اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-02-20

نماز جنازہ حاضروغائب

سیّدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے12؍ اکتوبر 2024ء بروز ہفتہ 12بجے دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر درج ذیل مرحومین کی نماز جنازہ حاضر و غائب پڑھائی۔
نماز جناز ہ حاضر
(1)مکرمہ صالحہ صدیقہ صاحبہ اہلیہ مکرم میاں ناصر احمد صاحب مرحوم (آف ربوہ حال ساؤتھ ہال۔ یوکے)
یکم اکتوبر2024ء کو 78سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ قادیان میں پیدا ہوئیں۔ صوم وصلوٰۃ اور تلاوت قرآن کریم کی پابند، تہجدگزارمہمان نواز، ہمدرد، مخلص اور باوفا خاتون تھیں۔ محلہ دارالنصر غربی ر بوہ میں لمبا عرصہ تک نائب صدر لجنہ کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ ربوہ میں محلہ کے بچوں کو قرآن کریم بھی پڑھاتی رہیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں دو بیٹے اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔
(2)مکرمہ بشریٰ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم محمد سعید صاحب (ووسٹرپارک۔یوکے)
4؍اکتوبر2024ء کو 75 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت فضل محمد صاحب (ہر سیاں والے) رضی اللہ عنہ کی پڑپوتی اور مکرم صوفی محمد حفیظ صاحب (آف صوفی مٹھائی ہاؤس ربوہ) کی بہو تھیں۔آپ کا تعلق لاہور سے تھا۔ 1974ء میں آپ کے گھر پرحملہ ہوا جس کے بعد آپ ربوہ شفٹ ہو گئیں۔ مرحومہ نماز اور روزہ کی پابند، ملنسار، مہمان نواز اور خلافت کے ساتھ اخلاص کا تعلق رکھنے والی ایک نیک، دیندار بزرگ خاتون تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں 4 بیٹیاں اور 5 بیٹے شامل ہیں۔
(3) مکرمہ امۃ الہادی رحمٰن صاحبہ اہلیہ مکرم سردار نصیرالدین ہمایوں صاحب (عملہ حفاظت خاص اسلام آباد۔ یوکے)
8؍اکتوبر2024ء کو 52 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ ڈاکٹر راؤ محمد حبیب الرحمٰن خان صاحب مرحوم (سابق نیشنل سیکرٹری وقف نو ہالینڈ) کی بیٹی اور معروف شاعر مکرم محمد جلیل الرحمٰن جمیل صاحب کی چھوٹی ہمشیرہ تھیں۔ ننھیال کی طرف سے ان کا سلسلہ حسب و نسب حضرت مسیح موعودؑ کے صحابہ حضرت صوفی نبی بخش صاحب لاہوری رضی اللہ عنہ اور حضرت بابو محمد وزیر خان صاحب رضی اللہ عنہ اوورسیئر سے ملتا ہے۔ مرحومہ صوم و صلوٰۃ کی پابند، خلافت سے بے پناہ محبت رکھنے والی، خوش اخلاق، ہنس مکھ، علمی ذوق رکھنے والی، خدمت کے جذبہ سے سرشار ایک نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ پسماندگان میں میاں کے علاوہ پانچ بیٹے اور سات بہن بھائی شامل ہیں۔
نماز جنازہ غائب
(1) مکرم مرزا عبدالمتین صاحب (معلم وقف جدید کوٹلی کشمیر)
5؍اکتوبر 2024ء کو 33 سال کی عمر میں دوران ڈیوٹی بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ 15؍اگست 2010ء کو مدرسۃالظفر وقف جدید سےتعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ کی پہلی تقرری داعی والا سیداں ضلع نارووال میں ہوئی۔ بعد ازاں ضلع سرگودھا، بدین، حیدرآباد، میرپور اور کوٹلی کشمیر سمیت مختلف اضلاع میں خدمت کی توفیق پائی۔ آپ کا عرصہ خدمت 14 سال بنتا ہے۔ مرحوم نے دوران خدمت اپنے عہد وقف کو بڑی ذمہ داری اور وفا کے ساتھ نبھایا۔ آپ کو جہاں بھی بھجوایا گیاوہاں ہمیشہ بشاشت اورمحنت کے ساتھ مفوضہ فرائض سر انجام دیتے رہے۔ تہجدگزار نماز باجماعت کے پابند اور دعا گو انسان تھے۔ سچائی، ملنساری، مہمان نوازی، خوش مزاجی، صداقت، امانت، دیانت، عاجزی آپ کے بنیادی اوصاف تھے۔ نظام خلافت کے ساتھ ہمیشہ وفا کا تعلق رکھا اوراپنے اہل خانہ کو بھی اس کی تلقین کیا کرتے تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹی اور دو کمسن بیٹے شامل ہیں۔
(2) مکرمہ سعیدہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم چودھری نبی احمد چیمہ صاحب( آف گوٹھ نبی احمد چیمہ ضلع حیدر آباد سندھ)
27؍ستمبر2024ء کو 89 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت مولوی غلام محمد گوندل صاحب رضی اللہ عنہ (آف چک 99 شمالی ضلع سرگودھا )کی بیٹی اورحضرت چودھری علی محمد صاحب رضی اللہ عنہ کی بھتیجی تھیں۔ آپ کے میاں مکرم چودھری نبی احمد چیمہ صاحب درویشان قادیان میں شامل تھے۔آپ صوم وصلوٰۃ کی پابند، خوش مزاج، ملنسار مہمان نواز ایک نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ خلافت کے ساتھ گہرا عقیدت کا تعلق تھا اور خلافت کی ہرآواز پر لبیک کہتی تھیں۔ جماعتی پروگراموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتیں اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کے لیے خاص کوشش کرتی تھیں۔ پسماندگان میں 2 بیٹیاں اور 3 بیٹے شامل ہیں۔
(3)سکوارڈن لیڈر(ر) چودھری منیر احمد صاحب (سابق وائس پرنسپل نصرت جہاں بوائز کالج ربوہ )
30؍ستمبر 2024ء کو 94 سال کی عمر میں راولپنڈی میں بقضائے الٰہی وفات پا گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کے خاندان میں احمدیت آپ کے دادا حضرت چودھری محمد دین صاحب رضی اللہ عنہ آف ککرالی ضلع گجرات کے ذریعہ آئی جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سفر جہلم کے دوران بیعت کی سعادت حاصل کی۔ مرحوم کے نانا حضرت مولوی سلطان عالم صاحب آف گوٹریالہ ضلع گجرات بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔ آپ نے ایئر فورس سے 1986ء میں ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے آپ کو جماعتی خدمت کے لیے پیش کیا۔ 1987ء میں نصرت جہاں اکیڈمی ربوہ کا قیام ہوا تو آپ اس ادارہ سے منسلک ہو گئے اور پھر نصرت جہاں انٹر کالج کے قیام کے بعد وہاں شفٹ کر دیے گئے۔ آپ نے 1987ء سے 2020ء تک 33 سال خدمت کی توفیق پائی۔ 1989ء میں آپ قاضی سلسلہ اور 1996ء میں ممبر قضاء بورڈ بنے اور دسمبر 2019ء تک 31 سال دارالقضاء میں خدمت کی توفیق پائی۔ مرحوم صوم وصلوٰۃ کے پابند،معاملہ فہم، صائب الرائے اور بلند کردار کے مالک ایک مخلص اور نیک انسان تھے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔
(4) مکرمہ امۃ المجید صاحبہ اہلیہ مکرم لقیت اللہ صاحب مرحوم ( چٹاگانگ بنگلہ دیش)
18؍ستمبر2024ء کو 87سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آ پ کے والد مکرم سید خواجہ احمد صاحب نے1944ء میں اور میاں نے 1945ء میں احمدیت قبول کی۔ مرحومہ کو شادی کے بعد سسرال میں سخت مخالفت کاسامنا کرنا پڑا اس لیے سب کچھ چھوڑ کر والد کے گھر آگئی تھیں لیکن سسرال کے ساتھ ہمیشہ اچھے تعلقات رکھے۔1971ء سے قبل چٹاگانگ میں بہت سے پنجابی احمدی اپنی نوکری اور کاروبار کے سلسلہ میں قیام کرتے تھے۔ مرحومہ پنجابی احمد ی خواتین کو بنگلہ زبان سکھاتیں اور وہ انہیں سلائی سکھایا کرتی تھیں۔ آپ کو جماعتی کتابیں پڑھنے کابے حد شوق تھا۔ آخری عمر میں جب پڑھ لکھ نہیں سکتی تھیں تودوسروں کو کہتی تھیں کہ پڑھ کےسنائیں۔ تعمیر مسجد کے لیے کئی بار اپنے زیورات پیش کیے۔ تبلیغ کا شوق جنون کی حد تک تھا اور بیعتیں کروانے کی بھی توفیق پائی۔ آپ کا گھر نماز سنٹر کے طورپر استعمال ہوتا تھا۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں پانچ بیٹے اور پانچ بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ مکرم فیروز عالم صاحب ( انچارج بنگلہ ڈیسک مرکزیہ یوکے) کی اہلیہ کی پھوپھی تھیں۔
اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔ آمین
ضض ضض