اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-07-30

توحید کے قیام کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم

توحید کے قیام کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم

حضرت مرز ابشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفۃ المسیح الثانی المصلح الموعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

پہلی چیز جو توحید کے قیام کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش فرمائی، وہ ایک ایسا نکتہ ہے جس کے متعلق دنیا نے اب بھی نہیں سمجھا کہ اس کا توحید سے کیا تعلق ہے وہ نکتہ یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ سے علم پاکر اعلان کیا کہ ساری دنیا میں نبی آتے رہے ہیں۔ بظاہر اس امر کا توحید سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا مگر حقیقت یہ ہے کہ بغیر اس امر کو تسلیم کرنے کے توحید ثابت ہی نہیں ہوسکتی۔ بغیر یہ ماننے کے کہ مصر، ایران، ہندوستان، چین، جاپان، یورپ، امریکہ میں خدا نے نبی پیدا کئے، توحید کامل نہیں ہوسکتی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آکر اس پر بڑا زور دیا ہے۔ چنانچہ قرآن میں آتا ہے اِنْ مِّنْ اُمَّۃٍ اِلَّاخَلَا فِیْھَا نَذِیْرٌ (فاطر:25) کہ کوئی قوم ایسی نہیں گزری جس میں خدا کا کوئی نبی نہ آیا ہو۔ پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِی کُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلًا (النحل:37) کہ ہم نے ہر قوم میں رسول بھیجا اس کے ساتھ ہی توحید کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ ہم نے رسول اس لئے بھیجے کہ وہ لوگوں کو سکھائیں اللہ کی عبادت کرو اور غیراللہ سے بچو۔

پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا میں یہ نظریہ پیش کیا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ ہم میں ہی صداقت آئی، باقی ساری دنیاکو خدا نے چھوڑے رکھا تھا۔ حق یہ ہے کہ کوئی قوم ایسی نہیں گزری جس میں نبی اور رسول نہ آئے ہوں۔

(تقریر: حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد خلیفۃالمسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرمودہ 2جون 1929ء برموقع جلسہ سیرۃالنبیؐ بمقام قادیان)