اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-07-04

تلخیاں (نصرالحق نصر نیپالی، معلم سلسلہ وقف جدید ارشاد)

زندگی میں بارہا آتے ہیں ایسے مرحلے
بھولی یادوں کی ابھر آتی ہے جس سے سلسلے
مندمل زخموں کو کر جاتی ہے تازہ چشم تر
پست کر جاتی ہے ناگاہ دل کے بڑھتے حوصلے
سارے ارماں ساری امیدیں دھری رہ جاتی ہیں
زندگی جب چھین لیتی ہے اچانک حادثے
نیکیاں کچھ کام آئیں اس طرح میری کہ واہ
اب کوئی شکوہ رہا دل میں نہ کوئی ہے گِلے
شر کے ہیں اثرات تو اس پر ہے بھاری خیر بھی
یعنی کہ خُلدِبَریں اور نار کے ہیں فاصلے
دل کی اس افسردگی کو طاق پر رکھدو ابھی
کون دیکھےگا تمہارے پاؤں کے یہ آبلے
کش مکش یوں زندگی اور موت کے ہے درمیاں
زندگی کہتی ہے جی لے موت کہتی مل گَلے
عشق کی دنیا بہت ہی پُر خطر ہے دوستو
اس گلی میں جا کے ہو جاتے ہیں اکثر باولے
ہم تو اپنی شامتِ اعمال سے بیزار تھے
خیر سے کچھ یوں ہوا کہ قدسیوں سے آملے
غیر مرئی سی قیامت آ ہی جاتی ہے نصرؔ
عدل سے خالی اگر ہو میرِ شہر کے فیصلے
…٭…٭…٭…