سیّدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے18؍ دسمبر 2024ء بروز بدھ 12بجے دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر درج ذیل مرحومین کی نماز جنازہ حاضر و غائب پڑھائی۔
(نماز جناز ہ حاضر)
مکرمہ امۃ الحفیظ فردوس صاحبہ
اہلیہ مکرم چودھری محمدابراہیم صاحب مرحوم
(کرائیڈن۔یوکے)
15؍دسمبر2024ء کو 89سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پا گئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ مکرم چودھری عبدالغنی صاحب درویش قادیان کی بیٹی اور مکرم بدرالدین عامل صاحب درویش قادیان کی ہمشیرہ تھیں۔ آپ قادیان میں پیدا ہوئیں۔ پاکستان میں گوجرہ سے تعلق تھا۔ مرحومہ پابند صوم و صلوٰۃ اور نیک خاتون تھیں۔2011ء میں یوکے آئیں۔ آپ کی ایک بیٹی مکرمہ شمیم متین صاحبہ کو مجلس پرلی میں نائب صدر لجنہ اماء اللہ کے طور پر خدمت کی توفیق مل رہی ہے۔ پسماندگان میں 2 بیٹے اور 2 بیٹیاں شامل ہیں۔
(نماز جنازہ غائب)
(1)مکرمہ منصورہ بیگم صاحبہ
اہلیہ مکرم چودھری مبشر احمد صاحب
(کراچی)
14؍نومبر 2024ء کو 88سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پا گئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت ڈپٹی میاں شریف احمد صاحب رضی اللہ عنہ کی پوتی اور حضرت سیدہ مہر آپا صاحبہ کی بھانجی تھیں۔ مرحومہ صوم وصلوٰۃ کی پابند، اچھے اخلاق کی مالک ایک نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔پسماندگان میں شوہر کے علاوہ تین بیٹے شامل ہیں۔
(2)مکرم مرزا ناصر احمد صاحب
ابن مرزا محمد اشرف صاحب
(بریمپٹن کینیڈا)
18؍اکتوبر 2024ء کو 75سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پا گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔آپ کے خاندان میں سب سے پہلے آپ کے والد مرزا محمد اشرف صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کے دور میں احمدیت قبول کی۔ آپ مکرم مرزا نصیر احمد صاحب ایڈووکیٹ کے بھتیجے اور داماد تھے۔ لمبا عرصہ بینک میں ملازمت کی اور اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔ پیشہ ورانہ امور بڑی دیانت داری سے ادا کیے اور اپنے اعلی اخلاق اور دوستانہ طبیعت کے باعث سب ان کی بہت عزت
کرتے تھے۔ ضرورت مندوں کی مدد کرتے رہے۔ مرحوم نے راولپنڈی میں نائب امیر کے علاوہ پاکستان اور کینیڈا میں مختلف شعبوں میں خدمت کی توفیق پائی۔ وفات سے قبل آڈیٹر اورانصار اللہ کے ریجنل ناظم تعلیم کے طورپر خدمت بجالارہے تھے۔ مرحوم صوم وصلوٰۃ اور تلاوت قرآن کریم کے پابند، تہجد گزار، ملنسار، نرم دل،سادہ مزاج، ہمدرد مخلص اور نیک انسان تھے۔ خلافت سے وفا اور محبت کا گہرا تعلق تھا اور خلیفۃ المسیح کے ہر ارشاد پر پورے خلوص اور دیانتداری سے عمل کرتے تھے۔مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔
(3)مکرم کامران امجد چودھری صاحب
ابن مکرم محمد امجد چودھری صاحب
(بوسٹن امریکہ)
14؍اکتوبر 2024ء کو ایک کار حادثہ میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم وقف نو کی تحریک میں شامل تھے۔ آپ ناظم صحت جسمانی کے طور پر خدمت بجالا رہے تھے۔ نمازوں کی پابندی کرتے۔ہمیشہ جماعتی کاموں کو ترجیح دیتے۔ ہر ایک سے بہت ادب اور خوش دلی سے ملتے اور بڑے فرمانبردار نوجوان تھے۔ گھر میں سب بہن بھائیوں میں سے بڑے تھے اور پڑھائی میں ان کی مدد کرتے تھے۔ آپ نے بائیو کیمسٹری میں ڈگری حاصل کر کے ریسرچ میں جاب شروع کی تھی اور اگلے سال PhD کرنے کا ارادہ تھا۔پسماندگان میں والدین کے علاوہ ایک بہن اور تین بھائی شامل ہیں۔
(4)مکرم رانا محمود احمد صاحب
(پنشنر تحریک جدید۔ ربوہ)
23؍نومبر 2024ء کو 82سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت چودھری محمد اسماعیل صاحب نمبردار رضی اللہ عنہ کے پوتے تھے۔ مرحوم وکالت مال اوّل میں بطور انسپکٹر تحریک جدید کے علاوہ دفتر کمیٹی آبادی میں ملازمت کرتے رہے۔ مرحوم صوم وصلوٰۃ اور تلاوت قرآن کریم کے پابند، تہجد گزار، بڑے پر ہیز گار، نیک اور مخلص انسان تھے۔ آپ نے اپنے محلہ میں لمباعرصہ سیکرٹری تحریک جدید کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ خلافت سے بے انتہا عشق کا تعلق تھا۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ چار بیٹے شامل ہیں۔ آپ مکرم حافظ رضوان احمد صاحب کارکن وکالت تعلیم تحریک جدید ربوہ کے والد تھے۔
(5)مکرمہ انیلہ عاقل صاحبہ
اہلیہ مکرم جاوید نذیر مانگٹ صاحب
(کینیڈا)
20؍فروری 2024ء کو 46 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت لنگر خان صاحب رضی اللہ عنہ کی پڑپوتی تھیں۔ مرحومہ نمازوں اور تلاوت قرآن کریم کی پابند، ہمدرد، ملنسار مخلص اور نیک خاتون تھیں۔ گاؤں میں احمدی اور غیر احمدی خواتین اور بچیوں کو قرآن کریم پڑھاتی رہیں۔ پاکستان میں اپنے محلہ میں سیکرٹری ناصرات کے علاوہ مختلف عہدوں پر خدمت کی توفیق پائی۔
ضض ضض
سیّدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے21 دسمبر2024ء بروز ہفتہ 12بجے دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر درج ذیل مرحومین کی نماز جنازہ حاضر و غائب پڑھائی۔
(نماز جنازہ حاضر)
مکرمہ رشیدہ بیگم صاحبہ
اہلیہ مکرم اللہ رکھا صاحب مرحوم
(آف ڈیریا نوالہ ضلع نارووال حال ڈیئر پارک۔ یو کے)
16؍دسمبر2024ءکو94سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پا گئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ حضرت سائیں سندر صاحب رضی اللہ عنہ (آف چندر کے منگولے)کی نواسی اور حضرت بھاگ دین صاحب رضی اللہ عنہ کی پوتی تھیں۔مرحومہ صوم وصلوٰۃ کی پابند، خلافت کے ساتھ گہری عقیدت رکھنے والی، بڑی نیک، مخلص بزرگ خاتون تھیں۔ گھر میںMTA لگا کر بڑی باقاعدگی سے خطبات سنتی تھیں۔مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں 3 بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ کے ایک نواسے مکرم عدیل احمد خاور صاحب …اور دوسرے نواسے مکرم حامد اللہ ناصر صاحب (واقف زندگی)ایم ٹی اے انٹرنیشنل یوکے میں خدمت کی توفیق پا رہے ہیں۔
(نماز جنازہ غائب)
(1)مکرمہ عزیزہ بشر یٰ احمد صاحبہ
اہلیہ مکرم رفیق احمدصاحب
(Erkenschwick جر منی)
13؍اکتوبر 2024ء کو 72سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ صوم وصلوٰۃ کی پابند، اچھے اخلاق کی مالک، پردہ کی پابند ایک نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ لجنہ کی ایک فعال رکن تھیں اور اپنے حلقہ میں لمبا عرصہ صدر لجنہ کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ جماعتی پروگراموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں میاں کے علاوہ ایک بیٹا اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔
(2) مکرم Malik Jacques Bogris صاحب۔
یک بوگریس
(گوادے لوپ)
13؍نومبر2024ءکو بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم نے بیعت تو 2008ء میں کی تھی مگر جماعت سے کوئی خاص تعلق نہ رکھا۔پھر 2021ء کے آخر میں دوبارہ جماعت سے رابطہ کیا اور کئی ماہ تک سوال و جواب کرتے رہے۔ اس کے بعد رمضان کے مہینہ میں مرحوم نے اظہار کیا کہ اب میرے دل کو پوری تسلی ہوگئی ہے۔ 2023ء میں مرحوم کو جلسہ سالانہ یوکے میں شامل ہونے کی توفیق ملی جس میں مرحوم نے تجدید بیعت بھی کی اور حضور انور سے شرف ملاقات بھی نصیب ہوا۔ مرحوم نہایت شگفتگی سے بات کرتے تھے۔ نرم دل کے مالک تھے۔ ہمیشہ انسانیت کی خدمت کرنا چاہتے تھے۔ پڑھے لکھے تھے۔ پیشے کے لحاظ سے آرکیٹیکٹ تھے۔ گوادےلوپ میں مسجد بنانے کی بہت خواہش تھی اور اس کے لیے انہوں نے مسجد کے architecture plans بھی تیار کیے ہوئے تھے۔ ان کو دین سیکھنے کا بھی بہت شوق تھا اور مربیان سے ہمیشہ دینی سوال پوچھا کرتے تھے۔
(3)مکرم چودھری فیاض الدین جہانگیر صاحب
ابن مکرم نورالدین جہانگیر صاحب
(واپڈا ٹاؤن لاہور)
10؍ستمبر 2024ء کو 72سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم مولوی غلام حسین صاحب کے پوتے تھے جن کےذریعہ آپ کے ددھیال میں احمدیت کا نفوذ ہوا۔ مرحوم لمبا عرصہ سیکرٹری مال ساہیوال شہر رہے۔ آپ کا گھر23سال تک نماز سنٹر کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔ مرحوم کا جماعت اور خلافت کے ساتھ اخلاص اور وفا کا تعلق تھا۔ عبادت گزار، با قاعدگی سے چندہ ادا کرنے والے ایک نیک، مخلص اورفدائی خادم سلسلہ تھے۔ بچوں کی اچھی تربیت کی اور باقاعدگی سے انہیں نماز اور چندہ کی تلقین کیاکرتے تھے۔ حسب توفیق ضرورت مندوں کی مدد کرتے۔ واقفین زندگی کا بہت احترام کرتے تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ 2 بیٹے اور 2 بیٹیاں شامل ہیں۔
(4)مکرم نسیم احمد صاحب
ابن مکرم چودھری عبد السلام صاحب مرحوم
(ڈگری گھمناںپسرور۔سیالکوٹ)
19؍ستمبر2024ءکو بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم کے دادا حضرت چودھری اسماعیل خاں صاحب رضی اللہ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔ مرحوم کو سیکرٹری مال، صدر جماعت اورامیر حلقہ ڈگری گھمناں کے طور پر خدمت کی توفیق ملی۔ آپ
نے40سال سے زائدعرصہ بطور ٹیچر گورنمنٹ سکول ملازمت کی۔ آپ کو تبلیغ کا بہت شوق تھا۔ جلسہ سالانہ کے موقع پر اپنے غیر از جماعت دوست احباب کو ربوہ
لاتے اوراس طرح بہت سے احباب کی جماعت میں شمولیت کا باعث بنے۔ آپ نے اپنے دورِ صدارت میں حلقہ میں دو مساجد بھی تعمیر کروائیں۔ مرحوم صوم و صلوٰۃ کے پابند، ہمدرد، ملنسار، مہمان نواز،مخلص او ر باوفا انسان تھے۔ آپ کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ روحانی خزائن کے متعدد دور مکمل کرچکے تھے۔ مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں 2 بیٹیاں اور 5 بیٹے شامل ہیں۔
(5)مکرم صوفی عبد المجید صاحب
ابن مکرم امام دین صاحب مرحوم
(بھابڑہ ضلع کوٹلی آزادکشمیر)
19؍اکتوبر2024ءکو82سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم پاکستان آرمی میں بھرتی ہوئے۔ 1971ء کی جنگ میں بنگلہ دیش میں لڑتے ہوئے قید ہو گئے۔ 6ماہ قید رہنے کے بعد رہا ہو کر واپس پاکستان آئے۔ سب کو معلوم تھا کہ آپ احمدی ہیں اس کے باوجود آپ سے لوگ قرآن کریم سیکھتے اور آپ کی امامت میں نماز بھی ادا کرتے رہے۔ آپ کو ضلع کوٹلی میں مختلف جماعتی عہدوں پر خدمت کی توفیق ملی۔ بھابڑہ جماعت کے صدر کے طوربھی خدمت بجالاتے رہے۔ آپ صوم وصلوٰۃ اور تلاوت قرآن کریم کے پابند، ہمدرد،ملنسار، مہمان نواز، نیک اور مخلص انسان تھے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ چار بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔
اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔ آمین