اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-08-07

حدیقۃ المہدی میں 59ویں جلسہ سالانہ یُو.کے کا، کامیاب و بابرکت انعقاد، دُنیا بھر سےتقریباً پچاس ہزار عشاق احمدیت کی شمولیت

معائنہ انتظامات جلسہ
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مورخہ 24 جولائی یوکے کے وقت کے مطابق تقریباً شام 7 بجے جلسہ گاہ تشریف لائے۔ تلاوت و نظم کے بعد حضور انور نے کارکنان سے خطاب فرمایا۔ فرمایا: اصل چیز یہ ہے کہ کام جب آپ کر رہے ہوں اور جو کامیابیاں آپ کو ملیں اس کو اپنی کسی مہارت پہ محمول نہ کریں۔یہ نہ سمجھیں کہ آپ کی ذات سے، آپ کے کمال کی وجہ سے، آپ کے علم کی وجہ سے، آپ کی محنت کی وجہ سے وہ کام ہوا ہے۔ہمارے کام اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوتے ہیں۔ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کو یاد رکھیںاور جب یہ کریں گے آپ تو آپ کے کاموں میں انشاءاللہ تعالیٰ برکت پڑتی چلی جائے گی۔ آنحضرت ﷺ کی یہ ہدایت یاد رکھیں کہ مہمان کی تم عزت کرو،اس کا احترام کرو اور سلام کو رواج دو۔کیونکہ سلام کے رواج سے محبت اور پیار کی فضا پیدا ہوتی ہے۔ آپس میں بھی محبت اور پیار کی فضا پیدا کریں اور مہمانوں کے ساتھ بھی۔بعض دفعہ آپس میں بھی رنجشیں پیدا ہوتی ہیں کارکنوں کی یا افسروں کے ساتھ۔ کسی قسم کی رنجش نہیں ہونی چاہئے۔پس اصل چیز یہی ہے کہ آپ لوگ خوش مزاجی سے خوش اخلاقی سے اپنے کام کریں اور اپنی ہر کامیابی کو اللہ تعالیٰ کے فضل کا نتیجہ سمجھیں۔اللہ تعالیٰ آپ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔اس کے بعد حضور انور نے دعا کروائی۔ بعدہٗ حضور انور نے حدیقۃ المہدی میں قائمmta انٹرنیشنل کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ فرمایا۔خطاب سےقبل حضور انورنےمردانہ و زنانہ جلسہ گاہ میں مختلف شعبہ جات کا معائنہ فرمایااورشعبہ نمائش میں بھی تشریف لے گئے اور مختلف نمائشوں ہیومنٹی فرسٹ، ریویو آف ریلیجنز، IAAAE، ہیومن رائٹس ڈیسک، شعبہ تاریخ، جامعہ احمدیہ یوکے، وقف نو،الفضل انٹرنیشنل اور مخزن تصاویر کا معائنہ فرمایا ۔
معائنہ جلسہ گاہ مستورات و کارکنات سے خطاب
نمائشوں وغیرہ کا معائنہ فرمانے کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مستورات کے جلسہ گاہ میں رونق افروز ہوئے اور کارکنات کو ہدایات سے نوازا۔فرمایا: کھانا کھلانے والیاں اور سیکورٹی والیاں خوش دلی سے مہمانوں کی خدمت کریں مگر ساتھ ساتھ بہت زیادہ چوکس رہنے کی بھی ضرورت ہے۔ سیکورٹی والیوں ہوشیار رہنےکی ضرورت ہے۔فرمایا : لوگ ہمیشہ لجنہ کی خدمات کی تعریف کرتے ہیں، لجنہ کو بھی چاہئے کہ اس تعریف کو اللہ کا فضل سمجھیں، پر سکون رہیں اور دعاؤں کے ساتھ کام کریں۔
پہلادن 25جولائی2025 بروز جمعہ
ہندوستانی وقت کے مطابق رات 9 بجے کے قریب حضور انور نے لوائے احمدیت لہرایا جبکہ محترم رفیق احمد حیات صاحب امیر جماعت احمدیہ برطانیہ نے برطانیہ کا قومی پرچم لہرایا۔ اس کے بعد حضورانور نے دعا کروائی اور جلسہ سالانہ کے افتتاحی اجلاس کے لیے جلسہ گاہ میں تشریف لے گئے۔تلاوت قرآن کریم سے پروگرام کا آغاز ہوا۔ مکرم راشد خطاب صاحب نے سورہ آل عمران کی آیات 103تا 108 کی تلاوت کی اور مکرم نصیر قمر صاحب نے ترجمہ پیش کیا۔ نظم مکرم محمد عصمت اللہ صاحب نےحضرت مسیح موعود علیہ السلام کا منظوم کلام
ہمیں اس یار سے تقویٰ عطا ہے
نہ یہ ہم سے کہ احسانِ خدا ہے
خوش الحانی سے پڑھ کر سنایا۔ جلسہ گاہ کے ارد گرد کا ماحول چمچماتی دھوپ کی وجہ سے بہت ہی نکھرا نکھرا اور خوشنما نظر آرہا تھا۔ مختلف ممالک میں ایک جگہ جمع ہوکر جلسہ سننے والے احمدیوں کو بھی Live دکھایا جارہا تھا ، یہ نظارہ بہت ہی ایمان افروز تھا۔اس کے بعد سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فارسی منظوم کلام مکرم عمر شریف صاحب نے پڑھااورترجمہ مکرم جواد قمر صاحب نے پیش کیا۔
خلاصہ خطاب حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ 
آج کل دنیا کےجو حالات ہیں اس نے ہرایک کو فکرمیں ڈالا ہوا ہے۔فکرکا اظہار تو سب کرتے ہیں مگر اس کے حل کی طرف کسی کی بھی توجہ نہیں۔ دنیاکی اکثریت بھول گئی ہے کہ دنیاکا ایک مالک ہے جو ربّ العالمین ہے۔وہ خداہے جس نے انسان کو تمام اچھی صفات کے ساتھ پیداکیا ہے مگر انسان ان صفات سے فائدہ اٹھانا نہیں چاہتا،نیکی کی بجائے برائی کی طرف زیادہ رجحان ہے۔ اپنے پیدا کرنے والے خدا کی بجائے شیطان کے حربوں کی طرف زیادہ جھکاؤہے۔ اس میں مذہب کو ماننے والے اور خدا کے منکر سب شامل ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ خدا کو ماننے کا دعویٰ کرنے والے بھی دنیا کے دھندوں، ذاتی خواہشات اور اناؤں میں ڈوب کر خدا کا اپنے عمل سے انکار کر رہے ہیں۔ گو منہ سے تو یہی کہتے ہیں کہ ہم خدا کو مانتے ہیں مگر ان کے عمل کچھ اور ہی ظاہر کرتے ہیں۔ مسلمانوں کی اکثریت بھی حقوق اللہ اور حقوق العباد کو بھلا بیٹھی ہے۔ سربراہانِ مملکت بھی خدا کو فراموش کر بیٹھے ہیں، اسی لیے انہیں اپنی حکومتیں قائم رکھنے کے لیے خدا کی بجائے غیروں کی طاقت کاسہارا لینا پڑ رہا ہے۔ خدا کو بھول کر اپنی عزت اور وقار اور طاقت سب گنوا بیٹھے ہیں۔ یہ بھول گئے ہیں کہ خدا نے مسلمانوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اُن کی اصلاح کے لیے اپنے خاص تائید یافتہ اور علم سے پُر بندے بھیجتا رہے گا، وہ اگر اُن کی پیروی کریں گے تو ان کی دنیا و آخرت دونوں سنور جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے آخری زمانے میں تو ایک خاص فرستادے کو بھیجنے کا وعدہ فرمایا تھاجو مسیح و مہدی کے نام سے آئے گا۔ بدقسمتی سے مسلمانوں کی اکثریت اس کے بالکل الٹ کر رہی ہے۔ان حالات میں ہم احمدیوں کی ذمہ داری ہے کہ اس بات کو سمجھیں اور حضرت مسیح موعودؑ کو ماننے کا حق ادا کرنے کی کوشش کریں، آپؑکو مانا ہے تو آپؑکی باتیں سنیں، اُن پر غور کریں اور ان پر عمل کرکےاپنی دنیا و آخرت سنواریں، اپنی اولادوں کی بھی حفاظت کریں اور دنیا کو بھی صراطِ مستقیم پر لانے کے لیے خود کوشش کریں۔ اگر ہم نے اس طرف توجہ نہ کی تو ہم بھی نام نہاد مسلمانوں کی طرح ہوجائیں گے۔ آپؑہمیں تقویٰ کے اعلیٰ معیار قائم کرنے والا بنانا چاہتے ہیں۔
فرمایا: حقیقی احمدی بننے کے لیے ضروری ہے کہ ہم تقویٰ پر چلنے اور خدا تعالیٰ کے حقیقی عبد بننے کی کوشش کریں۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے آپ سب جلسے پر آئے ہیں۔ پس اس کے لیے اپنے اندر عاجزی پیدا کرنے، ہر قسم کے تکبر سے بچنے، ریاء سے پرہیز کرنے، سچائی پر قائم رہنے،صبر اور استقامت پر مضبوطی سے قائم ہونے کی ضرورت ہے۔
حضورِانور نے فرمایا کہ اسلام کوختم کرنے کے لیے مختلف طریقے اپنائے جارہے ہیں۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم جغرافیائی جنگیں لڑ رہے ہیں۔ ٹھیک ہے سیاسی اور جغرافیائی جنگیں لڑی جارہی ہیں، مگر آج بھی بہت سے لوگوں کے دلوں میں اندر ہی اندر اسلام کے خلاف کینہ اور بغض ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ آج تو فلسطین پر حملہ ہے مگر مَیں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ باقی مسلمان ملک بھی متاثر ہوں گے۔پس اب بھی وقت ہے کہ مسلمان عقل سے کام لیں اور اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے جو فرستادہ بھیجا ہے اس کو ماننے والے بنیں اور ایک ہوکر اللہ تعالیٰ کے حضور اس کے احکامات پر چلتے ہوئے گڑگڑائیں اور روئیں اور اُس کی مدد مانگیں اور عملی طور پر بھی جو اللہ تعالیٰ کے احکامات ہیں ان پر عمل کرکے اپنی ساخت کو برقرار رکھنے کی کوشش کریں تو پھر دیکھیں کہ کیا انقلاب پیدا ہوتا ہے۔ اگر یہ نہیں تو پھر اللہ تعالیٰ کو کوئی پرواہ نہیں۔فرمایا : ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ ہم نے خدائے واحد کی حکومت کو دنیا میں قائم کرنا ہے۔ اس کے لیے ہم نے بھرپور کوشش کرنی ہے اور دنیا کو آنحضرتﷺ کے جھنڈے تلے لےکر آنا ہے۔ اگر یہ ہم کریں گے تو یہی ہماری کامیابی اور ہمارا مقصد ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ لوگ میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر یہ تو کہہ جاتے ہیں کہ دین کو دنیا پر ترجیح دوں گا لیکن یہاں سے جاکر بھول جاتے ہیں کہ وہ کیا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔اصل بات یہی ہے کہ صرف عہد کافی نہیں…بلکہ اس کے لیے عمل ضروری ہے۔ تقویٰ ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ سے تعلق ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کرنا ضروری ہے۔حقوق العباد کے متعلق آپؑنے فرمایا اللہ تعالیٰ کسی کی پرواہ نہیں کرتا مگرصالح بندوں کی، آپس میں محبت اور اخوت کو پیدا کرو اور درندگی اور اختلاف کو چھوڑ دو۔ ہر ایک قسم کے تمسخر سے مطلقاً کنارہ کش ہوجاؤ کیونکہ تمسخر انسان کے دل کو صداقت سے دُور کرکے کہیں سے کہیں پہنچا دیتا ہے۔آپؑنے اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا اپنی زندگی میں ایسی تبدیلی پیدا کرلو کہ معلوم ہو کہ گویا نئی زندگی ہے۔ استغفار کی کثرت کرو،جن لوگوں کو بوجہ کثرتِ اشغال دنیا کم فرصتی ہے انہیں سب سے زیادہ ڈرنا چاہیے۔
حضورؑ نے فرمایا اگر تم اللہ تعالیٰ کے حضور میں صادق ٹھہرو گے تو کسی کی مخالفت تمہیں تکلیف نہ دے گی۔ اگر تم اپنی حالتوں کو درست نہ کرو اور اللہ تعالیٰ سے فرمانبرداری کا سچا عہد نہ باندھو تو پھر اللہ تعالیٰ کو کسی کی پرواہ نہیں۔ ہزاروں بھیڑیں اور بکریاں روز ذبح ہوتی ہیں اور اُن پر کوئی رحم نہیں کرتا اور اگر ایک آدمی مارا جائے تو کتنی بازپرس ہوتی ہے کیونکہ انسان کی زندگی کی قیمت ہے۔فرمایا تم خدا کے عزیزوں میں شامل ہوجاؤ تاکہ کسی وبا یا آفت کو تم پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہ ہوسکے۔ ہر ایک آپس کے جھگڑے اور جوش اور عداوت کو درمیان سے اٹھادو کہ اب وہ وقت ہے کہ تم ادنیٰ باتوں سے اعراض کرکے اہم اور عظیم الشان کاموں میں مصروف ہوجاؤ۔ لوگ تمہاری مخالفت کریں گے مگر تم انہیں نرمی سے سمجھاؤ اور جوش کو ہرگز کام میں نہ لاؤ۔ یہ میری وصیت ہے۔
حضورِانور نے فرمایا کہ پس یہ باتیں ہیں اگر ہم انہیں یاد رکھیں گے تو ہم اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے وارث بنتے چلے جائیں گے۔خدا تعالیٰ کرے کہ ہم حضرت مسیح موعودؑ کی نصائح پر عمل کرتے ہوئے ان باتوں کو اختیار کرنےو الے ہوں اور جلد ہم وہ نظارہ دیکھیں کہ جب اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے جماعت احمدیہ آنحضرتﷺ کے جھنڈے کو تمام دنیا کے کونوں میں گاڑنے والی ہو، پہنچانے والی ہو اور خدائے واحد کی حکومت کو دنیا میں قائم کرنے والی ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ خطاب کے ختم ہونے پر حضور انور نے دعاکرائی۔ خطاب کے اختتام پر اسٹیج سے پُرجوش نعرے لگائے گئے۔ بعدہٗ حضور انور حاضرین کو السلام علیکم کہہ کر رخصت ہوئے۔
26 جولائی 2025بروز ہفتہ
پہلا سیشن
اس سیشن کی صدارت مکرم بلال ایٹکینسن صاحب نےکی۔ مکرم راحیل احمد صاحب مربی سلسلہ نے سورۃ العنکبوت کی آیات 48 تا52کی تلاوت کی اور اسکا اردو ترجمہ پیش کیا۔مکرم ندیم زاہد صاحب نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے منظوم کلام:  
دوستو ہرگز نہیں یہ ناچ اور گانے کے دن
مشرق و مغرب میں ہیں یہ دیں کے پھیلانیکے دن
سے چند اشعار خوش الحانی سے پڑھے۔ پہلی تقریرمکرم مولانااظہر حنیف صاحب نائب امیر و مبلغ انچارج امریکہ نے ’’اسلامی تعلیمات کی روشنی میں معاشرتی و اخلاقی زوال کی روک تھام‘‘کے موضوع پر کی۔دوسری تقریر مکرم ناظرصاحب اعلیٰ قادیان نے ’’حضرت مسیح موعودعلیہ السلام، آنحضرت ﷺ کےحقیقی غلامِ صادق‘‘کےعنوان پر کی۔ اس تقریر کے بعد مکرم عبد الحئی سرمد صاحب متعلم جامعہ احمدیہ یوکے نے حضرت مسیح موعودؑ کا منظوم کلام
جمال و حسنِ قرآں نورِ جانِ ہر مسلماں ہے
قمر ہے چاند اوروں کا ہمارا چاند قرآں ہے
خوش الحانی سے پیش کیا۔
آخری تقریر مکرم زاہد خان صاحب صدر قضاء بورڈ، یوکے نے ’’قرآنِ پاک کی سچائی کی حمایت میں جدید سائنسی دریافتیں‘‘ کے موضوع پر کی۔
خطاب حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ
حضورِ انور برطانیہ کے وقت کے مطابق بارہ بج کر پانچ منٹ پر جلسہ گاہ مستورات میں رونق افروز ہوئے۔ اجلاس کی کارروائی کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ مکرمہ آمنہ العیساوی صاحبہ نے سورۃالاحزاب کی آیات 36تا 37 کی تلاوت کی اور مکرمہ سائحہ معاذ صاحبہ نے ان آیات کا اردو ترجمہ پیش کیا۔ اس کے بعد مکرمہ سلونی رشید صاحبہ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا منظوم کلام
حمد و ثنا اُسی کو جو ذات جاودانی
ہمسر نہیں ہے اُس کا کوئی نہ کوئی ثانی
خوش الحانی کے ساتھ پیش کیا۔بعدہٗ مکرمہ ڈاکٹر رابعہ احمد صاحبہ سیکرٹری امور طالبات لجنہ اماءاللہ یوکے نے تعلیمی میدان میں اعلیٰ کامیابی حاصل کرنے والی طالبات کے نام پیش کئے۔بعدہٗ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے لجنہ سے خطاب فرمایا۔
تشہد ،تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:آج آپ جلسہ سالانہ یوکے میں شامل ہوئی ہیں۔جلسہ سالانہ کا مقصد یہ ہے کہ آپ اپنی علمی، روحانی اورعملی ترقی میں اپنا کردار بڑھانے والی بنیں۔الله تعالیٰ نے عورت کو اسلام کی تعلیم کےذریعے جو مقام دیا ہے، اگر ہر عورت اُسے یاد رکھے اور اپنی ذمہ داریاں نبھانے والی ہو، اپنی ذاتی اصلاح کے ساتھ ، اپنی اولاد کا حق ادا کرنے والی ہو، اُن کی تربیت کرنے والی ہو اور جو حقوق اسلام نے عورت کے قائم کیے ہیں، اُن کی شکر گزاری کرنے والی ہو، تو وہ نہ صرف اپنی زندگی میں انقلاب لانے والی ہو گی، بلکہ اپنی اولاد کی زندگیوں میں بھی انقلاب لانے والی ہو گی اور جماعت کے لیے ایک ایسا وجود بن جائے گی، جس کا جماعت کی ترقی میں ایک اہم کردار ہو گا۔
حضور انور نے فرمایا کہ بہت ساری لڑکیاں سوال کرتی ہیں کہ ہم اپنی دنیاوی تعلیم کے ساتھ جماعت کیلئے کیسےمفید وجود بن سکتی ہیں؟اگر لڑکیاں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں تو جس فیلڈ میں بھی وہ ہوں، جس شعبے میں بھی ہوں، یا گھرداری کرنے والی خاتون ہوں، جماعت کے لیے ایک مفید وجود بن سکتی ہیں۔فرمایا:آپ میں سے جو چھوٹے بچوں کی مائیں ہیں یا جوان بچوں کی مائیں ہیں یا جوانی میں قدم رکھنے والے بچوں کی مائیں ہیں یا آئندہ ان شاء الله آنے والی نسلوں کی مائیں بننے والی ہیں، آپ سب کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیےکہ ہم ہی وہ لوگ ہیں جو معاشرے کی اصلاح کرنے والے ہیں اور اِسکے لئے ہمیں الله تعالیٰ کے حکموں پر چلتے ہوئے، اپنی اصلاح کرتے ہوئے، اپنی دینی ، علمی، عملی اور روحانی حالت کو بہتر کرتے ہوئے ایک انقلاب لانا ہے۔ اِس کے لیے اسلامی تعلیم کے ذریعےوہ راستے تلاش کر کےاُن پر عمل کرنا ہے، جو ہماری نسلوں کو بھی محفوظ کرنے والے ہوں اور ہماری جماعت کی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کرنے والے ہوں۔
حضور انور نے فرمایا : الله تعالیٰ نے عورت کو بڑا مقام دیا ہےاور اِس لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نےاِس کی تشریح بہت اعلیٰ رنگ میں فرماتے ہوئے متعدد جگہ پرعورتوں کے حقوق کے بارے میں فرمایا۔ کیونکہ ہمارے معاشرے میں بعض دفعہ دیکھا جاتا ہے کہ عورت کو وہ عزت اور مقام نہیں دیا جاتا اور اِسکے حقوق کی وہ حفاظت نہیں کی جاتی جوہونی چاہیے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ یہ مت سمجھو کہ عورتیں ایسی چیزیں ہیں کہ اِن کو بہت ذلیل اور حقیر قرار دیا جاوے، نہیں!نہیں! ہمارے ہادیٔ کامل رسول اللہ صلی للہ علیہ وسلم نے فرمایا :خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِاَھْلہٖ تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جس کا اپنے اہل کے ساتھ عمدہ سلوک ہو۔
بیوی کے ساتھ جس کا عمدہ چال چلن نہیں اور معاشرت اچھی نہیں وہ نیک کہاں ؟دوسروں کے ساتھ وہ نیکی اور بھلائی تب کرسکتا ہےجب وہ اپنی بیوی کے ساتھ عمدہ سلوک کرتا ہواورعمدہ معاشرت رکھتاہو نہ یہ کہ ہر ادنیٰ بات پر زدو کوب کرے۔
بیویوں کے واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وَعَاشِرُوْہُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ یعنی اِن سے اچھے طریقے سے، معروف طریقے سے سلوک کرو۔ ہاں! اگر وہ بے جا کام کریں تو تنبیہ ضرورہونی چاہیے۔ انسان کو یہ چاہیے کہ عورت کے دل میں یہ بات جما دے کہ وہ کوئی ایسا کام جو دین کے خلاف ہو کبھی پسند نہیں کر سکتااور ساتھ ہی وہ ایسا جابر اور ستم شعار نہیں کہ اُس کی کسی غلطی پر چشم پوشی نہ کر سکے۔حضور انور نے فرمایا:بہت ساری شکایتیں آتی ہیں، بہت ساری عورتیں لکھتی ہیں کہ مرد باہر کے معاشرے میں، جماعتی کاموں میں، لوگوں کے سامنے تو بہت شریف کہلاتے ہیں اور لوگ سمجھتے ہیں کہ اُن جیسا کوئی نیک شخص نہیں،ایسا خوش اخلاق کوئی نہیں ، اعلیٰ اخلاق کا مالک کوئی نہیں، لیکن گھر میں اِنہوں نے ایک مصیبت ڈالی ہوتی ہے، وہ بیویوں کے حقوق ادا نہیں کر رہے ہوتے، بچوں کے حقوق نہیں ادا کر رہے ہوتے، غصّے کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔ الله تعالیٰ نے تو یہ فرمایا ہے کہ عورتوں سے نیک سلوک کرو۔ پس یہ باتیں ہمیشہ یاد رکھنی چاہئیں اورالله تعالیٰ نے عورت کو جو تنبیہ کے لیے کہا ہے تو اِس کا مطلب یہ نہیں کہ جس طرح بعض مرد سمجھتے ہیں کہ اُنہیں مارنے کی اجازت مل گئی ہےاور عورتیں اِس بات پر بڑی نالاں ہوتی ہیں، ناراض ہوتی ہیں کہ مردوں کو مارنے کی اجازت ہے۔ یہ تو ایک انتہائی قدم ہے اور اِس کی بعض شرائط ہیں۔ پس الله نے تو یہ بات کہہ کر یہاں عورت کا حق محفوظ کیا ہے کہ اُن سے معروف طریقے سے معاشرت کرو۔
حضور انور نے فرمایا کہ پس یہ دیکھیں کہ اِس زمانے کے امام نے عورتوں کے حقوق کس طرح قائم فرمائے ہیں۔ اِن کے بارے میں اسلام کی تعلیم کی روشنی میں کس طرح بیان فرمایا ہے کہ اسلام تو یہ حقوق قائم فرماتا ہے۔آجکل کے معاشرے میں اسلام پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ اسلام نعوذ با لله عورتوں کے حقوق غصب کرتا ہے،لیکن اسلام تو ہر جگہ عورتوں کو حقوق دینے کی کوشش کرتا ہے۔بعض مرد بھی یہ شکایت کرتے ہیں کہ ہم تو حُسنِ سلوک کرتے ہیں، لیکن عورتوں کے مطالبات ایسے ہوتے ہیں اور بعض باتیں وہ ایسی کرتی ہیں جس کی وجہ سے پھر گھر میں فساد پیدا ہوتا ہے۔ توعورتوں کو بھی چاہیے کہ صبر اور حوصلےاور دعا سے اپنے گھروں میں زندگیاں گزاریں، اپنے بچوں کی نگہداشت کریں اور دین پر قائم رہنے کی کوشش کریں۔
اسلام کے خلاف آجکل یہ پروپیگنڈا ہے اور اِس بات کو بہت اُچھالا جاتا ہے کہ اسلام میں عورتوں کے حقوق نہیں۔یہ دجّالی چالیں ہیں، اِن سے بچ کر رہنا چاہیے۔بعض دفعہ ایسی عورتیں، جن کو اسلامی تعلیم کا یا قرآنِ کریم کی تعلیم کا صحیح علم نہیں یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کُتب نہیں پڑھتیں یا آپؑکے ارشادات نہیں سنے ہوتے، وہ دنیا داروں کی باتیں سن کر متأثر ہو جاتی ہیں، تو اِس چیز سے ہر لڑکی کو، ہر عورت کو بچنا چاہیے کیونکہ یہ دجّالی اور شیطانی چالیں ہیں، جو ہمیں دین سے دُور لے جانے کے لیے ہیں، مذہب سے دُور لے جانے کے لیے ہیں، جماعت میں فتنہ پیدا کرنے کے لیے ہیں اور گھروں میں فتنہ پیدا کرنے کے لیے ہیں۔
اسلام نے عورتوں کے حقوق اِس حدتک قائم فرمائے ہیں کہ اِس کی کوئی اور مثال نہیں ملتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں عورتوں کے حقوق کی جیسی حفاظت اسلام نے کی ہے، ویسی کسی دوسرے مذہب نے قطعاً نہیں کی، مختصر الفاظ میں فرمادیا ہے وَ لَھُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْھِنَّ کہ جیسے مردوں کے عورتوں پر حقوق ہیں، ویسے ہی عورتوں کے مردوں پر حق ہیں۔ انسان کے اخلاقِ فاضلہ اور تعلق کی پہلی گواہ تو یہی عورتیں ہوتی ہیں۔ پس اگر اُنہی سے اُن کے تعلقات اچھے نہیں ہیں تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ سے صلح ہو۔
پس ہمیں اپنے اہل کے لیے اچھا بننا پڑے گا اور مردوں کو بھی اِس بات کو یاد رکھنا پڑے گا کہ اُنہوں نے عورتوں کے حقوق ادا کرنے ہیں۔ اور عورتوں کو اِس بات کو یاد رکھنا چاہیے کہ اگر مردوں کی طرف سے کوئی زیادتی ہوتی ہے، تو یہ اسلام کی تعلیم کے مطابق عمل نہیں ہے، بلکہ اسلام کی تعلیم کے خلاف عمل ہے اور اُن کے حقوق غصب کیے جا رہے ہیں۔ اِس لیے اُنہیں بھی، بجائے اعتراض کرنے کے یا لوگوں کی باتوں میں آنے کے، غیروں کی باتوں میں آنے کے، اسلام مخالف لوگوں کی باتوں میں آنے کے، نظام کو اپنی بات پہنچانی چاہیے۔
پھر عورتوں کے دلوں میں یہ احساس پیدا کیا جاتا ہے کہ اسلام کی تعلیم میں تمہارے جذبات کی کوئی قدر نہیں ہے، تمہیں تو گھر کے اندر بند کر کے رکھا ہوا ہے اور مرد کو کھلی چھٹی ہے کہ وہ جو چاہے کرے۔ اور پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ دیکھو!مردوں کو کتنی آزادی دی ہے، اگر اُن کی خواہش ہو تو وہ زیادہ شادیاں بھی کر سکتے ہیں۔حضور انور نے فرمایا : پس یاد رکھیں کہ یہ دجّالی اعتراضات ہیں کہ جو بغیر کسی سیاق و سباق کے پیش کیے جاتے ہیں، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہی طریقہ ہے کہ ہم اِس کے ذریعے سے عورت کے جذبات کو انگیخت کر سکتے ہیں اور اِن کو دین سے دُور لے جا سکتے ہیں۔ یہ شیطانی چالیں ہیں کیونکہ اسلام نے اگر بعض جگہ شادیوں کی اجازت دی ہے تو بعض شرائط کے ساتھ دی ہے۔
پہلی بات تو الله تعالیٰ نے یہ فرمائی کہ تم تقویٰ پر قائم ہو، اپنا جائزہ لو کہ تم جس وجہ سے شادی کرنا چاہتے ہو، وہ جائز ضرورت ہے، پھر یہ بھی دیکھ لو کہ تم شادی کر کے بیویوں کےدرمیان انصاف کر بھی سکتے ہو، اگر نہیں تو پھر تمہیں شادی کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ مردپر عورت کے اتنے حقوق ہیں کہ اگر مرد کو پتا لگے کہ حقوق نہ ادا کر کے کتنا گناہ ہے ، تو آپؑنے فرمایا کہ اگر انسان کو پورے طور پر معلوم ہو کہ یہ حقوق اِس قسم کے ہیں تو بجائے بیاہ کے وہ ہمیشہ رنڈوا رہنا یعنی غیرشادی شدہ رہنا پسند کرے۔آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورتوں کے تمہارے اوپر حق ہیں، اُن کے حقوق ادا کرو۔آپؐنے فرمایا کہ جو خود کھاؤ، اُنہیں بھی کھلاؤ ، جو خود پہنو، اُنہیں بھی پہناؤ، کبھی چہرے پر نہ مارو، بُرا بھلا نہ کہو، کبھی بلاوجہ ڈانٹ ڈپٹ نہ کرتے رہو۔ایسی عورتیں اسلام میں پیدا ہوئیں، جنہوں نے وہ معیار قائم کیے، جو نیکیوں کے اعلیٰ معیار تھے۔ وہ اِس بات پر ناراض نہیں ہوتی تھیں کہ مردوں کے حقوق زیادہ ہیں اور ہمارے حقوق کم ہیں۔ ہاں!کہیں اگر اُن کو حقوق کا شکوہ تھا یا مردوں کے عمل کا شکوہ تھا، تو اِس بات پر کہ وہ بعض دفعہ زیادہ نیکیاں کر جاتے ہیں اور اُن کو ثواب مل جاتا ہے، جو ہمیں نہیں ملتا۔
حدیث میں آتا ہے کہ ایک خاتون اسماء بنتِ یزید انصاریہ رضی الله عنہا تھیں، وہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، آپؐصحابہؓ کے درمیان تشریف فرما تھے۔ اُنہوں نے مردوں کے نیکیوں میں سبقت لے جانے کے تناظر میں عرض کیا تو تمام بات سماعت فرمانے کے بعد حضور صلی الله علیہ وسلم نے اپنا رُخ اور چہرۂ مبارک صحابہ ؓکی طرف پھیرا اور فرمایا کہ کیا تم نے دین کے معاملے میں اپنے مسئلے کو اِس عمدگی سے بیان کرنے میں اِس عورت سے بہتر کسی کی بات سنی ہے؟ آپؐنے اُس کی اِس سوال پر بڑی تعریف کی۔ تو صحابہؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللهؐ!ہمیں یہ ہرگز خیال نہ تھا کہ ایک عورت ایسی گہری سوچ رکھتی ہے۔ آنحضور صلی الله علیہ وسلم اِس خاتون کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمانے لگے کہ اَے عورت!واپس جاؤ اور دوسری تمام عورتوں کو بتا دو، کسی عورت کے لیے اچھی بیوی بننا، بچوں کی تربیت کرنا، خاوند کی رضا جُوئی اور اُس کے موافق چلنا، مردوں کی اُن تمام نیکیوں کے برابر ہے، جو وہ کرتے ہیں۔
وہ عورت واپس گئی اوروہ خوشی سے لا اله الا الله اور الله اکبر کے الفاظ بلند کر رہی تھی۔آنحضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ جو گھر میں رہنے والے ہو، وہ بھی یہ نہ سمجھو کہ ہم گھر میں رہنے کے بعد بند ہو گئی ہیں۔ ہاں! اگر مجبوری ہے ، تمہیں گھر میں رہنا پڑتا ہے، توتمہیں اتنا ہی ثواب مل رہا ہے جتنا مردوں کو جہاد کا یا دوسری لازمی عبادات کا۔یہ وہ مقام ہے جو اسلام عورت کو دیتا ہے اور کسی قسم کی اِس میں پابندی نہیں ہے۔پردے کا اگر حکم ہے تو بعض کہتے ہیں کہ عورتوں کو پردے کا حکم ہے تو اُنہیں بند کر دیا گیا ہے، جیسا کہ مَیں نے پہلے بھی بتایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی یہ فرمایا ہے کہ پردے کو وہ سمجھتے ہیں کہ عورتوں کو صرف قید کر دینا اور گھر سے باہر نہ نکلنے دینا ہے، یہی پردہ ہے، یہ غلط چیزیں ہیں ۔ آنحضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآنِ شریف کے حکم کے مطابق جہاں پردے کا حکم ہے، غضِّ بصر کا حکم ہے، وہاں مردوں کو بھی اور عورتوں کو بھی یہی حکم ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اِس بارے میں فرماتے ہیں کہ مومن کو نہیں چاہیے کہ دریدہ دہن بنے یا بے محابا اپنی آنکھ کو ہرطرف اُٹھائے پھرے، بلکہ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِھِمْ پر عمل کر کے نظر کو نیچی رکھنا چاہیے اور بد نظری کے اسباب سے بچنا چاہیے۔تو یہ مردوں کو بھی حکم ہے کہ وہ عورتوں کو نہ دیکھیں تو اِس لحاظ سے اُن کا بھی ایک پردہ ہے اور عورتوں کو بھی حکم ہے اور وہ یہی ہے کہ عورتیں نظریں اِدھر اُدھر نہ پھیریں۔پھر آپؑفرماتے ہیں کہ آج کل پردہ پر حملے کیےجاتے ہیں، لیکن یہ لوگ نہیں جانتے کہ اسلامی پردہ سے مراد زندان نہیں، ایک قسم کی روک ہے کہ غیر مرد اور عورت ایک دوسرے کو نہ دیکھ سکیں۔جب پردہ ہو گا ٹھوکر سے بچیں گے۔ ایک منصف مزاج کہہ سکتا ہے کہ ایسے لوگوں میں جہاں غیرمرد و عورت اکٹھے بلاتأ مل اور بےمحابہ مل سکیں، سیریں کریں، جذبات نفس سے اضطراراً ٹھوکر کیونکر نہ کھائیں گے۔ بسا اوقات سننے اور دیکھنے میں آیا ہے کہ ایسی قومیں غیرمرداور عورت کے ایک مکان میں تنہار ہنے کوحالانکہ دروازہ بھی بند ہو کوئی عیب نہیں سمجھتیں، یہ گویا تہذیب ہے، اِنہی بدنتائج کو روکنے کےلیےشارع اسلام نے وہ باتیں کرنے کی اجازت ہی نہ دی جو کسی کی ٹھوکر کا باعث ہوں۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ الله تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ ایسی باتیں ہونی ہی نہیں چاہئیں۔ کیونکہ اسلام کی تعلیم یہی ہے کہ جہاں غیرمحرم مردو عورت جمع ہوں، تیسرا اُن میں شیطان ہوتا ہے۔آپؑنے فرمایا کہ اِن نتائج پر غور کرو ۔حضور انور نے فرمایا کہ جب الله تعالیٰ نے ایسے حقوق قائم فرما دیے ہیں، تو یہ بہت بڑا انعام ہے، جو اُس نے اسلامی تعلیم میں عورتوں کو دیا ہے۔ اِس لیے عورتوں کا کام ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور اِن کے ذمے جو الله تعالیٰ نے کام لگایا ہے یعنی نئی نسل کی اصلاح کرنا، اُن کو اِس مقام پر لے کر آئیں ، جہاں وہ دین کا بھی اور جماعت کا بھی ایک مفید وجود بن سکیں، اپنے ملک کا بھی مفید حصّہ بن سکیں۔ جب یہ ہو گا تو پھر ہی ایک ایسا عظیم معاشرہ قائم ہو گا جہاں صرف خدا تعالیٰ کی بندگی کا حق ادا کرنے والے لوگ ہوں گےاور دنیا میں بھی جنّت کے نظارے دیکھنے والے ہوں گے اور اگلے جہان میں بھی جنّت کے نظارے دیکھنے والے ہوں گے۔
پس عورتوں کو چاہیے کہ اپنی اصلاح کی طرف توجہ پیدا کریں اور اِس بات کو ہمیشہ سامنے رکھیں کہ ہم نے الله تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی ہے۔الله تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کے لیے اپنی ناجائز خواہشات کو ختم کرنا ہے۔ اور دین کو دنیا پر ہر وقت مقدّم رکھنے کی کوشش کرنی ہے۔ اپنے بچوں کی اصلاح کے لیے جو کچھ ہم سے ہو سکتا ہےوہ ہم نے کرنا ہے تاکہ آئندہ ہماری نسلوں میں نیک بچیاں پیدا ہوں۔ نیک بیویاں پیدا ہوں۔ نیک مائیں پیدا ہوں۔ نیک خاوند پیدا ہوں۔ اور نیک باپ پیدا ہوں۔ اور پھر وہ سب مل کر اسلام اور احمدیت کی ترقی کے لیے وہ کردار ادا کریں، جس کے لیے ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مانا ہے اور یہ عہد کیا ہے کہ ہم ہمیشہ دین کو دنیا پر مقدّم رکھیں گے۔ یہ دیکھیں کہ ہم اپنے مقصد کو پورا کر رہے ہیں یا نہیں؟ خاص کر آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق اِس زمانے کے امام کو ہم نے مانا ہے اور آپ اُن خوش قسمت لوگوں میں شامل ہو گئی ہیں کہ جن کے بارے میں خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اٰخَرِیْنَ مِنْھُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِھِمْ یعنی اور اِن کے سوا ایک دوسری قوم میں بھی وہ اِسے بھیجے گا جو ابھی تک اِن سے نہیں ملے۔
حضور انور نے آخر پر فرمایا کہ پس اسلام ایک بڑا متوازن مذہب ہے، جو اعلیٰ اخلاق کی بھی تعلیم دیتا ہے، عبادتوں کے اعلیٰ معیاروں کی بھی تعلیم دیتا ہے، بچوں کے حق قائم کرنے کی بھی تعلیم دیتا ہے، اپنے حق قائم کرنے کی بھی تعلیم دیتا ہے، اپنے معاشرے کے حق قائم کرنے کی بھی تعلیم دیتا ہے اور یہی وہ باتیں ہیں جو پھر دنیا میں امن اور محبّت اور پیار کی فضا پیدا کرنے والی ہوتی ہیں۔ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے زمانے میں وہ عورتیں تھیں کہ جنہوں نے اپنے خاوندوں کے حقوق ادا کیے، اپنے بچوں کے حقوق ادا کیے اور اُن کے اعلیٰ معیار حاصل کیے اور یہی چیزیں ہیں جو آج ایک احمدی عورت کو اپنے سامنے رکھنی چاہئیں اور اِس پر غور کرنا چاہئے۔
حضور انور نے تاکید فرمائی کہ صرف یہ نہ دیکھیں کہ خاوندوں نے آپ کے حقوق ادا کیے ہیں یا نہیں بلکہ آپ نے اِس سوچ کے ساتھ اپنے حق اور فرائض ادا کرنے ہیں کہ اسلام نے جو آپ کو حقوق دیے ہیں، اُس کا تقاضا یہ ہے کہ آپ معاشرے کے لیے ایک مفید وجود بن جائیں اور اِسی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے آپ نے حتّی الوسع اپنی تمام صلاحیتوں اور استعدادوں کے ساتھ کوشش کرنی ہے۔
دعا سے قبل حضور انور نے فرمایا کہ الله تعالیٰ آپ کو اِس کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری آئندہ نسلوں میں بھی دین کو دنیا پر ترجیح دینے والی وہ مائیں پیدا ہوں ، وہ لڑکے اور باپ پیدا ہوں، وہ خاوند اور بیویاں پیدا ہوں، جو کہ ایک انقلابِ عظیم لانے کا ذریعہ بن جائیں اور تمام دنیا آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے جھنڈے تلے آ کر توحید کا اعلان کرنے والی بن جائے۔ الله کرے کہ ایسا ہی ہو! حضور انور کا خطاب ایک بج کر اکیس منٹ تک جاری رہا جس کے بعد حضور انور نے دعا کروائی۔
دعا کے بعد خواتین اور بچیوں نے مختلف گروپس کی صورت میں ترانے پیش کیے۔ یہ ترانے مختلف زبانوں میں پیش کیے گئے جن میں اردو، انگریزی، پنجابی اورعربی کی زبانیں شامل ہیں۔حضور انور نے آخر پر فرمایا کہ لجنہ کی رپورٹ کے مطابق یہاں خواتین کی حاضری 17 ہزار 595 ہے۔بعد ازاں حضور انور نے السلام علیکم ورحمۃ اللہ کا تحفہ پیش کیا اور ایک بج کر بتیس منٹ کے قریب حضورانور زنانہ جلسہ گاہ سے تشریف لے گئے۔ (باقی)
…٭…٭…٭…