پھر بھی ہونا ہی ہے، مگر تم خداتعالیٰ کے سامنے اچھے اورسچے خادم اور بہادر سپاہی کی صورت میں پیش نہیں ہو سکو گے کیونکہ تمہارے اعمال تمہارے وعدوں کو جھوٹا ثابت کر دیں گے۔
پس اپنے اندر نیک تبدیلی پیدا کرو اور عمل کرو کیونکہ باتیں کرنے کا اب وقت نہیں۔ اپنی تنظیم کو مضبوط بناؤ۔ دین کیلئے قربانی کرو۔ بنی نوع انسان کی خدمت کرو۔
آخر میں حضور نے فرمایا: آدم سے لیکر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک روحانی جماعتوں کے لئے جو طریق خداتعالیٰ نے رکھاہےوہی ہمارے لئے ہے۔ خدتعالیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جماعت کا دشمن نہ تھا ،حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جماعت کا دشمن نہ تھا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جماعت کا دشمن نہ تھا، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جماعت کا دشمن نہ تھااور ہمارا رشتہ دار نہیں ہے۔ جبتک تم انہی بھٹیوں میں نہیں پڑوگےجن میں وہ لوگ پڑے، جب تک وہ مصیبتیں نہ اٹھاؤ گے جو انہوں نے اٹھائیں، جب تک اُن آروں سے چیرے نہ جاؤ گےجن سے وہ چیرے گئے، اس وقت تک ہر گز ہر گز تم فلاح نہیں پاسکتے۔ موت اور صرف خداتعالیٰ کے لئے موت میںہی زندگی ہے۔
(روزنامہ الفضل قادیان دار الامان مورخہ 4 اکتوبر 1946 صفحہ 2)