اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-03-20

نماز جنازہ حاضروغائب

سیّدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے12؍ نومبر 2024ء بروز منگل 12بجے دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر درج ذیل مرحومین کی نماز جنازہ حاضر و غائب پڑھائی۔
نماز جناز ہ حاضر
مکرم چودھری عزیز اللہ بنگوی صاحب
(لندن۔یوکے)
7؍ نومبر2024 کو 79 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم حضرت مولوی رحمت اللہ صاحب بنگوی صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پوتے اور مکرم چودھری ہدایت اللہ بنگوی صاحب مرحوم (سابق جنرل سیکر ٹری وافسر جلسہ سالانہ جماعت یوکے) کے بیٹے تھے۔مرحوم 50 سال سے زائد عرصہ سے مسجد فضل لندن کے قریب رہائش پذیر تھے۔ ابتدا میں شعبہ سمعی بصری سے منسلک رہے اور مسجد فضل لندن میں بچوں کی اطفال کلاسیں بھی لیا کرتے تھے۔مرحوم صوم وصلوٰۃ کے پابند، ہمدرد،ملنسار، خلافت کے ساتھ وفا کا تعلق رکھنے والے، دیندار، نیک اور مخلص انسان تھے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔مرحوم مکرم مرزا خلیق احمد صاحب (سیکرٹری اشاعت جماعت یوکے )کے خسر تھے۔آپ کے بیٹے مکرم مجید اللہ بنگوی صاحب نے بیت الفتوح کی پرانی عمارت میں جماعت کی IT کی تنصیبات کو انسٹال کیا تھا۔
نماز جنازہ غائب
(1)مکرمہ رضوانہ کوثرصاحبہ اہلیہ مکرم رانا مبارک صاحب (جرمنی)
11؍اکتوبر2024ء کو 50سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔آپ کے خاندان میں احمدیت آپ کے نانا کے بھائی حضرت چودھری غلام محمد صاحب رضی اللہ عنہ کے ذریعہ آئی جو موضع گاؤں ڈپھئی ضلع سیالکوٹ کے ایک گھرانے سے تھے۔ انہوں نے 1905ء میں بیعت کی اور 1908ء میں قادیان چلے گئے اور صدر انجمن میں خدمت کی توفیق پائی۔ مرحومہ صوم وصلوٰۃ کی پابند،خوش اخلاق، غریب پرور، نظام جماعت اور خلافت کی اطاعت گزارایک نیک اورہمدرد خاتون تھیں۔مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں ایک بیٹی اور دو بیٹے شامل ہیں۔
(2)مکرم نصير احمد فاروقی صاحب
ابن مکرم حکیم ظفر احمد صاحب سنوری(ربوہ )
15؍اکتوبر2024ء کو بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت مولوی قدرت الله سنوری صاحب رضی اللہ عنہ کے نواسے اور مکرم شجر احمد سنوری فاروقی صاحب کے بھائی تھے۔ مرحوم چھوٹی عمر سےہی جماعتی خدمت میں بھرپور حصہ لیتے رہے۔آپ نے امیر ضلع کوئٹہ کے علاوہ مختلف جماعتی اور تنظیمی عہدوں پر خدمت کی توفیق پائی۔ ربوہ شفٹ ہونے پر اپنے محلہ کے شعبہ مال میں بھی خدمت بجالاتے رہے۔ تبلیغ بڑے شوق سے کیا کرتے تھے۔ مرحوم صوم وصلوٰۃ کے پابند،تہجد گزار، خوش اخلاق، منکسرالمزاج،شفیق، ملنسار، مخلص اور باوفا انسان تھے۔خلافت سے گہرا عقیدت کا تعلق تھا۔مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔
(3)مکرمہ امۃالحفیظ بیگم صاحبہ
اہلیہ مکرم عبدالقادر صاحب (ربوہ)
16؍اکتوبر2024ء کو 94سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کے والد مکرم خواج دین صاحب مرحوم نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی سعادت حاصل کی۔ آپ کے بڑے بھائی مکرم نواب دین صاحب حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ کے دور میں حفاظت خاص میں شامل تھے اور ایک بھائی مکرم سراج دین صاحب شعبہ ضیافت یوکے میں خدمت کی توفیق پارہےہیں۔ مرحومہ صوم وصلوٰۃ اور تلاوت قرآن کریم کی پابند، تہجد گزار، دعا گو،دین دار، مخلص اور نیک فطرت خاتون تھیں۔ خلافت کے ساتھ مضبوط تعلق تھا اورخاندان حضرت مسیح موعودؑ کے ساتھ والہانہ عقیدت اور محبت رکھتی تھیں۔ لازمی اور دیگر چندہ جات وقت پر ادا کرتی تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں دو بیٹیا ں اور تین بیٹے شامل ہیں۔آپ مکرم ڈاکٹر پروفیسر عبدالکریم خالد صاحب (آف لاہور ) اور مکرم عبد الحلیم احمد صاحب (مربی سلسلہ نظارت اصلاح و ارشاد رشتہ ناطہ) کی والدہ، مکرم عبد الماجد طاہر صاحب (ایڈیشنل وکیل التبشیر یوکے )کی خالہ اور مکرم عطا ء الفاتح صاحب (عملہ حفاظت خاص اسلام آباد۔یوکے)کی دادی تھیں۔
(4)مکرم اشفاق حسین صاحب
ابن مکرم شیخ الطاف حسین صاحب (کراچی)
16؍اکتوبر2024ء کو 96 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کے والد مکرم شیخ الطاف حسین صاحب نے چھوٹی عمر میں نچولی (میرٹھ) انڈیا میں 1915ء میں بیعت کی تھی۔ جس کے بعد وہ مستقل طور پر قادیان منتقل ہوگئے اور صدر انجمن احمدیہ قادیان میں ملازمت کرتے رہے۔ مرحوم صوم وصلوٰۃ کے پابند، خلافت سے بےپناہ عقیدت رکھنے والے ایک نیک اور مخلص انسان تھے۔ آپ نے جماعت کراچی میں ایڈیشنل سیکرٹری تعلیم القرآن اور ایڈیشنل سیکرٹری اصلاح و ارشادکے علاوہ مقامی سطح پر مختلف جماعتی اور تنظیمی عہدوں پر خدمت کی توفیق پائی۔مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں ایک بیٹی اور 4 بیٹے شامل ہیں۔
(5)مکرم مرزا نوید احمد صاحب
ابن مکرم مرزا بشارت احمد صاحب
(دارالعلوم وسطی حلقہ لطیف ربوہ)
14؍اکتوبر2024ء کو ایک حادثہ میں 40 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم کے پڑدادا مکرم مرزا محمد ابراہیم صاحب مرحوم ربوہ کے ابتدائی باسیوں میں سے تھے۔ جنہوں نے بطور سِول کنٹریکٹر ربوہ کی ابتدائی عمارات کی تعمیر میں نہایت مستعدی سے حصہ ڈالا۔ مرحوم بوقت وفات ڈیپارٹمنٹ آف ایکسپلوسوز،منسٹری آف انرجی اینڈ پٹرولیم لاہور میں بطور ڈپٹی ڈائریکٹر گریڈ18 پر کام کررہے تھے۔ ہمیشہ اپنی ڈیوٹی پوری ایمانداری اور حب الوطنی کےجذبہ سے نبھاتے رہے۔مرحوم صوم وصلوٰۃ کے پابند، بڑے خوش اخلاق، ملنسار، نیک اور جماعت کے فدائی مخلص نوجوان تھے۔چندہ جات میں باقاعدہ تھے اور مالی قربانی میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔ دوسروں کے دکھ درد کو اپنا سمجھتے اور ممکن حد تک مدد کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ غرباء اور سٹوڈنٹس وغیرہ کے ایڈمشن میںخاموشی سے خطیر رقم بطور مالی معاونت ادا کرتے رہے۔ مرحوم نے محلہ میں منتظم اطفال اور منتظم عمومی کے طورپر خدمت کی توفیق پائی۔تنظیمی اور جماعتی میٹنگز اور اجلاسات پر تمام کام چھوڑ کر اپنی حاضری نہ صرف یقینی بناتے بلکہ قبل ازوقت جانا پسند کرتے تھے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں والدین کے علاوہ اہلیہ، ایک بیٹی اور 3بیٹے شامل ہیں۔
(6)مکرم خلیفہ وسیم الدین محمود صاحب
ابن مکرم خلیفہ علیم الدین صاحب(امریکہ )
12؍اکتوبر 2024 کو 93 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب رضی اللہ عنہ کے پوتے تھے۔ جوکہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی پہلی زوجہ حضرت ام ناصر رضی اللہ عنہا کے والد تھے۔مرحوم نےقادیان اور ربوہ میں مختلف جماعتی خدمات کی توفیق پائی۔ مرحوم صوم وصلوٰۃ کے پابند، تہجدگزار تھے۔خلافت سے گہری محبت رکھتے تھے اور اپنی اولاد کو بھی آخری وقت تک خلافت سے محبت اور اطاعت کی تلقین کرتے رہے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا اور2 بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ مکرم ھبۃ الرحمان صاحب (انچارج خدام سیکشن مرکزیہ) اور مکرم محبوب الرحمٰن صاحب (جنرل سیکرٹری IAAAE) کے ماموں تھے۔
ضض ضض
سیّدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے16؍ نومبر 2024ء بروز ہفتہ 12بجے دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر درج ذیل مرحومین کی نماز جنازہ حاضر و غائب پڑھائی۔
نماز جناز ہ حاضر
مکرمہ عذرا خان صاحبہ
بنت مکرم رانا نعیم الدین خان صاحب مرحوم
سابق کارکن حفاظت خاص(یوکے)
11؍نومبر2024ء کو 56 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ صوم وصلوٰۃ کی پابند، مہمان نواز، خوش اخلاق، نیک، دیندار اور مخلص خاتون تھیں۔ چندوں کی ادائیگی میں بڑی با قاعدہ تھیں۔ خلافت کے ساتھ گہرا عقیدت کا تعلق تھا۔ بیماری کا عرصہ بڑے صبروہمت سے گزارا اورکبھی مایوسی کا اظہار نہ کیا۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں 2 بیٹے اور 6 بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ مکرم را نا وسیم احمد صاحب (کارکن دفتر پرائیویٹ سیکرٹری اسلام آباد۔یوکے ) کی بڑی ہمشیرہ تھیں۔
نماز جنازہ غائب
(1)مکرمہ امۃالرشید مظفر صاحبہ
اہلیہ مکرم چودھری مظفراحمد صاحب شہید
(دارالذکر۔ لاہور)
15؍ اکتوبر2024ء کو 80 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ کے والد حضرت علم دین صاحب رضی اللہ عنہ اور دادا حضرت قطب دین صاحب رضی اللہ عنہ (آف لودھی ننگل) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ میں سے تھے۔ آپ کے خسر حضرت مولوی محمد ابراہیم صاحب قادیانیؓ در ویش قادیان تھے۔ مرحومہ صوم و صلوٰۃ کی پابند، صابرہ وشا کر ہ نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ خلافت کے ساتھ کامل وفا کا تعلق تھااور اپنی اولاد کو بھی اس طرف متوجہ کرتی تھیں۔ کبھی کسی کا گلہ نہیں کیا اور ہر ایک کی ہمدرد اور خیر خواہ تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔پسماندگان میں دو بیٹیاں اور تین بیٹے شامل ہیں۔
(2)مکرم مقصود احمد صاحب
ابن مکرم علی محمد صاحب
(صدر جماعت 52 گ ب ضلع فیصل آباد)
16؍ اکتوبر2024ء کو بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ نے لمبا عرصہ مقامی جماعت میں صدر کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔مرحوم صوم وصلوٰۃ کے پابند، بڑے ہمدرد،مخلص اور باوفا انسان تھے۔عبادات سے بہت شغف رکھتے تھے۔ اپنے گھر میں مسجد کی طرز پر افراد جماعت کے لیے نماز سنٹر بنایا ہوا تھا۔ خلافت سے عقیدت و احترام کا تعلق تھا۔سلسلہ کے مہمانوں کی بڑے شوق کے ساتھ مہمان نوازی کرتے تھے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں دو بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔
(3)مکرمہ بشریٰ زبین صاحبہ
اہلیہ مکرم چودھری محمد انوار صاحب (دستگیر کراچی)
21؍ستمبر 2024ء کو 70سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت مولوی سلطان علی صاحب رضی اللہ عنہ ( پھیرو چیچی انڈیا)کی پوتی اور مولوی عبدالرحیم صاحب( سابق امیر حلقہ گھسیٹ پورہ) کی بیٹی تھیں۔ مرحومہ عبادت گزار، خلافت سےانتہائی عقیدت کا تعلق رکھنے والی، مہمان نواز، غریب پرور، ایک نیک اور مخلص خاتون تھیں۔مالی قربانی میں نمایاں تھیں۔ اپنا سارا زیور تحریک جدید کی مد میں پیش کر دیا تھا۔ 1974ء میں دستگیر کراچی سے جن پانچ احمدیوں کوایک جھوٹے الزام کے تحت گرفتار کیا گیا تھا ان میں آپ کے شوہر بھی شامل تھے۔اسی طرح 1984ء میں آرڈیننس سے قبل مولویوں نے دھاوا بول کر آپ کے مکان کا کچھ حصہ منہدم کر دیا تھا۔ آپ نے دونوں مرتبہ بڑی ہمت، حوصلہ اور صبر کا مظاہر ہ کیا۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ آپ مکرم محمد احسن صاحب(صدر جماعت دستگیر کراچی)کی والدہ تھیں۔آپ کے ایک داماد مکرم مصباح الدین مبارک محمود صاحب جامعہ احمدیہ ربوہ میں استاد اور دوسرے داماد عاصم ضیاء باجوہ صاحب وکالت مال اول میں بطور انسپکٹر خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔
(4)مکرم محمد عادل صاحب
(آف ننگل باغبانہ محلہ طاہر قادیان۔ انڈیا)
25؍ستمبر2024ء کو 85 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم کا تعلق جماعت دھن سنگھ پور ضلع فتح پور صوبہ یوپی سے تھا۔1971ء میں بیعت کی سعادت حاصل کی اور اس کے بعد مخالفت کا سامنا کرنا
پڑا۔ 1993ء میں ہجرت کر کے فیملی کے ساتھ قادیان آگئے۔پنجوقتہ نمازوں کے علاوہ نماز تہجد نیز قرآن کریم کی تلاوت باقاعدگی سے کیا کرتے تھے۔ نہایت خاموش طبع، ملنسار اور فدائی احمدی تھے۔ چندوں کی ادائیگی اوّل وقت میں کرتے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاءکی کتب و تحریرات کا مطالعہ باقاعدگی سے کرتے تھے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔ بڑے بیٹے مکرم حافظ شریف الحسن صاحب ناظم ارشاد وقف جدیدقادیان کے طورپر خدمت کی توفیق پارہے ہیں اور دوسرے بیٹے بھی صدر انجمن احمدیہ کے کارکن ہیں۔
(5)مکرمہ صفیہ خانم صاحبہ
بنت مکرم قادر بخش صاحب مرحوم (جرمنی)
13؍ اگست 2024ء کو 82 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ صوم وصلوٰۃ کی پابند، ملنسار، مہمان نواز، خوش اخلاق، مخلص اور نیک خاتون تھیں۔ پر دے کی بڑی پابند تھیں۔ جماعتی پروگراموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی رہیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں ایک بیٹی اوردو بیٹے شامل ہیں۔آپ کے ایک بیٹے مکرم کلیم احمد صاحب جماعت Eppelheim میں بطور جنرل سیکرٹری اور ایک پوتی بطور جنرل سیکرٹری لجنہ اماء اللہ Eppelheim جبکہ ایک پوتا خدام الاحمدیہ میں ناظم اطفال کے طور پر خدمت کی توفیق پارہا ہے۔
اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔ آمین ۔
ضض ضض