اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-03-06

نماز جنازہ حاضروغائب

سیّدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے04؍ نومبر 2024ء بروز سوموار 12بجے دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر درج ذیل مرحومین کی نماز جنازہ حاضر و غائب پڑھائی۔
نماز جناز ہ حاضر
مکرم ابوسعید خان صاحب ابن مکرم اصغر علی خان صاحب (سلاؤ۔یوکے)
25؍اکتوبر2024ء کو90سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم کی پیدائش سے کافی سال پہلے ان کے والد احمدیت قبول کر چکے تھے جس وجہ سے ان کے تمام رشتہ داروں نے ان سے قطع تعلق کر لیا تھا۔ ان کی فیملی تقسیم ہند کے بعد کراچی منتقل ہوگئی تھی۔ 1953ء میں آپ تعلیم کی غرض سے یہاں مانچسٹر آئےاور ٹیکسٹائل انجینئرنگ میں تعلیم مکمل کی اور نارتھ انگلینڈ میں کام شروع کیا۔ 1960ء میں اپنی بزرگ والدہ کی خدمت کے لیے واپس پاکستان چلے گئے اور 70کی دہائی میں دوبارہ یو کے آئے۔ مرحوم صوم و صلوٰۃ کے پابند، بہت ہر دل عزیز، کم گو، نیک، مخلص اور باوفا انسان تھے۔جماعتی پروگراموں میں بڑی باقاعدگی سے شامل ہوتے تھے۔ جلسہ سالانہ کے موقع پر ایئر پورٹ پر ڈیوٹی دیا کرتے تھے۔ مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں ایک بیٹا، بہو اور تین پوتے شامل ہیں۔
نماز جناز ہ غائب
(1) مکرم رانا محمود احمدصاحب ابن مکرم رانا غلام مصطفیٰ صاحب (نفیس نگر ضلع میر پور خاص)
20 اپریل2024ء کو بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔مرحوم کے والد 1947ء میں ہجرت کرکے فیصل آباد آگئے اور خلافتِ ثالثہ کے دور میں گوٹھ برہان نگرضلع میرپورخاص سندھ شفٹ ہوگئے جہاں انہوں نے اپنی زمینیں خریدیں۔ مرحوم صوم وصلوٰۃ کے پابند، خوش اخلاق، ملنسار، نیک،متقی اور مخلص انسان تھے۔ چندہ جات میں باقاعدہ تھے اور مالی قربانی میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔مرحوم خلافت کے شیدائی تھے اور نظام جماعت سے گہرا تعلق تھا۔ نفیس نگر میں جماعتی سینٹر کے لیے مرحوم نے زمین بھی دی تھی۔مرحوم کو عرصہ دراز تک سیکرٹری اصلاح وارشاد اور اشاعت کے عہدوں پر خدمت کی توفیق ملی۔مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دوبیٹیاں اور پانچ بیٹے شامل ہیں۔مرحوم کے ایک بیٹے مکرم عارف الرحمٰن صاحب مکرم ڈاکٹر عبدالمنان صدیقی شہید کے سیکیورٹی گارڈ تھے۔ جب ڈاکٹر صاحب پر حملہ ہوا تو اس وقت 8گولیاں لگنے کی وجہ سے یہ بھی شدید زخمی ہوگئےتھےاور اب وہیل چیئر پرہیں۔
(2)مکرمہ بشریٰ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم حاجی طالب حسین صاحب (بڈھانوں ضلع راجوری ریاست جموں و کشمیر U,Tانڈ یا)
7؍اکتوبر 2024ء کو77سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کا تعلق ایک غیر از جماعت کٹر سنّی خاندان سے تھا لیکن مرحومہ نے احمدیت قبول کی اور آخر دم تک ثابت قدم رہیں۔ صوم وصلوٰۃ اور تلاوت قرآن کریم کی پابند، تہجد گزار، مہمان نواز،دعاگو، متوکل علی اللہ، صابرہ وشاکرہ،بڑی خوش اخلاق، نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ خلافت سے بے انتہا محبت تھی اور حضور انور کا خطبہ جمعہ با قاعدگی سے سنتی تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔پسماندگان میں دو بیٹے اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔آپ کے بیٹے مکرم ڈاکٹر مختار احمد محمود بھٹی صاحب بطور صدر جماعت ( بڈھانوں ضلع راجوری۔ انڈیا) خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔
(3)مکرمہ صفیہ خانم صاحبہ اہلیہ مکرم عبدالرشید اختر صاحب مرحوم (کارکن دارالضیافت ربوہ)
28؍ستمبر 2024ء کو اسلام آباد میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ نمازوں اورتلاوت قرآن کریم کی پابند، تہجد گزار، خوش اخلاق، نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ مرحومہ نے ساری عمر جماعت کی تابعداری میں گزاری۔ خلافت سے بے انتہا محبت تھی اور بچوں کو خلافت کے ساتھ تعلق کی ہمیشہ تلقین کیا کرتی تھیں۔ ایم ٹی اے بڑے شوق سے دیکھتیں اور حضورانور کا خطبہ جمعہ بار بار سنتی تھیں۔ پسماندگان میں دو بیٹیاں اور تین بیٹے شامل ہیں۔
(4)مکرمہ ثریا بیگم صاحبہ اہلیہ مکر م محمد ابراہیم صاحب (دارالنصر وسطی ربوہ)
18؍اکتوبر 2024ء کو88سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ حضرت گوہردین صاحب رضی اللہ عنہ کی پوتی اور حضرت مستری مہر الدین صاحب رضی اللہ عنہ کی بیٹی تھیں۔ مرحومہ صوم وصلوٰۃ اور تلاوت قرآن کریم کی پابند، عبادت گزار،دعا گو، غریب پرور، مہمان نواز، سلیقہ شعار،صابرہ وشاکرہ، خوش اخلاق نیک اور مخلص خاتون تھیں۔مرحومہ موصیہ تھیں۔پسماندگان میں میاں کے علاوہ 4بیٹے اور 4 بیٹیاں شامل ہیں۔
(5)مکرمہ حنیفہ بیگم صاحبہ(سرگودھا) اہلیہ سکوارڈن لیڈر ریٹائرڈ مکرم چودھری فضل الٰہی صاحب مرحوم (سابق نائب ناظر امور عامہ)
2؍ نومبر 2023ء کو 94 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ صوم و صلوٰۃ اور تلاوت قرآن کریم کی پابند، تہجد گزار، دعا گو، مہمان نواز، غریبوں کی بڑی ہمدرد،شفیق،ہر ایک کا خیال رکھنے والی باوفا اور مخلص خاتون تھیں۔ خلافت سے گہرا عقیدت کا تعلق تھا اور خلیفۃ المسیح کی ہر تحریک پر لبیک کہتی تھیں۔ مسجد بیت الفتوح کی تعمیر میں اپنا شادی کا زیور پیش کرنے کی توفیق پائی۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں ایک بیٹی اور پانچ بیٹے شامل ہیں۔
(6)مکرم عبد الرشید گوپانگ صاحب ابن مکرم عبد الکریم صاحب(یارووالا تحصیل علی پور ضلع مظفر گڑھ)
3؍ ستمبر 2024ء کو 48 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم کے والد نے سب سے پہلے بیعت کی تھی اور بعد میں صرف یہ اکیلے ہی اپنے خاندان میں احمدی تھے۔ مرحوم نے مقامی مجلس میں زعیم انصار اللہ اور خادم مسجد کے طور پر خدمت کی توفیق پا ئی۔ صوم وصلوٰۃ کے پابند، خوش اخلاق، مہمان نواز، ملنسار، خلافت کے شیدائی ایک نیک اور مخلص انسان تھے۔ جماعت کا ہر کام خوش اسلوبی اور اوّلین فرصت میں کرتے تھے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹے شامل ہیں۔
اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔ آمین