سیّدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے29؍ جون 2024ء بروز ہفتہ 12بجے دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر درج ذیل مرحومین کی نماز جنازہ حاضر و غائب پڑھائی۔
نماز جناز ہ حاضر
مکرمہ ثمینہ ریاض صاحبہ اہلیہ مکرم ریاض احمد صاحب (جماعت Wandsworth۔یوکے)
25؍جون کو 58 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ صوم و صلوٰۃ کی پابند، تہجد گزار، غریب پرور، صدقہ و خیرات کرنے والی ایک نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ خلافت کے ساتھ گہرا وفا کا تعلق تھا۔ آپ نے 2006ء سے 2022ء تک با قاعدگی کے ساتھ ضیافت کی ڈیوٹی کرنے کی توفیق پائی۔ مرحومہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصیہ تھیں۔پسماندگان میں میاں کے علاوہ ایک بیٹا اورتین بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ کے میاں جماعت وانڈزورتھ میں بطورسیکر ٹری ضیافت خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔
نماز جناز ہ غائب
(1)مکرم مرزا ہارون علی صاحب (ورجینیا۔ امریکہ)
2؍اپریل 2024ء کو79سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پا گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت مرزا صالح علی صاحب رضی اللہ عنہ کے بیٹے تھے۔ مرحوم نے عزیز آباد کراچی میں مختلف حیثیتوں میں خدمت کی توفیق پائی۔ 1992ء میں امریکہ شفٹ ہونے پر لمبا عرصہ جماعت ورجینیا کے شعبہ مال سےمنسلک رہے۔ صوم وصلوٰۃ اور تلاوت قرآن کریم کے پابند، تہجد گزار، ہمدرد، منکسرالمزاج،ملنسار، مخلص اور باوفاانسا ن تھے۔ مرحوم اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔آپ کی کوئی اولاد نہیں تھی۔
(2)مکرمہ خورشید عطاء صاحبہ اہلیہ مکرم مرزا عطاء الرحمان صاحب (ٹورانٹو۔کینیڈا)
2؍ مئی 2024ء کو91سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پا گئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت مرزا صالح علی صاحب رضی اللہ عنہ کی بیٹی تھیں۔ مرحومہ والدین کے ہمراہ قادیان سے ربوہ آئیں۔ آپ نے سائیکالوجی میں ماسٹرز کیا ہواتھا۔ شادی کے بعد کراچی میں لمبا عرصہ لجنہ اماء للہ کے متعدد عہدوں پر خدمت کی توفیق پائی اور کراچی میں لجنہ کے لیے درسوں کا اہتمام بھی کرتی رہیں۔ مجلس شوریٰ کی ممبر بھی رہیں۔ خدمت دین کے ساتھ خدمت انسانیت کی بھی بھرپور توفیق پائی۔ آپ ایک اچھی مضمون نگار بھی تھیں اور آپ کے کئی مضامین رسالہ مصباح اور النساءمیں شائع ہوئے۔ آپ نے واقفین نو کے والدین کے لیے ایک کتاب بھی تصنیف کی۔ ہومیوپیتھی کاعلم بھی رکھتی تھیں۔ رشتہ ناطہ اور میریج کاؤنسلنگ کی خدمات بھی بڑی عمدگی سے ادا کرتی رہیں۔ کینیڈاآنے کے بعد ٹورانٹو ایسٹ کی صدر لجنہ کی خدمت کے علاوہ آپ کو نیشنل عاملہ کی اعزازی رکنیت حاصل رہی۔ آپ نے اور آپ کے میاں نے کینیڈا آکر مستحق طلبہ کے لیے ’’خورشید عطاء سکالر شپ‘‘ کا اجراء بھی کیا۔
(3)مکرم میجر ریٹائرڈ مبشر احمد صاحب ابن مکرم چودھری امام علی سد ھو صاحب (بہاولپور)
5؍اپریل 2024ء کو 81سال کی عمر میں ایک حادثہ میں وفات پاگئے۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت چودھری علی احمد صاحب رضی اللہ عنہ آف چک99 شمالی سرگودھا کے نواسے تھے۔ ابتدائی تعلیم سرگودھا سے حاصل کی اور پھر تعلیم الاسلام کالج ربوہ سے بی اے کیا۔ 1965ء میں پاک آرمی میں کمیشن حاصل کیا۔ مرحوم صوم صلوٰۃ اور تلاوت قرآن کریم کے پابند، خلافت کے عاشق اور مالی قربانی میں پیش پیش ایک مخلص اور فدائی احمدی تھے۔ عہدیداران اور واقفین زندگی کا بہت احترام کرتے تھے۔ مرحوم کو سیکرٹری رشتہ ناطہ، سیکرٹری جائیداد، سیکرٹری امور عامہ ضلع بہاولپور کے علاوہ سیکرٹری اصلاح وارشاد بہاولپور شہر کے طورپر بھی خدمت کی توفیق ملی۔ 1989ء میں میڈیکل کیمپ لگانے کی وجہ سے آپ پر مقدمہ بھی ہوا اور اسیر راہ مولیٰ رہنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔
(4)مکرمہ رضیہ سلطانہ صاحبہ اہلیہ مکرم چودھری حمید اللہ صاحب مرحوم( نبی سر روڈ ضلع عمر کوٹ سندھ)
12؍ اپریل 2024ء کو بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت عبد اللہ سنوری صاحب رضی اللہ عنہ کی پڑ نواسی تھیں۔مرحومہ صوم وصلوٰۃ کی پابند،خوش اخلاق، غریبوں کی ہمدرد اور خلافت سے پیار کرنے والی ایک نیک اور مخلص خاتون تھیں۔آپ نے حلقہ کی صدر لجنہ کے علاوہ کئی عہدوں پر جماعتی خدمات سر انجام دیں۔ سکولوں کے مینجمنٹ بورڈ کی بھی لمبے عرصہ تک ممبر رہیں۔ پسماندگان میں 2 بیٹیاں اور 6بیٹے شامل ہیں۔آپ کے سب سے بڑے بیٹے مکرم ڈاکٹر نصراللہ حمید صاحب واقف زندگی ڈاکٹر ہیں اور آجکل سیرالیون، افریقہ میں خدمت کی توفیق پارہے ہیں اور سب سے چھوٹے بیٹے مکرم لئیق احمد شاہد صاحب مربی سلسلہ ہیں اور آجکل نظارت امور عامہ ربوہ میں خدمت کی سعادت پا رہے ہیں۔
(5)مکرمہ صفیہ خواجہ صاحبہ اہلیہ مکرم عبد الکریم خواجہ صاحب( جماعت ریڈ برج یو کے )
22؍اپریل2024ء کو77 سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ مکرم محمد اصغرلون صاحب (آف ایسٹ افریقہ) کی بیٹی تھی۔ 1965ء میں ہجرت کرکے یوکے آئیں۔ مرحومہ کا ابتدا سے ہی جماعت کے سا تھ پختہ تعلق تھا جس کو آخری دم تک قائم رکھا۔ اپنے ریجن میں سیکرٹری ضیافت کے طور پر خدمت کرنے کا موقع ملتا رہا۔ مہمانوں کی تواضع بڑے شوق سے کرتیں۔ مرحومہ نماز اورروزہ کی پابند ایک نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ پسماندگان میں شوہر کے علاوہ ایک بیٹا اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ مکرم سلطان لون صاحب ( نیشنل سیکرٹری مال جماعت یو کے) کی خالہ اور مکرم عکاشہ بدر صاحب( نائب صدر انصار اللہ یوکے) کی خوش دامن تھیں۔
(6)مکرمہ امۃ القیوم صاحبہ اہلیہ مکرم محمود احمد بشیر صاحب (پرلی۔یوکے)
28؍ اپریل 2024ءکو 85 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت مولوی دلپذیر صاحب رضی اللہ عنہ کی پوتی، مکرم ڈاکٹر فضل حق صاحب آف ربوہ کی بیٹی اور مکرم ڈاکٹر شمس الحق طیب صاحب شہید کی بڑی بہن تھیں۔آپ کے شوہر مکرم محمود احمد بشیر صاحب نے بعد از ریٹائر منٹ وقف کیا تھا اور وکالت تبشیر لندن میں خدمت کی توفیق پائی۔ مرحومہ کو کئی سال تک مسجد فضل کی ضیافت ٹیم کے علاوہ جلسہ سالانہ پر بطور ناظمہ شعبہ ضیافت خدمت کی توفیق ملی۔ مرحومہ صوم و صلوٰۃ کی پابند، خدمت کے جذبہ سے سرشار، چندوں میں باقاعدہ، خلافت کے ساتھ اخلاص کا تعلق رکھنے والی ایک نیک بزرگ خاتون تھیں۔ پسماندگان میں 3 بیٹے شامل ہیں۔ آپ کے بیٹے مکرم مسعود احمد بشیر صاحب مقامی سطح پر صدر جماعت کے طورپر خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔
(7)مکرمہ بشریٰ کشور چغتائی صاحبہ اہلیہ مکرم عبد الواسع آدم چغتائی صاحب(برمنگھم۔یوکے)
30؍اپریل 2024ء کو 86 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت محمد سعيد سعدی صاحب رضی الله عنہ کی بیٹی،حضرت حکیم محمد حسین صاحب مرہم عیسی رضی اللہ عنہ کی بہو اور بھتیجی اور حضرت میاں چراغ دین صاحب رضی اللہ عنہ کی پوتی تھیں۔ مرحومہ نے ہمیشہ بہت سادہ اور انکساری سے زندگی گزاری۔ اردو اور پولیٹکس میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ آپ کو برمنگھم میں پہلی صدر لجنہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ آپ کا گھر نماز سینٹر کے طور پر بھی استعمال ہوتا رہا۔ چند سال پرائمری سکول اور پھر سیکنڈری سکول میں اردو زبان پڑھاتی رہیں۔اس دوران انہوں نے اردو نصاب کے متعلق کچھ کتابیں بھی تصنیف کیں۔ ا س کے ساتھ ساتھ آپ نے مقامی کمیونٹی کے ہر مذہب اور نسل کے لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کیا۔ ایشین آرٹ اینڈ کلچر کے نام پر لاتعداد پروگراموں میں حصہ لیا۔ نمازوں کی پابند،ایک مضبوط عزم وہمت کی مالک،نرم دل،صابرہ وشاکرہ مخلص اور نیک خاتون تھیں۔ پسماندگان میں دو بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔
(8) مکرمہ طاہرہ پروین صاحبہ اہلیہ محمد جاوید ملہی صاحب ( نیوزی لینڈ)
24؍مارچ 2024ء کو56 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کے خاندان میں احمدیت خلافت ثانیہ میں ان کے دادا مکرم چودھری محمد دین صاحب کے ذریعہ آئی۔ مرحومہ صوم و صلوٰۃ کی پابند، ملنسار، مہما ن نو از،مخلص اور باوفاخاتون تھیں۔ خلافت سے بے پناہ عقیدت کا تعلق تھا اور اپنی اولاد کو بھی خلافت سے وابستہ رکھنے کی کوشش کرتی رہتی تھیں۔ 2009ءمیں جب آپ کے میاں اسیر راہ مولا تھے تو آپ نے بڑی استقامت کے ساتھ وقت گزارا اور ایک بار بھی شکوہ زبان پر نہ لائیں۔ جب آپ کی شادی ہوئی تو اس وقت آ پ کے گاؤں تلواڑہ ملیاں میں ابھی ڈش نہیں لگی تھی۔مرکز سے آنے والے ایک نمائندہ نے کہا کہ اگر آپ ڈش نہیں لگواسکتے تو مرکز لگوا دیتا ہے تو اس پر آپ نے انہیں کہا کہ ہم خود لگوالیں گے اور پھر سلامیوں کی ساری رقم دے کر اپنے گاؤں میں ڈش لگوائی۔ مرحومہ اللہ کے فضل سے موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں میاں کے علاوہ ایک بیٹا اور ایک بیٹی شامل ہیں۔
اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین
ضض ضض