سیّدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے19؍ فروری 2025ء بروز بدھ12بجے دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر درج ذیل مرحومین کی نماز جنازہ حاضر و غائب پڑھائی۔
(نماز جنازہ حاضر)
مکر مہ امۃ السلام فرح صاحبہ
اہلیہ مکرم چودھری مجید احمد صاحب
(فارنہم۔یوکے)
16؍فروری کو 68 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ صوم و صلوٰۃ اور تہجد کی پابند نیک خاتون تھیں۔ تو کل اور شکر گزاری کا وصف آپ میں بہت نمایاں تھا۔ قرآن کریم سے خاص عشق تھا اور آخر وقت تک ITQAانٹر نیشنل تعلیم القرآن اکیڈمی سے رجسٹر رہیں اور کلاسز لیتی رہیں۔ خلافت کی سچی عاشق تھیں اور بڑی عقیدت سے حضور انور کی خدمت میں اپنے ہاتھ سے خطوط لکھا کرتی تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں میاں کے علاوہ دو بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ کے دونوں بیٹے مربی سلسلہ ہیں اور دونوں بیٹیاں بھی مربیان سے بیاہی ہوئی ہیں۔ آپ مکرم لئیق احمد بلال صاحب (مربی سلسلہ جرمنی) اور مکرم عزیز احمد بلال صاحب (مربی سلسلہ وکالت تبشیر یوکے) کی والدہ اور مکرم سہیل مبارک شرما صاحب (مربی سلسلہ و نائب امیر کینیڈا) اور مکرم سید عطاء الواحد رضوی صاحب (مربی سلسلہ مرکزی رشین ڈیسک) کی خوشدامن تھیں۔ آپ کے میاں مکرم چودھری مجید احمد صاحب وکالت تبشیر یوکے میں شعبہ رشتہ ناطہ میں خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔
(نماز جنازہ غائب)
(1)مکرم مبارک احمد راجپوت صاحب
ابن مکرم عبد المجید راجپوت صاحب
(ناروے)
28؍دسمبر 2024ء کو بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کے دادا حضرت میاں علی محمد صاحب رضی اللہ عنہ اور نانا حضرت امیر بخش صاحب پہلوان رضی اللہ عنہ دونوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ میں سے تھے۔ مرحوم کے والد قادیان میں رہائش پذیر تھےاور تقسیم ہند کے بعد آپ کا خاندان لاہور منتقل ہوا۔ مرحوم 1968ء میں ناروے آئے اور شروع سے ہی جماعت کے مختلف کاموں میں حصہ لیتے رہے۔ ریڈیو اسلام احمدیہ کے اجرا میں نمایاں خدمت کی توفیق پائی۔ بعد ازاں لوکل ٹی وی نیٹ ورک پرTV Islam Ahmadiyya کے سلسلہ میں بھی کافی کام کیا۔ آپ کو پڑھائی سے خاص شغف تھا۔ ناروے آنے کے بعد اردو سے نارو یجن زبان کی پہلی ڈکشنری بھی تیار کی۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ آٹھ بچے شامل ہیں۔
(2)مکرم چودھری عبدالمجید صاحب
ابن مکرم خیر الدین صاحب
(بلجیم)
4؍جنوری 2025ء کو89 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ ربوہ سے پہلے جرمنی اور پھر وہاں سے بلجیم نقل مکانی کر گئے۔ اس دوران دونوں ممالک میں مختلف جماعتی خدمات بجالاتے رہے۔ مرحوم صوم و صلوٰۃ اور تلاوت قرآن کریم کے پابند، تہجد گزار، چندوں میں باقاعدہ اور ہر تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والےایک نیک اور مخلص انسان تھے۔ جماعت کے ہر پروگرام میں باقاعدگی سے شامل ہوتے تھے۔ آپ کوعمرہ کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں 3 بیٹیاں اور 5 بیٹے اور بہت سے پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں شامل ہیں۔ مرحوم کے سب سے بڑے بیٹے حافظ قرآن ہیں۔ آپ کے ایک داماد افریقہ میں اور ایک نواسے جرمنی میں مربی سلسلہ کے طورپر خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔ اسی طرح آپ کی دو پوتیاں بھی مربیان سے بیاہی ہوئی ہیں۔
(3) مکرم صفی اللہ چودھری صاحب
ابن مکرم چودھری عطاء اللہ خاں صاحب وڑائچ مرحوم
(امریکہ)
3؍نومبر 2024ء کو 80سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم کے خاندان میں احمدیت آپ کے دادا مکرم حافظ چودھری رحیم بخش صاحب وڑائچ (آف شادیوال ضلع گجرات) کے ذریعہ سے آئی جنہوں نے 1906ء یا 1907ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریری بیعت اور بعد ازاں حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کا شرف حاصل کیا۔تقسیم ہند کے بعد چند برس اپنے آبائی گاؤں میں قیام کے بعد مرحوم نےاپنے خاندان کے ہمراہ ربوہ ہجرت کی اور تعلیم الاسلام کالج ربوہ سے بیچلرزاور پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ماسٹرز کرنے کے بعد سکالرشپ پر اوساکا یونیورسٹی جاپان سے 1973ء میں کیمسٹری میں PhD کی ڈگری مکمل کی۔ اس کے بعد آپ پاکستان واپس آئے اور ایک کیمیکل کمپنی میں تین سال تک کام کیا اور 1976ء میں امریکہ منتقل ہوئے۔ 1985ء سے وفات تک آپ نے فارما سوٹیکل انڈسٹری میں مختلف کمپنیوں میں اعلیٰ عہدوں پر کام کیا اور بعد ازاں اپنی کنسلٹنگ کمپنی شروع کی۔آپ نے Willingboro جماعت کے صدر کے علاوہ مقامی سطح پر مختلف عہدوں پر خدمت کی توفیق پائی۔ تعلیم الاسلام کالج اولڈ سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن امریکہ کے صدر بھی رہے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔
(4) مکرمہ رفعت جہاں صاحبہ
اہلیہ مکرم ملک نعیم احمد صاحب
(ہالینڈ)
2؍جنوری 2025ء کو بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ صوم وصلوٰۃ کی پابند، سادہ مزاج، منکسر المزاج، ہمدرد، خوش اخلاق، مخلص اور نیک خاتون تھیں۔ ڈچ زبان سیکھنے کے بعد لجنہ کے تحت تراجم کے شعبہ میں خدمت کی توفیق پائی۔پبلک لائبریریوں میں جماعتی لیکچرز میں بھی حصہ لیتی رہیں۔ مقامی لجنہ میں بھی مختلف رنگ میں خدمت بجالاتی رہیں۔ بہت سے ڈچ ہمسایوں سے اور سکول کے بچوں کی فیملیوں کے ساتھ اچھا تعلق تھا۔ بیماری میں بہت صبر وحوصلہ سے کام لیتی رہیں اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر تی تھیں۔ پسماندگان میں میاں کے علاوہ ایک بیٹا، ایک بیٹی اور بوڑھے والدین شامل ہیں۔آپ مکرم ڈاکٹر رشید احمد صاحب (اسیر راہ مولیٰ پشاور۔ حال ہالینڈ) کی بیٹی اور مکرم برہان الدین احمد صاحب (کارکن مرزا شریف احمد فاؤنڈیشن۔اسلام آباد) کی چچا زاد بہن تھیں۔
ضضضض
سیّدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے26فروری2025ء بروز بدھ12بجے دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر درج ذیل مرحومین کی نماز جنازہ حاضر و غائب پڑھائی۔
(نماز جنازہ حاضر)
مکرم خالد اختر احمد صاحب
ابن مکرم کیپٹن ڈاکٹر بشیر احمد صاحب
(لندن۔ یوکے)
24؍فروری 2025ء کو 91سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت مہر دین صاحب رضی اللہ عنہ کےپوتے تھے۔ مرحوم جماعت کی خدمت میں ہمیشہ پیش پیش رہے۔ لندن میں ابتدائی ایام میں مسجد فضل کے کچن میں خدمت بجالایا کرتے تھے۔ آپ نے لمبا عرصہ قائد خدام الاحمد یہ اورسیکرٹری ضیافت کے طورپر خدمت کی توفیق پائی۔ مرحوم صوم وصلوٰۃ کے پابند، بہت نیک دیندار، مخلص، اور باوفا بزرگ تھے۔ خلافت اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے ساتھ آپ کی محبت اور عقیدت مثالی تھی۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔
(نماز جنازہ غائب)
(1) مکرم داؤد احمد چودھری صاحب
ابن مکرم چودھری ناصر احمد صاحب
(وانڈ زورتھ۔ یوکے)
15؍جنوری 2025ء کو 51 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم خوش اخلاق،مخلص اور محنتی انسان تھے۔ جماعت کی خدمت اور ہرکسی کی مدد کے لیے ہر وقت تیار رہتے تھے۔ جلسہ سالانہ کے ایام میں مہمانوں کی ٹرانسپورٹ کے لیے اپنی خدمات پیش کیا کرتے تھے۔ پاکستان میں اور پھر یوکے آنے پر مقامی قائد مجلس خدام الاحمدیہ کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ پیشہ کے لحاظ سے کمپیوٹر انجینئر تھے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔
(2) مکرمہ شمیم اختر صاحبہ
اہلیہ مکرم چودھری محمد رمضان رانجھا صاحب
(آسٹریلیا)
28؍دسمبر 2024ء کو بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کے والد حضرت چودھری دین محمدصاحب نمبردار رضی اللہ عنہ (آف چو ہڑ منڈا سیالکوٹ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔مرحومہ نے پاکستان میں مقامی مجلس میں نائب صدر لجنہ اورسیکرٹری مال کے علاوہ شعبہ تبلیغ میں خدمت کی توفیق پائی۔ مرحومہ صوم وصلوٰۃ کی پابند، تہجد گزار، صابرہ و شاکرہ، غریب پرور،نیک، دیندار اور مخلص خاتون تھیں۔ خلافت سے بے انتہا عقیدت کا تعلق تھا اور اولاد کو بھی خلافت سے وابستگی کی تلقین کرتی تھیں۔ پر دہ کی بہت پابند تھیں۔ تبلیغ بہت شوق سے کرتی تھیں۔آپ نے زندگی میں بہت مشکلات دیکھیں اور بڑی بہادری سے انہیں برداشت کیا۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔پسماندگان میں 2بیٹیاں اور 6بیٹے شامل ہیں۔آپ کے ایک بیٹے مکرم مظفر احمدرانجھا صاحب (مقیم یوکے) مقامی اور ریجنل سطح پر مختلف جماعتی اور تنظیمی عہدوں پر خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔
(3) مکرمہ اسماء منیر صاحبہ
اہلیہ مکرم حبیب احمد صاحب
(قادیان)
5؍جنوری 2025ء کو 39 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ صوم وصلوٰۃ کی پابند، تہجد گزار،خوش اخلاق، نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ چندہ جات میں با قاعدہ تھیں اور لجنہ کی فعال رکن تھیں۔ مرحومہ کو جو بھی جماعتی /تنظیمی کام سپرد کیا جاتا وقت پر کیا کرتی تھیں۔ اپنے محلہ کی سیکرٹری ناصرات اورسیکرٹری امور طالبات کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں شوہر کے علاوہ دو بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔
(4) مکرم چودھری نصیر احمد صاحب
(حلقہ اسلامیہ کالج امارت کریم نگر فیصل آباد)
6؍فروری 2025ءکو بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم پنجوقتہ نمازوں کے پابند، تہجد گزار، دعا گو، ہمدرد، مہمان نواز،اچھی طبیعت کے مالک ایک مخلص انسان تھے۔ باقاعدگی سے تلاوت قرآن کریم کرنے والے تھے۔ جماعتی رسائل و کتب کا مطالعہ کرتے۔ جماعتی پروگراموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے۔ چندوں کی ادائیگی باقاعدگی سے کرتے اور ہر تحریک میں بھر پور حصہ لیتےتھے۔ نظام جماعت اور خلافت کا بہت احترام تھا۔ گھر میں ہر وقت MTA لگا رہتااور حضور کا خطبہ جمعہ باقاعدگی سے سنتے تھے۔ جماعتی خدمت میں پیش پیش رہتے۔ آپ کو بطور زعیم اعلیٰ انصاراللہ دار النور فیصل آباد خدمت کی توفیق ملی۔ پیشے کے اعتبار سے سکول ٹیچر تھے اور ہیڈ ماسٹر ریٹائر ہوئے۔ آپ نے بہت سے بچوں کی دینی و دنیاوی تعلیم و تربیت کی۔ آپ کے شاگرد بہت سے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں ایک بیٹا اور پانچ بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ مکرم حافظ مسرور احمد صاحب مربی سلسلہ ایڈیشنل نظارت اصلاح و ارشاد تعلیم القرآن و وقف عارضی ربوہ کے سسر تھے۔
(5) مکرمہ انیس اختر ملک صاحبہ
اہلیہ ڈاکٹر مومن حسن ملک صاحب مرحوم
(کینیڈا)
31؍دسمبر 2024ء کو 80سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کے والد مکرم مشتاق احمد صاحب پاکستان ریلوے میں بحیثیت سیکرٹری بورڈ اور ماموں مکرم خواجہ بشیر الدین محمود صاحب ابتدائی دور میں کشمیر کے وزیرِ صحت کے منصب پر فائز رہے۔ آپ مکرم ملک برکت علی صاحب (سابق امیر جماعت حافظ آباد) کی بہو اور مکرم میجر محمود
احمد صاحب (افسر عملہ حفاظت اسلام آباد، یوکے) کی بھابی تھیں۔ مرحومہ نے مختلف جماعتی خدمتوں کی بھی توفیق پائی۔ بڑی دیر تک جماعت کینیڈا کے ابتدائی سالانہ جلسوں میں مہمانوں کے لیے کھانا تیار کرنے کی خدمت بجالاتی رہیں۔مرحومہ صوم وصلوٰۃ کی پابند،قرآن کریم سے خاص شغف رکھنے والی، بڑی خوش اخلاق، صدقہ وخیرات کرنے والی غریب پرور، ہمدرد اور مخلص خاتون تھیں۔ پسماندگان میں ایک بیٹی اور دو بیٹے شامل ہیں۔آپ کی بیٹی مکرمہ ریما ملک صاحبہ احمدیہ ایلیمنٹری سکول مسی ساگا میں بطور پر نسپل خدمت کی توفیق پا رہی ہیں۔
(6) مکرم محمد اطہر الحق صاحب
(آف پنکال صوبہ اڈیشہ۔ سابق ایڈیشنل ناظر تعمیرات قادیان)
30؍نومبر 2024ء کو 80 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ آپ کے تایا کے ذریعہ ہوا جنہوں نے 1906ء میں بیعت کی تھی۔ اس کے بعد ان کے تین بھائی جن میں مرحوم کے والد بھی شامل تھے بیعت کر کے جماعت میں شامل ہو گئے تھے۔ مرحوم صوبہ اڈیشہ کے پہلے احمدی سول انجینئر تھے۔ 2003ء میں سرکاری محکمہ سے ریٹائر منٹ کے بعد حضور انور کی منظوری سے وقف کر کے قادیان
آگئے اور 2003ء سے 2012ء تک بطور ایڈیشنل ناظر تعمیرات خدمت بجالاتے رہے۔ مرحوم کو مسجد اقصیٰ، منارۃ المسیح،مسجد مبارک اور قادیان کی کئی جماعتی عمارتوں کی تعمیر، مرمت اور توسیع کے علاوہ صوبہ اڈیشہ کی کئی جماعتوں میں مساجد، مشن ہاؤسز، جماعتی عمارات کی تعمیر و مرمت کے حوالہ سے خدمت کی توفیق ملی۔ مرحوم صوم و صلوٰۃ کے پابند، تہجد گزار اور باقاعدگی کے ساتھ تلاوت قرآن کریم کیا کرتے تھے۔ جماعت کے ساتھ گہرا تعلق تھا اور خلافت سے بے حد محبت کرتے تھے۔ جماعتی پروگراموں میں خود بھی آتے اور دیگر افراد جماعت کو بھی حاضر ہونے کی تلقین کرتے تھے۔ چندہ جات کی ادائیگی میں باقاعدہ تھے۔ غریب بچیوں کی شادیوں پر بھی مدد کیا کرتے تھے۔ مرحوم کو 2006ء میں حج بیت اللہ کی توفیق بھی ملی۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا اور ایک بیٹی شامل ہیں۔
اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔ آمین۔