اے ارضِ فلسطین کے مظلوم جیالو!
تم صبر پہ قائم رہو قدموں کو سنبھالو
ہر عسر کے بعد یسر کی چلتی ہیں ہوائیں
اللہ کی طرف دوڑو کہ دیتا ہے صدائیں
لغزش نہ کبھی آئے ترے صدق پہ کوئی
اُمّت کی ہر اِک آنکھ ترے غم پہ ہے روئی
اُس ارض مقدس کے نگہبان تمہی ہو
مظلوم ہو گو آج ، پہ سلطان تمہی ہو
اسلام دشمنی کی سزا پا رہے ہو جو
غم اپنوں کی جدائی بھی کھا رہے ہو جو
ہم بھی ہیں دعا گو کہ خدا رحم کرے اب
بے گھر ہوئے ہیں سارے ہی ، مسکین ہوئے سب
سر تک چھپانے کی بھی کوئی جا نہ بچی ہے
سازش یہود کی ہے کہ جو اس نے رچی ہے
شاید وہ بھول بیٹھے کہ جبار خدا ہے
ہے اس کی پکڑ دھیمی پہ قہار خدا ہے
یا ربّ ! ہوں مُلتجی کہ ترے دَر پہ ہوں حاضر
تو ہے جلال والا ، ہر اِک بات پہ قادر
کچھ اپنا اذن کر دے کہ حالات بدل دے
غمگین فلسطین کے دن رات بدل دے