سیّدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے23؍ دسمبر 2024ء بروز سوموار 12بجے دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر درج ذیل مرحومین کی نماز جنازہ حاضر و غائب پڑھائی۔
(نماز جناز ہ حاضر)
مکرمہ ثمینہ جبین صاحبہ
اہلیہ مکرم خالد محمود صاحب
(آلڈرشاٹ۔یوکے)
16؍دسمبر 2024ء کو 62 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ پابند صوم و صلوٰۃ، تہجد گزار، ضرورت مندوں کا خیال رکھنے والی، ہمدرد، نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ 1988ء میں شادی کے بعد کوئٹہ سے جرمنی آئیں اور جرمنی میں لوکل مجالس میں بطور صدر لجنہ خدمت کی توفیق ملی۔ 2008ء میں یوکے آگئیں اور یہاں جلسہ سالانہ پر ڈیوٹیوں کے علاوہ مقامی سطح پرخدمت بجالاتی رہیں۔ ترجمۃ القرآن کلاسوں میں بڑی باقاعدگی سے شامل ہوتی تھیں۔ پسماندگان میں شوہر کے علاوہ تین بیٹے شامل ہیں۔ مرحومہ کے شوہر مکرم خالد محمود صاحب آلڈر شاٹ جماعت میں نائب صدرکی حیثیت سے خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔
(نماز جنازہ غائب)
(1)مکرمہ لبنیٰ افلین بسر اء صاحبہ
اہلیہ مکرم شعیب انور بسراء صاحب
( Bochum جرمنی)
24؍اکتوبر 2024ء کو عمرہ کے سفر کے دوران مدینہ منورہ میں بیمار ہوکر 53سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ کا تعلق مکرم میراںبخش صاحب درویش قادیان کے خاندان سے تھا۔آپ بچپن سے ہی عبادت گزار، صوم وصلوٰۃ اور تلاوت قرآن کریم کی پابند، بڑی ملنسار، خوش اخلاق، مہمان نواز اور مخلص خاتون تھیں۔ جماعتی پروگراموں میں بڑی باقاعدگی سے شامل ہوتی تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ آپ مکرم نوید بسراء صاحب (عملہ حفاظت خاص اسلام آباد۔یوکے)کی چچی تھیں۔
(2)مکرم عبد الحئی صاحب
ابن مکرم محمد اسماعیل صاحب
(سیالکوٹ۔ حال سویڈن)
30؍جولائی 2024ء کو84 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کے دادا حضرت میران بخش صاحب رضی اللہ عنہ اور پڑدادا حضرت نظام دین صاحب رضی اللہ عنہ نے قادیان جاکر حضرت مسیح موعوؑد کی بیعت کا شرف حاصل کیا۔ مرحوم سیالکوٹ میں وکیل تھے بعد ازاں وکالت چھوڑ کر اپنے بیٹے کے پاس سویڈن چلے گئے۔ مرحوم ایک لمبا عرصہ سیکرٹری جائیداد سیالکوٹ
رہے۔ بڑے عبادت گزار اور اخلاقی لحاظ سے ایک اچھے مخلص انسان تھے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں ایک بیٹی اور تین بیٹے شامل ہیں۔
(3)مکرم چودھری عبدالمجید صاحب
ابن مکرم چودھری مہتاب الدین صاحب
(گھارو ضلع ٹھٹھہ)
26؍اگست 2024ء کو 88 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم کے پڑدادا حضرت الٰہی بخش صاحب رضی اللہ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔ مرحوم نے گھارو میں باقاعدہ جماعت قائم کی۔ طویل عرصہ وہاں صدر جماعت اور سیکرٹری مال کےطور پر خدمت بجالاتے رہے۔ مرحوم صوم وصلوٰۃ اور تلاوت قرآن کریم کے پابند، تہجد گزار، ہمدرد،ملنسار، محنتی، مخلص اور نیک انسان تھے۔ آپ کے اخلاق اور عملی زندگی کا غیر از جماعت پڑوسیوں پر بہت اچھا اثر تھا۔ پسماندگان میں 4 بیٹے اور4بیٹیاں شامل ہیں۔
(4)مکرم ناصر احمد صاحب
(Russelsheim۔جرمنی)
19؍ستمبر 2024ء کو 74سال کی عمرمیں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم صوم وصلوٰۃ کے پابند، اچھے اخلاق کے مالک ایک نیک اور مخلص انسان تھے۔ جماعتی پروگراموں میں بڑی باقاعدگی سے شامل ہوتے تھے۔ خلافت سے گہرا اخلاص کا تعلق تھا۔ پسماندگان میں ایک بیٹا اور ایک بیٹی شامل ہیں۔ بیٹالو کل امارت میں سیکرٹری وقف نو اور بیٹی اپنی مجلس میں لجنہ اماء اللہ کی سیکرٹری اشاعت کے طور پر خدمت کی توفیق پار ہی ہیں۔
(5)مکرم عبد الغفور صاحب
ابن مکرم منصب خان صاحب
(خوشاب)
8؍مئی 2024ء کو 82سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم کے خاندان میں احمدیت ان کے دادا مکرم حاجی احمدصاحب کے ذریعہ سے آئی جنہوں نے 1930ء میں بیعت کی تھی۔ مرحوم صوم وصلوٰۃ کے پابند، تہجد گزار، لین دین کے کھرے، مہمان نواز، ایک نیک مخلص اور باوفا انسان تھے۔ آپ نے گوٹھ احمدیہ روڈہ میں صدر جماعت کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ تبلیغ کا بھی بڑا شوق تھا۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں2 بیٹے اور7 بیٹیاں شامل ہیں۔
٭…٭…٭
سیّدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے24 دسمبر2024ء بروز منگل 12بجے دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر درج ذیل مرحومین کی نماز جنازہ حاضر و غائب پڑھائی۔
(نماز جنازہ حاضر)
مکرم منور احمد صاحب
(والتھم فارسٹ۔ یوکے)
19؍دسمبر2024ء کو 73سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پا گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم صوم و صلوٰۃ کے پابند، خوش اخلاق، بڑے ہر دل عزیز مخلص اور نیک انسان تھے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں تین بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔ مرحوم کے بیٹے مکرم عطاء المصور صاحب (مربی سلسلہ) اور ایک بھتیجے مکرم مبشر احمد ظفری صاحب (مربی سلسلہ) یوکے میں خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔
(نماز جنازہ غائب)
(1)مکرم عبد العزيز مجاہد صاحب
ابن مکرم چودھری برکت علی صاحب
(تخت ہزارہ ضلع سرگودھا۔حال ربوہ)
7؍دسمبر 2024ء کو 95 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ صوم و صلوٰۃ کے پابند، دعا گو، دیانت دار، ایک با عمل،نیک اور مخلص انسان تھے۔ تخت ہزارہ ضلع سرگودھا میں جب جماعت کی پہلی دفعہ تنظیم نو ہوئی تو مرحوم وہاں پہلے قائد خدام الاحمدیہ مقرر ہوئے۔ آپ نے مرکز کے حکم پر اپنے ساتھ 12 نوجوانوں کو لے کرفرقان بٹالین میں بھی شمولیت اختیار کی۔ ربوہ میں جب قاضی عبد الرحیم صاحب ریٹائرڈ اوورسیئر کی زیر نگرانی مسجد مبارک ربوہ تعمیر ہورہی تھی تو آپ وہاں 2 ماہ تک ملازم رہے۔ اس کے بعدگڑھ موڑ ضلع جھنگ میں ایک کاٹن فیکٹری میں مینیجر کی ملازمت کے دوران دس سال تک سیکرٹری مال اور زعیم انصار اللہ کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔مرحوم موصی تھے۔آپ کی دو بیویاں تھیں جو کہ آپ کی زندگی میں ہی وفات پاگئی تھیں۔ پسماندگان میں اکلوتی بیٹی مکرمہ امۃالرحمٰن صاحبہ (کینیڈا) شامل ہیں۔
(2)مکرمہ حامدہ جبین صاحبہ
(کینیڈا)
5؍دسمبر 2024ء کو 90 سال کی عمر میں مارکھم کینیڈا میں بقضائے الٰہی وفات پا گئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ پہلے جماعت کی بڑی مخالف تھیں لیکن حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کی کیسٹس سننے کے بعد بہت متاثر ہوئیں۔آپ کو ایم ٹی اے کے ذریعہ پہلی عالمی بیعت میں شامل ہونے کی بھی توفیق ملی لیکن بعد میں باقاعدہ طور پر بیعت کا شرف حاصل کیا۔ مرحومہ اللہ تعالیٰ پر کامل یقین رکھنے والی،بڑی سادہ دل،ہمدرداور نیک خاتون تھیں۔ خلافت سے بڑی محبت کا اظہار کرتی تھیں۔ پسماندگان میں تین بیٹے شامل ہیں۔ آپ مکرم انصر رضا صاحب (واقف زندگی مرکزی شعبہ تبلیغ کینیڈا) کی والدہ تھیں۔
(3)مکرم محمد امین صاحب
ابن مکرم حکیم محمد شریف صاحب
(کراچی)
24؍جون 2024ء کو بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کے والد مکرم حکیم محمد شریف صاحب نے 1932ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ مرحوم جماعت کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیتے تھے۔ صوم وصلوٰۃ اور تلاوت قرآن کریم کے پابند، تہجد گزار، دیانتدار، ایک خوش اخلاق اور اچھے انسان تھے۔حضورانور کے خطبات باقاعدگی سےسنتے اورچندہ جات میں بڑے باقاعدہ تھے۔ مرحوم موصی تھے اور حصہ جائیداد اپنی زندگی میں ادا کر دیا تھا۔ پسماندگان میں6 بیٹے اور 2 بیٹیاں شامل ہیں۔
(4)مکرم چودھری اسحاق احمد ورک صاحب
ابن مکرم چودھری محمد دین ورک صاحب مرحوم
(فتح کلاس ضلع شیخوپورہ حال کینیڈا )
10؍نومبر 2024ء کو 69 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ آپ کے والد مکرم چودھری محمددین ورک صاحب کے ذریعہ ہوا جنہوں نے سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ مرحوم صوم وصلوٰۃ کے پابند، تہجد گزار، نرم دل، دعا گو، خلافت سے گہری عقیدت ر کھنے والے ایک نیک اور مخلص انسان تھے۔ جماعتی پروگراموں میں باقاعدگی سے شامل ہوتے۔چندوں میں باقاعدہ اور مالی قربانی میں پیش پیش رہتے تھے۔ آپ نے جماعت شیخوپورہ میں مختلف عہدوں پر خدمت کی توفیق پائی۔ 2016ء میں کینیڈا چلے گئے اور جماعت ہملٹن میں بطور سیکرٹری زراعت خدمت کی توفیق پائی۔مرحوم موصی تھےاور تقریباً دوماہ قبل اپنا حصہ جائیداد بھی ادا کر چکے تھے۔ پسماندگا ن میں اہلیہ کے علاوہ تین بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔
(5)مکرم علی اشکور صاحب
(مراکش)
8؍نومبر2024ء کو 69سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم کی زندگی جدوجہد اور قربانیوں سے بھرپور تھی۔ کم عمری میں والد کے انتقال کے بعد آپ نے اپنی والدہ کے ساتھ مل کر بہن بھائیوں کی پرورش کی اور خود تعلیم حاصل کرکے فزکس اور کیمسٹری کے استاد بنے۔ان کا احمدیت سے تعارف ان کے بہنوئی کے ذریعہ ہوا اور تحقیق کے بعد 2010ء میں باقاعدہ احمدی ہو گئے۔ آپ نے خوابوں کے ذریعے راہنمائی حاصل کی جن میں حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ کا ذکر ملتا ہے۔ وہ اپنی فیملی کے ساتھ گھریلو ماحول میں نماز جمعہ اور درس و تدریس کا اہتمام کرتے تھے۔ آپ نے اپنی بیماری میں بڑے صبر وہمت کا مظاہرہ کیا۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔سب بچے اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی ہیں۔ آپ کی ایک بیٹی کی شادی مکرم ڈاکٹر الیاس ہمیش صاحب(کینیڈا) سے ہوئی ہے۔
ساللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔ آمین