حضور انور ایدہ اللہ کا
دوسرے روز کا بعد دوپہر کا خطاب
حضور انوربرطانیہ کے وقت کے مطابق چار بج کر چار منٹ پر مردانہ جلسہ گاہ میں تشریف لائے۔مکرم مولانا فیروز عالم صاحب نے سورۃ الصف کی آیات7تا10 کی تلاوت کی اور تفسیر صغیر سے اردو ترجمہ پیش کیا۔ مکرم رانا محمود الحسن صاحب مربی سلسلہ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کا منظوم کلام ::
نِشاں کو دیکھ کر اِنکار کب تک پیش جائے گا
ارے اِک اور جھوٹوں پر قیامت آنے والی ہے
پیش کیا۔اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العز یز نے خطاب فرمایا ۔تشہد ،تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:آج کے دن اللہ تعالیٰ کے فضل جو جماعت احمدیہ پر دوران سال ہوئے ہیں ان کا مختصر خاکہ پیش کیا جاتا ہے۔ فرمایا: نئی جماعتوں کا قیام اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس سال دنیا بھر میں 356 نئی جماعتیں قائم ہوئی ہیں۔ ان کے علاوہ1569 نئے مقامات پر احمدیت کا پودا لگا ہے۔ نئی مساجد کا قیام الله تعالیٰ کے فضل سے جماعت کو دورانِ سال عطا ہونےوالی مساجد کی مجموعی تعداد 134 ہے۔ مشن ہاؤسز اور تبلیغی مراکز میں اضافہ الله تعالیٰ کے فضل سے دورانِ سال86 مشن ہاؤسز کا اضافہ ہوا ہے۔وقارِ عمل اِس سال113 ممالک سے موصولہ رپورٹ کے مطابق 60ہزار629 وقارِ عمل ہوئے، جس میں احبابِ جماعت نے چار لاکھ چوالیس ہزار880 گھنٹے کام کیا۔
اِس سال قرآنِ کریم ناظرہ اور انگریزی ترجمہ اَز حضرت مولوی شیر علی صاحب رضی الله عنہ کو رِی پرنٹ کروایا گیا۔ قاعدہ یسّرنا القرآن رِی پرنٹ ہوا۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتاب آئینہ کمالاتِ اسلام ، نزول المسیح، نور الحق حصّہ اوّل دوم ، استفتاء، البلاغ اور پُرانی تحریریں، اِن کے انگریزی تراجم اِمسال طبع ہوئے۔ حضرت مصلح موعودؓ کی تصانیف چشمۂ توحید، حُریّتِ انسانی کا قائم کرنے والا رسولؐ کا بھی انگریزی ترجمہ ہوا ہے۔ اِس کے علاوہ بچوں کی کتابیں خلفائے راشدین اور دوسری اسلامی تاریخ کے بارے میں شائع ہوئی ہیں۔
قرآنِ کریم کا78 زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے اور یہ شائع ہو چکا ہے۔صحیح بخاری معہ ترجمہ و شرح ، جو حضرت سیّد زین العابدین ولی الله شاہ صاحب رضی الله عنہ کا، اردو میں مرتّب کیا ہوا، اُس کی پہلی جِلد کا انگریزی میں ترجمہ ہو گیا ہے اور بُک سٹال میں موجود بھی ہے۔
86 ممالک سے موصولہ رپورٹ کے مطابق دورانِ سال374مختلف کُتب، پمفلٹ اور فولڈرز وغیرہ48 زبانوں میں18 لاکھ51 ہزار کی تعداد میں طبع ہوئے۔ قرآنِ کریم کے مختلف زبانوں میں نئےریوائزڈ ایڈیشن طبع ہوئے۔ اِسی طرح بعض نئے ایڈیشنز میں سورتوں کے تعارف کے ساتھ اور منتخب آیات کے تفسیری نوٹس وغیرہ بھی شائع ہوئے اور اِس میں بھی تقریباً پندرہ مختلف تراجم اور تفاسیر ہیں۔
نظارت نشر و اشاعت قادیان کی رپورٹ ہے کہ قرآنِ شریف اِنہوں نے انڈیا کی چودہ زبانوں میں شائع کیا ہے۔ اِسی طرح میر اسحٰق صاحبؓ والا جو قرآنِ کریم ہے اردو ترجمے کے ساتھ، اِس کو اِنہوں نے منظور فونٹ کے ساتھ تیار کروایا ہے۔اِسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کُتب کے مختلف زبانو ں میں جو تراجم ہیں، اِن میں جرمن زبان میں9 تراجم شائع ہوئے، انگریزی اور سواحیلی زبان میں چھ چھ کُتب کے، ہندی، اُڑیہ اور پنجابی زبان میں چار چار کُتب کے، بنگلہ اور انڈونیشین میں تین تین، فارسی اور رشین میں دو دو کُتب شائع ہوئی ہیں۔
وکالتِ اشاعت ترسیل کے مطابق48 ممالک کو38 زبانوں میں تقریباً پونے دو لاکھ کی تعداد میں کُتب بھجوائی گئیں۔ مختلف ممالک میں بھی مقامی طور پر جماعتی رسالوں کی اشاعت ہو رہی ہے۔ جماعتی رسالوں کے ذریعے فری لٹریچر کی تقسیم جو ہے،5ہزار725 مختلف عناوین کی کُتب ، فولڈر،31 لاکھ40 ہزار سے زیادہ کی تعداد میں تقسیم کیا گیا، اِس طرح 66لاکھ سے زائد افراد تک پیغام اِس ذریعے سے پہنچا۔
جماعتوں میں ریجنل اور مرکزی لائبریریز کا قیام ہوا ہے اور الله تعالیٰ کے فضل سے اِس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بُک سٹال لگائے گئے، بُک فیئرز لگائے گئے، تقریباً89ممالک سے موصولہ رپورٹ کے مطابق12؍ہزار نمائشوں کا انعقاد کیا گیا۔1753 سے زائد قرآنِ کریم کے تراجم تحفۃً مہمانوں کو دیے گئے۔500 بُک سٹال اور بُک فیئرز کے ذریعے لاکھوں کا لٹریچر تقسیم کیا گیا۔عربی ڈیسک کے تحت اب تک شائع ہونے والی عربی کُتب اور پمفلٹ کی تعداد 192 ہے۔ اِس سال چار نئی کُتب چھپی ہیں۔ مرقاۃ الیقین فی حیاۃ نورالدین ، الکفر ملۃ واحدہ کا نظرِ ثانی شدہ ترجمہ، فضائل القرآن اور دعوۃ الامیر شامل ہیں۔ اِسی طرح حضرت مصلح موعود رضی الله عنہ کی کچھ کُتب شائع ہوئی ہیں۔
نئی ڈیجیٹل لائبریری میں اُردو اور انگریزی کی1500 کُتب کے سرچ انجن کا اجرا کیا گیا ہے۔ روحانی خزائن کی پچاس کُتب کی فہرست مضامین کا انگریزی ترجمہ ، کُتب کے ساتھ کراس ریفرنس کا اضافہ کیا گیا ہے۔ روحانی خزائن عربی کا نئی ڈیجیٹل لائبریری میں اضافہ کیا گیا ہے۔31 انگریزی اِی بُکس الاسلام ویب سائٹ پر ڈالی گئی ہیں، اِس طرح اب اِن کی کُل تعداد221 ہو گئی ہے۔ اور مزید بھی الله کے فضل سے کام کر رہے ہیں۔مرکزی شعبہ آئی ٹی یہ لوگ بھی اچھا کام کر رہے ہیں،35 مرکزی شعبہ جات کو آئی ٹی سروس مہیا کر رہا ہے۔
تحریک وقفِ نَو الله تعالیٰ کے فضل سے واقفینِ نَو کی کُل تعداد85 ہزار489 ہے، 49 ہزار668 لڑکے اور35 ہزار621 لڑکیاں ہیں۔ اِس سال 3 ہزار274 درخواستیں موصول ہوئی تھیں، جن پر کارروائی ہو رہی ہے یا منظوریاں بھجوائی گئی ہیں۔ 15سال سے زائد عمر کے واقفینِ نَو کی تعداد44 ہزار 670 ہے اور اِس میں مختلف شعبوں میں، یونیورسٹیوں میں، اسکولوں میں واقفینِ نَو بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ سہ ماہی رسالہ اسماعیل اور مریم جاری ہے۔ انڈیا، انڈونیشیا، جرمنی اور بنگلہ دیش میں یہ رسالے یوکے کے علاوہ شائع ہو رہے ہیں۔
لیف لیٹس اور فلائرز کی تقسیم جو ہے، اِس میں109 ممالک میں 80 لاکھ سولہ ہزار سے زائد لیف لیٹس تقسیم ہوئے۔ دوکروڑ55 لاکھ سے زائد افراد تک پیغام پہنچا۔ یوکے نمبر ایک ہے، اِس میں 14 لاکھ91 ہزار، پھر جرمنی میں 14 لاکھ85 ہزار تقسیم ہوئے ، پھر فرانس ہے، ہالینڈ ہے، بیلجیم ہے، ڈنمارک، پرتگال ہے، سویڈن ہے، آسٹریا ہے۔ افریقہ کے بعض ممالک ہیں۔ امریکہ ، کینیڈا اور امریکن بلاک کے دیگر ملک ہیں، اِنہوں نے بھی12 لاکھ88ہزار سے زائد لیف لیٹس تقسیم کیے۔ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ فار ایسٹ کے ممالک میں 8لاکھ سے زائد تقسیم ہوئے۔ انڈیا، بنگلہ دیش، جاپان اور دیگر ایشیائی ممالک میں 3 لاکھ سے زائد۔
شعبہ مخزنِ تصاویرکے تحت بھی اچھا کام ہو رہا ہے، اِنہوں نے تاریخی تصویری تاریخ کافی جمع کر لی ہے۔احمدیہ آرکائیوز اینڈ ریسرچ سینٹر بھی کام کر رہا ہے، کافی ریکارڈ اِنہوں نے جماعت کا محفوظ کر لیا ہے اور اب اچھا اِن کے پاس مواد جمع ہوگیا ہے۔الفضل انٹرنیشنل کو اِس سال310 شمارے شائع کرنے کی توفیق ملی، اِس میں میرے 52 خُطبات اور14 خطابات شامل ہیں، جو اِنہوں نے شائع کیے۔ بچوں کے اخبار کی کمی پوری کرنے کے لیے بچوں کا الفضل بھی اب شائع کیا جاتا ہے۔ اِن کی رپورٹ یہ ہے کہ الفضل کی ویب سائٹ، ٹوئٹر اور فیس بُک وغیرہ کے ذریعے3 کروڑ48 لاکھ سے زائد لوگوں تک الفضل کے ذریعے پیغام پہنچا ہے۔الحکم انگریزی میں اخبار ہے، اِس کی ویب سائٹ پر آنے والے قارئین کی تعداد10 لاکھ رہی ہے، اِس میں غیر اَز جماعت بھی شامل ہیں، اِنہیں معلومات مہیا کی جاتی ہیں۔ اور اِس سال یومِ خلافت اور فلسطین کے متعلق الحکم پر شائع کیے جانے والے مضامین لوگوں کی توجہ کا مرکز رہے۔ فلسطین پر ایک مضمون ڈیڑھ لاکھ دفعہ پڑھا گیا۔
ریویو آف ریلیجنزجس کا اجرا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا تھا، اِس رسالے کو اب 123سال ہو چکے ہیں اور اِس کی ڈیجیٹل سبسکرپشن شروع کی گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر اِس کی کافی پذیرائی ہے۔ اور200 سے زائد ممالک میں کئی ملین افراد تک اِس کی رسائی ہے۔
پریس اینڈ میڈیا آفس ہے، یہ لوگ بھی اچھا کام کر رہے ہیں، اِنہوں نے اِس سال190 خبریں اور مضامین شائع کروائے، اِس ذریعے سے 30 ملین افراد تک جماعت کا پیغام پہنچا۔ایم ٹی اے انٹرنیشنل کے سولہ ڈیپارٹمنٹ ہیں، یہاں555 کارکنان رات دن خدمت سرانجام دے رہے ہیں، اِن میں سے 299 مرد اور176 خواتین والنٹیئر کام کرنے والے ہیں۔ ایم ٹی اے کے ذریعے سے 8 چینلز پر 24گھنٹے کی نشریات جاری ہیں۔ جن کو آپ جب ایم ٹی اےکی ایپ کھولتے ہیں تو وہاں آپ کو نظر آ جاتا ہے۔ یہ چینلز 11؍ سیٹلائٹس کے ذریعے دنیا کے تمام کناروں تک پیغام پہنچا رہے ہیں۔مجلس نصرت جہاں کے تحت افریقہ کے13ممالک میں 40ہسپتال اور کلینک قائم ہیں۔ 36مرکزی ڈاکٹرز، 53مقامی ڈاکٹرز،74وزیٹنگ ڈاکٹرز خدمت کر رہے ہیں۔ گذشتہ سال پانچ لاکھ مریضوں کو علاج معالجہ کی سہولت فراہم کی گئی۔ اسی طرح 13ممالک میں620پرائمری سکول اور9 ممالک میں 80مڈل سکول کام کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑا اچھا رزلٹ ہے ان سکولوں کا۔
یہاں یوکے میں بھی نصرت جہاں بورڈ کا قیام کردیا گیا ہے جو سارے جائزے لےکر یہاں سے مشینری وغیرہ ہسپتالوں کے لیے غریب ممالک میں بھجواتے ہیں۔ پھر 40 ممالک میں2530 فری میڈیکل کیمپ منعقد ہوئے جن کے ذریعے دولاکھ انسٹھ ہزار سے زائد مریضوں کومفت ادویہ تقسیم کی گئیں۔ آنکھوں کے مفت آپریشن کیے گئے۔ اب تک 23ہزار سے زائد افراد کے مفت آپریشن ہوچکے ہیں۔
ہیومینٹی فرسٹ اب66ممالک میں رجسٹرڈ ہوچکی ہے۔اس کے تحت دورانِ سال8لاکھ82ہزار مریضوں کا علاج کیا گیا۔ بینن اور ٹوگو میں موبائل آئی کلینک کام کر رہے ہیں۔27؍مختلف ممالک میں جہاں جنگی حالات یا قدرتی آفات ہیں وہاں ایک لاکھ بیاسی ہزار افراد کی امداد کی گئی۔غزہ جنگ کے متاثرین کے لیے ہیومنٹی فرسٹ کی ٹیم گذشتہ اکیس ماہ سے خدمت میں مصروف ہے۔ اب تک پانچ لاکھ سے زائد فلسطینیوں کی امداد کی گئی ہے۔ ہیومنٹی فرسٹ کے تحت 100 سکول قائم ہیں جن میں ووکیشنل سکول بھی شامل ہیں۔ اسی طرح قربانی کا گوشت تقسیم کیا جاتا ہے، پانی کےلیے سہولت مہیا کی جاتی ہے۔
رابطہ نومبائعین دورانِ سال 75ممالک میں کُل 32ہزار 627نومبائعین سے رابطہ بحال ہوا۔ ان میں زیادہ تر افریقہ کے ممالک ہیں۔ نو مبائعین کے لیےتربیتی کلاسز اور ریفریشرکورسز کا انعقاد بھی کیا جارہا ہے۔بیعت کرکے جماعت میں شامل ہونے والے 1281اماموں کو بھی ٹریننگ دی گئی۔نئی بیعتوں کی تعداد اس سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب تک بیعتوں کی تعداد 2 لاکھ49 ہزار408 ہے۔ جس میں گذشتہ سال کی نسبت باوجودنامساعد حالات ،تقریباً دس ہزار کا اضافہ ہے۔ 111 ممالک سے تقریباً 500 سےزائد اقوام احمدیت میں داخل ہوئی ہیں۔ سب سے زیادہ بیعتیں کانگو برازاویل میں ہوئی ہیں، پھر نائیجیریا اور اس کے بعد گنی بساؤ ہے۔ ایشیامیں سب سے زیادہ بیعتیں بھارت میں ہوئی ہیں، پھر انڈونیشیا اور بنگلہ دیش ہیں۔ عرب ممالک میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیعتیں ہورہی ہیں جس میں شام، کبابیراور اردن قابلِ ذکر ہیں۔
اسکے بعد حضور انور نے ایسے واقعات بیان فرمائے جس کی وجہ سے لوگوں کا احمدیت کی طرف رجحان ہوا،بیعتوں ہوئیں اور بعض ایسے واقعات بھی بیان فرمائے جن میں مخالفین کے انجام کا ذکر تھا۔مزید براں حضور انور نے حضرت مسیح موعودؑ کی کتب کے حوالے سے بعض تاثرات بیان فرمائے۔اسی طرح حضور انور نے بک فیئر ز اور نمائشوں کے مثبت اثرات،ایم ٹی اے کا مثبت اثر،قبولیت دعا کے واقعات کے بارے میں بیان فرمایا۔نیز حضور انور نے غرباء اور ضرورت مندوں سے اچھے تاثرات کے بارے میں بھی فرمایا۔
حضور انور نے فرمایا: گذشتہ دنوں مایوٹ میں طوفان اور زلزلہ آیا تھا۔ یہاں سے امداد بھی ہم نے بھیجی۔ ہیومینٹی فرسٹ اور جرمنی سے بھی لوگ گئے۔ فون کر کے مشنری انچارج سے بات کی ۔ تو اس بات پر عیسائی مشنری بڑے حیران تھے کہ ہمارے ہاں چرچ تو پوچھتا نہیں ۔ ہمارے ہاں تباہی پر تمہارے خلیفہ کو بڑا فکر ہے اور فون کر کے پوچھ رہا ہے۔ اس سے بڑا اثر ہوا ہے۔ اور لوگوں کی توجہ احمدیت کی طرف ہو رہی ہے۔
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ اور اب یہ لوگ خود سوچ لیں کہ اس سلسلہ کے برباد کرنے کے لئے کس قدر انہوں نے زور لگائے اور کیا کچھ ہزار جان کاہی کے ساتھ ہر ایک قسم کے مکر کیے … پس اگر یہ کاروبار انسان کا ہوتا تو ضرور اُن کی جان توڑ کوششوں سے یہ تمام سلسلہ تباہ ہو جاتا۔ کیا کوئی نظیر دے سکتا ہے کہ اس قدر کوششیں کسی جھوٹے کی نسبت کی گئیں اور پھر وہ تباہ نہ ہوا بلکہ پہلے سے ہزار چند ترقی کر گیا۔ پس کیا یہ عظیم الشان نشان نہیں کہ کوششیں تو اس غرض سے کی گئیں کہ یہ تخم جو بویا گیا ہے اندر ہی اندر نابود ہو جائے اور صفحہ ہستی پر اس کا نام و نشان نہ رہے مگر وہ تخم بڑھا اور پُھولا اور ایک درخت بنا اور اس کی شاخیں دُور دُور چلی گئیں اور اب وہ درخت اِس قدر بڑھ گیا ہے کہ ہزار ہا پرند اس پر آرام کر رہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ آئندہ بھی جماعت کی خدمت کرتے چلے جائیں۔اپنے نیک نمونے قائم کریں اور ہر احمدی کا ایک نمونہ بھی ایک خاموش تبلیغ ہے۔اس لیے ہر احمدی کو اپنی حالتوں کے بدلنے کی طرف توجہ دینی چاہیے تاکہ اسلام احمدیت کا جھنڈا جلد از جلد دنیا میں پھیلائیں۔ جزاک اللہ ۔حضور انور نے آخر پر السلام علیکم ورحمۃ اللہ کا تحفہ عنایت فرمایا اور پنڈال سے باہر تشریف لے گئے۔
مورخہ 27 جولائی 2025
برطانیہ کے وقت کے مطابق صبح 10 بجے مکرم ڈاکٹر مرزا مغفور احمد صاحب امیر جماعت احمدیہ امریکہ کی زیر صدارت جلسہ کا آغاز ہوا۔ مکرم محمود وردی صاحب مبلغ سلسلہ نے سورۃ المؤمن کی آیات 8 تا 10 کی تلاوت کی اور بعدہٗ ترجمہ پیش کیا۔بعدہٗ مکرم حفیظ احمد صاحب نے سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا پاکیزہ منظوم کلام :
اپنے کرم سے بخش دے میرے خدا مجھے
بیمار عشق ہوں ترا دے تُو شفا مجھے
خوش الحانی سے پیش کیا۔
اس اجلاس کی پہلی تقریر مکرم ڈاکٹر افتخار احمد ایاز صاحب( سابق امیر جماعت احمدیہ برطانیہ ،وچیئرمین انٹرنیشنل ہیومن رائٹس کمیٹی برطانیہ) نے اردو زبان میں کی آپ کی تقریر کا عنوان تھا ’’خلافت کے زیرِ سایہ ہمدردی اور اخوت کی اہمیت اور ہماری ذمہ داریاں۔‘‘اجلاس کی دوسری تقریر مکرم ڈاکٹر فہیم یونس قریشی صاحب نائب امیر جماعت احمدیہ امریکہ نے ’’عصر حاضر میں اللہ تعالیٰ کی ہستی کا ثبوت‘‘ کے موضوع پر کی۔آپ کی تقریر انگریزی زبان میں ہوئی۔اس کے بعد مکرم طاہر خالد صاحب مبلغ سلسلہ نے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کا منظوم کلام :
اک رات مفاسد کی وہ تیرہ و تار آئی
جو نور کی ہر مشعل ظلمات پہ وار آئی
بڑی خوش الحانی سے پیش کیا۔ اس اجلاس کی تیسری تقریر ’’بین المذاہب ہم آہنگی کے قیام میں آنحضرت ﷺ کا مبارک اسوہ‘‘کے موضوع پر مکرم ہادی علی چودھری صاحب مبلغ سلسلہ و نائب امیر جماعت احمدیہ کینیڈا نے کی۔
چوتھی تقریر مکرم رفیق احمد حیات صاحب امیر جماعت احمدیہ برطانیہ نے ’’حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کی راہنمائی میں دُنیا بھر میں جماعت احمدیہ کی ترقیات‘‘ کے موضوع پر انگریزی زبان میں کی۔
برطانیہ کے وقت کے مطابق تقریباً ایک بجے عالمی بیعت کی پروقار و بابرکت تقریب منعقد ہوئی۔ حضورپُر نور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا بابرکت کوٹ زیب تن فرمایا ہوا تھا۔ حضور انور نے پہلے انگریزی میں بیعت کے الفاظ دوہرائے بعدہٗ اردو میں دہرائے۔بیعت کے الفاظ کا گیارہ زبانوں میں رواں ترجمہ ہوا۔ اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے دعا کروائی۔ اس موقع پر انتہائی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔ بیعت سے قبل حضورپُر نور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا :
’’ ابھی انشاء اللہ بیعت کی کارروائی ہوگی اس سال جیسا کہ مَیں نے کل بتایا تھا دو لاکھ اُنچاس ہزار چار سو آٹھ افراد کو جماعت احمدیہ میں شمولیت کی توفیق ملی۔مسیح موعود علیہ السلام کو ماننے کی توفیق ملی۔آنحضرت ﷺ کے حکم پر عمل کرنے کی توفیق ملی۔ ایک سو گیارہ ممالک سے تقریبا پانچ سو سے زائد قوموں کے لوگ احمدیت میں داخل ہوئے۔‘‘
اختتامی خطاب27 جولائی بعد دوپہر
اختتامی اجلاس سے قبل مکرم رفیق احمد حیات صاحب کی زیر صدارت مہمانان کرام نے اپنے پیغامات و تاثرات پیش کئے۔نیز ویڈیو پیغامات بھی اسکرین پر دکھائے گئےجن میں پرائم منسٹر یوکے ،کنگ چارلس IIIیوکے، پریزیڈنٹ گھانا کے پیغامات بھی شامل تھے۔ اسی دوران حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اسٹیج پر تشریف لائے اور کرسی پر رونق افروز ہوئے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی موجودگی میں مکرم رفیق احمد حیات صاحب نے گزشتہ سال2024 میں احمدیہ امن انعام حاصل کرنے والی شخصیت’’نِکولو گووونی‘‘ کے متعلق بتایا بعدہٗ نکولو گووونی نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے اپنا پیس پرائز حاصل کیا۔بعدہٗ مکرم رفیق احمد حیات صاحب نے سال 2025 کے لئے احمدیہ پیس پرائز حاصل کرنے والے حقدار کے نام کا اعلان فرمایا جو کہ افریقہ کے Gregoire Ahongbonon ہیں۔
اختتامی اجلاس کی کارروائی کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ مکرم احسان احمد صاحب مبلغ سلسلہ نے سورۃ الحشر کی آیات 19 تا 25 کی تلاوت کی اور ان آیات کا ترجمہ پیش کیا۔ بعدہٗ فرج عودہ صاحب نےحضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عربی قصیدہ بڑی ہی خوش الحانی سے پیش فرمایاجس کا اردو ترجمہ مکرم وسیم احمد فضل صاحب مبلغ سلسلہ نے پیش کیا۔ اس کے بعد مکرم مرتضیٰ منان صاحب نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا منظوم کلام :
ہر طرف فکر کو دوڑا کے تھکایا ہم نے
کوئی دیں، دین محمد سا نہ پایا ہم نے
خوش الحانی سے پڑھ کر سنایا۔اس کے بعد مکرم ندیم الرحمٰن صاحب سیکرٹری تعلیم جماعت احمدیہ یوکے نے تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ کے نام پڑھ کر سنائے۔برطانیہ وقت کے مطابق تین بج کر ستاون منٹ پر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطاب کا آغاز فرمایا۔ حضور انور نے فرمایا :
آج کل کے نام نہاد علماء حضرت اقدس مسیح موعودؑ پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ آپؑنے نعوذباللہ مسیح اور مہدی کا دعویٰ کرکے آنحضرتﷺ کی توہین کی ہے۔یہ ایک ایسا جھوٹا الزام ہے کہ جس کی کوئی حقیقت نہیں۔اگر ان لوگوں میں تھوڑی سی بھی شرم و حیا ہو تو یہ حضرت مسیح موعودؑ کا لٹریچر پڑھیں، اور دیکھیں کہ آپؑنے کیا فرمایا ہے اور پھر یہ کہ اللہ تعالیٰ اور آنحضرتﷺ اس حوالے سے کیا راہنمائی فرماتے ہیں۔ حضورؑ کا تو اعلان یہ ہے کہ مَیں نے جوکچھ بھی پایا ہے وہ آنحضورﷺ کی برکت سے پایا ہے اور میرا دعویٰ تو عین آنحضورﷺ اور قرآن کریم کی پیش گوئیوں کے مطابق ہے۔حضورؑ نے یہ اعلان فرمایا ہے کہ تم مجھے جھوٹا اور دکان داری چمکانےوالا کہتے ہو بتاؤ تو سہی کہ کیا مسلمانوں کی یہ حالت نہیں کہ اِن میں ہر طرح کا بگاڑ پیدا ہوچکا ہے، مخالف ہر طرف سے حملے کر رہا ہے اور مسلمانوں کی عملی حالت انتہائی کمزور ہے۔ عمومی طور پر دنیا خدا سے دُور ہوتی جارہی ہے ، کیا اب بھی کسی مصلح کی ضرورت نہیں جو خدا کی طرف سے ہدایت پاکر اسلام کی خوبصورت تعلیم کو دنیا میں پھیلائے؟ اگر اب بھی اُس مصلح نے نہیں آنا تو بھلا سوچو تو سہی کہ وہ کب آئے گا۔
آپؑنے وضاحت فرمائی کہ یہ وہی زمانہ ہے جس میں یہ حالات ظاہر ہورہے ہیں اور یہ زمانہ ایک مصلح کو پکارپکار کر بلا رہا ہے۔حضورؑ فرماتے ہیں کہ جب آپؑنے اپنا دعویٰ پیش فرمایا اُس دورمیں غیرمذاہب بالخصوص عیسائیت کی طرف سےایسے تابڑ توڑ حملے ہورہے تھے کہ کئی لاکھ مسلمان صرف ہندوستان میں اسلام کو چھوڑ کر عیسائی ہوگئے تھے۔ حضورانور نے فرمایا کہ آج بھی یہ حملے ہورہے ہیں گو بعض جگہوں پر طریقے بدل گئے ہیں مگر افریقہ وغیرہ ممالک میں اب بھی اسی طرح حملے ہورہے ہیں اور لوگوں کو اسلام سے دُور کیا جارہا ہے،باقی جگہوں پر بھی ایسی کوششیں ہوتی رہتی ہیں جن سے لوگ مذہب سے دُور ہورہے ہیں، اسلام کو چھوڑ رہے ہیں یا برائے نام ہی مسلمان ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے لیڈروں یا علماء کو اس طرف کوئی توجہ نہیں، نہ ہی امیر ممالک جہاں تیل کی دولت ہے انہیں کوئی پروا ہے اور نہ اُن ممالک کے لیڈروں کو کوئی فکر ہے جہاں دولت کم ہے۔حالت یہ ہے کہ مسلمان مسلمان کو مار رہا ہے اور اسی لیے غیروں کو جرأت ہورہی ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف کارروائیاں کرسکیں۔ مسلمانوں کی اگر کسی کو فکر تھی تو وہ اُس مصلح اور امام کو تھی جسے خدا نے مسلمانوں کی راہنمائی کےلیے بھیجااور اُس نے یہ فکر اپنی جماعت میں منتقل کی ۔مگر افسوس! کہ یہ اُس امام کو ماننے کےلیے تیار نہیں ہیں۔اسی دَور کا نقشہ کھینچتے ہوئے حضورؑ فرماتے ہیں اے مسلمانو! جو اولوالعزم مومنوں کے آثارِ باقیہ اور نیک لوگوں کی ذریت ہو انکار اور بدظنّی کی طرف جلدی نہ کرو اور اِس خوفناک وبا سے ڈرو جو تمہارے گِرد پھیل رہی ہے اوربےشمار لوگ اس کے دامِ فریب میں آگئے ہیں ۔ تم دیکھتے ہو کہ کس قدر زور سے دینِ اسلام کو مٹانے کےلیے کوشش ہورہی ہے ۔ کیا تم پر یہ حق نہیں کہ تم بھی کوشش کرو ۔اسلام انسان کی طرف سے نہیں کہ انسانی کوششوں سے برباد ہوسکےمگر افسوس اُن پر ہے جو اس کی بیخ کنی کے درپے ہیں، اورپھر دوسرا افسوس اُن پر ہےجو اپنی عورتوں اور اپنے بچوں اور اپنے نفس کی عیاشیوں کے لیے تو اُن کے پاس سب کچھ ہے مگر اسلام کے حصّے کا اُن کی جیب میں کچھ بھی نہیں ہے۔
حضورانور نے فرمایا مغربی دنیا اسلام کے اِس لیے خلاف ہے کیونکہ انہیں مسلمانوں میں صحیح اسلام کا نمونہ نظر نہیں آتا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کا فرض تھا کہ اسلام کی محبوبانہ شکل دکھلانے کےلیے جان توڑ کوشش کرتے، اور مال کیا بلکہ خون کو بھی پانی کی طرح بہاتے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں بعض بظاہر دین کی خدمت کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر جس طرح تعلیم دیتے ہیں وہ شدّت کی تعلیم ہے۔خدا تعالیٰ سورۃ القدر میں مسلمانوں کو بشارت دیتا ہے کہ اُس کا کلام اور اُس کا نبی لیلۃ القدر میں آسمان سے اتارا گیا ہے اور ہر ایک مصلح اور مجدد جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے وہ لیلۃ القدر میں ہی اترتا ہے۔حضورِانور نے فرمایا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہرسال ہزاروں لوگ احمدیت قبول کرتے ہیں اور اسلام میں داخل ہوتے ہیں، انہیں جب ہدایت ملتی ہےتو وہ اُسے قبول کرتے ہیں اور ضد نہیں کرتے۔ پس اسی طرح ہر ایک کو چاہیے کہ ضد کرنے کی بجائے ان حالات پر غور کرے اور پھر دیکھے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کیا چاہتا ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں ذرا سوچو یکسر الصلیب یعنی صلیب کو توڑنے کی خدمت کس کے سپرد ہے۔ یہ مسیح موعود کے ہی سپرد ہے اور کیا یہ وہی زمانہ ہے یا کوئی اور؟سوچو! خدا تمہیں تھام لے۔حضورانور نے فرمایا کہ آج اسلام پر ہر طرف سے حملے ہورہے ہیں، اسلام کے خلاف کتابیں شائع کی جارہی ہیں اور مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ وہ بعض محفلوں میں خود کو مسلمان ظاہر کرتے ہوئے شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔ ایسے میں احمدی مسلمانوں کا فرض ہے کہ نہ صرف اسلام کی خوبصورت تعلیم کو دنیا میں پھیلائیں بلکہ اپنے عملوں سے بھی اس خوبصورت تعلیم کو ظاہر کریں۔حضورانور نے فرمایا بعض افراد اور گروہ گو اسلام کی خدمت کر رہے ہیں مگر وہ یہ خدمت جنگ اور ہتھیار سے کرنا چاہتے ہیں ۔ مگر ہتھیاروں کے لیے بھی یہ ان مغربی ممالک کی طرف ہی دیکھتے ہیں، اب اس طرح انہوں نے کیا اسلام کی خدمت کرنی ہے۔
نااتفاقی کا یہ عالَم ہے کہ ایک دوسرے کا ساتھ دینا تو دُور کی بات یہ ایک دوسرے کے حق میں آواز اٹھانا بھی نہیں چاہتے۔ آج فلسطین کے لیے کون آواز اٹھا رہا ہے؟ کوئی بھی نہیں۔ ان مسلمانوں کو اگر کوئی فکر ہے تو یہ کہ احمدیوں کو ختم کیا جائے۔یہ عقل کے کورے نہیں جانتے کہ احمدی تو جو قربانیاں دے رہے ہیں وہ آنحضورﷺکے پیغام کو دنیا میں پھیلانے اور اسلام کی اشاعت کے لیے ہی دے رہے ہیں۔
حضورِانور نے نواب صدیق حسن خان کی کتاب حجج الکرامہ کے حوالے سے حدیث کسوف وخسوف کی بحث بیان فرمائی اور پھر حضرت اقدس مسیح موعودؑ کا قاطع استدلال پیش فرمایا۔ حضورؑ اپنے ایک پُرشوکت الہام کو پیش کرکے فرماتے ہیں مجھے ایک ایسا نشان دیا گیا ہے جو آدم سے لےکر اس وقت تک کسی کو نہیں دیا گیا۔
مَیں خانہ کعبہ میں کھڑے ہوکر قسم کھاسکتا ہوں کہ یہ نشان میری تصدیق کے لیے ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اسلام نہایت کمزور اور یتیم بچے کی طرح ہوگیا ہے ۔ اس وقت خداتعالیٰ نےمجھے بھیجا ہے تاکہ مَیں ادیانِ باطلہ کے جھوٹے حملوں سے اسلام کو بچاؤں۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ منجملہ اُن دلائل کے جو میرے مسیح موعود ہونے پر دلالت کرتے ہیں وہ ذاتی نشانیاں ہیں جو مسیح موعود کی نسبت بیان فرمائی گئی ہیں اور اُن میں سے ایک بڑی نشانی یہ ہے کہ مسیح موعود کے لیے ضروری ہے کہ وہ آخری زمانے میں پیدا ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن و حدیث کی روشنی میں اس زمانے کا آخری زمانہ ہونا ثابت فرمایا ہے۔ مثلاً آخری زمانے کی پیش گوئیوں میں بکثرت ستاروں کے ٹوٹنے کاذکر ہے، اسی طرح ایک شدّت کے کسوف کی بھی خبر ملتی ہے۔ صحائف کے کثرت کے ساتھ نشر کی بھی خبر دی گئی تھی۔حضورِانور نے حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے ارشادات کی روشنی میں آخری زمانے کی نشانیوں کا تذکرہ فرمایا۔ آپؑفرماتے ہیںپس ضرورتِ زمانہ بھی ہے ، پیش گوئیاں بھی پوری ہورہی ہیں، اور اللہ تعالیٰ کی تائیدات بھی شامل ہیں۔
فرمایا خدا تعالیٰ نے مجھے وہ نعمت بخشی ہے جو میری کوشش سے نہیں بلکہ شکمِ مادر میں ہی مجھے عطا کی گئی ہے۔ میری تائید میں اُس نے وہ نشان ظاہر فرمائے ہیں جن کی تعداد بےشمار ہے۔ بعض نشان اس قسم کے ہیں جن میں خداتعالیٰ نے ہر ایک محل پر اپنے وعدے کے موافق مجھ کو دشمنوں کے شرسے محفوظ رکھااور بعض نشان اس قسم کے ہیں جن میں ہر محل پر اپنے وعدے کے موافق میری ضرورتیں اور حاجتیں اس نے پوری کیں اور بعض نشان اس قسم کے ہیں کہ اس نے بموجب اپنے وعدہ انی مھین من اراد اھانتککہ میرے پر حملہ کرنے والوں کو ذلیل و رسوا کیا۔ بعض نشان اس قسم کے ہیں کہ مجھ پر مقدمہ دائر کرنے والوں پر اس نے اپنی پیش گوئیوں کے مطابق مجھ کو فتح دی…اور بعض نشان اس قسم کے ہیں کہ جن میں دوستوں کے حق میں میری دعائیں قبول ہوئیں، اور بعض نشان اس قسم کے ہیں جن میں شریر دشمنوں پر میری بد دعا کا اثر ہوا، اور بعض نشان اس قسم کے ہیں کہ میری دعاسے بعض خطرناک بیماروں نے شفا پائی… اور بعض نشان اس قسم کے ہیں جو میری تصدیق کے لیے بعض بڑے بڑے ممتاز لوگوں کو جو مشاہیر فقراء میں سے تھے خوابیں آئیں۔
حضورِانور نے فرمایا آج تک یہ تائیدات و نشانات نظر آرہے ہیں۔دنیا میں پھیلی ہوئی جماعت اور ہر ملک میں پیش گوئی کےمطابق آپ کی بیعت میں لوگوں کا آنا کیا یہ خدا تعالیٰ کی تائید کی نشانی نہیں؟کاش! کہ یہ لوگ عقل کریں۔ پس یہ سب باتیں ان لوگوں کے سوچنے کےلیے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے عقل دی ہے اگر آنکھوں پرپردے نہ پڑے ہوں اور انصاف کے تقاضوں سے پرکھنے کی کوشش کی جائے تو یہ ماننا پڑے گا کہ آپؑ ہی زمانے کی ضرورت کے مطابق ، عین وقت پر مسیح و مہدی کے مقام پر فائز ہوکر خدا تعالیٰ کی طرف سے آئے ہیں اورگذشتہ ایک سَو چھتیس سالہ جماعتِ احمدیہ کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ یقیناً خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت آپؑ اور آپؑ کی جماعت کے ساتھ ہے۔آج دنیا کے ہر ملک میں جماعت کا قیام، تبلیغ کا کام، لوگوں کا جماعت کی طرف رجحان، اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر ممکن نہیں ۔
اب مخالفین جتنی مرضی کوششیں کرلیں یہ سلسلہ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت سے پھیلتا ہی چلا جائے گا اور چلا جارہا ہے۔لیکن ساتھ ہی یہ ہم پر بہت بڑی ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ صرف آپؑکو ماننے یا نعرے لگانے سے ہم اپنا مقصد نہیں پاسکتے۔ہمیں بھی اپنی حالتوں کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی تعلیم کے مطابق ڈھالنے اور اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔جب ہم اپنے اندر حقیقی انقلاب پیدا کریں گے تب ہی ہم حضرت مسیح موعودؑ کے حقیقی مددگار بن سکیں گے اور حقیقی مددگار بن کر دنیا کو آنحضرتﷺ کی آغوش میں لانے والے بن سکیں گے۔ تب ہی ہم خداتعالیٰ کی وحدانیت کو دنیا میں قائم کرنے والے بن سکیں گے۔ دنیا کو آنحضرتﷺ کے جھنڈے تلے لانے والے بن سکیں گے۔ خدا تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔خطاب کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دعا کروائی۔آخر میں حضور انور نے فرمایا کہ سکیننگ کی رپورٹ کے مطابق اس سال کی حاضری چھیالیس ہزار اکسٹھ(۴۶۰۶۱) ہے جو گذشتہ سال سے تین ہزار زیادہ ہے۔بعد ازاں مختلف گروپس نے مختلف زبانوں میں ترانے پڑھے۔
(بشکریہ الفضل انٹرنیشنل لندن)
…٭…٭…٭…