اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-10-31

نماز جنازہ حاضروغائب

سیّدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے15؍ جولائی 2024ء بروز سوموار 12بجے دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر درج ذیل مرحومین کی نماز جنازہ حاضر و غائب پڑھائی۔
نماز جناز ہ حاضر
مکرمہ ساجدہ کنول صاحبہ بنت مکرم مرز امحمد اصغر صاحب (جماعت برسٹل۔ یوکے)
4؍جولائی 2024ءکو 45 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ پابند صوم وصلوٰۃ، نیک سیرت، دیندار، خلافت سے گہری عقیدت رکھنے والی جماعت کی ایک فعال ممبر تھیں۔ آپ نے بطور صدر لجنہ اماءاللہ نیوپورٹ کے علاوہ مختلف عہدوں پر خدمت کی توفیق پائی۔ مسجد بیت الرحیم کارڈف کے لیے فنڈریزنگ کے لیے سٹال بھی لگاتی رہیں۔ آپ کا پردے کامعیار مثالی تھا۔ اپنی طویل بیماری کو بڑی ہمت اور صبر سے برداشت کیااور کبھی زبان پر شکوہ نہ لائیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ آپ کے بھائی مکرم مرزا محمد سہیل شہزاد صاحب جماعت برسٹل میں لوکل نائب صدر کے علاوہ مختلف عہدوں پر خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔
نماز جنازہ غائب
(1) مکرم سیٹھ محمد سلیم صاحب ابن مکرم اللہ بخش صاحب مرحوم(کنری ضلع عمر کوٹ سندھ)
29 مئی 2024ء کو تقریباً 88 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے ۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم نماز با جماعت اور تلاوت قرآن کریم کے پابند ،تہجد گزار،مہمان نواز ، اپنوں اور غیروں کے کام آنے والے ایک نیک اور مخلص انسان تھے۔ اپنے آموں کے باغ کی آمد میں سے دسواں حصہ بیوگان اور غریبوں میں تقسیم کرتے اور غریب رشتہ داروں کی بھی وقتاً فوقتاً مالی مدد کرتے تھے۔ قانونی معاملات میں بھی لوگوں کی مدد اور راہنمائی کیا کرتے تھے۔ خلافت سے گہرا عقیدت کا تعلق تھا اور افراد خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا احترام کرتے تھے۔ مقامی سطح پر سیکرٹری امور عامہ اور چند سال قاضی کے طور خدمت بجالاتے رہے۔ 1985ء میں کلمہ تحریک میں دیگرعہدیداروں کےساتھ تقریباً سوا مہینہ حیدرآباد جیل میں اسیر راہِ مولیٰ ر ہے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں تین بیٹیاں اور چھ بیٹے شامل ہیں۔ آپ مکرم نسیم احمد صاحب (کارکن مجلس انصار اللہ پاکستان ربوہ) کے والد تھے۔
(2) مکرمہ آسیہ ضیاء صاحبہ اہلیہ مکرم بشیر احمد ضیاء صاحب (آخن ۔ جرمنی)
9؍مئی 2024ء کو 78سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ صوم و صلوٰۃ کی پابند، اچھے اخلاق کی مالک ایک نیک مخلص خاتون تھیں، جماعتی پرگراموں میں حتی المقدور شامل ہونے کی کوشش کرتی تھیں۔ پسماندگان میں دو بیٹے شامل ہیں۔
(3) مکرم نصیر احمد ملک صاحب(آسٹریلیا)
13؍مئی 2024ءکو 85سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ جوانی سے ہی صوم و صلوٰۃ کے پابند اورتہجد گزار تھے۔ آپ کو مختلف حیثیتوں سے جماعت کی خدمت کی توفیق ملتی رہی۔ اسلام آباد پاکستان میں لمبا عرصہ سیکرٹری مال رہے۔ MTA کے آغاز سے ہی اپنے گھر میں ڈش لگوائی اور حلقہ کے احباب خطبات سننے آپ کے گھر آیا کرتے تھے۔ گھرآنے والے مہمانوں کی خدمت دلی خوشی سے کرتے۔ اپنا ہر کام خود ہاتھ سے کرنے کی عادت تھی۔ باوجود مالی فراخی کے انتہائی سادگی سے زندگی بسر کی۔ آخری عمر میں بیماری کی وجہ سے کئی سال بستر پہ گزارے اور تکلیف کے باوجود ملنے والوں سے ہمیشہ مسکرا کر ملتے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے تھے۔ مرحوم اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔ آپ مکرم ڈاکٹر عطاء الرحمٰن صاحب(صدر احمدیہ میڈیکل ایسوسی ایشن آسٹریلیا) کے خسر تھے۔
(4) مکرم صوبیدار ریٹائرڈمحمد رفیق خان صاحب ابن مکرم علی محمد خان صاحب(سسکاٹون کینیڈا)
26؍ جون2024ء کو89 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت ڈاکٹر فضل کریم صاحب رضی اللہ عنہ کے داماد تھے۔ آپ کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ آپ کے والد مکرم علی محمد خان صاحب کے ذریعہ ہوا۔ آپ کو چھوٹی عمر میں اپنے والد کے ہمراہ قادیان جاکر جلسہ سالانہ میں شمولیت کرنے اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی صحبت سے فیضیاب ہونے کا بھی موقع ملا۔ 1952ء میں یاری پورہ جموں کشمیر سے ہجرت کرکے پاکستان میں سکونت اختیار کی اور 32 سال تک دیانتداری سے فوج کی ملازمت کی اور ریٹائرمنٹ پر آپ کو خوشنودی کا سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا۔ 2013ء سے آپ جماعت سسکاٹون کے فعال رکن تھے۔ صوم وصلوٰۃ اور تلاوت قرآن کریم کے پابند، تہجد گزار، دعا گو، سادہ مزاج ،متوکل علی اللہ ، مہمان نواز، غریب پرور ، مخلوق خدا کے خیر خواہ ایک نیک اور مخلص انسان تھے۔ حضرت مسیح موعودؑ کی کتب پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ خلافت سے بے حد عقیدت رکھتے تھے اور بچوں کو بھی ہمیشہ خلافت سے بڑی مضبوطی سے جوڑے رکھا۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں ایک بیٹی اور چار بیٹے شامل ہیں۔ آپ مکرم محمد منور عابد صاحب (سابق صدر مجلس خدام الاحمدیہ جرمنی ) کے والد تھے۔
(5) مکرمہ محمدہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم شاہ الحمید صاحب (میلاپالیم۔ تامل ناڈو۔ انڈیا)
6؍مئی 2024ء کو68 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ نے 1992ء میں ایک خواب دیکھنے کے بعد بیعت کی سعادت حاصل کی۔ صوم وصلوٰۃ اور تلاوت قرآن کریم کی پابند،دعا گو ، خلافت کے ساتھ اخلاص کا تعلق رکھنے والی ،ایک اچھے اخلاق کی مالک نیک اور باوفا خاتون تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں دو بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ کے بیٹے مکرم ایس عبد القادر صاحب (مربی سلسلہ) آجکل ضلعی مبلغ انچارج کے طور پر اور آپ کی چھوٹی بیٹی مکرمہ فاطمہ غوثیہ صاحبہ اہلیہ مکرم ظفر اللہ سیٹھ صاحب صدر لجنہ اماء الله میلا پالیم کے طور پر خدمت کر رہی ہیں۔
(6) عزیزہ ملیحہ ایمان بنت مکرمہ ارم نصیر صاحبہ (دارالعلوم غربی حلقہ ثناء ربوہ )
14؍جون 2024ء کو 14 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پا گئی۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ عزیزہ وقف نو کی تحریک میں شامل تھی۔ جماعتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی اور اجتماعات میں باقاعدگی سے شامل ہوتی تھی۔ بہت ہی ہنس مکھ، زندہ دل ، محنتی، فرمانبردار ، ذمہ دار، کم گو اور اطا عت
گزار بچی تھی۔ پڑھائی میں دلچسپی لیتی، ہمیشہ وقت پر کام کرتی اور کوشش کرتی کہ اس کی وجہ سے کسی کو بھی کوئی پریشانی نہ ہو۔ کلاس فیلوز کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آتی تھی۔ دوستوں کی پڑھائی میں مدد بھی کیا کرتی تھی۔ اپنا وقت کبھی ضائع نہیں کرتی تھی۔ پسماندگان میں والدہ کے علاوہ ایک بھائی شامل ہیں۔ آپ مکرم رانا نعیم الدین صاحب مرحوم (اسیر راہ مولیٰ ) کی پڑ نواسی اور مکرم رانا وسیم احمد قمر صاحب ( کارکن دفتر پرائیویٹ سیکرٹری یوکے) کی بھانجی کی بیٹی تھی۔
اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔ آمین