خدا کی رحمتیں نازل ہوں اَے دارالاماں تجھ پر
رہے انوار کی بارش یونہی اَے قادیان تجھ پر
تیری آغوش میں مسکن ہے خاصان الٰہی کا
ہمیشہ رشک کرتے ہی رہیں گے آسماں تجھ پر
یہ تیرا درس قرآں درحقیقت خوانِ نعمت ہے
تصدق کیوں نہ ہوں آ آ کے تیرے مہماں تجھ پر
ترے دشمن رہیں گے نامراد و خائب و خاسر
خدا کے فضل کا جب تک رہے گا سائباں تجھ پر
خلافت کی اولوالعزمی کا ساتھ اَے قوم پورا دے
کہ انعام الٰہی ہے یہ دورِ حکمراں تجھ پر
یہی اسلام کی خدمت کا موقع ہے نہ کھو دینا
خدا ہے مہرباں تجھ پر حکومت مہرباں تجھ پر
قدم آگے بڑھا اَے ہمت مردانہ مسلم
کہ اب اسلام کی خدمت کا ہے بارِ گراں تجھ پر
جہاں محو خودی ہے تُو مگر محو خدا ہو جا
کہ پھر قربان ہونے کو بڑھے جانِ جہاں تجھ پر
رہِ تبلیغ میں کیا کیا مصائب تُو نے جھیلے ہیں
خدا کی رحمتیں ہوں اَے گروہ صادقاں تجھ پر
غریب و بے نوا گوہر اسیر دام عصیاں ہے
ترحم، اَے خدا صدقے یہ جان ناتواں تجھ پر
(الفضل قادیان دارالامان 6 ستمبر 1919ء)