برادارنِ جماعت احمدیہ!اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ۔حَفِظَکُمُ اللہُ عَنْ کُلِّ شَرٍّوَ نَصَرَکُمُ اللہُ فِیْ کُلِّ مَوْطِنٍ وَزَادَکُمْ مَجْدًا وَکَثَّرَ کُمْ عَدَدًا۔مَا زِلْتُمْ تَحْتَ ظِلِّ حَمَا یَتِہٖ وَشَمْسِ عَنَا یَتِہٖ۔
افراتفری میں سفر کی تیاری
آج ہمیں قادیان سے چلے چودہ دن ہو گئے ہیں یعنی پورے دو ہفتے گزر چکے ہیں۔مگر ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا کہ ہم کس حال میں ہیں۔ جس افراتفری میں اس سفر کی تیاری ہوئی ہے شاید اس کی مثال پہلے دنیا میں نہ ملتی ہو۔چھ ہزار میل کا سفر اور صدیوں کی تبلیغ کے لئے سکیم بنانے کی تجویز‘اور حالت یہ ہے کہ سفر کے شروع ہونے تک کسی بات کے سوچنے کا موقع نہیں ملا۔مذاہب کا نفرنس کےمتعلق مئی میں علم ہوا ہے۔اسکے بعد میں نے مشورہ کیا اور فیصلہ کیا کہ اس میں مضمون بھیجنا چاہئے اطلاع نا مکمل تھی اس لئے سیکرٹری کو تاردی گئی اور اس کا جواب 12 مئی کے قریب ملا۔پھر مشورہ کیا گیا اور بعض لوگوں کی اس تجویز پربھی غور کیا گیا کہ مجھے خود جا نا چاہئے۔اس مشورہ کے نتیجہ کے بعد میں نے باہر کے دوستوں سے بھی مشورہ پوچھا اور چونکہ مسلم لیگ کا اجلاس تھا اور اس میں مسلمانوں اور ہندووں کے تعلقات کا سوال پیش تھا جس کا اثر خود ہماری جماعت پر اور اسلام کی ترقی پر بھی پڑتا تھا اس لئے میں اس کام میں مشغول ہوگیا۔23تاریخ تک میں اس کام سے فارغ ہوا۔
مذہبی کا نفرنس کے لئے مضمون لکھنا
اور چوبیس کو میں نے مضمون لکھنا شروع کیا۔جو اس قدر وسیع ہو گیا کہ اس کا وہم وگمان بھی نہ تھا۔یعنی ساڑھے چار سَو کالم تک پہنچ گیا۔دو دن میں بیمار رہا‘ کُل بارہ دن میں چھ جون تک یہ مضمون ختم ہوا۔ چونکہ میں مضمون اردو میں لکھتا ہوں اور دوسرے دوست اسے انگریزی میں ترجمہ کرتے ہیں۔اس لئے میرے لئے ایسے مضامین کے متعلق کئی کام ہوتے ہیں۔اول مضمون کا لکھنا‘ دوسرے اس کی نظر ثانی کرنا اور غلطیوں کا درست کرنا‘ حوالوں کا لگانا وغیرہ۔تیسرے جو ترجمہ انگریزی میں ہوا ہو اس کو سننا اور اس کا اُردو کے مضمون سےمقابلہ کرکے دیکھنا کہ آیا ترجمہ صحیح بھی ہو گیا ہے یا نہیں اور مطلب کو واضح کرتا ہے یا نہیں۔ساتھ ساتھ دوسرے ساتھی جو انگریزی کےواقف ہوتے ہیں‘ مضمون کی انگریزی زبان میں بھی مناسب اصلاح کرتے چلے جاتے ہیں بالعموم یہ اصلاح اور مقابلہ بھی اتناہی وقت لیتا ہے جتنا کہ اصل مضمون کی تصنیف۔نظر ثانی بھی بہت ساوقت لیتی ہے۔ اس قدر لمبے مضمون کے متعلق جو دقّت ہو سکتی تھی وہ سمجھ میں آسکتی ہے۔مضمون لکھنے کے دنوں میں بھی بسا اوقات رات کے بارہ بارہ بجے تک اور بعض دفعہ تو دو دو بجے تک بیٹھناپڑتا تھا۔اس شدید گرمی کے موسم میں جبکہ دن کو کام بھی مشکل ہوتا ہے‘رات کے وقت لیمپ کی روشنی میں بارہ بارہ بجے تک کام کرنا سخت مشکل کام ہے اور میرے جیسے کمزور صحت کے آدمی کے لئے تو ناممکن معلوم ہوتا ہے۔مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے ہمت بخش دی اور کام ہوگیا۔اس کے بعد نظر ثانی کا کام شروع ہوا اور پھر ترجمہ کے مقابلہ اور اصلاح کا ۔چونکہ مضمون کے لکھنے کے دنوں میں ملاقاتوں اور ڈاک کے کام کو ہلکاکر دیا تھااس لئے اب وہ کام بھی جمع ہو گیا۔پس نصف دن اس کے لئے لگانا پڑتا اور نصف مضمون کے لئے۔اور اسوجہ سے یہ نظر ثانی کا کام لمبا ہو گیا اور میرے لئے آرام کا کوئی موقع باقی نہ رہا۔مجھے ان دنوں میں بالکل معلوم نہ ہوتا تھا کہ دن کب ہوتا ہے اور رات کب‘کیونکہ میرے لئے یہ دونوں چیزیں برابر تھیں اور اس وجہ سے مجھے سفر کے لئے پروگرام بنانے کا موقع نہیں ملتا تھا۔نظر ثانی اور ترجمہ اور اس کی اصلاح کا کام جس میں چوہدری ظفر اللہ خان صاحب‘ مولوی شیر علی صاحب اور عزیزم مرزا بشیراحمد صاحب نے رات اور دن کو ایک کر دیا۔فَجَزَا ھُمُ اللہُ اَحْسَنَ الْجَزَاءِ۔ 2جولائی کو جا کر ختم ہوا۔
دوسرا مضمون لکھنے کی تجویز
اور اس عرصہ میں یہ فیصلہ ہوا کہ جو مضمون لکھا گیا ہے وہ اس طرز کا ہے کہ اس کا کوئی حصہ پڑھ کر سنا نا مناسب نہیں اور سارا مضمون کسی صورت میں بھی پڑھا نہیں جا سکتا۔اس لئے ایک نیا مضمون لکھا جائے جو مختصر ہو اور پہلے مضمون کو بطور کتاب شائع کر دیا جائے۔اس فیصلہ کا یہ نتیجہ ہو اکہ دو تاریخ کو فارغ ہوتے ہی مجھے نئے مضمون کی تصنیف میں مشغول ہو نا پڑا۔2 سے9جولائی تک یہ مضمون لکھا گیا۔اس کی نظر ثانی ہوئی اور اس کا ترجمہ ہوا اس کی صحت ہوئی۔یہ مضمون بھی سَوکالم کا تھا اور اس سے دوست اندازہ کر سکتے ہیں کہ ان سات دنوں میںہمیں ہر گز ایک منٹ کی بھی فرصت نہیں مل سکتی تھی۔
دو دن
نو اور دس کی درمیانی رات کے گیارہ بجے یہ مضمون ختم ہوا اور12 تاریخ کو ہم نے جانا تھا۔پس دس اور گیارہ دو تاریخیں تھیں جو مجھے فراغت کی ملیں۔ان تاریخوں میں بھی مجھے کسی سکیم پر غور کرنے یا گھر کے کاموں کے لئے فرصت نہیں مل سکتی تھی۔اپنے بعد قادیان میں انتظام کا فیصلہ کرنا لائبریری میں سے بعض کتب کا نکالنا جو سفر کے لئے ضروری تھیں‘ دوسرے لوگوں کی کتب کا واپس کرنا‘ اس کام پر یہ دو دن خرچ ہوگئے۔
مزار مسیح موعودؑ
اور تڑپا دینے والے خیالات
جس دن صبح کے وقت چلنا تھا اس دن رات کے ایک بجے میں اپنے بعد کام کے چلانے کے متعلق ہدایات لکھنے سے فارغ ہوااور صبح عزیزم عبد السلام ولد حضرت خلیفہ اول کو جو بیمار تھے دیکھ کر اس آخری خوشی کو پورا کرنے چلا گیا جو اس سفر سےپہلے میں قادیان میں حاصل کرنی چاہتا تھا۔یعنی اٰقَائِیْ وَسَیِّدِیْ وَرَاحَتِیْ وَسُرُوْرِیْ وِحَبِیْبِیْ وَمُرَادِیْ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مزار مبارک پردعا کرنے کے لئے۔ایک بے بس عاشق اپنے محبوب کے مزار پر عقیدت کے دو پھول چڑھانے اور اپنی ٹوٹی پھوٹی زبان میں دعا کر دینے کے سوا اور کیا کر سکتا ہے۔سواس فرض کو ادا کرنے کے لئے میں وہاں گیا۔مگر آہ!وہ زیارت میرے لئے کیسی افسردہ کن تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مُردے اس مٹی کی قبر میں نہیں ہوتےبلکہ ایک اَور قبر میں رہتے ہیں۔مگر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اس مٹی کی قبر سے بھی ان کو ایک تعلق رہتا ہے اور پھر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ انسانی دل اُس قُرب سے بھی جو اپنے پیارے کی قبر سے ہو ایک گہری لذت محسوس کرتا ہے۔پس یہ جدائی میرے لئے ایک تلخ پیالہ تھا اور ایسا تلخ کہ اسکی تلخی کو میرے سوا کوئی نہیں سمجھ سکتا۔میری زندگی کی بہت بڑی خواہشات میں سے ہاں ان خواہشات میں سے جن کا خیال کرکے بھی میرے دل میں سرور پیدا ہو جاتا تھا‘ ایک یہ خواہش تھی کہ جب میں مرجاؤں تو میرے بھائی جن کی محبت میں مَیں نے عمر بسر کی ہے اور جن کی خدمت میرا واحد شغل رہا ہے‘ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے عین قدموں کے نیچے میرے جسم کو دفن کردیں تا کہ اس مبارک وجود کے قرب کی برکت سے میرا مولا مجھ پر رحم فرماوے۔ ہاں شاید اس قرب کی وجہ سے وہ عقیدت کیش احمدی جو جذبہ محبت سے لبریز دل کو لے کر اس مزار پر حاضر ہو میری قبر بھی اس کو زبان حال سے یہ کہے کہ
؎ اَے خانہ برانداز چمن کچھ تو اِدھر بھی
اور وہ کوئی کلمہ خیر میرےحقمیں بھی کہہ دے جس سے میرے ربّ کا فضل جو ش میں آکر میری کوتاہیوں پر سے چشم پوشی کرے اور مجھے بھی اپنے دامن رحمت میں چھپالے۔
آہ!اس کی غنا میرے دل کو کھائے جاتی ہے اور اس کی شان احدیت میرے جسم کے ہر ذرہ پر لرزہ طاری کردیتی ہے۔پس میں سمجھتا تھا کہ شاید یہ جسمانی قرب رُوحانی قرب کا موجب بن جائے۔اللہ تعالیٰ کا فضل تو سب ہی کچھ کر سکتا ہے۔مگر اپنی شامت اعمال اور صحت کی کمزوری دل کو شِکارِ اوہام بنادیتے ہیں۔پس میری جدائی حسرت کی جدائی تھی کیونکہ میں دیکھ رہا تھا کہ میری صحت جو پہلے ہی کمزور تھی‘پچھلے دنوں کے کام کی وجہ سے بالکل ٹوٹ گئی ہے۔میرے اندر اب وہ طاقت نہیں جو بیماریوں کا مقابلہ کرسکے۔وہ ہمت نہیں جو مرض کی تکلیف سے مستغنی کردے۔ ادھر ایک تکلیف دہ سفر درپیش تھا جو سفر بھی کام ہی کام کا پیش خیمہ تھا اور ان تمام باتوں کو دیکھ کر دل ڈرتا تھا اور کہتا تھا کہ شاید کہ یہ زیارت آخری ہو۔ شاید وہ امید حسرت میں تبدیل ہونے والی ہو۔ سمندر پار کے مُردوں کو کون لاسکتا ہے۔انکی قبر یا سمندر کی تہہ اور مچھلیوں کا پیٹ ہے یادیارِ بعیدہ کی وہ سرزمین جہاں مزارِ محبوب پر سے ہو کر آنے والی ہو ابھی تو نہیں پہنچ سکتی۔اس میں کو ئی شک نہیں کہ یہ ایک وہم تھا۔کون کہہ سکتا ہے کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے ہم اللہ تعالیٰ کے فضل کے ہی امیدوار ہیں اور میں تو کبھی اس سے مایوس نہیںہواکیونکہ میں اس کا بندہ ہوں اور میرا یہ حق ہے کہ میں اس سے مانگوں اور وہ میرا رب ہے اور اس کی شان ہے کہ وہ مجھے دے۔مگر’’عشق است وہزار بد گمانی‘‘عشق اور محبت وہم پیداکیا ہی کرتے ہیں۔اور خصوصاً اس قدر لمبا سفر اور ایسی تکلیف کا سفر اور صحت کی خرابی‘ایسے قوی موجبات ہیں کہ جن کے سبب سے ایسے وہم بالکل طبعی ہیں۔
روانگی کی گھڑی
غرض حسرت واندوہ سے میں اس مقام سے جدا ہوا اور گھرپہنچا۔صرف ایک ایک دو دو منٹ اپنی بیویوں سے ملنے کے لئے ملے۔اور اتنا ہی وقت حضرت والدہ مکرمہ اور ہمشیرگان سے ملاقات کے لئے۔چلتے ہوئے اپنے بعض بچوں کی شکل بھی نہیں دیکھ سکا۔میں یہ بھی نہیں دیکھا سکا کہ میرے ساتھ کیا اسباب ہے۔آیا کوئی ضروری چیز رہ تو نہیں گئی۔خود فرصت نہ دیکھ کر اپنے دو عزیزوں کو اس کام کے لئے مقرر کیا تھا کہ وہ ایک نظر ڈال لیں اور فہرست بنالیں مگر کام کی کثرت کی وجہ سے ان سے فہرست لینا بھی بھول گیا۔راستہ میں دو دن دوستوں کی ملاقاتوں میں صرف ہوئے اور ان دنوں میں بھی آرام کا موقع نہیں ملا۔بمبئی پہنچے تو معلوم ہوا کہ جہاز دوسرے دن صبح ہی چلنا ہے اس رات بھی دو بجے تک کام کیا اور صبح سوار ہوگئے۔
سمندر کا شدید طوفان
جہاز بندر سے نکلا ہی تھا کہ ایسا شدید طوفان آیا کہ الامان!ہمارے سب ساتھی سوائے بھائی جی اور چوہدری فتح محمد صاحب کے بیمار ہو گئے ۔اور کسی قدر طاقت چوہدری علی محمد میں رہی۔باقی ہم سب صاحب فراش تھے۔مجھے قَے نہیں آئی‘باقی اکثر کو قیئیں بھی بہت سی آئیںاوربعض کو کم۔اکثر ساتھی تین دن تک پا خانہ‘پیشاب کے لئے بھی اُٹھ کر نہیں جا سکے۔ سربستر پر سے اٹھانا مشکل تھا۔
کھانے کی مشکلات
اور ادھر یہ مصیبت کہ بہت سے ٹکٹ بے خوراک کے تھے۔اور بمبئی میں شام کو پہنچنے کی وجہ سے کھانے کا سامان نہیں خریدا جا سکا تھا۔پس بیماری پر مزید تکلیف کھانے کا سامان نہ ہونے کی تھی۔جن کے ٹکٹ کھانے کے بھی تھےوہ بھی معذور تھے یا تو کھایا نہ جاتا تھا اور اگر کھانے لگتے تو خوراک مناسب نہ تھی۔ گوشت عام طورپر یا سَور کا یا گر دن مروڑے ہوئے مرغ کا ہوتا تھا یا ایک تھالی گائے کے گوشت کی جو وہ بھی ہندوستانی طریق خوراک کے خلاف۔یہ گوشت چونکہ بمبئی کا خرید ا ہوا تھا اس کا کھانا تو جائز تھا مگر وہ عام طور پر کھٹاس میں پکایا ہوا ہوتا تھاجس کی وجہ سے ہمارے لئے کھانا اس کا بہت مشکل تھا۔باقی اُبلے ہوئے آلو اور اُبلی ہوئی پھلیاں تھیںجن کو بِلا اعتراض کے کھایا جا سکتا تھا۔ان حالات میں جو تکلیف تمام قافلہ کو پہنچی اس کا اندازہ ہمارے دوست نہیں کر سکتے۔
دوستوں کی حالت
اور دل توڑ دینے والا نظارہ
بعض کمزور طبیعت دوست تو رو پڑے اور بعض کو میں دیکھتا تھا کہ ان کے چہروں پر جھُریاں پڑ گئیں اور بوڑھے معلوم ہونے لگے۔ میں کسی وقت ہمت کرکے دوستوں کی ہمت بڑھانے کے لئے کمرے سے نفس پر زور کرکے باہر چلا جاتا تو سب دوست خوشی سے میرے گرد اکٹھےہو جاتے۔مگر جس طریق سے وہ اکٹھے ہوتے تھے وہ خود دل کو توڑ دینے والا تھا۔وہ دوست جو میرے ساتھ تین چار دن پہلے اچھے بھلے اور تندرست سوار ہوئے تھے جب میں دیکھتا کہ وہ گھٹنوں کے بل گھسٹتے ہوئے جس طرح اپاہج چلتا ہے میری طرف آتے تھے اور آکر میرے پاس اس طرح لیٹ جاتے جس طرح زخمی پڑے ہوئے ہوتے ہیں تو میرا خدا ہی جانتا ہے کہ میرے دل پر اس نظارہ کا کیا اثر ہوتا تھا۔یہ حالت چاردن تک تو بہت شدت سے رہی اور پانچویں دن بھی کافی سخت تھی گو زور کم ہونا شروع ہو گیا تھا۔طوفان ان پانچ دنوں میں ایسا سخت رہا کہ جہاز کے عادی ملاح بھی نصف کے قریب بیمار ہو گئے اور افسرا س قدر گھبراگئےکہ جب کپتان جہاز سے پوچھا گیا کہ عدن کب پہنچیں گے۔تو اس نے ہاتھ جوڑ کر آسمان کی طرف اٹھا دئیے اور آنکھیں آسمان کی طرف اٹھا دیں جس کا مطلب یہ تھا کہ خدا ہی پہنچائے گا۔لہر اتنی اونچی تھی کہ میں جہاز کی اوپر کی چھت پر لیٹا ہوا تھا اور کمرے کے اندر تھا کہ ایک لہر بارہ گز اونچی اُٹھ کر چھت پر آگریاور کمزہ کے اندر مجھ پر آکر گری جس سے میں تربہ تر ہوگیا‘ کئی تختے ٹوٹ گئے۔
میری طبیعت پر پہلی سخت اور بعد کی تکلیف کا یہ اثر ہوا کہ میرا حلق بالکل بیٹھ گیا ۔ دن میں تین دفعہ دوائی لگائی جاتی ہے اور کئی دفعہ پلائی جاتی ہے مگر کوئی اثر نہیں۔گلے میں شدید درد ہے اور ساتھ ہی بخار بھی شروع ہو گیاہے۔ہلکا ہلکا بخار دن بھر رہتا ہے۔سر میں بھی درد رہتا ہے اور طبیعت روز بروز گھلتی جاتی ہے اور آگے کام کا پہاڑ نظر آتا ہے اور سفر کی شدائد ابھی باقی ہیں۔ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں:-
؎ جو صبر کی تھی طاقت اب مجھ میں وہ نہیں ہے
اور میں دیکھتا ہوں کہ:-
؎ جو کام کی تھی طاقت اب مجھ میں وہ نہیں ہے
اغراض سفر
جس کام کے لئے میں جا رہا ہوں وہ اپنی نوعیت میں بالکل نرالا ہے۔ایسا نرالا کہ اب تک ہمارےبعض دوست بھی اس کو نہیں سمجھے۔میں نے سنا کہ ایک دوست ریل میں ایک غیر احمدی کو سمجھا رہے تھے کہ ان کے ولایت جانے کی غرض تبلیغ اسلام ہے۔حالانکہ گو تبلیغ اسلام ہر اک کا فرض ہے اور میرا بھی مگر جیسا کہ میں نے بو ضاحت لکھا ہے تبلیغ کے لئے باہر جانا خلیفہ کے لئے درست نہیں۔اس کا اصل کام تبلیغ کی نگرانی ہے۔اس کا مبلّغ کے طور پر باہر جاناسلسلہ کے لئے ایسی خطرناک مشکلات پیدا کر سکتا ہے جن سے باہر نکلنا مشکل ہو جائے۔پس یہ سفر تبلیغ کی مشکلات کو معلوم کرنے اور ایسا مقامی علم حاصل کرنے کے لئے ہے جو آئندہ مغربی ممالک میں تبلیغ کرنے کے لئے مُمِدّ ہو۔اور ان خطرناک آفات کو معلوم کرنے اور ان کا علاج دریافت کرنے کے لئے ہے جو مغربی ممالک میں اسلام کے پھیلنے کے ساتھ ہی پیدا ہونے والی ہیں۔اور جن کو اگر پہلے سے مد نظر نہ رکھا گیا تو اسلام کا مغرب میں پھیلنا ہی اسلام کی تباہی کا موجب ہوگا۔
کام کی مشکلات
ان مشکلات کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ وہ ممالک جو اسلامی کہلاتے ہیں وہ بھی یورپ کی تہذیب کے اثر کے نیچے پردہ کو چھوڑ بیٹھے ہیں‘عورت اور مرد کے اکٹھے ناچ کا ان میں رواج پا یا جاتا ہے‘سود عام ہو چکا ہے۔جب یہ اثر یورپ کے لوگوں نے صرف ملاقات سے ان مسلمان قوموں پر ڈال دیا ہے جو نسلاً بعد نسلٍ مسلمان چلی آتی ہیں اور جو اس سے پہلے اسلامی احکام کی عادی ہو چکی تھیں تو کس طرح امید کی جا سکتی ہے کہ یہ قومیں مسلمان ہو کر ان عادات کو چھوڑ دیں گی۔لیکن اگر یہ مسلمان ہو کر ان عادات کو قائم رکھیں تو یقیناً دوسری اسلامی دنیا جو اس وقت تک اسلامی احکام پر قائم ہے ان کو مسلمان بھائی خیال کرکے اپنی پہلی حالت کو بدل دے گی کیونکہ یورپ کو دنیا کے خیالات پر ایسی حکومت ہے کہ وہ مسمریزم سے مشابہ معلوم ہوتی ہے۔جب یورپ مسلمان ہو اتو مسلمانوں پر اس کے خیالات کا اثر اور بھی بڑھ جائے گا اور جس بات کو یورپ معمولی کہے گا وہ بھی معمولی سمجھنے لگیں گے۔
وجاہت کا اثر
وجاہت کا دنیا میں بڑا اثر ہوتا ہے اپنے اندر ہی دیکھ لو خواجہ کمال الدین صاحب اور مولوی محمد علی صاحب کو وجاہت حاصل تھی۔جماعت کے ایک حصہ کو انہوں نے کس طرح تباہ کر دیا۔ بعض لوگ واقعہ میں مخلص تھے اور حضرت مسیح موعود کے دعوں پر ایمان رکھتے تھےمگر ان کی وجاہت کے اثر کے نیچے جن باتوں کو انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہیں انہوں نے بھی کہہ دیا ٹھیک ہے۔اگر یورپ کے مالدار اور فلاسفر مسلمان ہو گئے اور دنیا کی شان وشوکت نے مسلمانوں کی آنکھوں کو چُند ھیادیاتو اس وقت اگر یورپ کے نو مسلموں نے کہا کہ پردہ سے مراد خدا تعالیٰ کی یہ پردہ نہیں ہو سکتا تھا بلکہ اس سے مراد صرف اس وقت کی ضرورتوں کا پورا کرنا اور بعض فسادوں سے بچنا تھا تو تمام عالم اسلام کہے گا کہ سبحان اللہ کیا نکتہ نکالا ہے۔اور اگر اس نے یہ کہا کہ سود سے مراد بھی صرف وہ قرض ہے جو مصیبت زدہ لیتا ہے اس کو بے شک سود کہہ دینا چاہئے۔لیکن جو روپیہ لوگ تجارتوں اور جائدادوں کے بڑھانے کے لئے لیتے ہیں اس پر کیوں روپیہ قرض دینے والا نفع نہ لے یہ سود نہیں۔تو سب لوگ کہیں گے کہ واہ واہ نہایت پُرحکمت بات نکالی ہے۔پس ہم دو آگوں میں ہیں۔اگر ہم یورپ کو مسلمان نہیں کرتے تب اسلام خطرہ میں ہے۔اور اگر ہم اسے مسلمان کرتے ہیں تب بھی اسلام خطرہ میں ہےپس ہمارا فرض ہے کہ اس مسئلہ پر جس قدر بھی غور کیا جائے عقل حیران ہوتی جاتی ہے۔ہر ممکن پہلو سے غور کریں اور کوئی ایسی تدبیر نکالیں جس سے یہ دقتیں دور ہوںاور مغربی ممالک اسلام کو قبول بھی کر لیں اور اسلام کی اصلی شکل کو بھی نقصان نہ پہنچے۔
کام کے نظام اور کام میں فرق
چونکہ مسلمانوں میں سے عموماً اور ہندوستان سے خصوصاً حکومت جاتی رہی ہے۔ اور اس وجہ سے ہی حکومت کی روح بھی نہیں رہی اس لئے لوگ ان باتوں کے سمجھنے کے قابل ہی نہیں رہے۔وہ اس امر کو تو سمجھ سکتے ہیں کہ کوئی کام عارضی طور پر کرکے ہم اس سے فائدہ اٹھالیں لیکن وہ اس امر کو نہیں سمجھ سکتے کہ ایک کام یہ بھی ہوتا ہے کہ کام کے کرنے کے طریق کا فیصلہ کیا جائے۔ان کے نزدیک یہ بات ہر شخص فوراً سمجھ سکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ایشیائی لوگ ہمیشہ اپنی کوششوں میںناکام رہتے ہیں۔ مغربی لوگ جو کام شروع کرتے ہیں پہلے اس کام کے سب پہلوؤں پر نظر ڈالتے ہیں اور اس کی مشکلات کو حل کرنے کی تدبیریں سوچتے ہیں پھر اس کام کو کرتے ہیں اور اس وجہ سے اکثر کامیاب بھی ہوتے ہیں جب تک یہ مرض ایشائیوں کے دل سے دُور نہ ہوگی کہ ایک منٹ کے فکر کے بعد جو خیال ان کے دل میں آجائے وہ سکیم نہیں کہلاتی۔بہت وسی باریک باتیں ہوتی ہیں جو لمبے غور اور بڑے تجربہ سے معلوم ہوتی ہیں اس وقت تک وہ کبھی کامیاب نہیںہو سکتے۔
ایک عام بیماری
ہمارے ملک میں یہ عام بیماری ہے کہ ایک شخص جو عمر بھر کسی کام میں صرف کر دیتا ہے‘ اس کی رائے کے مقابلہ میں ایک ناتجربہ کار آدمی جھٹ اپنی رائے کو پیش کردے گا اور سمجھ لے گا کہ دو منٹ بات سن کرمیں نے سب باتیں معلوم کر لی ہیں۔اور یہ بیماری اسی خیال کا نتیجہ ہے کہ وہ کام کے نظام اور کام میں فرق نہیں سمجھ سکتے۔ کام معمولی آدمی بھی کرسکتے ہیںمگر کاموں کا نظام صرف بہت بڑے ماہر بہت غور کے بعد تجویز کر سکتےہیں۔ایک عمارت کا نقشہ ایک ماہر فن تجویز کرتا ہے اور بنا ایک مستری بھی لیتاہے۔
سفر کی غرض پر انگریزوںکو تعجب
خلاصہ یہ کہ ہمارے کام کی مشکلات میں سے ایک یہ مشکل ہے کہ اس کی اہمیت کو لوگ نہیں سمجھ سکتے۔حتّٰی کہ ابھی اپنی جماعت کے بعض لوگ بھی اس کو نہیں سمجھ سکتے۔مگر یورپ کے لوگ فوراً سمجھ جاتے ہیں کیونکہ وہ ان کاموںکے عادی ہیں۔اس قدر عرصہ سے ہم یورپ میں تبلیغ کر رہے ہیں کبھی اس پر انگریزوں نے تعجب نہیں کیا۔لیکن میرے سفر کی غرض معلوم کرکے تمام تعجب کررہے ہیں۔مکرمی ذوالفقار علی خاں صاحب ایک کام کے لئے پچھلے دنوں شملہ گئے تھے وہاں گورنمنٹ کے مختلف انگریز وزراء سے ان کی گفتگو ہوئی‘وہ شوق سے اس سفر کی غرض دریافت کرتے اور جب غرض کو معلوم کرتے تو سخت حیرت کا اظہار کرتے اور میری نسبت پوچھتے کہ کیا وہ اس کام کو ممکن خیال کرتے ہیں بلکہ ایک وزیر نے تعجب سے کہا کہ کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ یورپ مسلمان ہو کر پردہ کو بھی تسلیم کر لے گا یہ کبھی نہیں ہو سکتا۔جہاز پر جو انگریز اس کو سنتا ہے‘سخت تعجب کرتا ہے۔ایک انگریز سے بعض دوستوں کی گفتگو ہوئی جب اس نے سفر کی وجہ سنی تو حیران ہو کر پوچھنے لگا کہ کیا آپ کو’’کے نیوٹ‘‘کا قصہ معلوم ہے؟انہوں نے کہا۔ہاں !تو کہنے لگا یہ ویسی ہی بات ہے
ایک بادشاہ کا قصہ
کے نیوٹ ایک انگریز بادشاہ تھا۔اس کو خدا تعالیٰ نے بہت اقبال دیا تھا۔ایک دن سمندر کے کنارے بیٹھا تھا اس کے درباریوں نے خوشامد کے طور پر کہنا شروع کیا کہ تمہاری حکومت تو زمین اور سمندر بھی مانتے ہیں۔وہ دانا بادشاہ تھا اس نے اپنی کُرسی سمندر کے کنارے پر بچھائی اور وہاں بیٹھ گیا۔وہ وقت مَد کا تھا جس وقت سمندر جوش میں آتا ہے اور وہ میل میل خشکی پر چڑھ جاتا ہے۔لہریں اٹھنے لگیں اور پانی کُرسی کے گرد اونچا ہونے لگا۔کے نیوٹ ظاہر میں غصہ کی شکل بنا کر لہروں کو حکم دیتا کہ پیچھے ہٹ جاؤ مگر پانی بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ بادشاہ کے ساتھیوں کو جان کا خطرہ پیدا ہو گیا۔اس وقت بادشاہ اٹھ کر خشکی کی طرف آیا اور دربایوں سے کہا کہ دیکھا تم کس قدر جھوٹ کہتے تھے۔
قصہ کا مطلب
اس کا یہ مطلب تھا کہ جس طرح ’’کے نیوٹ‘‘بادشاہ کے حکم سے باوجود اس کے اقتدار کے سمندر پیچھے نہیں ہٹتا تھا اسی طرح یورپ کو ایشیائی طریق کا مسلمان بنانا نا ممکن ہے۔وہ کسی تدبیر سے اس کو قبول نہیں کر سکتا۔مگر ادھر تو اس سفر پر انگریزوں کو اس قدر تعجب ہے ادھر ہم دیکھتے ہیں کہ محض تبلیغ پر انہوں نے کبھی تعجب نہیں کیا۔وجہ یہی ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ منہ سے اسلام کا اقرار کراکے اسلام سے ایک ظاہری تعلق تو یورپ کا پیدا کرایا جا سکتا ہے مگر اسلام کے تمدن کا ان کو عادی بنا دینا ناممکن ہے۔
یورپ کے اسلامی تمدن کو
قبول نہ کرنے کا خطرہ
مگر جیسا کہ میں بتا چکا ہوں اگر یہی بات ہو کہ یورپ اسلام کو قبول کرلے مگر اس کے تمدن کو قبول نہ کرے تو یہ کیسی خطرناک بات ہوگی۔ اسلام جو تیرہ سو سال سے بالکل محفوظ چلا آیا ہے اس کی شکل کس طرح بدل جائے گی۔اور مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کی غرض کس طرح باطل ہو جائے گی۔تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ پھر یورپ میں تبلیغ کے کام کو چھوڑ دوکیونکہ یورپ کسی غیر معروف بے کس آدمی کا نام نہیں جو اپنے گھر میں بیٹھا رہتا ہے۔اس کو اگر ہم اکیلا چھوڑ دیں تو اس میں کوئی حرج نہیں،یورپ ایک زندہ طاقت کا نام ہے جس کی مثال اس ریچھ کی ہے جسے چھوڑنے کے لئے مسافر تو تیار تھا مگر وہ مسافر کو چھوڑنے کے لئے تیار نہ تھا۔یورپ کا مذہب‘ یورپ کا تمدن‘یورپ کا علم دنیا کو کھا رہا ہے اور کھاتا چلا جا رہا ہے۔ہمارا اسکو چھوڑ دینا یہ مطلب رکھتا ہے کہ ہم اسے چھوڑدیں کہ وہ اسلام کا جو کچھ باقی رہ گیا ہے اسکو بھی کھا جائے اور ہماری ترقی کا میدان بالکل تنگ ہو جائے۔ ہم جس قدر آدمیوں کو ایک سال میں احمدی بناتے ہیں اس سے کئی گُنا لوگوں کو یورپ اپنا شکار بنا لیتا ہے اور پھر یورپ کی تصنیف کردہ کُتب ہمارے بچے بھی پڑھتے ہیں اور ان سے متاثر ہونے کے خطرہ میں ہیں پس یہ بالکل نا ممکن ہے کہ ہم یورپ کو چھوڑدیں۔
یوروپین تمدن چھوڑنے میں مشکلات
اب دوسری صورت یہ ہے کہ ہم یورپ میں سرنگ لگا نی شروع کردیں اور اس کے بغیر ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں۔مگر یہ تو ہو نہیں سکتا کہ ایک دن میں چار پانچ کروڑ لوگ مسلمان ہو جائیں۔اور ان کا الگ انتظام قائم ہو جا ئے وہ الگ اپنی سو سائٹی قائم کر لیں۔لیکن اگر ایک ایک دو دو کرکے لوگ مسلمان ہوں تو وہ یورپ میں رہ کر یورپ کے تمدن کو چھوڑنا چاہیں بھی تو نہیں چھوڑ سکتے۔مثلاً پردہ ہے۔اول تو وہاں برادری اور دوستوں کے طنز کی برداشت ہی نَو مسلم کے لئے ناممکن ہے اور اگر وہ تیار ہو تو پھر وہاں کے حالات روک ہیں۔پردہ کرنے والے ملکوں میں مکان ایسے بنائے جاتے ہیں کہ عورتیں گھر میں رہ کر بھی ہوا کھا سکیں‘ صحن ضرور ساتھ ہوتے ہیں مگر یورپ میں الگ صحن کا رواج نہیں‘ صرف کمروں میں لوگ رہتے ہیں۔اب یہ خیال کرنا کہ ایک نَو مسلمہ رات اور دن ایک کمرہ میں بیٹھی رہے بالکل عقل کے خلاف ہے۔پھر ایک اور سوال یہ ہے کہ وہاں گذارہ اس قدر گراں ہے کہ مرد کو سارا دن محنت کرنی پڑتی ہے اور وہ گھر کے کام میں عورت کی مدد نہیں کر سکتا۔عورت اگر سودا نہ لائے تو گھر کا کام چل نہیں سکتا۔وہ پردہ کرے تو گھر کا سودا کس طرح لائے۔بے شک وہ نقاب سے کام لے سکتی ہے اور عورت کو سودا خریدنا منع نہیں ہے مگر پھر ایک اور دقّت ہے اور وہ یہ کہ یورپ ہندوستان کی طرح نہیں۔وہاں گلیوں میںاس قدر موٹر چلتا رہتا ہے کہ جب تک آنکھیں پھاڑ کر اور ہوشیار ہو کر آدمی نہ چلے‘اس کی جان ہر وقت خطرہ میں ہے۔ایک ایک شہر میں سینکڑوں آدمی ہر سال موٹروں کے نیچے آکر مر جاتے ہیں۔پس نقابیں پہن کر عورتوں کا پھر نا نہایت خطرناک اور موجب ہلاکت ہے۔چند مسلمان ہونے والی عورتوں اور مردوں کے لئے حکومتیں اپنے قانون نہیں بدلیں گی‘ مکانوں والے اپنے مکان نہیں توڑڈالیں گے‘ پھر وہ لوگ کریں تو کیا کریں۔یہ تو ایک چھوٹی سی مثال ہے ورنہ سینکڑوں دقّتیں ہیں جومغرب کی تبلیغ کے راستہ میں ہیں اور جن میںسے بہت سی ایسی ہی کہ ان میں مغربی نَو مسلم مجبور ہوتا ہے۔پس یہی ہو گا کہ وہ اسلام کو قبول کرکے بھی اپنی رسموں کو نہیں چھوڑے گا اور مسلمان ہونے کے بعد جب وہ وہی کرتا رہے گا جو وہ پہلے کرتا تھا تو آہستہ آہستہ اس میں یہ خیال پیدا ہو جائے گا کہ اس میں کوئی حرج نہیں‘اور نتیجہ یہ ہوگا کہ اسلام ایک بدلی ہوئی صورت میںیورپ میں قائم ہو جائے گا اور ان سے آگے وہ اسلام ساری دنیا میں پھیل جا ئے گا۔جس طرح یورپ نے مسیحیت کو تباہ کیا تھا‘ اَلعِیَاذُ بِاللہِ ‘ وہ اسلام کو بھی دوستی کے جامہ میں تباہ کر دے گا۔
پس ہم دو آگوں میں ہیں۔اور ہماری مثال وہی ہے کہ ’’نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن‘‘۔اس مشکل کا علاج سوچنے کے لئے یا وہاں کے مقامی حالات معلوم کرنے کے لئے تا کہ مُبلّغوں کی سختی سے نگرانی ہو سکے اور جہاز کو چٹانوں میں سے بہ حفاظت گذارا جاسکےاس سفر کی ضرورت پیش آئی ہے۔غالباً اب آپ لوگ سمجھ گئے ہوں گے کہ کیسی مشکل غرض ہے۔سوائے خدا تعالیٰ کی مدد کے ہم اس مشکل کو حل نہیں کر سکتے۔مسلمان بنانا آسان ہے مگر اسلام کو ان سے بچانا مشکل ہے اور اس وقت میرے سفر کی یہی غرض ہے۔
یورپ میں
اشاعت اسلام کے متعلق خطرہ
یورپ کے واقف کہتے ہیں کہ یہ نا ممکن ہے یورپ ضرور اسلام لائے گا مگر وہ ساتھ ہی اسلام کو بگاڑ دیگا اور اس کی شکل کو بالکل مسخ کردے گا۔بالکل ممکن ہے کہ یورپ میں چاروں طرف سے اللہ اکبر کی آوازیں آنے لگیں اور سب جگہ گرجوں کی جگہ مساجدبن جائیں لیکن یہ فرق ظاہر کا ہوگا۔لوگ تثلیث کی جگہ توحید کادعویٰ کریں گے‘ مسیح کی جگہ رسول کریم ﷺ کی عزت زیادہ کریں گے‘مسیح موعود پر ایمان لائیں گے‘گرجوں کی جگہ مسجدیں بنائیں گے‘ مگر ان میں وہی ناچ گھر وہی عورت اور مرد کا تعلق‘وہی شراب‘ وہی سامانِ عیش نظر آئیں گے۔یورپ یہی رہے گا‘گوہ وہ بجائے عیسائی کہلانے کے مسلمان کہلائے گا۔میری عقل یہی کہتی ہے کہ حالات ایسے ہی ہیںمگر میرا ایمان کہتا ہے کہ تیرا فرض ہے کہ تُو اس مصیبت کو جو اگر اسلام پر نازل ہوئی تو اس کو کچل دے گی‘دور کرنے کی کوشش کر۔غور کر اور فکر کر اور دعا کر۔ پھر غور کر اور فکر کر اور دعاکر۔اور پھر غورکر اور فکر کر اور دعا کر۔کیونکہ تیرا خدا بڑی طاقتوں والا ہے۔ شاید وہ کوئی درمیانی راہ نکال دے اور اس تباہی کو جو اسلام کے سامنے ایک نئے رنگ میںکھڑی ہے دور کر دے۔غیر احمدیوں کے لئے یہ دِقّت ہے کہ یورپ اپنی مخالفت سے ان کوتباہ کردے گا۔ہمارے لئے یہ مشکل ہے کہ یورپ اپنی دوستی سے ہمارے دین کو برباد کر دے گا۔وہ تو اپنی حالت پر خوش ہیں‘ہم لوگ خوش نہیں ہو سکتے۔ان کو حکومتوں کی فکر ہے اور ہمیں اسلام کی۔ پس ہمارا فرض ہے کہ اس مصیبت کے آنے سے پہلے اس کا علاج سوچیں اور یورپ کی تبلیغ کے لئے ہر قدم جو اٹھائیں اس کے متعلق پہلے غور کرلیں۔اور یہ ہو نہیں سکتا جب تک کہ وہاں کے حالات کا عینی علم حاصل نہ ہو۔پس اسی وجہ سے باوجود صحت کی کمزوری کے میں نے اس سفر کو اختیار کیا ہے۔
جماعت کے لئےانذار
اگر میں زندہ رہا تو میں انشاءاللہ اس علم سےفائدہ اٹھانے کی کو شش کروں گا۔اگرمیں اس جدو جہد میں مر گیا تو اے قوم!میں ایک نذیر عُریان کی طرح تجھے متنبہ کرتا ہوں کہ اس مصیبت کو کبھی نہ بھولنا۔اسلام کی شکل کو کبھی نہ بدلنے دینا۔جس خدا نے مسیح موعود کو بھیجاہے وہ ضرور کوئی راستہ نجات کا نکال دے گا۔پس کوشش نہ چھوڑنا‘ نہ چھوڑنا‘ نہ چھوڑنا‘آہ نہ چھوڑنا۔ میں کس طرح تم کو یقین دلاؤں کہ اسلام کا ہر اک حکم نا قابل تبدیل ہے‘ خواہ چھوٹا ہو‘ خواہ بڑا۔جو چیز سنت سے ثابت ہے وہ ہر گز نہیں بدلی جا سکتی۔جو اس کو بدلتا ہے وہ اسلام کا دشمن ہے وہ اسلام کی تباہی کی پہلی بنیاد رکھتا ہےکاش وہ پیدا نہ ہوتا۔مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ تم دنیا کے حالات سے آنکھیں بند کر لو اور بعض نادانوں کی طرح کہہ دو کہ پھر یورپ کی تبلیغ پر لاکھوں روپیہ صرف کرنے کی کیا ضرورت ہے۔یورپ سب سے بڑا دشمن اسلام کا ہے۔وہ مانے نہ مانے تمہاری کوشش کا کوئی اثر ہو یا نہ ہو تم کو اسے نہیں چھوڑنا چاہئے۔اگر تم دشمنپر فتح نہیں پا سکتے تو تمہارا یہ فرض ضرور ہے کہ اس کی نقل وحرکت کو دیکھتے رہو تا وہ تمہاری غفلت سے فائدہ اٹھا کر تم پر فتح نہ پالے۔اور پھر میں کہتا ہوں کہ یہ کسی کو کس طرح معلوم ہوا کہ یورپ آخر اسلام کو قبول نہیں کرے گا۔یورپ کے لئے تو اسلام کا قبول کرنا مقدر ہو چکا ہے۔
ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم دیکھیں کہ وہ ایسی صورت سے اسلام کو قبول کرے کہ اسلام ہی کو نہ بدل دے۔ پس ہم اگر یورپ کو چھوڑ دیتے ہیں تو ہماری مثال اس کبوتر کی ہوگی جوبلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اب میں محفوظ ہو گیا ہوں۔یہ ہو سکتا ہے کہ ہم کو جب تک صحیح راستہ معلوم نہ ہو ان لوگوں کے مسلمان بنانے پر زیادہ زور نہ دیں۔مگر یورپ میں ایسے مشن رکھنے جو ہر وقت حالات کو تاڑتے رہیں اور موقع کے منتظر رہیں نہایت ضروری ہے۔قرآن کریم حکم دیتا ہے وَرَابِطُوْا ہمیشہ دشمن کی سرحد پر اپنے آدمی رکھو جو اسکی نقل وحرکت کو دیکھتے رہیں۔جس دن مسلمانوں نے اس حکم سے غفلت کی اسی دن سے وہ تباہ ہونے لگے اور اگر تم بھی روپیہ کے خرچ سےڈر کر یا کسی اور سبب سے ایسا کروگے تو تم بھی تباہ ہوگے۔خدا تم کو بچائے اور تمہارا حافظ وناصر ہو۔
مسیح موعود کے قائم مقام کے
سفر یورپ کا ذکر
قرآن میں
میں آخر میں اس امر کے بیان کرنےسے بھی نہیں رک سکتا کہ یورپ کی طرف مسیح موعود یا آپ کے کسی جانشین کا اس غرض سے سفر کرنا جس غرض سےمیں نے سفر کیا ہے‘قرآن کریم میں بھی مذکور ہے۔پس معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کے سفر کے بغیر اسلام کی حفاظت کامل نہیں ہو سکتی۔یہ ذکر سورۃ کہف میں ہے جس میں اللہ تعالیٰ ذوالقرنین کی نسبت فرماتا ہے۔
فَاَتْبَعَ سَبَبًا حَتّٰٓي اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَہَا تَغْرُبُ فِيْ عَيْنٍ حَمِئَۃٍ وَّوَجَدَ عِنْدَہَا قَوْمًا۰ۥۭ قُلْنَا يٰذَا الْقَرْنَيْنِ اِمَّآ اَنْ تُعَذِّبَ وَاِمَّآ اَنْ تَتَّخِذَ فِيْہِمْ حُسْـنًا قَالَ اَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُہٗ ثُمَّ يُرَدُّ اِلٰى رَبِّہٖ فَيُعَذِّبُہٗ عَذَابًا نُّكْرًا وَاَمَّا مَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَہٗ جَزَاۗءَۨ الْحُسْنٰى۰ۚ وَسَنَقُوْلُ لَہٗ مِنْ اَمْرِنَا يُسْرًا
پس ذوالقرنین ایک راستہ کی طرف چلا یہاں تک کہ وہ مغرب کے ملکوں میں پہنچ گیا۔ اور دیکھا کہ یہ ممالک جہاں سورج ڈوبتا ہے ایک گدلے چشمے کی طرح ہیں جس میں پانی تو ہے مگر بُودار اور گندہ جو استعمال کے قابل نہیں رہا۔اور اس نے اس چشمہ کے پاس ایک قوم دیکھی جس کی نسبت ہم نے ذوالقرنین سے کہا کہ تُو ان کے متعلق کوئی فیصلہ کر۔یا تو یہ فیصلہ کر کہ یہ تباہ کر دئیے جائیں اور یا تو ان سے ایسا سلوک کر کہ ان کی حالت اچھی ہو جائے۔ذوالقرنین نے جواب میں کہا کہ جو ظلم کرنے والا ہوگا اس کو تو میں عذاب دوں گا اور پھر وہ خدا کی طرف لوٹا یا جائے گا یعنی مر جائے گا۔اور اس کو ایسا سخت عذاب ملے گا جو کسی کو کم ہی ملا ہوگا۔اور جو شخص ایمان لائے اور نیک عمل کرے گا‘ پس اس کو نیک جزا ملے گی اور ہم اسے اپنے احکام سہولت کے ساتھ آسانی کے ساتھ سمجھائیں گے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام لکھتے ہیں کہ ذوالقرنین آپ کا نام ہے۔اور گدلے چشمہ سے مراد مسیحی تعلیم ہے۔جو ہے تو خدا تعالیٰ کی طرف سے مگر اب وہ خراب ہوگئی ہے اور استعمال کے قابل نہیں مغرب کے لوگ اس چشمہ کے پاس ہیں یعنی اس گندی تعلیم کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور قرآن کریم کی طرف توجہ نہیںکرتے۔
پس جب کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر کے مطابق ذوالقرنین آپ ہیں اور مغربی ممالک سے مراد یورپ وامریکہ کے لوگ ہیں جو مسیحیت کے چشمہ پر ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعودؑیا ان کے کسی جانشین کومغربی ممالک کا سفر کرنا ہوگا۔کیونکہ قرآن کریم میں لکھا ہے کہ فَاَتْبَعَ سَبَبًا حَتّٰٓی اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ ۔ ذوالقرنین ایک ملک کی طرف گیا جو مغرب میں تھا۔پس یہ سفر قرآن کریم کی اس پیشگوئی کےمطابق ہے۔نبیوں کے جانشین چونکہ نبیوں کے قائم مقام ہوتے ہیں ان کا کام نبیوں کا کام ہی کہلاتا ہے۔پس خلیفۂ مسیح موعود کا جا نا ایسا ہی ہے جیسے کہ خود مسیح موعود کا جانا۔
پس یہ سفر در حقیقت ایک پیشگوئی کے ماتحت ہے جو ایسی اہم ہے کہ قرآن کریم میں اس کو بیان فرمایا گیا ہے۔ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ سفر تبلیغ کے لئے نہیں بلکہ تبلیغ کے متعلق اصول طے کرنے اور علم حاصل کرنے کے لئے کیا جائیگا۔کیونکہ اگر تبلیغ کے لئے سفر ہوتا تو یہ نہ کہا جاتا کہ اب خواہ ان کو ہلاک کر‘ خواہ ان کی بھلائی کی تدبیر کرکیونکہ جو شخص تبلیغ کے لئے جاتا ہے یہ سمجھ کر جا تا ہے کہ یہ لوگ بچائے جانے کے قابل ہیںنہ کہ وہ جا تا تو تبلیغ کے لئے ہے اور سوچنے لگ جاتا ہے کہ میں ان کو ہلاک کردوں۔پس صاف ظاہر ہے کہ مسیح موعودؑ آپکا جانشین خالی الذہن ہو کر جا ئے گا اور وہی جا کر فیصلہ کرے گا کہ ان لوگوں سے کیا کیا جائے۔ اور اللہ تعالیٰ اسکو اختیار دے گا کہ وہ کامل غوراور فکر اور کے بعد جو چاہے کرے۔خواہ تو ان کو اپنے کفر میں چھوڑ دے تا کہ اس دنیا میں کفر کے عذاب میں مبتلا رہیں اور اگلے جہان میں دوزخ اور خدا تعالیٰ سے بُعد کے عذاب میں مبتلا ہوں۔اور یا پھر ان میں تبلیغ کو جاری کرنے کا فیصلہ کرے اور ان کی بہتری کیتجویز کرے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس نتیجہ پر وہ پہنچے گا‘ وہ بین بین ہوگا۔اور اس میں مختلف حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے مختلف تدابیر کو اختیار کیا جائے گا۔ وہ فیصلہ کیا ہوگا‘ اسے اللہ تعالیٰ نے مخفی رکھا ہے۔ اورچونکہ ابھی وقت نہیں آیا‘وہ مجھ پر ظاہر نہیں ہے ‘اس لئے میں اس کا اعلان نہیں کر سکتا۔ہاں اصول اللہ تعالیٰ نے بتادئیے ہیں اور میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھ سے یہ کام لے اور اس پیشگوئی کا ظِلّی طور پر مجھے مصداق بننے کا موقع دے۔
غرض اے بھائیو! مسیح موعود یا ان کے کسی جانشین کا مغربی ممالک میں جانے اور وہاں جا کر ان کے متعلق آئندہ تبلیغ کے متعلق رائے قائم کرنے کی خبر قرآن کریم میں دی گئی ہے۔اور گویا تمام سفر کا نقشہ کھینچ دیا گیا ہے جو اس وقت پیش آیا ہے۔
سفر یورپ
مسیح موعود ؑ کی صداقت کا نشان
اور یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا ایک عظیم الشان ثبوت ہے۔کیونکہ یہ سفر بالکل خدا تعالیٰ کی مشیت کے ماتحت ہوا ہے۔کسے چند ماہ پہلے اس سفر کا خیال بھی تھا اور پھر کس کو معلوم تھا کہ اس تحریک کے ہونے کے بعد باوجود سخت طبیعت میں بیزاری ہونے کے میں اس سفر پر جانے پر راضی ہو جاؤں گا۔اور جماعت کی نوے فیصدی رائے یعنی ہر دس انجمنوں میںسے9انجمنیں اس امر کی رائے دیں گی کہ مجھے ولایت جانا چاہئے۔اور پھر کس کو یہ خیال ہو سکتا تھا کہ اس قدر جلد سامان بھی جمع ہو جائے گا۔پس احباب کو چاہئے کہ سفر کی جو غرض ہے اور جسے قرآن کریم نے بیان کیا ہے‘اس کو یادرکھیں۔کیونکہ اس کے یادرکھنے میںہی اسلام کی نجات ہے اور اس کے بُھلا دینے میں اسلام کی تباہی۔اگر آپ لوگ اس کام کی اہمیت کو جو میں نے اوپر بیان کی ہے یادرکھیں گے تو اس کے خطرات کے ازالہ کی طرف بھی آپ کو توجہ رہے گی۔اور اگر آپ صرف زید اور بکر کے مسلمان کرنے کی خوشی میں رہیں گے تو سخت خطرہ ہے کہ ایمان برباد ہو جا ئے اور اسلام مٹ جائے اَلعِیَاذُ بِاللہِ۔
سفر کی غرض کو پورا کرنا
خدا ہی کا کام ہے
اے بھائیو! اصل غرض سفر کی تفصیل سے بیان کر دینے کے بعد میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا اس غرض کو پورا کرنا انسان کا کام ہے؟
اس انگریز نے سچ کہاجس نے اس سفر کو سمندروں کی لہروں پر حکومت کرنے کے خیال کے مترادف بتایا ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ کام ایسا ہی ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ مشکل ہے۔اور اس کے کئی نتائج بظاہر کم سے کم ایک صدی کا وقت چاہتے ہیں۔سوائے اس کے کہ خدا تعالیٰ رحم کرکے ہماری زندگیوں میں یہ نظارہ ہمیں دکھادے کہ مغرب میں اسلام پھیلے اور اسلام اس طرح پھیلے کہ وہ لوگ اسلام کو اپنے مطابق نہ بنائیں بلکہ اسلام کے مطابق خود بن جاویں۔اور ایسی سکیم تیار ہو جا ئے کہ جس کے بعد اس بات کا خطرہ نہ رہے کہ مغربی تمدن اسلام کے اندر تغیّر کر سکے گا۔پس اس کام کے لئے آپ لوگ جس قدر دعائیں کریں تھوڑی ہیں۔بے شک آپ لوگ یہ دعا کریں کہ اس سفر میں تبلیغ کا بھی کوئی پہلو پورا ہو جائے تو کچھ حرج نہیں۔مگر اصل زور دعا میں اس امر پر ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ وہ تدبیریں سمجھادے کہ جن کی مدد سے یورپ کو حقیقی طور پر اسلام میں داخل کیا جاسکے۔اور اسلام یورپ کےتمدن کے ایسے اثر سے جو اسلام کی حقیقت کے خلاف ہو محفوظ رہے۔
دعا کی تحریک
پھر میں کہتا ہوں کہ اپنی دعاؤں میں ہم 13 آدمیوں کو جو سفر پر جارہے ہیں یادرکھیں ۔ جن میں سے 9 تو وہ ہیں جو جماعت کے خرچ پر وفد کے طور پر جارہے ہیں اور ہم چار آدمی اپنے خرچ پر سفر کر رہے ہیں۔غرض سب کی ایک ہی ہے کہ خدا تعالیٰ کوئی کام لے لے اور عاقبت بخیر ہو جائے اور وہ یار یگانہ خوش ہو جائے۔طبیعت میری بہت کمزور ہےاور سفر سخت ہے۔کام اس سے بھی زیادہ مشکل ہے۔
اس وقت بھی بخار کی حالت میں مضمون لکھ رہا ہوں۔ہڈیاں کھوکھلی ہوگئی ہیں‘ دماغ میں طاقت نہیں رہی‘ ہاتھ رہے جاتے ہیں‘ خدا ہی ہے جو اس کام سے فارغ فرما کر خیریت سے دیار محبوب میں پہنچائے۔بس اب خط کو ختم کرتا ہوں کہ اس وقت میری یہ حالت ہے
دل میں اک درد اٹھا آنکھوں میں آنسو بھرآئے
بیٹھے بیٹھے مجھے کیا جانئے کیا یاد آیا
جماعت کے لئے دعا
اے میری عزیز قوم اور اے خدا کے فرستادہ کی مقدس جماعت!تمہاری بہبودی اور بہتری کا خیال میرے دل کو ہر وقت فکر مندر رکھتا ہے۔اور تمہاری محبت ہمیشہ مجھے بدگمانیوں میں مبتلا رکھتی ہے کہ’’ عشق است وہزار بدگمانی۔‘‘ اے کاش میں اپنی آنکھوں سے تم کو وہ کچھ دیکھ لوں جو میں دیکھنا چاہتا ہوں۔اے کاش تمہارا ایمان اور تمہارا یقین اور تمہارا ایثار اور تمہارے اخلاق اور تمہارا تمدن اور تمہارا علم اور تمہارے عمل اور تمہاری قربانیاں ایسی ہوں بلکہ اس سے بڑھ کر جو میں دیکھنی چاہتا ہوں۔
اے کاش تم زمانہ کی دست بُرد سے محفوظ رہو۔اے کاش تم ہر قسم کے فتنوں سے بچے رہو۔خدا تعالیٰ تم میں ہمیشہ وہ لوگ پیدا کرتا رہے جن کے دل تمہاری خیر خواہی اور محبت کے جذبات سے پُر ہوں۔اور جن کے افکار تمہاری بہتری کی تجاویز میں مشغول۔تم یتیموں کی طرح کبھی نہ چھوڑے جاؤ اور سورج تم پر لاوارثی کی حالت میں کبھی نہ چڑھے۔تم خدا کے پیارے ہو اور خدا تمہارا پیارا ہو۔اے خدا!تُو ایسا ہی کر اورزندگی اور موت میں مجھے ایسا ہی رکھ۔
خاکسارمرزا محمود احمد
(الفضل۱۶۔اگست۱۹۲۴ء)