اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-07-04

دشمنانِ حق سے خطاب (محمد ابراہیم سرورؔ، قادیان)

چراغِ احمدؑ تمہارے دَم سے نہ بجھ سکے گا ، یہ یاد رکھنا
ہر ایک روشن لہو سے اپنے اِسے کرے گا ، یہ یاد رکھنا
سجائو بے شک ہزار مقتل ، اَلائو جتنے بھی کردو جاری
خدا کے کُن کا ہو گر اِشارہ ، نہ کچھ بچے گا ، یہ یاد رکھنا
اُکھاڑو کتبے ، مٹائو کلمے ، گرائو مسجد، لگائو تالے
مسیح و مہدی ؑ کا ہر فدائی نہیں  ڈرےگا ، یہ یاد رکھنا
مِنار جتنے گرائو ناداں ! کہ جتنے گنبد شہید کر دو
غضب سے ربّ کے ، اے دل کے اندھے ! نہیں بچےگا ، یہ یاد رکھنا
خلیلی سُنّت سے روکتے ہو ، مدد سے غیروں کی ٹوکتے ہو
ہمارا جذبہ مٹائے تیرے ، نہ مٹ سکے گا ، یہ یاد رکھنا
یہ دَور جبر و ستم کا تیرے ، خدا اُڑائےگا مکر تیرے
خدا شہیدوں کو اپنی قربت بہم کرےگا ، یہ یاد رکھنا
دُعا سے شعلے ہیں  پھول بنتے ، دُعا سے کانٹے گلاب ہوتے
ستم رسیدہ کی آہ ضائع نہیں کرےگا ، یہ یاد رکھنا
ہر ایک گولی سے تیز تر ہے ، دعا ہی مومن کا مال و زر ہے
دعا ہی اُس کا ہے پہلا شیوہ ، دعا کرےگا ، یہ یاد رکھنا
اے حکمرانو !! دیے بجھائو کہ جتنے مرضی ، پہ ربّ ہمارا
ہر اِک کے بدلے ہزار ہم کو عطا کرےگا ، یہ یاد رکھنا
شہید زندہ رہیں گے ہر دَم ، مگر یہ عقبیٰ میں حال ہوگا
کہ تم کو ایندھن، پہ ہم کو کوثر عطا کرے گا ، یہ یاد رکھنا
تمہی  بتائو کہاں ہے ہاماں  ، کہاں  ہے فرعوں کی وہ تعلِّی
جو اُن کی رہ پہ چلے گا عبرت نشاں بنےگا ، یہ یاد رکھنا
جو احمدی ہے ، ہے اُس کی خواہش ، خدا کی رہ میں مٹا دے خود کو
یہ جذبہ دل سے کبھی بھی سرورؔ نہیں مٹےگا ، یہ یاد رکھنا