اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-12-26

عرشہ جہاز سے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کا پیغام جماعت احمدیہ کے نام

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حسب ذیل تار 16جولائی کو جناب مولانا شیر علی صاحب رضی اللہ عنہ کو موصول ہوا۔
تمام احمدی بھائیوں اور بہنوں کو میری طرف سے اطلاع کر دیں کہ میں آج جہاز پر سوار ہو گیا ہوں۔ میرے دل پر جدائی کے سبب سے بڑا بوجھ ہے۔ جب سے یہ سفر شروع ہوا ہے میں پہلے سے زیادہ آپ سب کے واسطے دعائیں کرتا ہوں۔ میں نے سب بہنوں اور بھائیوں میں ایسی مخلصانہ محبت اور جذبہ فدا کاری پایا ہے جسکی خود خاکسار کو بھی اس سے پہلے خبر نہ تھی۔ اے میری جماعت کے لوگو! اللہ تمہیں برکت دے اس پر مضبوط ایمان رکھواس سے سچی محبت کرو اور اس کے حضور میں فدا ہو جائو۔ اس کے رسولوں کی عزت اور فرمانبرداری کرو۔
برادران! تم چاروں طرف سے دشمن سےگھرے ہوئے ہوتم کبھی اس بات کو نہ بھولو۔ سوچو کہ اگر خدا تعالیٰ بھی تم کو چھوڑ دے تو تمہارا انجام کیسا تلخ ہوگا۔ پس جہاں تک ہو سکے خدا کے قریب ہونے کی کوشش کرواور یہ مقصد سچا احمدی بننے سے ہی حاصل ہو سکتا ہے۔ اپنی دعائوں میں استقامت اختیار کرو ۔ اللہ کیلئے ہر ایک چیز قربان کرنے کیلئے تیار رہواور اپنے تمام کاروبار میں اعلیٰ درجہ کی دیانت داری اختیار کرو۔ اللہ سے ڈرو اور اپنے بھائیوں سے پیار کرو اور اسلام کی اشاعت دنیا کے دور دور کونوں تک کرو۔ میں تمہارے لئے دعا کرتا ہوںاور درخواست کرتا ہوں کہ تم اس مشن کی کامیابی کے واسطے دعا کرو جس پر میں جا رہا ہوں۔
تم نہیں جانتے بلکہ تم اندازہ بھی نہیں کر سکتے کہ مجھے کس قدر محبت تم سے ہے۔ آپ لوگوں سے جدا ہونا میرے لئے کس قدر دردناک تھا اور آپ لوگوں کو پیچھے چھوڑنا میرے لئے کس قدر صدمہ پہنچانے والا ہوا لیکن یہ جدائی صرف جسمانی ہے۔ میری روح ہمیشہ تمہارے ساتھ تھی اور ہے اور رہے گی۔ میں زندگی میں یا موت میں تمہارا ہی ہوں تمہاری بہبودی میرے دل کی عین خواہش ہے اور تمہارا دنیوی اور روحانی منزل مقصود تک پہنچنا میری واحد تمنا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ تم میں سے بہت سے اب افسوس کرتے ہیں کہ انہوں نے کیوں مجھے خود یورپ جانے کا مشورہ دیاکیونکہ جدائی ان کو شاق گذر رہی ہے۔لیکن اس موجودہ غم کو بھول کر بڑے فوائد کے حاصل کرنے کیلئے تیاری کرنی چاہئے۔ آئو ہم خدا سے دعا کریں کہ ہمیں کامیابی کی راہ پر چلائے۔ پس اے میرے بھائیو اور بہنو! خدا کی برکتیں تم پر ہوں جہاں کہیں تم ہو اور جس حالت میں تم ہو ۔ خدا تمہارے ساتھ ہو۔
اُمید ہے یہ پیغام دکھے اور بے تاب دلوں کیلئے کسی قدر تسکین کا باعث ہوگا اور احباب کو معلوم ہو جائیگا کہ ہم ہی حضور کی جدائی سے بے قرار نہیں ہیں بلکہ حضور پر ہم سے بھی زیادہ اس جدائی کا بار ہے۔ لیکن چونکہ یہ سب کچھ خدا تعالیٰ کیلئے ہے اس لئے اس تکلیف میں بھی ایک مزہ ہے اور اس جدائی میں بھی ایک راحت ہے۔
( الفضل قادیان دار الامان 18 جولائی 1924)