سیّدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے02؍ جولائی 2024ء بروز منگل 12بجے دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر درج ذیل مرحومین کی نماز جنازہ حاضر و غائب پڑھائی۔
نماز جناز ہ حاضر
محتر مہ زینب بی بی صاحبہ اہلیہ مکرم رائے محمد حیات صاحب مرحوم (جماعت ا یپسم یو کے)
27؍جون 2024ء کو 68 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔مرحومہ نماز اورروزہ کی پابند، ملنسار، مہمان نواز، غریب پرور،خلافت کے ساتھ اخلاص و وفا کا تعلق رکھنے والی، نیک، دینداربزرگ خاتون تھیں۔ بچوں کو بھی ہمیشہ خلافت سے عقیدت اورمحبت کی تلقین کیا کرتی تھیں۔ ربوہ میں قیام کے دوران مقامی سطح پر سیکرٹری خدمت خلق کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں ایک بیٹا اور 2 بیٹیاں شامل ہیں۔ مرحومہ مکرم منصور احمد ضیاء صاحب (مربی سلسلہ و استاد جامعہ احمدیہ یو کے) کی خوش دامن تھیں۔
نماز جناز ہ غائب
(1) مکرمہ ساجدہ پروین صاحبہ(جرمنی)
20؍فروری 2024ء کو بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔مرحومہ نے چھ سال لوکل اور دو سال ریجنل صدر لجنہ کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ شعبہ ضیافت کی بھی دیرینہ کارکن تھیں۔ گذشتہ سال جلسہ سالانہ کے موقع پر بطور ناظمہ خدمت بجالاتی رہیں۔ مرحومہ صوم و صلوٰۃ کی پابند، خوش اخلاق، ملنسار، پردہ کی پابند، دیندار اور مخلص خاتون تھیں۔ مرحومہ کا نظام جماعت سے اچھا تعلق تھا اور ایک فعال ممبر تھیں۔مرحومہ موصیہ تھیں۔پسماندگان میں شوہر کے علاوہ ایک بیٹی اوردو بیٹے شامل ہیں۔ ان کے بڑے بیٹے لو کل جماعت میں بطور سیکرٹری تربیت خدمت بجا لا رہے ہیں جبکہ چھوٹے بیٹے جماعتی رفاہی ادارہ النصرت میں کارکن ہیں۔ مرحومہ مکرم مولوی عبدالحق نور صاحب شہید کی پوتی اور مکرم بشیر احمد ریحان صاحب( صدر مجلس انصار الله جرمنی) کی چچازاد بہن تھیں۔
(2)مکرمہ بشریٰ بیگم شيخ جمن صاحبہ اہلیہ مکرم نصيرالدين شيخ جمن صاحب (ماریشس)
27؍جنوری 2024ءکو 64 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔مرحومہ نمازوں کی پابند، تہجد گزار،روزانہ باقاعدگی سے تلاوت قرآن کریم کرنے والی، مہمان نواز،غریب پرور، قربانی کے جذبہ سے سر شار، خلافت سے ہمیشہ وفا کا تعلق رکھنے والی ایک نیک مخلص خاتون تھیں۔ لازمی چندوں میں باقاعدہ اور مختلف مالی تحریکات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھیں۔مربیان اور واقفین زندگی کا بہت احترام کرتی تھیں۔ لوکل سطح پر شعبہ خدمت خلق میں خدمت کی توفیق پائی۔مرحومہ موصیہ تھیں۔پسماندگان میں میاں کے علاوہ دو بیٹیاں اور دو بیٹے شامل ہیں۔آپ مکرم عديل عطاءالشيخ جمن صاحب ( واقف زندگی ماریشس )کی والدہ تھیں۔
(3)مکر م ڈاکٹر سردار ظہیر الدین بابر صاحب ابن سردار مجید الدین صاحب ( ہومیو ڈاکٹر و آنریری کارکن مجلس انصاراللہ پاکستان۔ربوہ)
9؍مئی 2024ءکو بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم صوم وصلوٰۃ کے پابند، ایک نیک مخلص اور باوفا انسان تھے۔ آپ نے عملا ًاپنی زندگی جماعت کے لیے وقف کی ہوئی تھی۔ آپ نے لمبا عرصہ مجلس انصار اللہ پاکستان کے زیر انتظام ملک کے طول و عرض میں حسب ہدایت اپنی ٹیم کے ساتھ کئی کئی روز مستقل سفر کرتے ہوئے خلق خدا کو آرام پہنچانے کی خاطر میڈیکل کیمپ لگائے اور ہزاروں مریض آپ کے علاج سے شفا پاتے رہے۔ علاوہ ازیں آپ کے جاننے والے احباب و خواتین بذریعہ موبائل فون اپنے علاج کے سلسلہ میں آپ سے راہنمائی لے کر اپنے قرب وجوار کے میڈیکل سٹورز سے دوائی لے کر فیض یاب ہوتے رہے۔شدید مخالفت کے باوجودایک بڑی تعداد میں غیر از جماعت احباب بھی آپ سے فری علاج کروانے آیا کرتے تھے۔ آپ نے اپنے آبائی شہر اوکاڑہ میں ایک لمبا عرصہ فری ڈسپنسری کا قیام کیے رکھا جو بعد ازاں آپ کی رہائش کے ساتھ ساتھ منتقل ہوتی رہی جو لاہور اور پھر ربوہ میں آج بھی اپنے بھرپور انداز میں رواں دواں ہے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بہنیں اور دو بھائی شامل ہیں۔ آپ مکرم سردار نصیر الدین ہمایوں صاحب (کارکن حفاظت خاص یوکے) کے بھائی تھے۔
(4)مکرم میاں نصیر احمد بانی صاحب(کلکتہ صوبہ بنگال۔انڈیا)
20؍جنوری 2024ء کو 90سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم کا تعلق پرانے مخلص احمدی خاندان سے تھا اورآپ مکرم سیٹھ محمد صدیق احمد بانی صاحب آف کلکتہ بنگال کے بیٹے تھے۔ مرحوم جماعت کے ساتھ اخلاص و وفا کاتعلق رکھنے والے بہت دیندار اور نیک انسان تھے۔ جب تک صحت رہی باقاعدہ جماعتی پروگراموں، جلسوں اور اجلاسات میں شرکت کرتے رہے۔آپ نے قرآن شریف کے دس پارے حفظ کیے ہوئے تھےاور مسلسل کئی سال رمضان میں تراویح بھی پڑھاتےرہے۔ چندہ جات با قاعدگی کے ساتھ ادا کیا کرتے تھے۔ اسی طرح غرباء کی امداد میں دل کھول کر حصہ لیتے اور بغیر کسی نمود کے بہت سارے احمدی گھرانوں کے وظائف جاری کیے ہوئے تھے۔ آپ سیکرٹری وصایا، سیکرٹری امور عامہ اور آڈیٹر کے عہدوں پر خدمات بجالاتے رہے۔مرحوم اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔ پسماندگان میں ایک بیٹا اور چار بیٹیاں ہیں۔ آپ مکرم شریف احمد بانی صاحب( آف کراچی) کے بڑے بھائی تھے۔
(5)مکرمہ شریفا بی بی صاحبہ اہلیہ مکرم محمد یاسین صاحب آف کر ڈا پلی ضلع کٹک صوبہ اوڈیشہ۔ انڈیا
12؍فروری 2024ء کو 96 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ پنجگانہ نمازوں کے علاوہ نماز تہجد اور نوافل کی ادائیگی کی پابندی کیا کرتی تھیں۔ صاف گو، با پردہ، غریب پرور اور نیک خاتون تھیں۔ مرحومہ نائب صدر لجنہ اماء اللہ کرڈا پلی اور سیکرٹری تعلیم کے عہدوں پر خدمت بجالاتی رہیں۔ بہت سے بچے اور بچیوں کو قرآن شریف بھی پڑھایا۔مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں ایک بیٹی اور تین بیٹے شامل ہیں۔ مرحومہ کے پوتوں اور نواسوں میں دو مربی اور ایک معلم ہیں۔
(6)مکرم غلام مرتضیٰ صاحب ابن مکرم غلام احمد صاحب (61 ر۔ب بیدیا نوالہ ضلع فیصل آباد )
26 مئی 2024ء کوبقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کے خاندان میں احمدیت آپ کے دادا مکرم چودھری کریم داد صاحب کے ذریعہ آئی جو قادیان کے قریب سٹھیالی گاؤں کے رہنے والے تھے۔ انہوں نے خلافت ثانیہ کے دور میں 1915ء میں بیعت کی سعادت حاصل کی۔ مرحوم مکرم چودھری عبدالرحیم صاحب شہید جماعت موسیٰ والا ضلع سیالکوٹ کے داماد تھے۔ مرحوم صوم وصلوٰۃ اور تلاوت قرآن کےپابند، مہمان نواز، خدمت خلق کے جذبہ سے سرشار، خلافت کے فدائی ایک نیک اور مخلص انسان تھے۔ جماعتی نمائندگان اور مربیان کا بہت احترام کرتے تھے۔ چندوں میں باقاعدہ اوردیگر مالی تحریکات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے اور بچوں کو بھی ہمیشہ اس کی تلقین کرتے تھے۔پولیس کے محکمہ میں ملازم رہے۔ بعد میں اپنے گاؤںمیں ہی اپنی زمینوں کا کام سنبھال لیا اور خدمت دین میں مصروف ہو گئے۔ آپ نے اپنی جماعت میں صدر جماعت، سیکرٹری مال اور امیر حلقہ کے طور پر خدمت کی توفیق پا ئی۔مرحوم اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔ پسماندگان میں 2 بیٹیاں اور 3 بیٹے شامل ہیں۔ آپ کے ایک بیٹے مکرم عامر شہزاد صاحب اس وقت صدر جماعت چیک نمبر 61۔ ر۔ب۔ بیدیانوالہ ضلع فیصل آباد کے طورپر خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔
(7)مکرم مولوی ٹی ایم محمد صاحب ریٹائر ڈ مربی سلسلہ ( چیلا کرہ کیرلہ۔انڈیا)
15؍اپریل 2024ء کو64 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم کے دادا مکرم حسن گئی صاحب چیلا کرہ کے سب سے پہلے احمدی تھے۔ مرحوم نے میٹرک کرنے کے بعد 1976ء میں جامعہ احمدیہ قادیان میں داخلہ لیا اور 1983ء میں فارغ التحصیل ہوئے اور 1983ء سے لےکر 2020ء تک 37 سال کیرلہ کی مختلف جماعتوں میں انتہائی اخلاص ووفا اور محنت سے خدمت کی توفیق پائی۔ جہاں بھی متعین رہے وہاں بچے بچیوں کو بڑے ذوق وشوق سے قرآن مجید پڑھاتے۔ آپ کے اندر تبلیغ کا ایک خاص جنون تھااورکئی جگہوں پر اکیلے ہی تبلیغ کے لیے نکل جاتے تھے۔ نماز تہجد اور پنجگانہ نماز کے ہمیشہ پابند ر ہے اور اپنے بچوں کو بھی اس کی تلقین کرتے تھے۔ دعا گو او ر متوکل علی اللہ انسان تھے۔مہمان نوازی کا وصف آپ میں بہت نمایاں تھا۔ خلافت کے ساتھ فدائیت کا گہرا تعلق تھا۔ مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ 4 بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ کے ایک داماد مکرم مولوی ایس شفیق احمد صاحب بطور انچارج مبلغ ضلع کولم کیرلہ میں خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔
(8) مکرم مقیت اللہ بھروانہ صاحب(چنڈ بھروانہ۔ ضلع جھنگ)
4؍ مئی 2024ء کو ایک حادثہ میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ نماز با جماعت کا خاص اہتمام کرتے۔ فجر کی نماز کے بعد ہمیشہ مسجد میں قرآن کریم کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ رمضان کا خاص اہتمام کر تے اور گرمی کی شدت کے باوجود ہمیشہ رمضان کے تمام روزے رکھتے۔ بہت مہمان نواز اور مخلص انسان تھے۔ اپنے علاقہ میں اچھے اخلاق کی وجہ سے کافی شہرت رکھتے تھے۔آپ کے جنازہ اور تدفین میں سینکڑوں غیر از جماعت افراد نے بھی شرکت کی۔ پسماندگان میں والدہ اور اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا اور دوبیٹیاں شامل ہیں۔ آپ مکرم حفیظ اللہ بھروانہ صاحب (مربی سلسلہ واستاد جامعہ احمدیہ جرمنی )کے چھوٹے بھائی تھے۔
اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین
ضض ضض