مسجد فضل کو ہو گئے امسال سو برس
فضل خدا سے خوب تھے خوشحال سو برس
یوں روز ہشدہ اکتبر تاسیس کا ہے دن
برسا ہے نور روز و شب ہر سال سو برس
لندن کی سر زمین پر پہلا خدا کا گھر
بنوا کے احمدی ہیں مالامال سو برس
معطی نے پھر ہزاروں مساجد عطا کئے
دشمن کی عزتیں ہوئیں پامال سو برس
اب کون سا ہے شہر کہ مسجد نہیں جہاں
جرمن یا ہند و پاک کہ نیپال سو برس
برطانیہ کو شرف خلافت نصیب ہے
جسکی وجہ ہے چار سو زِلزال سو برس
روحانی مائدہ کا بھی شاھد ہے یہ مقام
لاکھوں ہوئے ہیں اس طرح افضال سو برس
جسکی نظیر کوئی کبھی لا نہ پائیگا
قائم کئے ہیں ہم نے وہ امثال سو برس
آغاز جو ہوا تھا مسیح الزماں کے ہاتھ
اسکا ہے یہ حسین تر مآل سو برس
نصرت ہے کس کے ساتھ خدائے قدیر کی
دیکھے کوئی جو دل سے تو ہے دال سو برس
توحید کی ہے گونج اب تثلیث کدہ میں
غیروں نے بس کیا ہے قیل و قال سو برس
ہم عہد یہ کرتے ہیں کہ توفیق خدا سے
آئندہ بھی منائینگے خوشحال سو برس
صلوات بر رسول امین و کریم ما
پھولے پھلیں تمام اھل و آل سو برس
سنکر امیر کارواں کا حکم ہم نصرؔ
کرتے رہے ہیں کچھ بھی بہر حال سو برس