(نصر الحق نصر نیپالی معلم وقف جدید ارشاد )
جاؤں تو کہاں میں تم سے دُور اِنِّی مَعَکَ یَا مَسْرُوْر
ماحول تیرا ہے نورونور اِنِّی مَعَکَ یَا مَسْرُوْر
شادابی و رانائی دمکے ہے تیرے رخ پر
انوار خداوندی چمکے ہے تیرے رخ پر
دیدار سے ہر غم ہو کافور اِنِّی مَعَکَ یَا مَسْرُوْر
سر پر جو تیرے آقا یہ تاج خلافت ہے
رہبر ہے زمانے کا معیار صداقت ہے
آجائے تیرے قدموں میں سرور اِنِّی مَعَکَ یَا مَسْرُوْر
اک امن کا شہزادہ عالم کے لئے ہے تو
اور سینہ سپر قائد ظالم کے لئے ہے تو
اقوال تیرے کر دے مخمور اِنِّی مَعَکَ یَا مَسْرُوْر
اب ہاتھوں میں تیرے ہی اسلام کا پرچم ہے
تجھ سا ہو اگر رہبر پھر ہم کو بھی کیا غم ہے
سر کر لینگے ہم ہر طور اِنِّی مَعَکَ یَا مَسْرُوْر
قربان تیرے حسن ازل پر ہوا ہر دل ہے
آراستہ بس تیرے ہی دم سے ہراک محفل ہے
جاذب ہے نصرؔ چہرے کا نور اِنِّی مَعَکَ یَا مَسْرُوْر
…٭…٭…٭…