برادرانِ جماعت! السلام علیکم آج جہاز عدن کے قریب ہو رہا ہے۔صبح چار بجے خشکی پر جہاز لگے گا۔طوفان کے علاقہ سے جہاز خدا کے فضل سے نکل آیا ہےاور اب ہموار پانیوں میں چل رہا ہے۔مسافر جو کئی دنوں سے کمروںمیں بند تھے اب باہر نکل کر سیر کررہے ہیں اور خوشگوار ہوا اور عمدہ موسم کے لطف اٹھارہے ہیں۔کچھ تو تاش میں مشغول ہیں جس کے ساتھ جو ئے کا شغل بھی ہے، کچھ شراب کے گلاس اُڑا رہے ہیں،کچھ صحن میںبنچوں پر لاتیں پھیلا کر ہوا کھارہے ہیں، کئی سو بھی گئے ہیں،رات کا وقت ہے اور رات بھی خاصی گذر گئی ہے۔مجھے لوگ کہتے ہیں کل رات آپ کم سوئے تھے اب سو جائیے۔مگر عدن قریب آرہا ہے اور جہاز وہاں تھوڑی دیر ٹھہرے گا۔اگر میں اس وقت قلم رکھ دیتا ہوں تو مجھے عدن کے بعد ہی کچھ لکھنےکا موقع ملے گا۔اس لئے میں ان دوستوں کی نصیحت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہو ئے اور ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یہی کہتا ہوں کہ خط نصف ملاقات ہوتی ہے۔میں خدا کی مشیّت کے ماتحت اپنے دوستوں کی پوری ملاقات سے تو ایک وقت تک محروم ہوں پس مجھے آدھی ملاقات کا تو لطف اُٹھانے دو۔مجھے چھوڑ و کہ میں خیالات وافکار کے پَرلگا کر کاغذ کی ناؤ پر سوار ہو کر اس مقدس سرزمین میں پہنچوں جس سے میرا جسم بنا ہے اور جس میںمیرا ہادی اور رہنما مدفون ہے اور جہاں میری آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کی راحت دوستوں کی جماعت رہتی ہے۔ہاں پیشتر اس کے کہ ہندوستان کی ڈاک کا وقت نکل جائے، مجھے اپنے دستوں کے نام ایک خط لکھنے دو تا میری آدھی ملاقات سے وہ مسرور ہوں اور میرے خیالات تھوڑی دیر کے لئے خالص اسی سرزمین کی طرف پرواز کرکے مجھے دیارِ محبوب سے قریب کر دیں۔لوگوں کو آرام کرنے دو، کھیلنے دو، شراب پینے دو، میری کھیل اپنے آقا کی خدمت ہے اور میری شراب اپنے مالک کی محبت ہے اور میرا آرام اپنے دوستوں کا قرب ہے، خواہ خیال سے ہی کیوں نہ ہو۔
کہتے ہیں کہ کسی چیز کی قدر اس کے کھوئے جانے سے ہی ہوتی ہے میں نے اس سفر میں یہ نظارہ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔وہ دوست جو پہلے اس خیال کے اثر کے نیچے کہ اِدھر میں ولایت گیا اور اُدھر یورپ فتح ہوا، اصرار کررہے تھے کہ ضرور میں خود ولایت جاؤں اور اس فتح کے دن کو ان کے قریب کردوں ۔ جس دن کہ میں روانہ ہو رہا تھا، ماہی بے آب کی طرح بے تاب ہو رہے تھے اور کئی افسوس کررہے تھے کہ ہم نے جانے کا مشورہ کیوں دیا۔میں بھی جس نے باوجود اس امر کے علم کے کہ موسم سخت ہے اور طوفان کے دن ہیں ارادہ کر لیا تھا کہ اس موقع پر ضرور مغرب کا سفر کروں اور اسلام کی اشاعت کی سکیم تجویز کروں، دل میں محسوس کرتا تھا کہ جدائی کا ارادہ کر لینا تو آسان ہے مگر جدا ہونا خواہ چند دن کے لئے ہی ہو سخت مشکل ہے۔آہ !وہ اپنے دوستوں سے رخصت ہونا، ان دوستوں سے جن سے مل کر میں نے عہد کیا تھا کہ اسلام کی عظمت کو دنیا میں قائم کروں گا اور خدا تعالیٰ کے نام کو روشن کروں گا۔ہاں ان دوستوں سے جن کے دل میرے دل سے اور جن کی روحیں میری روح سے اور جن کی خواہشات میری خواہشات سے اور جن کے ارادے میرے ارادوں سے بالکل متحدد ہوگئے تھے حتّٰی کہ اس شعر کا مضمون ہم پر صادق آتا تھا کہ
من تُوشدم تُومن شدی من تن شدم تُو جاں شدی
تاکس نگوید بعد ازیں من دیگرم تُو دیگری
کیسا اندوہناک تھا،کیسا حیرت خیز تھا وہ دل جو اس محبت سے نا آشنا ہے جو مجھے احمدی جماعت سے ہے اور وہ دل جو اس محبت سے نا آشنا ہے جو احمدی جماعت کو مجھ سے ہے وہ اس حالت کا اندازہ نہیں کر سکتا۔اور کون ہے جو اس درد سے آشنا ہو جس میں ہم شریک ہیں کہ وہ اس کی کیفیت کو سمجھ سکے۔لوگ کہیں گے کہ جدائی روز ہوتی ہے اور علیحدگی زمانے کے خواص میں سے ہے۔مگر کون اندھے کو سورج دکھائے اور بہرے کو آواز کی دلکشی سے آگاہ کرے۔اس نے کب لِلہ اور فی اللہ محبت کا مزہ چکھا کہ وہ اس لطف اور درد کو محسوس کرے۔اس نے کب اس پیالہ کو پیا کہ وہ اس کی مست کر دینے والی کیفیت سے آگاہ ہو۔دُنیا میں لیڈر بھی ہیں اور ان کے پیرو بھی،عاشق بھی ہیں اور ان کے معشوق بھی، محب بھی ہیں اور ان کے محبوب بھی مگر : ہرگُلے رارنگ وبُوئے دیگراست
کب ان کو اُس ہاتھ نے تاگےمیں پرویا جس میں ہمیں پرویا۔آہ!نادان کیا جانیں کہ خدا کے پروئے ہوؤں اور بندوں کے پروئے ہوؤں میں فرق ہوتے ہیں۔بندہ لاکھ پروئے پھر بھی سب موتی جدا کے جدا رہتے ہیں مگر خدا کے پروئے ہوئے موتی کبھی جدا نہیں ہوتے۔ وہ اس دنیا میں بھی اکٹھے رہتے ہیں اور اگلے جہان میں بھی اکٹھے ہی رکھے جاتے ہیں۔پھر ان کے دلوں کے اتّصال اور ان کے قلوب کی یگا نگت پر کسی اور جماعت یا اور تعلق کاقیاس کرنا نا دانی نہیں تو اور کیا ہے۔
غرض کہ اس سفر نے اس پوشیدہ محبت کو جو احمدی جماعت کو مجھ سے تھی اور جو مجھے ان سے تھی نکال کر باہر کر دیا اور ہمارے چھُپے ہوئے راز ظاہر ہو گئے۔اور ان کا ظاہر ہو نے کا حق بھی تھا۔
نہاں کے ماند آں رازے کزو سازندمحفلہا
اے عزیزو!میں آپ سے دور ہوں، جسم دور ہے مگر روح نہیں۔میرا جسم کا ذرّہ ذرّہ اور میری روح کی ہر طاقت تمہارے لئے دعا میں مشغول ہے اور سوتے جاگتے میرا دل تمہاری بھلائی کی فکر میںہے۔میں اپنے مقصد کے متعلق جہاز میں ہی ایک حصہ کا فیصلہ کر چکا ہوں اور اپنے وقت پر اس کو ظاہر کروں گا۔مگر میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ مجھے جس قدر ہندوستان میںیقین تھا کہ اگر اسلام پھیل سکتا ہے تو آپ لوگوں کے ذریعہ سے،اب اس سے بہت زیادہ یقین ہے۔آہ!تم ہی وہ خدا کا عرش ہو جس پر سے خدا تعالیٰ حکومت کررہا ہے۔تم کو خدا نے نور دیا ہے جبکہ دنیا اندھیروں میں ہے،تم کو خدا نے ہمت دی ہے جبکہ دنیا مایوسیوں کا شکار ہو رہی ہے، تم کو خدا تعالیٰ نے برکت دی ہے جبکہ دنیا اس کے غضب کو اپنے پر نازل کررہی ہے۔اور کیوں نہ ہو تم خدا کی پاک جماعت ہو تمہارے دل اس کے عرش ہیں۔ آہ!اندھی دنیا کو کیا معلوم ہے کہ جب ایک احمدی ان کے محلّہ میں پھرتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ کا سورج ہے جو اس کے ظلمت کدہ کو منور کررہا ہے مگر اندھے کو روشنی کون دکھائے خوبصورت چہرہ بد صورت کے مقابلہ پر ہی زیادہ بھلا معلوم ہوتا ہے اور میں دنیا کو دیکھ کر اس جماعت کی خوبصورتی کو دیکھتا ہوں۔ کاش!لوگ میری آنکھیں لیتے اور پھر دیکھتے ۔کاش!لوگوں کو میرے کان ملتے اور پھر وہ سنتے۔تب وہ تم میں وہ کچھ دیکھتے جس کے دیکھنے اور سننے کی انہیں امید نہ تھی۔مگر ہر امر کے لئے ایک وقت ہوتا ہے۔وہ دن آتے ہیں کہ جب مسیح موعود کی قوت قدسیہ کو لوگ دیکھیں گے۔کاش!ہم بھی اس دن کو جو خدا کے پہلو ان کی فتح کا دن ہوگا دیکھیں۔
اے عزیزو!اب میں اپنے خط کو ختم کرتا ہوں مگر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ صاف کپڑے کی نگہداشت کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔میلے پر اور میل بھی لگ جائے تو اس کا پتہ نہیں لگتا۔پس اپنے آپ کو صاف رکھوتا قدوس خدا تمہارے ذریعہ سے اپنے قدس کو ظاہر کرے اور اپنے چہرہ کو بے نقاب کرے۔ اتحاد، محبت، ایثار، قربانی، اطاعت، ہمدردی بنی نوع انسان ،عفو، شکر، احسان اور تقویٰ کے ذریعہ سے اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ خدا تعالیٰ کا ہتھیار بننے کے قابل بناؤ۔
یادرکھو!تمہاری سلامتی سے ہی آج دین کی سلامتی ہے اور تمہاری ہلاکت سے ہی دین کی ہلاکت۔ دنیا تم کو تباہ کرنے کی کوشش کرتی ہے مگر مجھے اس کا فکر نہیں۔اگر تم خدا کو ناراض کرکے خود اپنے آپ کو ہلاک نہ کر لو تو دنیا تم کو ہلاک نہیں کر سکتی کیونکہ خدا نے تم کو بڑھنے کے لئے پیدا کیا ہے نہ ہلاک ہونے کے لئے۔ لکھنے کو تو بہت کچھ جی چاہتا تھا مگر اب دو بجنے کو ہیں،پس میں اس خط کو ختم کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ بھی ہو اور ہمارے ساتھ بھی ۔اٰمین۔
خاکسارمرزا محمود احمد
۲۲جولائی ۱۹۲۴ء
(الفضل۹۔اگست۱۹۲۴ء)