اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-01-08

مرکز احمدیت قادیان دارالامان میں 130 ویں جلسہ سالانہ کا کامیاب و بابرکت انعقاد از مکرم منصور احمد مسرور صاحب منتظم رپورٹنگ جلسہ سالانہ قادیان 2025

الحمد للہ کہ جلسہ سالانہ قادیان مورخہ 26،27،28 دسمبر 2025 بروز جمعہ ہفتہ اتوار، قادیان دارلامان کی مقدس بستی میں منعقد ہو کر بخیر وخوبی اختتام پذیر ہوا۔ جلسہ سے کئی روز پہلے سے ہی اندرون و بیرون ملک کے مہمانان قادیان دارالامان کی مقدس بستی میں آنا شروع ہوگئے، اور قادیان دارالامان کی رونقوں  میں اضافہ کرنے لگے۔ نظامت روشنی کی طرف سے بھی بہت پہلے ہی دارالمسیح، منارۃ المسیح، لنگر خانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بجلی کے قمقموں سے سجایا گیا۔ اس طرح قادیان کی بستی اپنی باطنی جگمگاہٹ کے ساتھ ظاہری طور پر بھی جگمگا اُٹھا۔ اسی طرح قادیان کی گلیوں اور سڑکوں کو بھی روشن کیا گیا۔ 20 دسمبر کو مثالی وقار عمل کیا گیا جس میں کہ پورے محلہ اور آس پاس کے مقامات ، گلیوں اور سڑکوں کو صاف ستھرا کیا گیا۔
معائنہ کارکنان و انتظامات جلسہ
مورخہ 22دسمبر بروز سوموار بستان احمد میں صبح پونے گیارہ بجے نمائندہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ، مکرم مولانا محمد انعام غوری صاحب ناظر اعلیٰ و امیر جماعت قادیان نے جلسہ سالانہ قادیان 2025کی’’ معائنہ کارکنان و انتظامات جلسہ‘‘ کی تقریب میں کارکنان جلسہ سے خطاب فرمایا۔ اور بعدہٗ جلسہ سالانہ کے انتظامات کا معائنہ فرمایا۔ تقریب کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ عزیز حافظ وقاص احمد رِیشی متعلم جامعہ احمدیہ نے سورۃ البقرہ کی آخری آیت کی تلاوت کی اور اس کا ترجمہ پیش کیا۔ اسکے بعدمکرم ناظر صاحب اعلیٰ نے خطاب فرمایا۔تشہد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد آپ نے فرمایا :
اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک مرتبہ پھر ہماری زندگیوں میں جلسہ سالانہ قادیان کا مبارک موقع میسر آیاہے۔یہ جلسہ للّٰہی جلسہ ہے،اس کو امام الزمان حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ کی منشا اوراس کے اذن سے آج سے 137 سال پہلے 1891 میں جاری فرمایا تھا، جو کہ مسجد اقصیٰ میں منعقد ہوا تھا اور اس میں صرف 70 ؍افراد شریک ہوئے تھے۔ بیچ میں کچھ سالوں میں جلسے نہیں ہوئے تو اس لحاظ سے ہمارا یہ جلسہ 130 واں جلسہ سالانہ ہے۔اس کے متعلق حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ اس کی بنیادی اینٹ اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے رکھی ہے۔ تو اب دیکھیں کہ یہ جلسہ کیسا عظیم الشان رنگ اختیار کرگیا ہےکہ اب اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی برکتوں سے یہ دنیا کے مختلف ممالک میں منعقد ہو رہا ہے۔
مورخہ 26 دسمبر 2025ءبروز جمعۃ المبارک
افتتاحی اجلاس
مورخہ 26 دسمبر 2025ء بروز جمعۃ المبارک 130ویں جلسہ سالانہ قادیان کے افتتاحی اجلاس کی کاروائی کا آغاز جلسہ گاہ بستان احمد میں ہوا۔ٹھیک صبح 10 بجےلوائے احمدیت محترم رفیق احمد صاحب مالا باری صدر مجلس تحریک جدید نے لہرایا۔ اسکے بعد
موصوف کرسئ صدارت پر رونق افروز ہوئے اور جلسہ کی کاروائی کا آغاز فرمایا۔ مکرم جاوید احمد صاحب آف کشمیر نے سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 256تا 258کی تلاوت کی اور انکا ترجمہ مکرم نیاز احمد نائک صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ بھارت نے پیش کیا۔اس کے بعدصدر اجلاس نے افتتاحی خطاب فرمایا ۔موصوف نے فرمایا الحمدللہ جلسہ سالانہ اللہ تعالیٰ کے خاص فضل اور احسانوں کا نتیجہ ہے۔اس کا آغاز صرف 75 مخلصین سے ہوا اور آج دنیا بھر میں ہزاروں روحوں کی روحانی تسکین کا ذریعہ بن رہا ہے۔ جلسہ کا بنیادی مقصد دینِ اسلام، آنحضرت ﷺ اور قرآنِ کریم کی تعلیمات کا فہم حاصل کرنا، اجتماعی روحانی تربیت، اخلاقی اصلاح اور تقویٰ میں ترقی کرنا ہے۔آپ نے حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا درج ذیل ارشاد پیش فرمایا ۔
’’آپ کو یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ جلسہ کا بنیادی مقصد ہمارے دین اسلام اور ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺ اور قرآن پاک کی تعلیمات کی ضروری معلومات حاصل کرنا ہے اور یہ کہ احباب جماعت اکھٹے ہوکر اجتماعی طور پر روحانی تربیت اور تعلیم حاصل کرسکیں ۔اس طرح ہم نیک کام کرنے میں ترقی کرسکتے ہیں ،اپنی اخلاقی حالت کو بہتر بناسکتے ہیں اور تقویٰ کے اعلیٰ معیار کوحاصل کرسکتے ہیں۔‘‘
(الفضل انٹر نیشنل 6مئی 2023)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : اس جلسہ میں ایسے حقائق اور معارف کے سنانے کا شغل رہے گا جو ایمان اور یقین اور معرفت کو ترقی دینے کے لئے ضروری ہیں ۔(روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 352)
اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ وہ ہم سب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ان خاص دُعائوں کا حقیقی وارث بنائے اور حضرت خلیفۃ المسیح الخامس اید ہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے بابرکت دورِ خلافت میں ہمیں غلبہ احمدیت یعنی حقیقی اسلام دیکھنا نصیب فرمائے۔اس کے بعد صدر اجلاس نے اجتماعی دعا کرائی۔
پہلا دن پہلا اجلاس
افتتاحی خطاب اور دعا کے بعد مکرم سعید احمد ملکانہ صاحب مربی سلسلہ نے منظوم کلام حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ ’’ حضرت سید ولدآدم صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ سے چند اشعار خوش الحانی کے ساتھ پیش کئے۔اس اجلاس کی پہلی تقریر محترم مولانا محمد حمید کوثر صاحب ناظر دعوت الی اللہ مرکزیہ قادیان نے ’’زندہ خدا کا ثبوت غلبہ انبیاء کی روشنی میں‘‘کے عنوان پر کی۔
آپ نے فرمایا: تاریخ گواہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مخالفین یکے بعد دیگرے ناکام ہوئے اور اکثر گمنامی میں چلے گئے، جبکہ جماعت احمدیہ مخالفتوں کے باوجود ترقی کرتی رہی۔ حتیٰ کہ بعض مخالفین نے خود اعتراف کیا کہ شدید کوششوں کے باوجود جماعت احمدیہ پھیلتی چلی گئی۔ یہ حقیقت اس قرآنی وعدے کی تکمیل ہے کہ اللہ اور اس کے رسول غالب آ کر رہتے ہیں۔ آج جماعت احمدیہ دنیا کے دو سو سے زائد ممالک میں قائم ہے اور اللہ تعالیٰ کی تائید، قبولیتِ دعا اور روحانی برکات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ خدا موجود ہے اور اس نے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام اور ان کے خلفاء کو کامیابی عطا فرمائی۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دشمنوں پر غلبہ عطا کر کے اپنے حیّ و قیوم ہونے کے بے شمار ثبوت ظاہر فرمائے۔ 23 مارچ 1889ء کو جماعت احمدیہ کے قیام کے بعد، ایک طویل عرصے میں شدید مخالفتوں کے باوجود احمدیت کو مٹایا نہ جا سکا، جو الٰہی تائید اور حفاظت کی واضح دلیل ہے۔
دوسری تقریر محترم مولانا محمد انعام غوری صاحب، ناظر اعلیٰ و امیر جماعت احمدیہ قادیان نے سیرت آنحضرت ﷺ (مذہبی رواداری اور آزادئ ضمیر کے حوالہ سے آنحضرت ﷺ کی تعلیمات و اسوہ )کے عنوان پر کی۔فاضل مقرر نے قرآنِ کریم کی آیات اور سیرتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں مذہبی رواداری اور آزادیٔ ضمیر سے متعلق اسلام کی جامع تعلیم بیان کی۔
آپ نے فرمایا: قرآن واضح طور پر جبرکی نفی کرتا ہے اور ہر انسان کو ایمان لانے یا نہ لانے کی آزادی دیتا ہے۔ اسلام یہ سکھاتا ہے کہ تمام انبیاء کا احترام کیا جائے اور مذہب کو سیاسی مفادات سے الگ رکھا جائے۔نبی کریم ﷺ نے گھریلو تعلقات، رشتہ داروں، والدین، ہمسایوں اور غیر مسلموں کے ساتھ حسنِ سلوک، صلہ رحمی، عفو و درگزر اور انصاف کا اعلیٰ ترین نمونہ پیش فرمایا۔ مخالفین کی شدید اذیتوں، قحط، جنگوں اور ظلم کے باوجود آپ ﷺ نے بدلہ لینے کے بجائے دعا، رحم اور معافی کو اختیار کیا۔ غیر مسلم والدین، پڑوسیوں، یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ عملی رواداری کی تعلیم دی۔ حتیٰ کہ آپؐکا مسجد نبوی میں غیر مسلم وفد کو عبادت کی اجازت دینا، اسلامی رواداری کا روشن ثبوت ہے۔ریاستِ مدینہ میں مختلف مذاہب کے ساتھ معاہدات میں جان و مال کے تحفظ، مذہبی آزادی اور انصاف کی ضمانت دی گئی۔ آنحضرت ﷺ کی جنگیں بھی محض دفاع اور امن کے قیام کے لیے تھیں حتیٰ کہ دشمنوں کی لاشوں اور جنازوں تک کے احترام کا حکم دیا گیا۔فتح مکہ کے موقع پر بدترین دشمنوں کو معاف کرنا، جیسے عکرمہ بن ابی جہل اور دیگر مجرموں کو امان دینا، اسلام کی بے مثال رواداری اور اخلاقِ حسنہ کی اعلیٰ مثال ہے۔
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے آزادیٔ ضمیر اور مذہبی رواداری کی اعلیٰ تعلیمات دی اور اپنے اُسوۂ حسنہ سے انہیں عملی طور پر پیش کیا۔ آج کے زمانے میں انسانیت کو نسل، رنگ، مذہبی اختلافات اور تعصبات کی وجہ سے شدید خطرات لاحق ہیں، جن میں قتل و غارت، دہشت گردی اور مہلک ہتھیاروں کے حملے شامل ہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم غیر مسلموں کے ساتھ حسنِ سلوک، انصاف، ان کے حقوق کا تحفظ اور مذہب پر جبر نہ کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔نبی کریم ﷺ کی زندگی امن، انصاف اور رواداری کی عملی مثال ہے۔ مکّہ کی فتح کے موقع پر آپ ﷺ نے معافی اور مذہبی آزادی کو عملی طور پر نافذ کیا، جیسا کہ قرآن میں فرمایا: لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّینِ۔ آخر پر فاضل مقرر نے فرمایا دعا ہے کہ دنیا کی حکومتیں اور مسلم ممالک اسلامی تعلیمات اور اُسوۂ حسنہ کے مطابق آزادیٔ ضمیر اور مذہبی رواداری کو فروغ دیں۔
پہلا دن دوسرا اجلاس
جلسہ سالانہ قادیان 2025ء کے پہلے دن کادوسرا اجلاس ٹھیک اڑھائی بجے شروع ہوا ۔یہ اجلاس محترم مولانامحمد حمید کوثرصاحب ناظردعوت الی اللہ مرکزیہ (شمالی ہند)وانچارج شعبہ تاریخ احمدیت قادیان کی صدارت میں منعقد ہوا ۔ سورۃ الجمعہ آیات 1تا5 کی تلاوت عزیزم ایس بی سفیر الدین متعلم جامعہ احمدیہ قادیان نے کی اور ان آیات کا ترجمہ از تفسیر صغیر مکرم حافظ اسلم احمد صاحب نائب افسر لنگرخانہ نے پیش کیا ۔ مکرم عبد الواسع ملکانہ صاحب کارکن لنگرخانہ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے منظوم پاکیزہ کلام ’’اے خدا اے کارساز وعیب پوش وکردگار‘‘ کے چند اشعار نہایت خوش الحانی سے پڑھے ۔
اجلاس کی پہلی عالمانہ تقریر محترم حافظ مخدوم شریف صاحب ایڈیشنل ناظراعلیٰ جنوبی ہندوناظر نشرواشاعت نے ’’سیرت حضرت مسیح موعودعلیہ السلام عشق الٰہی کی روشنی میں‘‘کے موضوع پر کی ۔فاضل مقرر نے فرمایا کہ: انبیاء علیہم السلام کو اللہ تعالیٰ سے ایسا عشق اور ایسی محبت ہوتی ہے کہ اس کا پورا پورا نقشہ کھینچنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ عشق الٰہی کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر جو انبیاء کرام کے دل میں موجزن ہوتا ہے اُسے کوئی قلم، صفحۂ قرطاس پر کیسے اُتار سکتا ہے؟ ان کی ہر حرکت و سکون، ان کی ہر نشست و برخاست اللہ کے حکم کے تابع ہوتی ہے۔ان کا رُواں رُواں اللہ کی محبت اور اس کے عشق میں سرشار ہوتا ہے۔
فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بچپن ،جوانی، بڑھاپا غرض یہ کہ ساری زندگی اللہ تعالیٰ کے عشق میں اور اللہ تعالیٰ کی خاص نگرانی اور حفاظت میں گزری ہے۔ آپ نےاس حوالے سے بعض روایات اور واقعات کا دلنشین پیرایہ میں تذکرہ فرمایا ۔نیز فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ومعشوق حضرت مسیح موعود علیہ السلام سےپیار کا اظہار کرتے ہوئے اور اپنی محبت کی گواہی دیتے ہوئے آپ علیہ السلام کی صداقت کیلئے بے شمار نشانات اور قبولیتِ دعا کےمعجزات ظاہر فرمائے ہیں ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تاثیرِ قدسی سے آپؑکی آغوش میں آنے والے لوگ آپؑکے فیضان سے سیراب ہوکر باخُدا انسان بن گئے اور اِن صحابہ ؓ نےخدا تعالیٰ کی بارگاہ میں محبت اورقرب کا اعلیٰ مقام حاصل کیا۔اور اللہ تعالیٰ نے اصحابِ احمد سےبھی پیار کا سلوک کرتےہوئے اپنے الہامات وکشوف کے دروازے ان پر کھول دئیے اور قبولیت دعا کے نشانات اُن پر ظاہر فرمائے ۔
سب کا وہی سہارا رحمت ہےآشکارا
ہم کو وہی پیارا دلبر وہی ہمارا
اُس بن نہیں گزارا غیر اس کے جھوٹ سارا
یہ روز کر مبارک سبحان مین یرانی
اس اجلاس کی دوسری تقریر محترم مولانا منیر احمد خادم صاحب ایڈیٹر اخبار بدر قادیان نے ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مقام ومرتبہ‘‘کے عنوان پر کی فاضل مقرر نےسورۃ الجمعہ کی آیات کی روشنی میں اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے اقتباسات کی رو سے اس موضوع پرعالمانہ اور بصیرت افروز تقریرفرمائی نیز حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی رحمہ اللہ تعالیٰ ،حضرت امام عبد الرزاق قاشانی رحمہ اللہ وغیرہ کےحوالہ جات پیش کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود ؑ کےمقام ومرتبہ کو اُجاگر کیا ۔فرمایا حضرت مسیح موعود علیہ السلام ظلی اور بروزی نبی اورخلیفۃ اللہ ہیں اوریہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نہیں فرمایا بلکہ سابقہ بزرگانِ اُمت’’ مسیح موعود ‘‘کے مقام ومرتبہ کے حوالہ سے ایسی پیشگوئیاں بیان کرچکے ہیں ۔فرمایا کہ حسبِ منطوق آیت وَاٰخَرِيْنَ مِنْہُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِہِمْحضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دور میں آنحضرت ﷺ کے معجزات بارش کی طرح برسیں  گے چنانچہ یہ ایک حقیقت ہے کہ آپؑکے دور میں  آنحضرت ﷺ کے بابرکت معجزات بارش کی طرح برسے اور یہی آپ کی صداقت کی عظیم الشان دلیل ہے۔ فرمایا کہ آپ کا عظیم مرتبہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے سخت مشکل اور مخالف حالات میں بھی امام مہدی علیہ السلام کےمتعلق ارشاد فرمایا ہے کہ ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سلام پہنچایا جائے اور ان کی بیعت کی جائے ۔
اس تقریر کے بعدانڈونیشا سے تشریف لائے ہوئے مہمان خصوصی نے تعارفی تقریر بزبان انگریزی پیش کی جس کا اردو ترجمہ مکرم مولوی نیاز احمد نائک صاحب صدرمجلس خدام الاحمدیہ بھارت نے پیش کیا۔ ہندوستانی وقت کے مطابق ٹھیک 6:30بجے تمام مساجد میں اجتماعی طورپر اورگھروں میں بھی احباب ومستورات نے حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا لائیوخطبہ جمعہ سُنا ۔
…٭…٭…٭…
27دسمبر 2025ءبروز ہفتہ
دوسرا دن پہلا اجلاس
دوسرےدن کاپہلا اجلاس محترم منیر احمد صاحب حافظ آبادی و کیل اعلیٰ تحریک جدید انجمن احمدیہ قادیان و سیکرٹری مجلس کارپرداز بہشتی مقبرہ قادیان کی
زیر صدارت ہوا۔ دس بجے لوائے احمدیت لہرایا گیا بعدہ جلسہ کی کاروائی کا آغاز ہوا۔ مکرم حافظ لقمان احمد تقی صاحب متعلم جامعہ احمدیہ قادیان نے سورۂ نور آیت نمبر 55تا57 کی تلاوت کی ۔ مکرم طاہر احمد طارق صاحب نائب ناظر اصلاح و ارشاد مرکزیہ قادیان نے ان آیات کا ترجمہ پیش کیا۔ نظم مکرم نصرمن الله صاحب ناظم جائیداد قادیان نے’’ خدا کے پاک لوگوں کو خدا سے نصرت آتی ہے‘‘ کے چند اشعار لحن داؤدی میں پیش کئے۔
اس اجلاس کی پہلی تقریر محترم شمیم احمد غوری صاحب، انچارج شعبہ وقف نو بھارت نےسیرت حضرت عمار بن یاسررضی اللہ عنہ اور سیرت حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی رضی اللہ عنہ کے عنوان پر کی۔حضرت عمار بن یاسرآنحضرت ﷺ کے ایک جاںنثار صحابی تھے۔ان کے والد حضرت یاسر یمن کے تھے اور مکہ میں اپنے ایک بھائی کی تلاش میں آئے تھے لیکن مکہ میں ہی رہائش پذیر ہو گئے اور ابو حذیفہ مخزومی سے حلیفانہ تعلق قائم کیاجنہوں نے اپنی لونڈی حضرت سمیہ سے ان کی شادی کروادی جن سے حضرت عمار پیدا ہوئے۔ جب اسلام آیا تو حضرت یاسر، حضرت سمیہ اور حضرت عمار اور ان کے بھائی حضرت عبد اللہ بن یاسر ایمان لے آئے۔ آپ کے اور آپ کے والدین کے اسلام قبول کرنے کے ساتھ ظلم و تشدد کی وہ داستان شروع ہوتی ہے جسے سُن کر آج بھی ہر کسی کی روح کانپ اُٹھتی ہے۔آپ انتہائی غریب تھےاور والدہ لونڈی، جن پر ظلم کرنا بظاہر آسان تھا اور کفار مکہ نے اس کا فائدہ بھی اُٹھایا۔حضرت عمار جوسمیہ کے بیٹے تھے انہیں بھی تپتی ریت پر لٹایا جاتا اور انہیں سخت دکھ دیا جاتا۔ ایک دفعہ جب ان فدایانِ اسلام کی جماعت کسی جسمانی عذاب میں مبتلا تھی اتفاقاً آنحضرتؐبھی اس طرف آنکلے۔آپ نے ان کی طرف دیکھا اور درد مند لہجے میں فرمایا۔صبرًا آلَ يَاسِر فَاِنَّ مَوْعِدُ كُمُ الْجَنَّةِ۔اَے آل یاسر صبر کا دامن نہ چھوڑنا کہ خدا نے تمہاری انہی تکلیفوں کے بدلہ میں تمہارے لئے جنت تیار کر رکھی ہے۔آخر یا سر تو اسی عذاب کی حالت میں جاں بحق ہو گئے اور بوڑھی سمیہ کی ران میں ظالم ابو جہل نے اس بے دردی سے نیزہ مارا کہ وہ ان کے جسم کو کاٹتا ہوا ان کی شرمگاہ تک جا نکلا اور اس بے گناہ خاتون نے اسی جگہ تڑپتے ہوئے جان دے دی۔اب صرف باقی عمار رہ گئے تھے۔ان کو بھی ان لوگوں نے انتہائی عذاب اور دکھ میں مبتلا کیا اور ان سے کہا کہ جب تک محمد ﷺ کا کفر نہ کرو گے اسی طرح عذاب دیتے رہیں گے۔
حضرت انسؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت حضرت علیؓاور حضرت عمارؓاور حضرت سلمانؓاور حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی مشتاق ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت عمار بن یاسرؓ کی نیک سیرت کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی رضی اللہ عنہ پچیس سال کی عمر میں دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے دہلی تشریف لے گئے۔ جب سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی معرکۃ الآراء کتاب براہین احمد یہ شائع کی تو آپؓکے دل میں اسے پڑھ کر حضور کی زیارت کا شوق پیدا ہوا اور آپ سے ملاقات کی اور 20جولائی 1892ء کو آپؑکے ہاتھ پربیعت کرکے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو گئے۔بیعت کر لینے کے بعد حضرت مولوی صاحب ہر سال قادیان آتے اور روحانی چشمہ سے سیراب ہو کر واپس لوٹتے۔بہت بڑے عالم ہونے کے باوجود بڑے متواضع اور منکسر المزاج تھے۔ سیدنا حضرت مسیح موعود کے عشق میں بالکل گداز تھے اور حضور سے اپنے تعلق کو فدائیت اور جاں نثاری کے لحاظ سے اس معیار تک لے گئے تھے کہ حضرت اقدس سیر سے بعد جب واپس گھر کی طرف آتے تو آپ آگے بڑھ کر حضور کی نعلین مبارک اپنے کندھے والی چادر سے صاف کر دیتے۔
سید نا حضرت اقد س مسیح موعود علیہ السلام نے ان کی وفات پرفرمایا کہ’’ان کو ایک فقر کی چاشنی تھی۔ قریباً بائیس برس سے میرے پاس آیا کرتے تھے۔ پہلی دفعہ جب آئے تو میں ہوشیار پور میں تھا۔ اس جگہ میرے پاس پہنچے۔ ایک سوزش اور جذب ان کے اندر تھا اور ہمارے ساتھ ایک مناسبت رکھتے تھے۔‘‘
اس اجلاس کی دوسری تقریر محترم مظفر احمد ناصر صاحب ناظر اصلاح اشاد مرکزیہ نےرشتہ ناطہ، شادی بیاہ و عائلی مسائل کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ والسلام اور خلفاء کرام کے ارشادات کے عنوان پر کی۔آپ نے فرمایا کہشادی بیاہ کے متعلق اسلامی تعلیمات ایک خوشگوار عائلی زندگی کی ضمانت ہیں ۔اللہ تعالیٰ کے حکم اور رسول اکرم ﷺ کے اسوہ کو نظر انداز کرنے کے نتیجہ میں شادی بیاہ کے مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔
اللہ تعالیٰ نے سیدناحضرت اقدس مسیح موعو دعلیہ السلام کو اس دور میں احیائے دین اور اقامت شریعت کے لئے مبعوث فرمایا آپؑنے اور آپؑکے خلفائے کرام نے رشتہ ناطہ کے تعلق سے جو ہدایات ہمیں دی ہیں اگر ہم اپنے معاشرہ کو جنت نظیر بنانا چاہتے ہیںتو ان پر ہمیں عمل کرنا ہوگا۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کواپنے اور اپنے رسول ﷺکے ارشادات اور حضرت مسیح موعود ؑ اور خلفاء کرام کی ہدایات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔
اس اجلاس کی تیسری تقریر محترم مولانا ایم ناصر احمد صاحب ایڈیشنل ناظر دعوت الی اللہ جنوبی ہند قادیان نےدعوت الی اللہ کی اہمیت اور افراد جماعت کی ذمہ داریاں کے عنوان پر کی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ ۭ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَـبِيْلِهٖ وَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ۔فرمایا حقیقی امن اور سکون اُس وقت حاصل ہوگا جب لوگ جزاو سزا کے مالک، ایک خدا ، ایک ہستی پر کامل یقین رکھیں گے۔ اُس ہستی کی طرف بلانےکا جو کام ہے اُسی کو دعوت الی اللہ کہا جاتا ہے۔ اِس وقت دنیا میں ایک ہی جماعت ہے جو یہ دعوی کرتی ہے کہ یہ جماعت خدا تعالیٰ کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودا ہے۔ اس لئے اس جماعت کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو اُس حقیقی خدا کی طرف بلائیں جس کے بارے میں زمانہ کے امام حضرت مسیح موعود ؑ نے ہمیں خبر دی ہے اور اُس مالک حقیقی کا چہرہ دکھا یا ہے۔
جو آیت خاکسار نے تلاوت کی ہے اس میں دعوت الی اللہ کی طرف خدا تعالیٰ نے توجہ دلائی ہے اور پھر طریق بھی بتائے کہ کس طرح دعوت الی اللہ کرنی ہے۔ اور پھر یہ بھی کہ دعوت الی اللہ کرنے والوں کی اپنی حالت کیا ہونی چاہئے ۔
دعوتِ الی اللہ کے وسیع تر میدان میں سب سے بڑھ کر بے نظیر نمونے ہمارے پیارے آقا حضرت محمدﷺ نے ہمارے لئے قائم کئے ہیں آپ ؐ کی ساری عمر مخلوق خداوندی کا ان کے خالقِ حقیقی سے تعلق جوڑنے اور پھر اسے مضبوط سے مضبوط تر کرنے میں گذری۔
دوسرا دن دوسرااجلاس
دوسرے دن کے دوسرے اجلاس کی صدارت محترم سید تنویر احمد صاحب صدر مجلس وقف جدیدنے کی۔ تلاوت قرآن کریم مکرم سید محمد یحییٰ صاحب متعلم جامعہ احمدیہ قادیان نے کی اور ان آیات کا ترجمہ محمد نسیم خان صاحب وکیل التبشیر تحریک جدیدنے سنایا۔ نظم مکرم مرشد احمد ڈار صاحب استاد جامعہ احمدیہ قادیان نے پڑھی۔اس اجلاس کی پہلی تقریر محترم مولانا عطاء المجیب لون صاحب ایڈیشنل ناظر اصلاح و ارشاد جنوبی ہند نے’’خلافت سے وابستگی اور اطاعت ہی روحانی ترقی کا ذریعہ ہے‘‘ کے عنوان پر کی۔فاضل مقرر نے سورہ آل عمران کی آیت نمبر 104 وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُواکی تلاوت فرمائی اورفرمایااس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمام مومنین کو ایک ہو کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے اور تفرقہ سے بچنے کی تلقین فرمائی ہے۔ خلافت سے سچی وابستگی تقدیروں کو بدل دیتی ہے، بیمار شفا پاتے ہیں، پریشانیاں دور ہوتی ہیں اور روحانی انقلاب برپا ہوتا ہے۔خلافت کے منکر ہمیشہ ذلت اور ناکامی کا شکار ہوئے جبکہ خلافت سے وابستہ لوگ ترقی، وحدت اور روحانی بلندیوں سے سرفراز ہوئے۔فاضل مقرر نے فریا اگر ہم اپنی اصلاح، اپنے نفس کی پاکیزگی، مضبوط تعلق باللہ، اعلیٰ اخلاق اور اپنی نسلوں کی روحانی بقا چاہتے ہیں تو ہمارے پاس واحد راستہ خلافت سے سچی وابستگی، کامل اطاعت اور بے لوث محبت ہے۔
اس اجلاس کی دوسری تقریر محترم گیانی مبشر احمد خادم استاد جامعہ احمدیہ قادیان نےمحبت سب سے نفرت کسی سے نہیں کے عنوان پر بزبان پنجابی کی۔تقریر میں واضح کیا گیا ہے کہ محبت ایک فطری جذبہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہر جاندار کی فطرت میں رکھا ہے۔ حتیٰ کہ بے زبان جانور اور پرندے بھی ایک دوسرے سے محبت کا جذبہ رکھتے ہیں۔ جب یہی محبت عقل و شعور کے ساتھ ملتی ہے تو انسان کو مخلوق سے محبت کے بعد خالقِ حقیقی کی محبت تک لے جاتی ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسی فطری محبت کو اپنے منظوم کلام میں یوں بیان فرمایا:
تو نے خود روحوں پہ اپنے ہاتھ سے چھڑکا نمک
جس سے شور ہے محبت عاشقانِ زار کا
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ تمام انبیاء کی بعثت کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ انسانوں کے دلوں میں اللہ کی سچی محبت اور مخلوق کے حقوق ادا کرنے کا جذبہ پیدا ہو، ورنہ باقی اعمال محض دکھاوا رہ جاتے ہیں۔اسی طرح آپؑنے فرمایا کہ انسان کے اندر دو محبتوں کا جمع ہونا ضروری ہے ایک خالق سے محبت اور دوسرےمخلوق سے محبت۔ان دونوں کے بغیر انسان حقیقی معنوں میں انسان نہیں کہلا سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بار بار تاکید فرمائی کہ اللہ کے بندوں سے محبت کرنا، ان پر رحم کرنا، ان کے ساتھ عاجزی سے پیش آنا، ان سے عفو و درگزر کا سلوک کرنا وہ اوصاف ہیں جو انسان کو اللہ کے قریب کرتے ہیں۔
تأثرات و تعارفی تقاریر مہمانان کرام
جلسہ سالانہ کے دوسرے روز کا دوسرا اجلاس پیشوایان مذاہب کے طور پر منایا جاتا ہے جس میں کہ مختلف مذاہب کے رہنما جلسہ میں تشریف لاتے ہیں اور اپنے نیک خیالات کا اظہار کرتے ہیں ۔ چنانچہ اس دفعہ بھی ہندو، سکھ، پارسی مذہب سے ان کے مذہبی رہنما اور دیگر معزز مہمان تشریف لائے تھے جن کے خیالات کا خلاصہ ذیل میں پیش کیا جاتا ہے ۔
(1)سوامی شری آرتی دیواجی مہاراج ،امرتسر
انہوں نے فرمایا کہ اس جلسے میں سب ملکر اللہ تعالیٰ کا نام لیتے ہیں۔خاکسار پہلی مرتبہ اس جلسہ میں شامل ہوا ہے۔ان جلسوں کو منعقد کرنے کا یہی مقصد ہے کہ سبکو آپس میں ملایا جائے۔میں آپ سب کو سلام پیش کرتا ہوں۔ خدا ایک ہے چاہے اسکو کسی بھی نام سے بلا لیں ۔ہم سب کے اندر پیار اور محبت کی رُوح ہونی چاہئے۔ سب کو خدا کی تلاش کرنی چاہئے۔ خدا کی تلاش کے لئے ہی سنت اور مہاتماؤں کی ضرورت ہوتی ہے۔ انسانوں کا آپس میں بانٹنا نہیں چاہئے۔ ہم سب کی زندگی کا اصل مقصد ایک ہی ہے یعنی خدا کو حاصل کرنا۔
(2)بابا سنتوکھ سنکھ جی امرتسر
انہوں نے جلسہ میں تشریف لانے والے تمام مہمانوں کو خوش آمدید کہا ۔ مَیں نے گیانی مبشر احمد خادم صاحب کی تقریر سنی جنہو ں نے اپنی تقریر میں تیسری عالمی جنگ کا ذکر کیا ۔ یہ جنگ بہت کچھ اپنے ساتھ لے جاتی ہے۔ اس سے بچنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے کہ سب اللہ کے ساتھ جڑ جائیں۔ بابا فرید نے بھی یہی تعلیم دی ہے۔ خدا کو حاصل کرنے کے لئے سب سے بہتر وقت صبح فجر کا ہوتا ہے۔ جو اس وقت اللہ کو یاد کرتا ہے اور اس کا نام لیتا ہے پھر اللہ بھی کبھی اس کو ضائع نہیں کرتا۔ ہمیں ایک دوسرے سے محبت کرنی چاہئے نفرت نہیں کرنی چاہئے۔ خاکسار کو حضور انور سے بھی ملاقات کرنے کا شرف حاصل ہوا ہے۔ حضور انور کے چہرے پر ایک نور ہے۔ آپ سب جو دُور دراز سے یہاں آئے ہو سب کے ساتھ پیار محبت سے رہو ۔ سب اللہ کے بتائے ہوئے راستوں پر چلنے کی کوشش کرو۔ سب کےساتھ حسن خلق سے پیش آؤ۔
(3)سوامی ڈاکٹر ست پریت ہری جی امرتسر
انہوں نے جلسہ میں تشریف لانے والے تمام مہمانوں کوالسلام علیکم کا تحفہ پیش کیا۔ فرمایا کہ اس جلسے کا مقصد محبت سب سے نفرت کسی سے نہیں ہے۔ پیار محبت ایک روحانی خوراک ہے۔ اس روحانی پیغام سے ہمیں  اللہ کا راستہ ملتا ہے۔ یہ ساری دُنیا خدا نے بنائی ہے ہمیں خدا کے ساتھ جڑنے کی ضرورت ہے۔ ایک دوسرے کے ساتھ محبت کرنے کی ضرورت ہے۔ آپسی نفرت کو دور کرو اورایک خدا کو پہچانو اور اس کی طرف آؤ۔
(4) مراض بن ذی من ذی واللہ
دہلی پارسی انجمن کے ٹرسٹی
انہوں نے فرمایا کہ آپ کا ماٹو محبت سب سے نفرت کسی سے نہیں ، ہمارے پارسی مذہب کی بھی یہی تعلیم ہے۔ سب کے ساتھ محبت ہی اصل چیز ہے۔ انسان کو انسان سے محبت اور قربت ہونی ضروری ہے۔ ہم سب کو ملکر اس سرزمین کو خوشگوار بنانے کی ضرورت ہے۔ ایک دوسرے کی عزت کرنے کی ضرورت ہے جس سے ہمارا معاشرہ اچھا بن سکتا ہے۔ آپ کی جماعت کا ماٹو بہت عمدہ ہے۔
(5) سنت بابا لوک دیپ سنگھ جی
آف گھمنی ضلع گورداسپور
انہوں نے فرمایا کہ یہاں جلسہ میں احمدیہ مسلم جماعت اور دیگر مذاہب کے بہت سے لوگ ایک ساتھ ایک جگہ پر جمع ہوئے ہیں لہٰذا یہاں انسانیت پیار اور محبت اور بھائی چارے کی بات کرنا بہت ضروری ہے۔ تمام مذاہب ایک خدا کی ہی تعلیم دیتے ہیں جس سے نفرت دور ہوتی ہے پیار بڑھتا ہے۔ آج کے اس دور میں رنگ و نسل ذات پات وغیرہ سے اوپر اُٹھ کر بھائی چارے کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ آپ سب کو اس کی توفیق دے۔
(6)بابا سکھ دیو سنگھ جی بیدی آف ڈیرہ بابانانک
انہوں نے کہا کہ پیارے حضور کو سلام۔ اسی طرح قادیان کے تمام عہدیداران اور شاملین جلسہ کو سلام۔ آج بہت خوشی کا دن ہے کہ قادیان کی پاک سرزمین پر یہ عظیم الشان جلسہ ہورہا ہے۔ اس جلسہ کی شروعات بانی جماعت احمدیہ نے کی تھی۔ آج یہاں سے جلسہ پیشوایان مذاہب کا انعقاد کیا جارہا ہے، جس کا یہی مقصد ہے کہ سب مذہب والے اپنے پیدا کرنے والے کو یاد کریں۔ اور آپسی تفرقہ سے اوپر اُٹھ کر ایک دوسرے سے محبت کریں۔ محبت سب سے نفرت کسی سے نہیں، ہم سب کو اس تعلیم کی بہت ضرورت ہے۔ ہمیں اس سبق کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے۔ حضور انور بھی آج پوری دُنیا میں امن و شانتی کے لئے بہت کوشش کررہے ہیں۔ عالمی جنگ سے بچنے کی تلقین کررہے ہیںجس کی اس وقت ساری دنیا کو بہت ضرورت ہے۔ آپ سب کو یہ جلسہ بہت مبارک ہو۔ انہوں نے مہمانان کرام کو ڈیرہ بابانانک آنے کی دعوت دی۔ خاکسار کو جلسہ یوکے میں شامل ہونے اور حضور انور سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ مَیں دیکھ رہا ہوں کہ یہاں چھوٹے چھوٹے بچے بھی خدمت پر لگے ہوئے ہیں جو کہ بہت اچھی بات ہے۔
(7)ڈاکٹر شہباز سنگھ چیمہ ڈپٹی ڈائرکٹر
ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ گورداسپور
انہوں نے فرمایا کہ 130 ویں جلسہ سالانہ کی سب کو مبارک باد۔ بانی جماعت احمدیہ نے اس جلسہ کی بنیاد 1891 میں رکھی تھی جس میں 75 لوگ شامل ہوئے تھے۔ آج دنیا کے ہر ملک میں یہ جلسہ منعقد ہورہا ہے۔ آپ کی جماعت کا ماٹو محبت سب سے نفرت کسی سے نہیں ہے۔ آج سب کو اسی ماٹو کی ضرورت ہے۔ دنیا تباہی کی طرف جارہی ہے جبکہ ہمیں امن کی ضرورت ہے۔ نفرت بڑھ رہی ہے ہمیں محبت کی ضرورت ہے۔ انسانیت کو بچانے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے اور آپسی محبت کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔
28 دسمبر 2025ءبروز اتوار
تیسرا دن پہلا اجلاس
آج کا پہلا اجلاس زیر صدارت محترم حافظ مخدوم شریف صاحب ایڈیشنل ناظر اعلیٰ جنوبی ہند قادیان منعقدہوا۔ تلاوت قرآن مجید مکرم حافظ فاروق اعظم صاحب کارکن ایڈیشنل نظارت علیاء جنوبی ہند قادیان نے کی۔ جبکہ ترجمہ مکرم غلام عاصم الدین صاحب نائب ناظم تعمیرات قادیان نے تفسیر صغیرسے پیش کیا۔بعدہ مکرم یاسر احمد نائک صاحب آف آسنور کشمیر نے نہایت خوش الحانی سے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کا منظوم کلام پڑھکر سنایا۔اس اجلاس کی پہلی تقریرمکرم حافظ سید رسول نیاز صاحب مربی سلسلہ نظارت نشرو اشاعت قادیان نے ’’تمہاری تمام فلاح اور نجات کا سرچشمہ قرآن میں ہے ‘‘ کے عنوان پر کی ہے۔
آپ نے فرمایا کہ اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس نے اپنے متبعین کو حقیقی فلاح ونجات کی خوشخبری دی ہے جبکہ دیگر مذاہب یا تو دائمی نجات کی منکر ہیں یا سچی نجات سے ناواقف ہیں۔ قرآن مجید نے فلاح کو کہیں جنت کا حصول اور رضائے الٰہی قرار دیا ہے تو کہیں گناہ سے اور غضبِ الٰہی سے بچنے کو اصل نجات کہا ہے۔
حضوراکرمﷺ نے فرمایا: تلاوتِ قرآن کا اہتمام کرو کہ یہ دنیا میں نور ہے اور آخرت میں ذخیرہ۔ (ابنِ حبّان/الصحیح)نیزفرمایا: جو شخص اسے آگے رکھے (یعنی اس کی تعلیمات پر عمل کرے)یہ اسے جنّت کی طرف کھینچتا ہے اور جو اسے پسِ پشت ڈال دے، یہ اسے جہنم میں گرا دیتا ہے۔‘‘( المستدرک)حضرت عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے بہت سی قوموں کو اونچا اٹھاتا ہےاور دوسری قوموں کو اس (پر عمل نہ کرنے) کی وجہ سے نیچے گراتاہے۔دعاہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن کریم کی تعلیمات پر عمل کرکےدین ودنیامیں حقیقی فلاح اور نجات حاصل کرنے کی توفیق عطافرمائے۔آمین
اس اجلاس کی دوسری تقریر مکرم کے طارق احمدصاحب، ایڈیشنل ناظر اصلاح وارشاد نورالاسلام قادیان نے’’سوشل میڈیا کا صحیح استعمال اور فوائد اور اس کے غلط استعمال اور مضرات سے اجتناب ، حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ارشادات کی روشنی میں ‘‘کے عنوان پر کی۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے سویڈن کے ایک خادم نے سوال کیا کہ حضور کے نزدیک آج انسانیت کو درپیش سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نےفرمایا:
’’یہ سوشل میڈیا، ٹی وی چینلز، غلط قسم کی حرکتیں، AIوغیرہ یہی Challengesہیں۔ ان کو صحیح طرح استعمال کرو ۔ ان کا استعمال ٹھیک ہے جائز طریقہ سے کرو۔ اسی میڈیا کے اوپر اخلاقیات کی باتیں کرو، مذہب کی باتیں کرو، خدا تعالیٰ کا پیغام سناؤ۔ تو یہی اس کا توڑ ہے۔ ان چیلنجز کا، کہ تمہارے اخلاق بھی درست رہیں گے تمہارا مذہب بھی درست رہے گا… خدا تعالیٰ کی تعلیم اور اس کے احکامات کے مطابق اسی پہ ایسی چیزیں ڈالیں جو لوگ برائیوں کو ہی نہ دیکھتے رہیں بلکہ تمہاری اچھائیوں کو بھی دیکھیں۔ اس طرح اس چیلنج کو کاؤنٹر کرسکتے ہیں۔‘‘
اللہ تعالیٰ ہمیں یہ توفیق عطا فرمائے کہ ہم نئے دور کی ایجادات سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے اپنی تعلیمی، تبلیغی اور تربیتی صلاحیتوں میں اضافہ کرتے چلے جائیں اور ان کا صحیح استعمال کریں اور ان کے غلط استعمال سے گریز کریں۔ آمین۔
اس اجلاس کی تیسری تقریر محترم عطاء اللہ نصرت صاحب نائب ناظر بیت المال آمد قادیان نے’’مالی قربانی کے نتیجہ میں مخلصین جماعت کو عطا ہونے والی برکات ‘‘کے عنوان پر کی۔آپ نے فرمایا جب کوئی مومن اپنے پاس موجود تھوڑے یا زیادہ مال کو خدا کی رضا کے لئے خرچ کرتا ہے تو یہ محض ایک مالی لین دین نہیں ہوتا بلکہ خدا تعالیٰ کے ساتھ ایک زندہ تعلق کی تجدید ہوتی ہے۔ قرآن کریم نےما لی قربا نی کو ایک عظیم الشا ن جہا د قرار دیاہےاور بار بار اس حقیقت کو بیان فرمایا ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اُن پر خدا تعالیٰ کی خاص برکتیں نازل ہوتی ہیں۔ دینی ضروریا ت کی خا طر راہ خدا میں اموال کو خرچ کرنے کا مضمو ن قرآن کریم میں بہت کثرت اور تاکیدکے ساتھ بیان ہو ا ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ دیا ہیکہ وہ عالم الغیب خدا جو تمہاری ہر ما لی قربا نی کو خوب جا ننے والا ہے اس کی جزا گن گن کر نہیں بلکہ بے حساب دیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے اپنی جزاء کو لامتنا ہی رنگ میں بڑھا تا چلا جا تا ہے ۔آپ نے قرآن و حدیث کی روشنی میں مالی قربانی کی اہمیت و برکات و فوائد پر روشنی ڈالی ۔ نیز احباب جماعت کی بے مثال اور عظیم الشان مالی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے اس کے نتیجہ میں ملنے والی برکات کا تذکرہ فرمایا۔
تعارفی تقریر : محترم معین احمد صاحب نیشنل صدر جماعت احمدیہ نیپال نے بیان کیا کہ مَیںنے یہاں قادیان میں 12 سال رہ کر تعلیم حاصل کی۔ مَیں یہی گواہی دیتاہوں کہ اس بستی کی ترقی حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی صداقت کاجیتاجاگتا ثبوت ہے۔ یقیناً قادیان نے سورج کی طرح چمک کردکھلادیاکہ یہ ایک سچے کا مقام ہے۔ دنیابھرکے مہمان اس جلسہ میں شامل ہیں۔ نیپال سے بھی مہمان آئےہوئے ہیں۔ ہم سب جلسہ کے انتظامات سےمطمئن اور بہت خوش ہیںکہ یہاں کی انتظامیہ نے مہمان نوازی کا حق ادا کیا۔ شاملین جلسہ کے لیےحضرت مسیح موعود علیہ السلام اورحضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جو دعائیں کی ہیں وہ سب ہمارے حق میں قبول ہوں۔آمین
تیسرادن دوسرااجلاس(اختتامی)
ٹھیک دو بجے نمازظہروعصرکے معاً بعدجلسہ سالانہ قادیان 2025ءکااختتامی اجلاس زیرصدارت محترم مولانا محمدانعام غوری صاحب ناظراعلیٰ وامیرجماعتِ احمدیہ قادیان منعقدہوا۔ مکرم محمدابراہیم صاحب مبلغ سلسلہ نے سورۃ الشوریٰ کی آیات 16تا18کی تلاوت کی۔جنکا اُردو ترجمہ مکرم محمدہدایت اللہ منڈاشی صاحب نائب ناظرنشرواشاعت قادیان نے سنایا۔ اس کے بعد مکرم تنویراحمدناصر صاحب نائب ناظر نشرواشاعت قادیان نے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کا منظوم کلام نہایت خوش الحانی سے پڑھکرسنایا۔
احباب سارے آئےتُونے یہ دن دکھائے
تیرے کرم نےپیارے یہ مہرباں بلائے
بعدہٗ مکرم منیراحمدحافظ آبادی صاحب سیکرٹری مجلس کارپرداز قادیان نے دوران سال وفات یافتہ موصیوں کے اسماء پڑھ کر سنائے تا کہ اُن کی مغفرت کے لیے احباب جماعت دعا کریں۔محترم صدر اجلاس نے جلسہ سالانہ قادیان کے کامیاب انعقاد میں تعاون کرنے والے حکام اعلیٰ اور تمام احباب کا شکریہ ادا کرنے کے بعد مقامی طور پرٹھیک2 بج کر 45منٹ پر اختتامی دعا کروائی۔
بعدہ لندن سے جلسہ کی اختتامی تقریب کے سلسلہ میں خصوصی نشریات کا آغاز ہوا۔جلسہ سالانہ قادیان میں شامل ہونے والے مخلصین میں پیداہونے والے روحانی جذبات و خیالات اور اُن کی آراء کے حوالہ سے نیز جلسہ سالانہ قادیان کے روح پرور نظاروں اور قادیان دارالامان اور اس میں موجود شعائر اللہ سے متعلق ایک نہایت دلچسپ ڈاکومنٹری ایم ٹی اے بھارت کی طرف سےایم ٹی اے انٹرنیشنل کی زینت بنی۔
بعد ازاں حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خطاب بذریعہ ایم ٹی اے براہ راست لندن سے نشر ہوا۔ جس سے جلسہ گاہ میں بیٹھے شرکاءنے استفادہ کیا۔ حضور کے خطاب کا خلاصہ شمارہ ہذا کے آخری صفحہ پر ملاحظہ فرمائیں ۔
(باقی آئندہ شمارہ میں۔انشاءا للہ ۔۔)