سیّدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے13؍ جولائی 2024ء بروز ہفتہ 12بجے دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر درج ذیل مرحومین کی نماز جنازہ حاضر و غائب پڑھائی۔
نماز جناز ہ حاضر
(1) مکرم محمد اسلم صاحب (جماعت کلیپہم یوکے)
26؍ جون 2024ء کو 80 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم کا تعلق گوکھووال پاکستان سے تھا۔ چند سال جرمنی میں رہے پھر2011ء میں یوکے آگئے۔ آپ کو پاکستان میں مختلف عہدوں پر خدمت کرنے کا موقع ملا اوراسیر راہ مولیٰ ہونے کی بھی سعادت حاصل ہوئی۔ مرحوم صوم و صلوٰۃ کے پابند، ملنسار، مہمان نواز، خلافت کے ساتھ اخلاص و وفا کا تعلق رکھنے والے، دیندار،مخلص اور نیک انسان تھے۔
(2) مکرمہ عائشہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم جمال دین صاحب مرحوم (جماعت سٹیو نج۔ یو کے )
7؍جو لائی2024ء کو 86 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ کا تعلق پونچھ کشمیر سے تھا۔ آپ کے والد مکرم مختار احمد صاحب مرحوم نے اپنے بھائیوں کے ہمراہ قادیان جاکر احمدیت قبول کی اور اس کے بعد آپ کا ساراخاندان جماعت کے ساتھ ہمیشہ مضبوطی کے سا تھ وابستہ رہا۔ مرحومہ نے کوٹلی کشمیر اور پھر جھنگ میں صدر لجنہ کے علاوہ مختلف عہدوں پر خدمت کی توفیق پائی۔ مرحومہ کو چک 11 تھل بھراری میں ایک مسجد بنوانے کی بھی توفیق ملی۔ پاکستان میں جہاں بھی رہیں بچوں کو قرآن کریم پڑھانے کا موقع ملتا رہا۔ 2017ءسے آپ یو کے میں رہائش پذیر تھیں۔ مرحومہ صوم وصلوٰۃ کی پابند، تہجد گزار مہمان نواز ، خلافت کے ساتھ اخلاص و وفا کا تعلق رکھنے والی ایک نیک بزرگ خاتون تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں 3 بیٹے اور 2 بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ مکرم غلام مصطفیٰ جنجوعہ صاحب کی والدہ تھیں۔
نماز جنازہ غائب
(1) مکرم عبدالحمید صاحب ابن مکرم عبدالرشید صاحب(ربوہ)
14؍اپریل 2024ء کو ایک حادثہ میں وفا ت پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم نماز باجماعت کے پابند، چندوں میں باقاعدہ اور ہر قسم کی مالی قربانی کرنے والے ایک نیک اور مخلص انسان تھے۔ نظام جماعت کا بہت احترام کرتے۔ خلافت سے عشق و فدا ئیت کا گہرا تعلق تھا۔ کبھی کسی کام کو عار نہیں سمجھا۔ ایمانداری اور دیانتداری میں ایک مثالی نمونہ تھے۔ سادگی اور قناعت آپ کا خاص وصف تھا۔ غریبوں کے دکھ درد کو دور کرنے اور ان کی ممکن حد تک مدد کرنے والے تھے۔ واقفین زندگی اور مربیان کا بہت احترام کرتے تھے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ مکرم عبدالباسط احمدصاحب مربی سلسلہ طاہر فاؤنڈیشن ربوہ اور مکرم محمد عمیر محمود صاحب کارکن حفاظت مرکز کے والد تھے۔
(2) مکرمہ سلیم اختر صاحبہ اہلیہ مکرم محمد بشیر صاحب (کوٹلی کشمیر،حال مریدکے ضلع شیخوپورہ)
4؍مئی 2024ء کو 67سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ نے شادی کے بعد 1985ء میں بیعت کی ۔ مرحومہ صوم وصلوٰۃ اور تلاوت قرآن کریم کی پابند ، تہجد گزار،ہمدرد ، نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ جماعتی عہدیداروں ، مربیان اور معلمین کا بہت احترام کرتی تھیں۔ بیماری کا بڑے صبر و ہمت سے مقابلہ کیا اور ہر وقت خدا کا شکر ادا کرتی رہتی تھیں۔ پسماندگان میں میاں کے علاوہ چار بیٹے اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ کے چھوٹے بیٹے مکرم مامون احمد صاحب مربی سلسلہ ہیں اور آجکل کوٹ عبد المالک ضلع شیخوپورہ میں خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔
(3) مکرم کرنل نصیر الحق خان صاحب (لاہور)
11؍جون 2024ء کو 82 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پا گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ نے ٹی آئی کالج ربوہ سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایئر فورس کو بطور پائلٹ جوائن کیا۔ پھر فوج میں شمولیت اختیار کی اور باوقار طریق پر نوکری کی۔ فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد لاہور میں مختلف جماعتی اور تنظیمی عہدوں پر خدمت کی توفیق پائی۔ علاقہ لاہور میں خدمت کے دوران نگران ضلع اوکاڑہ کے طورپر بھی خدمت بجالاتے رہے۔28؍مئی 2010ء کے واقعہ کے بعد ضلعی سیکیورٹی کمیٹی کے فعال رکن بھی رہے اور مساجد اور جماعتوں کی سیکیورٹی کو بہتر بنانے میں اپنا بھر پور کردار ادا کیا۔ مرحوم صوم وصلوٰۃ کے پابند، شفیق، عاجز، خلافت کے ساتھ عشق کی حد تک محبت کرنے والے اور خلیفہ وقت کی ہر آواز پر لبیک کہنے والے ایک نافع الناس مخلص خادم سلسلہ تھے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔
(4) مکرمہ طاہرہ آغا صاحبہ اہلیہ مکرم آغا طاہر خان صاحب مرحوم (امریکہ)
یکم مئی 2024ء کو81سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ حضرت ڈاکٹر ملک عبداللہ صاحب رضی اللہ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پوتی اور ڈاکٹر ملک رحمت اللہ صاحب مرحوم آف قلعہ کالروالا کی بیٹی تھیں۔ سادہ مزاج اور رحم دل خاتون تھیں اور ہر ایک سے ہمدردی سے پیش آتی تھیں۔ خلافت اور جماعت سے بہت عشق کا تعلق تھا۔ چندہ جات کی ادائیگی میں پہل کرتیں اور بروقت ادائیگی کرتی تھیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کی کتب کے مطالعہ کا بہت شوق تھا اور بچوں کو بھی اس کی تلقین کرتی تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں2 بیٹیاں اور 3 بیٹے شامل ہیں۔ مرحومہ کے ایک بیٹے آغا عثمان خان صاحب امریکہ میں وکالت تصنیف یوکے کی ٹیم کے ساتھ رضا کارانہ طور پر خدمت بجا لارہے ہیں۔
(5) مکرمہ طاہرہ ظہیر صاحبہ اہلیہ مکرم ظہیر احمد صاحب(جرمنی)
27؍مئی 2024ء کو بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔نظام جماعت سے بہت اچھا تعلق تھا اور چندہ جات با قاعدگی سے ادا کیا کرتی تھیں۔ صوم وصلوٰۃ کی پابند ، دعا گو، ہمدرد،ملنسار ، اچھے اخلاق کی مالک ایک نیک مخلص خاتون تھیں۔ پردے کی بڑی پابندی کیا کرتی تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں ایک بیٹا اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ کی تینوں بیٹیاں لجنہ کی لوکل عاملہ میں خدمت کی توفیق پارہی ہیں۔
(6) مکرم ڈاکٹر محمد اسلم ناصر صاحب (آسٹریلیا) ابن مکرم محمد اسحاق انور صاحب مرحوم ( واقف زندگی)
30؍مارچ2024 کو بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم کے دادا حضرت میاں فضل کریم صاحب رضی اللہ عنہ (آف گوجرانوالہ) اور نانا حضرت حکیم مولوی نظام الدین صاحب رضی اللہ عنہ (مربی جموں کشمیر ) دونوں
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ میں سے تھے۔ مرحوم پاکستان سے ایم ایس سی تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد حضرت خلیفۃالمسیح الثالث رحمہ اللہ کی منظوری سے 1979ء میں مجلس نصرت جہاں کے تحت گھانا چلے گئے۔ فروری 1982ء میں گھانا سے واپسی پر آپ کی شادی ہوئی۔ اس کے بعد نیوزی لینڈ چلےگئے اوروہاں آپ کو پی ایچ ڈی کرنے کی توفیق ملی۔ 1985ء میں جب آپ Wellington میں تھے تو حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے آپ کو کچھ عرصہ کے لیے امیر بھی مقرر فرمایا تھا۔ پھر اسی سال کینیا چلے گئے اور وہاں دو یونیورسٹیوں میں تدریس کے فرائض سر انجام دئے۔ امریکہ قیام کے دوران بھی شاندار خدمت کی توفیق پائی۔ ضرورت مندوں کی مدد کرنے والے ہمدرد انسان تھے۔ اپنے اور پرائے ہم مذہب یا غیرمذہب سب کے ساتھ آپ کا معاملہ نہایت پیار والاتھا۔ امانت، دیانت، قناعت اور خود داری ان کے نمایاں اوصاف تھے۔ جماعتی کاموں کے لیے ہر وقت مستعد رہتے۔ قرآن کریم سے عشق تھا۔ بچوں کو امام وقت سے تعلق کی تلقین کرتے۔ چندہ جات کی ادائیگی میں بہت مستقل مزاج تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹی اور دو بیٹے شامل ہیں۔
اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔ آمین
ضض ضض