اِک نہ اِک دن پیش ہو گا تو فنا کے سامنے
چل نہیں سکتی کسی کی کچھ قضا کے سامنے
چھوڑنی ہوگی تجھے دُنیائے فانی ایک دن
ہر کوئی مجبور ہے حکمِ خدا کے سامنے
مستقل رہنا ہے لازم اَے بشر تجھ کو سَدا
رنج و غم یاس و اَلم فکر و بلا کے سامنے
بارگاہِ ایزدی سے تو نہ یوں مایوس ہو
مشکلیں کیا چیز ہیں مشکل کشا کے سامنے
حاجتیں پوری کریں گے کیا تری عاجز بشر
کر بیاں سب حاجتیں حاجت روا کے سامنے
چاہیے تجھ کو مٹانا قلب سے نقشِ دُوئی
سر جُھکا بس مالکِ ارض و سما کے سامنے
چاہیے نفرت بَدی سے اور نیکی سے پیار
ایک دن جانا ہے تجھ کو بھی خدا کے سامنے
راستی کے سامنے کب جھوٹ پھلتا ہے بھلا
قدر کیا پتھر کی لعلِ بے بہا کے سامنے
(اخبار الفضل ۱۳؍ جنوری ۱۹۲۸ء۔ درّثمین صفحہ۱۸۱)