برادرانِ جماعت احمدیہ!
السلام علیکم
الحمدللہ کہ کام اچھی طرح ہو رہا ہے‘تبلیغ عمدگی سے جاری ہےکیونکہ گو اصل کام ہمارا اور ہے مگر جو فارغ وقت ملے اس میں تبلیغ کی طرف بھی توجہ کی جاتی ہے۔احباب سب اپنے کاموں میں مشغول ہیںاور بعض دفعہ ہوا خوری کے لئے باہر جانے کا بھی دوستوں کو موقع نہیں ملتا۔یہی حال میرا ہے۔رات کے دو دو بجے تک مجھے تو جاگنا پڑتا ہے مگر دل خوش ہے اور قلب مطمئن ہے کہ موت بھی ہوگی تو یار کی راہ میں ہوگی۔اور اے عزیزو! اس زندگی کا کیا فائدہ جو تن پروری میں خرچ ہو۔اس دنیا میں تو کسی نے رہنا نہیں‘ کوئی پہلے مر گیا کوئی پیچھے مرگیا‘بات تو ایک ہی ہے۔پھر کیوں نہ اُسی زندگی کے آرام کی طرف خیال رکھے جو نہ ختم ہو نیوالی ہے۔ کاش!اس امر کی مجھے سچی توفیق مل جائے۔
طبّی مشورہ
مکرّمی و معظّمی ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھے طبی طور پر مشورہ دیا ہے کہ میں صحت کی کمزوری کو دور کرنےکے لئے کچھ عرصہ تک زیادہ سوؤں مگران کو کیا معلوم ہے کہ یہاں باقاعدہ دو یا تین بجے سونے کا موقع ملتا ہے اور غالباً آنے والے دنوں میں کام اور زیادہ بڑھ جائے گا۔کیونکہ اب انشاء اللہ مختلف لیکچروں اور ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہونے والا ہے۔اور چونکہ مجھے اردو میں مضمون لکھنا پڑتا ہے تا کہ اس کا انگریزی میں ترجمہ کیا جائے اس لئے وقت بہت ہی لگتا ہے۔انسان دو گھنٹہ میں جس قدر مضمون بیان کر سکتا ہے اس کو چھ سات دنوں میں لکھ سکتا ہے۔پس اس مشکل کی وجہ سے کام بہت بڑھ رہا ہے۔
لیکچروں کا پروگرام
انشاء اللہ تین دن کو میرا لیکچر’’پیام آسمانی ‘‘پر پورٹ سمتھ نامی شہر میں ہوگا۔ اس کے بعد پانچ دن کو لنڈن میں انیس تاریخ کو ’’حیات بعد الموت‘‘پر لیکچرہوگا۔23کو اس کانفرنس میں لیکچر ہے جو یہاں آنے کا محرّک ہوئی ہےگو موجب نہیں۔چھبیس کو ایک لیکچر ہندوستان کے موجودہ حالات پر ایک سیاسی انجمن کی درخواست پر قرار پایا ہے۔ پھر انتیس کو ایک نوجوانوں کی انجمن میں رسول کریم ﷺکی زندگی پر لیکچر ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔
احباب کو مختلف مقامات پر بھیجنا
میرا یہ منشاء ہے کہ کام کو زیادہ وسیع کرنے کے لئے مختلف احباب کو انگلستان کے مختلف شہروں میں پھیلادوں اس سے خرچ تو کچھ زیادہ ہوجائے گا مگر انشاء اللہ کام بہت وسیع ہوجائے گا اور آواز دُور تک پھیل جائے گی۔
دشمن کی ہنسی اور تمسخر
گو دشمن ہنسے گا اور تمسخر اُڑائے گا مگر میں اس کی ہنسی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اس بات کے اظہار سے نہیں رُک سکتا کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے انگلستان کی روحانی فتح شروع ہو چکی ہے۔میرا منشاء خواجہ صاحب کی طرح یہ نہیں کہ چونکہ انگلستان کے سَو اخباروں نے یا اس سے بھی زیادہ اخباروں نے سلسلہ کے متعلق تعریفی الفاظ میں نوٹ لکھے ہیں پس معلوم ہوا کہ انگلستان مسلمان ہو گیا ہےبلکہ جو کچھ میں کہتا ہوں وہ ایک روحانی امر ہے جس کو صرف وہی دیکھ سکتے ہیں جن کی روحانی آنکھیں ہوں۔
انگلستان کے متعلق رؤیا
اور اس کا پورا ہونا
آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ اس بادشاہ نے جس کے قبضہ میں تمام عالَم کی باگ ہے مجھے رؤیا میں بتایا تھا کہ میں انگلستان میں گیا ہوں اور ایک فاتح جرنیل کی طرح اس میں داخل ہوا ہوں۔اور اس وقت میرا نام ولیم فاتح رکھا گیا۔ میں جب شام میں بیمار ہوا اور بیماری بڑھتی گئی تو مجھے سب سے زیادہ خوف یہ تھا کہ کہیں میری شامتِ اعمال کی وجہ سے ایسے سامان نہ پیدا ہو جاویںکہ خدا تعالیٰ کا وعدہ کسی اور صورت میں بدل جائے اور میں انگلستان میں پہنچ ہی نہ سکوں۔اور اس خوف کی وجہ یہ تھی کہ میں اس خواب کی بناء پر یقین رکھتا تھا کہ انگلستان کی روحانی فتح صرف میرے انگلستان جانے کے ساتھ وابستہ ہے۔لیکن آخر اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں انگلستان پہنچ گیا ہوں اور اب میرے نزدیک انگلستان کی فتح کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔آسمان پر اس کی فتح کی بنیاد رکھ دی گئی ہے اور اپنے وقت پر اس کا اعلان زمین پر بھی ہو جائے گا۔
دشمن ہنسے گا اور کہے گا یہ بے ثبوت دعویٰ تو ہر اک کر سکتا ہے مگر اس کو ہنسنے دو کیونکہ وہ اندھا ہے اور حقیقت کو نہیں دیکھ سکتا۔آتھم کے متعلق جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیشگوئی فرمائی اور وہ مصلحت الٰہی کے ماتحت اور رنگ میںپوری ہوئی تو سب ہندوستان میں اس پر تمسخر کیا گیا۔اس وقت کے نواب صاحب بہاولپور کے دربار میں بھی اس کا ذکر ہوا اور انہوں نے بھی اس کے غلط ہونے کی تائید میں رائےدی۔ان کے پیر خواجہ غلام فرید صاحب رحمۃ اللہ علیہ چاچڑاں والے اس وقت دربار میں موجود تھے،اس بات کو سن کر جوش میں آگئےاور فرمایا کہ جو یہ کہتا ہے کہ مرزا صاحب کی پیشگوئی جھوٹی نکلی وہ غلط کہتا ہے۔آتھم مرچکا۔مجھے وہ مُردہ نظر آرہا ہے۔دنیا کے کیڑوں کو وہ زندہ نظر آتا ہے۔
انگلستان کے فتح ہونے کی شرط پوری ہوگئی
میں بھی کہتا ہوں انگلستان فتح ہو چکا‘خدا کا وعدہ پورا ہوگیا۔اس کی فتح کی شرط آسمان پر یہ مقرر تھی کہ میں انگلستان آؤں‘سو میں خدا کے فضل سے انگلستان پہنچ گیا ہوں۔اب اس کاروائی کی ابتداء انشاء اللہ شروع ہو جائے گی۔اور اپنے وقت پر دوسرے لوگ بھی انشاء اللہ دیکھ لیں گے جو کچھ میں نے لکھا تھا وہ سچ ہے۔نادان لوگ نہیں جانتے کہ بعض امور کا تعلق بعض خاص شخصوں کی ذات سے وابستہ ہوتا ہےاور انگلستان میں ترقی اسلام کا سوال خدا تعالیٰ کی قضاء میں میرے انگلستان آنے کے ساتھ متعلق تھا۔
مسیح موعودؑکو جو رؤیا کھائی گئی‘اس میں بھی یہ بتایا گیا تھا کہ آپ کے ولایت جانے پر یہ فتح شروع ہوگی اور مجھے بھی یہی دکھایا گیااور چونکہ نبیوں کے خلیفہ ان کے ہی وجود سمجھے جاتے ہیں اس لئے دونوں خوابوں کا مطلب ایک ہی تھا۔حضرت مسیح موعودؑ کی رؤیا سے مراد بھی ان کے جانشین کے انگلستان جانے سے تھی اورمیری رؤیاسے مراد بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ولایت جانے سے تھی۔ پس جبکہ مسیح موعودؑاپنے روحانی جانشین کے ذریعہ سے انگلستان پہنچ گئے تو اب انشاء اللہ اس فتح کا دروازہ بھی کھول دیا جائے گا جو ہمیشہ سے مقدر ہے۔
خدا تعالیٰ کی سنت ہے کہ جب کسی پیشگوئی کے پورا ہونے کا وقت آتا ہے تو وہ پھر اس کی طرف توجہ دلادیا کرتا ہے۔اور میں سمجھتا ہوں کہ میں نے جو خواب میں دیکھا کہ میں انگلستان میں گیا ہوں اس سے مراد یہی تھی کہ مسیح موعود کی ’’ازالہ اوہام‘‘والی رؤیا کے پورا ہونے کا وقت آگیا ہے۔فَالْحَمْدُلِلہِ الَّذِیْ اَرَانَا مَاوَعَدَنَا عَلٰی لِسَانِ الْمَسِیْحِ عَلَیْہِ السَّلَامُ
مولوی محمد علی صاحب
اور ان کے رفقاء کا اعتراض
اور اس کا جواب
مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء کو اعتراض ہے کہ اس سفر پر اس قدر خرچ کیوں کیا ہے۔اور غالباًاسی وجہ سے اعتراض ہے کہ ان کو خیال ہے میں نے یہ سفر سیروسیاحت کی وجہ سے اختیار کیا ہے۔میں ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہ درست نہیں۔افسوس ہے کہ اب یہ امر مشکل ہےورنہ میں ان کو کہتا کہ میرے خرچ پر میرے ساتھ چلیں اور میری زندگی کا مطالعہ کریںاور پھر مؤمنانہ طور پر تجربہ کے بعد میرے متعلق رائے دیں۔اگر وہ ساتھ ہوتے تو ان کو معلوم ہو جاتا کہ خود غیر احمدی لوگ اور انگلستان کے واقف لوگ بھی ہمیں نصیحت کرتے ہیں کہ اس قدر کام اچھا نہیں ہے۔ صحت کا خیال بھی رکھنا چاہئے۔آج لنڈن پہنچے بیس دن ہو گئے ہیںاور ہمارے نزدیک لنڈن ابھی ویسا ہی ہے جیسا کہ ہندوستان میں تھا ۔نہ ہمیں اس کی عمارتوں کا پتہ ہے اور نہ اس کے عجائبات کا۔جو کچھ ہمیں معلوم ہے وہ یہاں کے آدمی ہیں جو ملنے کے لئے آجاتے ہیں۔یا وہ نظارہ ہے جو ہواخوری کے لئے جاتے ہوئے راستہ میں نظر آجاتا ہے اور مَیں اُمید کرتا ہوں کہ مولوی محمد علی صاحب باوجود سخت دشمنی اور تعصّب کے یہ امید نہیں کریں گے کہ ہم لوگ اگر چوتھے پانچویں دن سیر کے لئے نکلیں یا پٹنی کے مکان کی طرف جمعہ کی نماز کے لئے جاویں تو ہمیں آنکھیں بند کرکے چلنا چاہیے کہ کہیں ہمارا سفر تفریح کا سفر نہ بن جائے۔
بہر حال میں ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ اگر اس سفر میں ہم کوئی بھی کام نہ کرتے اور سیریں ہی کرتے رہتے‘تب بھی یہ سفر قابل اعتراض نہ تھا کیونکہ یہ دوپیشگوئیوںکو پورا کرنے کے لئے تھا۔ایک آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی جو دمشق کے متعلق تھی اور ایک حضرت مسیح موعودؑ کی جو انگلستان کے متعلق تھی۔ پس اگر ہم لوگ اپنے روپیہ سے بغیر اس کے کہ مولوی صاحب سے روپیہ کا مطالبہ کریں اور بغیر اس کے کہ غیر احمدیوں سے کچھ مانگیں(وہ چونکہ مولوی محمد علی صاحب کے داتا ہیںان سے مانگنے کا اثر بھی لَوٹ کر مولوی محمد علی صاحب کے خزانہ پرپڑتا ہے)اس سفر کو بعض پیشگوئیوں کے پورا کرنے کے لئے اختیار کریں تو اس پر ان کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔
میں سمجھتا ہوں مولوی محمد علی صاحب جس طرح خود میرے معاملہ میں اپنی عقل کو فراموش کردیتے ہیں اس طرح باقی لوگوں کو بھی سمجھتے ہیں۔میں نے انگلستان آنے کا ارادہ نہیں کیا جب تک کہ سَو میں سے نوّے جماعتوں نے مجھے یہاں آنے کا مشورہ نہیں دیا۔پس اگر یہ سفر ناجائز تھا تو اعتراض جماعتوں پر پڑتاہے نہ مجھ پر۔وہ یہ تو کہہ سکتے تھے کہ دیکھو کیسا نادان ہے کہ لوگوں نے ناواقفیت سے مشورہ دیا اور وہ گھر سے نکل کھڑا ہوا۔مگر یہ نہیں کہہ سکتے تھےکہ اس کو کسی نے روکا کیوں نہیں۔کیا مولوی صاحب سمجھتے ہیں کہ ان کے مضمون میں ایسا مقناطیسی اثرہےکہ وہ مسمریزم کے اثر کی طرح سب کچھ بھلادیتا ہے اور اپنی مرضی منوالیتا ہے۔
جن لوگوں نے مہینہ بھر پہلے مجھے مشورہ دیا تھا کہ میں ضرور انگلستان جاؤں اور کسی تکلیف کا بھی خیال نہ کروں،کیا وہ ایک مہینہ کے بعد یہ کہہ سکتے ہیں کہ میں نے قوم کا روپیہ کیوں برباد کیا اور کیوں انگلستان چلا گیا۔اور پھر وہ قوم کا روپیہ برباد کرنے کا الزام مجھ پر دے سکتے ہیں جو جانتے ہیں کہ میں نے اپنی ذات کے لئے کوئی روپیہ نہیں لیا۔اور جو اپنے خطوں میں اس پر اصرار کرتے رہے ہیں کہ میں اپنی ذات کے اخراجات بھی جماعت کے خزانہ سے لوں ۔میں مولوی محمد علی صاحب کو یقین دلاتا ہوں کہ احمدی جماعت کچھ بھی ہو وہ اس قدر عقل سے دور نہیں ہوگئی کہ اس قسم کی مجنونانہ باتیں کرنے لگ جائے۔
خدا کے سوا کسی کی پرواہ نہیں
مگر میں ان سے دریافت کرتا ہوں کہ اگر ان کے مضمون کا اثر ہو جائے تو پھر کیا ہوگا۔یہی نا کہ لوگ میری بیعت سے منحرف ہو کر ان سے جا ملیں گے۔سو میں اس کے متعلق پھر ایک دفعہ کہہ دینا چاہتا ہوں کہ میں آدمیوں کا بھوکا نہیں میں اپنے رب کی نگاہ کا بھوکا ہوں۔اے نادان مولوی!تُو اپنی طرح مجھے مت خیال کر۔احمدی جماعت کیا ہے ایک مٹھی بھر جماعت ہے۔اگر ساری دنیا میرے ساتھ ہواور مجھے چھوڑ دے تو میں اپنے خدا پر یقین رکھتا ہوں کہ وہ مجھے نہیں چھوڑے گا۔اور جب خدا تعالیٰ میرے ساتھ ہے تو مجھے انسانوںکے آنے یا جانے کی کیا پرواہ ہے۔جو انسان میری بیعت کرتا ہے وہ اپنے فائدے کے لئے ایسا کرتا ہے‘مجھ پر اس کااحسان نہیں بلکہ میرے ذریعہ سے خدا تعالیٰ اس پر احسان کرتا ہے۔جو شخص مجھے کوئی تحفہ دیتا ہے وہ مجھ پر احسان نہیں کرتا بلکہ خدا تعالیٰ اس ذریعہ سے اس پر احسان کرتا ہے۔تم میں سے کون ہے جو کہہ سکے کہ میں نے کبھی اس سے کچھ مانگا ہوسوائے اس کے کہ بطور قرض کے کسی سے کوئی رقم لی ہو۔کوئی ہے جو مجھ پر دنایت کا الزام لگا سکے؟کوئی ہے جو مجھ پر خیانت ثابت کرسکے؟کوئی ہے جو میری طرف لالچ یا حرص کو منسوب کرسکے؟اگر کوئی شخص دنیا کے پردہ پر اس قسم کا موجود ہے تو میں اس کو قسم دیتا ہوں اس ہستی کی جس کے ہاتھ میں اس کی جان ہے کہ وہ خاموش نہ بیٹھے اور مجھے دنیا کی نظروں میں ذلیل کرے۔اگر میں احمدیت سے عذرکرنے والا ہوں‘اگر میں لوگوں کے مال کھانے والا ہوں ‘ اگر میں لالچ اور حرص کی مرض میں مبتلا ہوں تو میری مدد کرنے والا‘میرے راز پر پردہ ڈالنے والا خدا اور اس کے دین کا دشمن ہےاور جس قدر جلد وہ اپنی اصلاح کرے‘اسی قدر اس کی روحانیت کے لئے یہ امر اچھا ہوگا۔
جماعت کے روپیہ کا امین
زندگی کا کوئی اعتبار نہیں‘موت ہر اک کو آنیوالی ہے پس میں اس امر کا اعلان کرتا ہوں کہ خواہ مجھ میں کوئی قصورہوں‘کوئی غلطیاں ہوں‘ میں جماعت کے روپیہ اور اس کے سامان کا اس رنگ میں امین رہا ہوں کہ اس سےزیادہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں کیا کر سکتا ہوں۔بعض دوست مجھے بطور ہدیہ کے روپیہ بھیجتے ہیں اور میرے نام منی آرڈر ارسال کرتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ جب ان کے نام روپیہ بھیجا ہے تو کچھ لکھنے کی کیا ضرورت ہے۔میں اس روپیہ کو بھی کبھی نہیں لیتا۔میرے نام سے سب منی آرڈر دفتر محاسب میں جمع ہوتے ہیں اور وہاں رجسٹروں میں درج ہو کر میرے پاس آتے ہیں۔پس میرے حالات پر کوئی پردہ نہیں۔وہ رجسٹر اور وہ کوپن اس امر پر شاہد ہیں کہ ایسا روپیہ بھی خزانہ، جماعت میں داخل ہوتا ہے۔میں اس کو ہاتھ نہیں لگاتا۔میں بے شک ضرورت کے وقت خزانہ سلسلہ سے روپیہ قرض لے لیتا ہوں اور پھر حسب توفیق ادا کر دیتا ہوں۔
اس کا میںمُقِرّ ہوں اور میں اسے جائز سمجھتا ہوں اور اس کا کئی بار اظہار کر چکا ہوں۔ اس کے سوا مجھے جماعت کے روپیہ سے کوئی تعلق نہیں۔میں امیر آدمی نہیں‘بسا اوقات مجھے بیماری میں دواؤں اور ضروری لباس یا اور ضروریات کے لئے سامان میسّر نہیں ہوتا تو میں نفس پر تکلیف برداشت کر لیتا ہوں مگراپنی حالت کو بھی ایسا نہیں بناتا کہ لوگوں کو معلوم ہو کہ مجھے کسی چیز کی ضرورت ہےکیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھی ایک رنگ سوال کا ہے۔اگر باوجود ان حالات کے کوئی شخص میری طرف وہ بات منسوب کرتا ہے جن سے میں ایسا ہی دور ہوں جیسا کہ نور ظلمت سے تو میں اپنے خدا کی طرف متوجہ ہوتا ہوںاور اس سے عرض کرتا ہوں کہ اے میرے خدا!اے میرے خدا میں تیرا عاجز بند ہ ہوں اور اپنے گناہوں کا مُقِرّ میں اپنی خطاؤں کی معافی کی امید میں ان لوگوں کے ظلموں کو معاف کرتا ہوں۔تو ان کی خطاؤں کو بھی معاف فرما اور میرے قصوروں سے بھی درگذر کر۔اور میرے دل کو صبر کی طاقت دے کہ روح تو خوش ہے مگر جسم تکلیف محسوس کرتا ہے۔
مولوی نعمت اللہ صاحب کی شہادت
مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء کے ان الزامات کے جواب میں جو انہوں نے میرے سفر کے متعلق اب تک کئے ہیں آخری بات کہہ کر میں اس تکلیف دہ واقعہ کی طرف متوجہ ہوتا ہوں جو کابل میں ہواہے۔مولوی نعمت اللہ صاحب کی شہادت معمولی بات نہیں ہےکیونکہ افغانستان کے پہلے فعل اگر جہالت کے ماتحت تھے تو یہ دیدہ دانستہ ہے۔اب افغانستان کی گورنمنٹ ہمارے اصول سے اچھی طرح واقف ہوگئی ہےاور اس کا یہ فعل نہایت قابل افسوس ہے۔مگر مسلمان لڑنے کے لئے نہیں بلکہ دنیا کے لئے قربان ہونے کے لئے پیدا کیا گیا ہے،اس لئے ہمیں اپنے خیالات کی رَوکو صلح اور امن کی طرف پھیرنا چاہئیے نہ کہ بُغض اور فساد کی طرف۔
بد پر رحم اور بدی سے نفرت
ہمیں یہی تعلیم ہے کہ ہم کو چاہئے کہ بد پر رحم کریں اور بدی سے نفرت کریں۔بدی کو مٹائیں اور بد کو بچائیں۔پس ہمیں افغانستان کی گورنمنٹ اور اس کے فرمانروا کے خلاف دل میں بُغض نہیں رکھنا چاہئیے بلکہ دعا کرنی چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ اب بھی ان کو ہدایت دے۔بے شک یہ کام مشکل ہے۔اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ صبر مشکل ہے۔ہمیں جیسا کہ میں تار لکھ میں چکا ہوں اپنی پوری توجہ اس کام کےجاری رکھنے کے لئے کرنی چاہیئے جس کی خاطر مولوی نعمت اللہ صاحب نے جان دی ہے ۔اور ہمیں ان لوگوں کی یاد کو تازہ رکھنا چاہئے تا کہ ہمارے تمام افراد میں قربانی کا جوش پیدا ہو۔
شہیدوںکے کتبے
میری رائے ہے کہ جس قدر سلسلہ کے شہیدہوں ان کے نام ایک کتبہ پر لکھوائے جائیں اور اس کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سرہانے کی طرف لگوایا جائے تاوہ ہر اک کی دعا میںشامل ہوتے رہیں۔اور ہر اک کی نظر ان کے ناموں پر پڑتی رہے۔فی الحال اس کتبہ پر مولوی شہزادہ عبد اللّطیف صاحب اور مولوی نعمت اللہ صاحب کا نام ہو۔اگر آئندہ کسی کو یہ مقام عالی عطا ہو تو اس کا نام بھی اس کتبہ پر لکھا جائے۔
تذکرۃ الشہداء
اسی طرح ایک کتاب تیار ہو جس میں تا ریخی طور پر تمام شہداء کے حالات جمع ہوتے رہیں تا آئندہ نسلیں ان کے کارناموں پر مطلع ہوتی رہیںاور ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کریں۔
افغانستان میں تبلیغ کا سوال
اسی طرح ہمیں افغانستان میں تبلیغ اسلام کے سوال پر خاص غور کرنا چاہیئے۔وہاں کھلی تبلیغ کا دروازہ تو سرِدست بند ہے ۔مگر ہمیں اس ملک کو ایک دن کے لئے بھی نہیں چھوڑنا چاہیئے۔چاہیئے کہ ہمارے مخلص دوست اپنے اپنے علاقوں میں جا کر وہاں سے با اثر خاندانوں کے نوجوانوں کو ہندوستان میں لاویں پھر قادیان میں ان کو کچھ عرصہ تک رکھا جائے اور ان کو سلسلہ سے واقف کرکے چھ سات ماہ کے بعد ان کے وطن واپس کر دیا جائے۔
جو شخص ایک ماہ بھی قادیان میں رہے گا اس کا بغیر احمدی ہونے کے واپس جانا بظاہر خلاف توقع ہے۔اور ہمیں یہی امید کرنی چاہیئے کہ ان میں سے سو فیصدی ہی احمدی ہو کر جائیں گے ۔ یہ لوگ جب واپس جاویں گے تو اپنے اپنے علاقہ کے لئے مبلغ کا کام دیں گے۔اور صرف اپنے رشتہ داروں میں تبلیغ کریں گے۔اس طرح چند سال میں ہی ایک معقول تعداد نو احمدیوں کی افغانستان میں پیدا ہو جائےگی۔یہ ضروری ہے کہ ایسے لوگ مختلف علاقوں اور شہروں سے آئیں تا ایک ہی وقت میں سب طرف احمدیت کا اثر پھیل جائے۔اس کے لئے ہمیں تین چار آدمی مقرر کرنے چاہئیں جو ہر وقت افغانستان میں چکر لگاتے رہیں۔میں امید کرتا ہوں کہ اگر افغانستان کے باشندوں میں سے جو اس کام کے پہلے حقدار ہیں‘اس بات کے لئے آدمی نہ ملیں تو پنجابیوں کو اور خصوصاًسرحدیوں کو اس کام کے لئے تیار ہو جانا چاہیئے۔
چوہدری ظفر اللہ خان صاحب بیرسٹر ایٹ لاء کی کابل جانے پر آمادگی
میں نہایت خوشی سے اعلان کرتا ہوں کہ بغیر اس تجویز کے علم کے چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے اپنے نام کو اس لئے پیش کیا ہے اور لکھا ہے کہ صرف نام دینے کے لئے ایسا نہیں کرتا بلکہ پورا غور کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ مجھے اس کام کے لئے اپنے آپ کو پیش کرنا چاہیے۔
حضرت خلیفۃ المسیح کی دلی تڑپ
افسوس کہ میری ذمہ داریاں مجھے اجازت نہیں دیتیں اور نہ میری کوئی بالغ اولاد ہی ہے کہ وہ میری دلی تڑپ کو پورا کرے۔اس لئے میں خون دل پی کر خاموش ہوںاور چونکہ کسی کو دل کھول کر دکھایا نہیں جا سکتا اس لئے اپنی حالت کا اظہار بھی نہیں کر سکتا ورنہ
خدا شاہد ہے اسکی راہ میں مرنے کی خواہش میں
مرا ہر ذرہ تن جھک رہا ہے التجا ہو کر
اے عزیزو!اب وقت تنگ ہے اور میں آپ سے رخصت ہوتا ہوں۔طبیعت میری ابھی تک بیمار ہے۔اسہال اور پیچش سے آرام نہیں۔کھانسی بھی شروع ہے۔مگر میں اپنے رب کے ہاتھ میںہوں اور آپ کو بھی اسی کے سپرد کرتا ہوں۔نِعْمَ الْمَوْلٰی وَنِعْمَ النَّصِیْرُ
خاکسارمرزا محمود احمد
(الفضل۴۔اکتوبر۱۹۲۴ء)