سیّدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے 4؍جنوری 2024ء بروز جمعرات 12 بجے دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر درج ذیل مرحومین کی نماز جنازہ حاضر وغائب پڑھائی۔
نماز جنازہ حاضر
٭مکرم سید ناصر احمد شاہ گیلانی صاحب
( لندن،یو.کے)
29؍دسمبر2023ء کو88 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت سید محمد علی شاہ گیلانی صاحب رضی اللہ عنہ کے بیٹے تھے۔ مرحوم بہت مضبوط ایمان کے مالک تھے۔ کوئٹہ میں رہائش کے دوران مخالفت کے باوجود اپنا گھر بطور نماز سینٹر وقف کیے رکھا جہاں حضورانور کا خطبہ جمعہ بھی باقاعدہ دیکھا اورسنا جاتا تھا۔مرحوم صوم وصلوٰۃ کے پابند، غریب پرور اور خلافت کے ساتھ اخلاص ووفا کا تعلق رکھنے والے ایک نیک دیندار انسان تھے۔ پسماندگان میں 2بیویوں کے علاوہ8 بیٹے اور4 بیٹیاں اور بہت سے پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں شامل ہیں۔
نماز جنازہ غائب
(1)مکرم حمید احمد چودھری صاحب (کینیڈا)
11؍اگست 2023ء کو 83سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم نماز اور روزہ کے پابند، لوگوں کے ساتھ انتہائی پیار و محبت سے ملنے والے، خوش گفتار اور خلافت کے ساتھ اخلاص و وفا کا تعلق رکھنے والے انتہائی نیک، دیندار اورمخلص انسان تھے۔ بچوں کو بھی ہمیشہ خلافت کے ساتھ مضبوط تعلق قائم رکھنے کی نصیحت کیا کرتے تھے۔ 15سال تک فیصل آباد میں حلقہ کے صدر اور قاضی کے عہدے پر خدمت بجالاتے رہے۔ حضورانور کاخطبہ جمعہ باقاعدگی سے سنا کرتے تھے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں ان کی اہلیہ اور ۷ بچے شامل ہیں۔
(2)مکرم محمد امین خان صاحب (برمنگھم،یو.کے)
28؍نومبر 2023ء کو101 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم کے نانا حضرت مولانا عبد القادر لدھیانوی صاحب رضی اللہ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔آپ کی والدہ مکرمہ استانی صفیہ بیگم صاحبہ نصرت گرلز سکول قادیان میں معلمہ تھیں۔ مرحوم نے مولوی فاضل کیا ہواتھا اور قادیان اور پاکستان کے علاوہ برمنگھم جماعت میں مختلف خدمات سرانجام دیتے رہے۔ پنجوقتہ نمازوں کے پابند، تہجد گزار، ایک نیک مخلص اور باوفا انسان تھے۔خلافت کے ساتھ عقیدت کا گہرا تعلق تھا۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں تین بیٹے اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔
(3)مکرمہ منیرہ باجوہ صاحبہ
اہلیہ مکرم عبید اللہ باجوہ صاحب مرحوم (جرمنی)
18؍نومبر2023ء کو75سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ لجنہ اماء اللہ جرمنی میں مختلف حیثیتوں سے خدمت بجالاتی رہیں۔ صوم وصلوٰۃ کی پابند ایک مخلص اور نیک سیرت خاتون تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔پسماندگان میں دو بیٹے اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔آپ مکرم نسیم احمد باجوہ صاحب (مربی سلسلہ بیت الفتوح مورڈن، یو.کے) کی ہمشیرہ تھیں۔
(4)مکرمہ امۃ الحفیظ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم نصر اللہ خان صاحب مرحوم( دار العلوم شرقی ہادی ربوہ)
27؍نومبر2023ء کو83 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ حضرت صوفی محمد یعقوب خان صاحب قندھاری رضی اللہ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بھتیجی اور ان کی سب سے بڑی بہو بھی تھیں۔آپ حضرت آپا طاہرہ صدیقہ صاحبہ ( حرم حضرت خلیفۃالمسیح الثالث رحمہ اللہ ) کی ماموں زاد بہن تھیں۔ مرحومہ نے نصرت آباد ربوہ اور دار العلوم شرقی ہادی میں صدر لجنہ کے طورپر خدمت کی توفیق پائی۔ پنجوقتہ نمازوں کے علاوہ تہجد کی ادائیگی میں بھی با قاعدہ تھیں۔ قرآن کریم اور فقہ احمدیہ کا بہت سا حصہ زبانی یاد تھا۔آپ ایک بہادر،نڈر اور محنتی خاتون تھیں۔ تمام عمر مسلسل جد و جہد، محنت، ہمت اور تقویٰ شعاری سے زندگی بسر کی۔خلافت احمدیہ سے نہایت عقیدت و احترام کا تعلق تھا۔ سرکاری ملازمت اور دعوت الی اللہ کی وجہ سے غیر از جماعت خواتین کے ساتھ اچھے تعلقات تھے اور تمام لوگ آپ کے وقار اور اخلاق کی وجہ سے آپ کی بہت عزت و احترام کرتے تھے۔ہر مالی قربانی میں پیش پیش رہتی تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں چار بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہیں۔
(5)مکرم امانت علی اعوان صاحب
ابن مکرم ملک عدالت علی صاحب(ربوہ )
8؍اکتوبر2023ء کو66 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم نے بطور سیکرٹری دعوت الی اللہ اور سیکرٹری تربیت نو مبائعین کے علاوہ مجلس انصار اللہ میں منتظم اصلاح و ارشاد کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ پنجوقتہ نمازوں کے پابند، تہجد گزار، تبلیغ کا شوق رکھنے والے، مہمان نواز، ملنسار، محنتی اور مخلص انسان تھے۔ مالی قربانی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ جب 2003ء میں احمدی ہوئے تو تمام مشکلات کا صبر اوراستقامت کے ساتھ مقابلہ کیا۔مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔
(6)مکرم نثار احمد صاحب
ابن مکرم نواب خان صاحب (گوجرانوالہ)
23؍اگست 2023ء کو58 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت قاضی اکبر علی صاحب رضی اللہ عنہ صحابی حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے پڑ نواسے تھے۔ مرحوم نے بطور زعیم انصار اللہ خدمت کی توفیق پائی۔ 1997ء میں پانچ روز کیلئے اسیر راہ مولیٰ بھی رہے۔ صوم وصلوٰۃ کے پابند، اچھے اخلاق کے مالک اور ایک نیک مخلص انسان تھے۔ واقفین زندگی اور جماعتی نمائندگان کا بہت احترام کرتے تھے۔ پسماندگان میں بوڑھے والدین کے علاوہ اہلیہ، تین بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں۔ آپ کے ایک بیٹے مکرم حافظ افتخار احمد صاحب ہیں۔
(7)مکرمہ نسیمہ مرزا صاحبہ بنت مکرم مرزا لطیف احمد صاحب مرحوم پنشنر صدر انجمن احمد یہ ربوہ
7؍دسمبر2023ء کو بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ نمازوں کی پابند، ہمدرد، ملنسار، صدقہ وخیرات کرنے والی، خوش اخلاق، احمدیت کیلئے غیرت رکھنے والی، بہت دلیر اور نڈر خاتون تھیں۔ اپنے بچوں کو بھی ہمیشہ جماعت کے ساتھ مضبوطی سے جوڑے رکھا۔مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں دو بیٹے اور دو بیٹیاں اور آٹھ بہن بھائی شامل ہیں۔آپ مکرم مرزا حفیظ احمدصاحب (کارکن امیر صاحب آفس ،یوکے) کی چھوٹی ہمشیرہ تھیں۔
(8)عزیزم عبد المالک ابن مکرم عبد الغافر صاحب
(معلم سلسلہ،تھرپارکر مٹھی )
مرحوم کو پیدائش کے بعد میننجائیٹس ہو گیا تھا اور 25؍ نومبر2023ء کو تقریباً گیارہ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگیا۔ اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم تحریک وقف نو میں شامل تھا۔
اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین۔
…٭…٭…٭…