سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مورخہ 13؍جنوری 2024ء بروزہفتہ12بجے دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکردرج ذیل مرحومین کی نمازجنازہ حاضر وغائب پڑھائی۔
نماز جنازہ حاضر
٭مکرمہ صفیہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم چودھری ناصر احمد سراء صاحب (روہیمپٹن،یو.کے)
یکم جنوری 2024ء کو78 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ مکرم محمد اعظم صاحب مرحوم کارکن ایم این سنڈیکیٹ ربوہ کی بیٹی تھیں۔ آپ کو شریف آباد اسٹیٹ سندھ میں لمبا عرصہ تک بطور صدر لجنہ خدمت کی توفیق ملی۔ اسکے علاوہ سندھ میں بچوں کو قر آن کریم ناظرہ اور باترجمہ بھی پڑھاتی رہیں۔ مرحومہ نماز اور روزہ کی پابند،تہجد گزار، غرباء کا خیال رکھنے والی اور خلافت کے ساتھ اخلاص و وفا کا تعلق رکھنے والی، نیک، دیندار بزرگ خاتون تھیں۔ جب تک صحت اجازت دیتی رہی با قاعدہ مسجد فضل(لندن) نماز کیلئے آیا کرتی تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں میاں کے علاوہ دو بیٹیاں اور پانچ بیٹے شامل ہیں۔
نماز جنازہ غائب
(1)مکرم عارف احمد قریشی صاحب(حیدرآباد دکن)
15؍دسمبر2023ءکو 73سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ 1973ء سے1990ء تک 17سال سعودی عرب میں رہے جہاں آپ نے سات بارحج کی سعادت پائی۔ سعودی عرب میں اپنے دَور کے ابتدائی سالوں میں انہیں خانہ کعبہ میں داخل ہوکر نوافل پڑھنے کا بھی موقع ملا۔ آپ جماعت طائف کے بانی اراکین میں سے تھے اور صدر جماعت طائف کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ 1991ء میں ہندوستان واپس آنے کے بعد 10 سال تک امیر جماعت کی حیثیت سے خدمت بجالاتے رہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء کی کتب کا گہرا مطالعہ تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بےپناہ عشق تھا اور خاندان حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کا بہت احترام کرتے تھے۔ واقفین زندگی سے بہت شفقت اور عزت سے پیش آتے اور ان کی ذاتی ضروریات کا خیال رکھاکرتے تھے۔ مرحوم صوم وصلوٰۃ کے پابند، خلافت سے اخلاص ووفا کا تعلق رکھنے والے بہت بہادر اور نڈر انسان تھے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ تین بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ مکرم عرفان احمد قریشی صاحب ( نیشنل سیکرٹری جائیداد یو.کے) کے والد تھے۔
(2)مکرم گلزار احمد اٹھوال صاحب(یو.کے)
23؍مارچ2023ء کو ربوہ میں بقضائے الٰہی وفات پا گئے۔ اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کے خاندان میں احمدیت1914ء میں آئی تھی۔ مرحوم صوم صلوٰۃ کے پابند،تہجد گزار، نظام جماعت اور خلافت کے اطاعت گزار، بہت نیک اور مخلص انسان تھے۔آپ کامیاب داعی الی اللہ بھی تھے۔مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹے شامل ہیں۔آپ کے نواسے مکرم یاسر مشہود احمد اٹھوال صاحب مجلس خدام الاحمدیہ برطانیہ کے شعبہ عمومی میں خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔
(3)مکرم داؤد احمد گجراتی صاحب ابن مکرم چودھری ظہور احمد صاحب گجراتی درویش قادیان
10؍اکتوبر2023ء کو 54 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم بہت متقی، پرہیز گار، خاموش طبع، ہر ایک کے کام آنے والےایک مخلص اور نافع الناس وجود تھے۔ مرحوم آخر دم تک قادیان کے مختلف دفاتر میں خدمت کی توفیق پاتے رہے۔ آپ واقف زندگی تو نہ تھے لیکن اپنی ساری زندگی ہی دینی کاموں میں بسر کی۔ مرحوم اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ مکرم مظفر احمد قادیانی صاحب (نیشنل سیکرٹری ضیافت جاپان) کے چھوٹے بھائی تھے۔
(4)مکرمہ محمودہ بشریٰ صاحبہ
اہلیہ مکرم چودھری احسان الرحمٰن صاحب ( ربوہ )
16؍دسمبر2023ء کو81سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ صوم و صلوٰۃ کی پابند، خوش اخلاق، بڑی دلیر اور سلسلہ کیلئے غیر ت رکھنے والی ایک مخلص خاتون تھیں۔مرحومہ اللہ کے فضل سے موصیہ تھیں۔
(5)مکرمہ پروین لطیف پراچہ صاحبہ
اہلیہ مکرم عبد اللطیف پراچہ صاحب مرحوم( کینیڈا)
27؍اکتوبر2023ء کو ٹورانٹو میں86 سال کی عمر میں وفات پا گئیں۔ اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ بھیرہ اور سرگودھا میں سکونت اختیار کرنے کے بعد دس سال سے کینیڈا میں مقیم تھیں۔ مرحومہ نمازوں کی پابند نیک مخلص اور باوفا خاتون تھیں۔ مرحومہ کو ایک لمبا عرصہ بطور سیکر ٹری ضیافت لجنہ اماء اللہ سرگودھا کے طور پر خدمت کی توفیق ملی۔ آپ مکرم عامر لطیف پر اچہ صاحب شہید لاہور کی والدہ تھیں۔
(6)مکرم مبارک احمد مبشر صاحب
ابن مکرم حافظ ملک شفیق احمد صاحب ( ربوہ )
یکم دسمبر2023ء کو37سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم تحریک وقف نو میں شامل تھے اور اپنے اخلاق کی وجہ سے بہت ہر دلعزیز تھے۔ باپ کے چھوٹی عمر میں وفات پانے کے بعد گھر کی تمام ذمہ داریوں میں والدہ کا ہاتھ بٹاتے رہے۔ پسماندگان میں والدہ اور اہلیہ کے علاوہ سات سالہ بچی شامل ہے۔
اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین۔
…٭…٭…٭…