اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-01-23

مرکز احمدیت قادیان دارالامان میں 129ویں جلسہ سالانہ کا، کامیاب و بابرکت انعقاد

(قسط سوم)
مورخہ 29؍دسمبر2024 بروز اتوار
تیسرا دن پہلا اجلاس
محترم ناظر صاحب اعلیٰ و امیرجماعت قادیان نے ٹھیک دس بجے لوائے احمدیت لہرایااور دعا کروائی۔تیسرے دن کے پہلے اجلاس کی صدارت مکرم مولانا منیر احمد خادم صاحب ایڈیشنل ناظر اصلاح و ارشاد جنوبی ہند نے کی۔ تلاوت قرآن کریم مکرم حافظ وقاص رشی صاحب متعلم جامعہ احمدیہ قادیان نے کی اور ترجمہ مکرم مولانا طاہر احمد طارق صاحب نائب ناظر اصلاح و ارشاد مرکزیہ نےپیش کیا۔مکرم ثاقب محمود صاحب متعلم جامعہ احمدیہ قادیان نے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا منظوم کلام ’’ مصطفیٰ پر تیرا بے حد ہو سلام اور رحمت ‘‘ پڑھا۔
اجلاس کی پہلی تقریر ’’ ختم نبوت کے بارہ میں جماعت احمدیہ کا اسلامی عقیدہ‘‘کے عنوان پرخاکسار نے کی۔ تقریر کا خلاصہ اور لب لباب یہ ہے کہ غیر احمدیوں کی طرف سے احمدیوں پر بے شمار الزامات لگائے جاتے ہیں۔ ایک اُن میں سے بہت ہی تکلیف دہ اور بے بنیاد الزام یہ ہے کہ سیّدنا حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام اور آپؑکی جماعت آنحضرت ﷺ کو خاتم النّبیین نہیں مانتی۔ یہ ایک ایسا جھوٹا اور بے بنیاد الزام ہےجو ہمیں بہت ہی دُکھ اور تکلیف میں مبتلا کرتا ہے۔فرمایا:سب سے پہلے مَیں خاتم النّبیین کے متعلق حضرت مسیح موعودد علیہ السلام کاحلفیہ بیان پیش کرتا ہوں۔ آپؑفرماتے ہیں :
مجھے خدا کی عزت اور جلال کی قسم ہے کہ … مَیں ایمان رکھتا ہوں اِس بات پر کہ ہمارے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ تمام رسولوں سے افضل اور خاتم النّبیین ہیں۔
( حمامۃ البشریٰ اُردو ترجمہ صفحہ36)
ایک اَور مقام پر آپؑفرماتے ہیں :
اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ مجھ پر اور میری جماعت پر جو یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم رسول اللہﷺ کو خاتم النّبیین نہیں مانتے، یہ ہم پر افترائے عظیم ہے۔ ہم جس قوتِ یقین، معرفت اور بصیرت کے ساتھ آنحضرت ﷺ کو خاتم الانبیاء مانتے اور یقین کرتے ہیں، اُس کا لاکھواں حصہ بھی دوسرے لوگ نہیں مانتے، اور اُن کا ایسا ظرف ہی نہیں ہے۔ وہ اُس حقیقت اور راز کو جو خاتم الانبیاء کی ختم نبوت میں ہے، سمجھتے ہی نہیں ہیں۔ اُنہوں نے صرف باپ دادا سے ایک لفظ سنا ہوا ہے مگراُس کی حقیقت سے بے خبرہیں اور نہیں جانتے کہ ختم نبوت کیا ہوتاہے اوراُس پر ایمان لانے کا مفہوم کیا؟ مگر ہم بصیرت تام سے (جس کو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے) آنحضرت ﷺ کو خاتم الانبیاء یقین کرتے ہیں۔ اور خداتعالیٰ نے ہم پر ختم نبوت کی حقیقت کو ایسے طور پر کھول دیا ہے کہ اِس عرفان کے شربت سے جو ہمیں پلایا گیا ہے ایک خاص لذت پاتے ہیں جس کا اندازہ کوئی نہیں کرسکتا بجزان لوگوں کے جو اِس چشمہ سے سیراب ہوں۔
(ملفوظات جلد 1 صفحہ 227 مطبوعہ قادیان 2003)
فرمایا:پس جس یقین اور بصیرت کے ساتھ مسیح موعود اورآپؑکی جماعت آنحضرت ﷺ کو خاتم النّبیین مانتی ہے اُس کا لاکھواں حصہ بھی اپنے آپ کو ختم نبوت کا محافظ کہنے والے نہیں مانتے۔
مقرر موصوف نے قرآن کریم کی آیات اور احادیث نبویہ کے حوالہ سے بتایا کہ امتی نبوت کا دروازہ بند نہیں ہوا ہے ۔ اور اس سلسلہ میں علماءِ امت کے حوالے پیش کئے ۔ نیز ختم نبوت کی حقیقت اور آنحضرت ﷺ کے عظیم الشان مقام و مرتبہ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات پیش فرمائے۔نیز بتایا کہ خاتم النّبیین کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ آخری شرعی نبی ہیں اور یہ کہ آپؐپر نبوت کے کمالات ختم ہوگئے۔ نیز بتایا کہ خاتم النّبیین کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی امتی نبی بھی نہیں آسکتا۔ مقرر موصوف نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا درج ذیل ارشاد پیش کرکے اپنی تقریر ختم کی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
دُنیا کی مثالوں میں سے ہم ختم نبوت کی مثال اس طرح پر دے سکتے ہیں کہ جیسے چاند ہلال سے شروع ہوتا ہے اور چودھویں تاریخ پرآکر اُس کاکمال ہوجاتا ہے جبکہ اُسے بدْر کہا جاتا ہے، اسی طرح پر آنحضرتﷺ پر آکر کمالاتِ نبوت ختم ہوگئے۔ جو لوگ یہ مذہب رکھتے ہیں کہ نبوت زبردستی ختم ہوگئی اور آنحضرت ﷺ کو یونس ؑ بن متیٰ پر بھی ترجیح نہیں دینی چاہیے، اُنہوں نے اس حقیقت کو سمجھا ہی نہیں اورآنحضرتﷺ کے فضائل اور کمالات کا کوئی علم ہی اُن کو نہیں ہے۔ باوجود اس کمزوری فہم اور کمی ٔ علم کے ہم کو کہتے ہیں کہ ہم ختم نبوت کے منکر ہیں۔ میں ایسے مریضوں کو کیا کہوں اوراُن پر کیا افسوس کروں۔ اگر اُن کی یہ حالت نہ ہوگئی ہوتی اور وہ حقیقت اسلام سے بکلی دور نہ جاپڑے ہوتے، تو پھر میرے آنے کی ضرورت کیا تھی؟ اِن لوگو کی ایمانی حالتیں بہت کمزورہوگئی ہیں اور وہ اسلام کے مفہوم اور مقصد سے محض ناواقف ہیں، ورنہ کوئی وجہ نہیں ہوسکتی تھی کہ وہ اہل حق سے عداوت کرتے جس کا نتیجہ کافربنادیتا ہے۔
(ملفوظات جلد 1 صفحہ 228،مطبوعہ قادیان 2003)
اِس اجلاس کی دوسری تقریر مکرم مولوی شیخ فاتح الدین صاحب شاہد نائب امیر و ایڈیشنل مبلغ دہلی و داعی خصوصی ضلع دہلی نے بعنوان ’’ دعوت الی اللہ کیلئے حضرت مسیح موعود ؑ کا جذبہ حضور انور کی نصائح اور جماعت احمدیہ کی ذمہ داریاں ‘‘ کی۔سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دل میں تبلیغ اسلام کے لئے جو جوش موجزن تھا اور جو تڑپ آپ کو تھی اس کے متعلق مقرر موصوف نے فرمایا کہ 1885ء میں حضرت صوفی احمد جان صاحب لدھیانوی سفر حج پر جانے لگے تو آپ علیہ السلام نے یہ دعا لکھ کر دی کہ یہ دعا خاص طور پر خانہ کعبہ اور میدان عرفات میں ضرور کریں ۔
’’ اے ارحم الراحمین جس کام کی اشاعت کے لئے تو نے مجھے مامور کیا ہے اور جس خدمت کے لئے تو نے میرے دل میں جوش ڈالا ہے اُس کو اپنے ہی فضل سے انجام تک پہنچا اور اِس عاجز کے ہاتھ سے حجّت اسلام مخالفین پر اور اُن سب پر جو اب تک اسلام کی خوبیوں سے بے خبر ہیں پوری کر‘‘
(تاریخ احمدیت جلد اوّل صفحہ 265)
سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیںـ:
’’ مَیں اُس مولیٰ کریم کا اِس وجہ سے بھی شکر کرتا ہوں کہ اُس نے ایمانی جوش اسلام کی اشاعت میں مجھ کو اس قدر بخشا ہے کہ اگر اس راہ میں مجھے اپنی جان بھی فدا کرنی پڑے تو میرے پر یہ کام بفضلہ تعالیٰ کچھ بھاری نہیں…اور چاہتا ہوں کہ میری ساری زندگی اِسی خدمت میں صرف ہو اور درحقیقت خوش اور مبارک زندگی وہی زندگی ہے جو الٰہی دین کی خدمت اور اشاعت میں بسر ہو‘‘
(آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد 5صفحہ 35)
پھرآپؑ فرماتے ہیں:
’’ہمارے اختیار میں ہو تو ہم فقیروں کی طرح گھر بہ گھر پھر کر خداتعالیٰ کے سچے دین کی اشاعت کریں اور اُس ہلاک کرنے والے شرک اور کفر سے جو دنیا میں پھیلا ہوا ہے لوگوں کو بچا لیں۔ اگر خداتعالیٰ ہمیں انگریزی زبان سکھا دے تو ہم خود پھر کر اور دورہ کرکے تبلیغ کریں اور اسی تبلیغ میں زندگی ختم کردیں خواہ مارے ہی جاویں۔‘‘
(ملفوظات جلد دوم صفحہ 219۔ایڈیشن2003ء)
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’تکمیل اشاعت ہدایت کا کام اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سپرد کیا گیا ہے۔ وہ ہدایت جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کُل انسانیت کے لئے لائے تھے اور جس کے پھیلانے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے چین تھے اس کی تکمیل کا یہ زمانہ ہے جب سب ذرائع میسر ہیں۔ جس طرح یہ کام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سپرد کیا گیا تھا اسی طرح اب یہ کام آپؑکے ماننے والوں کے سپرد کیا گیا ہے۔ ان کے سپرد ہے جو یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ 11؍نومبر 2016ء)
اِس اجلاس کی تیسری اور آخری تقریر مکرم حافظ مخدوم شریف صاحب ایڈیشنل ناظر اعلیٰ جنوبی ہند نے بعنوان ’’سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام عشق رسول اللہ کے آئینہ میں ‘‘ کی۔تشہد تعوذ کے بعد محترم مقرر نے سورہ آل عمران آیت 32 کی تلاوت کی جس کا ترجمہ یہ ہے: ’’تو کہہ دے اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دیگااور اللہ بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔
سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ میں وہ آئینہ ہوں جس میں محمدی شکل اور محمدی نبوت کا کامل انعکاس ہے۔‘‘
(نزول المسیح روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 381تا 382 حاشیہ )
حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے رؤیا و کشوف میں حتیٰ کے عین بیداری کی حالت میں اپنے عاشق صادق حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو ملاقات کا شرف عطا فرمایا۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے : اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو تم بھی اس نبی پر درود اور خوب خوب سلام بھیجو۔
(سورۃ الاحزاب آیت 56)
اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل میں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر سب سے زیادہ درود بھیجنے والے وجود حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہی تھے۔ آپ فرماتے ہیں:
’’ ایک رات اس عاجز نے اس کثرت کے ساتھ درود شریف پڑھا کہ دل وجان اس سے معطر ہوگیا ۔ اس رات خواب میں دیکھا کہ آب زلال کی شکل میں نور کی مشکیں اس عاجز کے مکان میں (فرشتے )لئے آتے ہیںاور ایک نے ان میں سے کہا کہ یہ وہی برکات ہیں جو تو نے محمد ؐ کی طرف بھیجی تھی۔
(روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 598 براہین احمدیہ حصہ چہارم)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے عملی نمونے بھی دنیا کے سامنے پیش کئے۔حضرت چوہدری غلام محمد صاحبؓکی روایت ہے کہ جب میں قادیان آیا تو حضرت صاحب نے سبز پگڑی باندھی ہوئی تھی مجھے یہ دیکھ کر گراں گزرا کہ مسیح موعود علیہ السلام کو سبز پگڑی سے کیا کام پھر میں نے مقدومہ ابن خلاون میں پڑھا کہ آنحضرت ﷺسبز لباس میں ہوتے تھے تو آپؐکو وحی زیادہ ہوتی تھی۔
(سیرت المہدی روایت نمبر 121)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آل محمد ؐ اور کوچہ محمدؐ سے بھی بے پایاں محبت تھی ۔آپ فرماتے ہیں:
جان و دلم فدائے جمال محمد ؐ است
خاکم نثار کوچہ آل محمد ؐاست
میری جان اور میرا دل حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جمال پر فدا ہیں اور میری خاک آل محمد کے کوچہ پر قربان ۔
(آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 645)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ــ
ــ’’خدا کی قسم اگر میری ساری اولاد اور اولاد کی اولاد اور میرے سارے دوست اور میرے سارے معاون و مددگار میری آنکھوں کے سامنے قتل کر دئیے جائیں اور میرے ہاتھ اور پائوں کاٹ دئیے جائیں اور میری آنکھ کی پتلی نکال پھینکی جائے اور میں اپنی تمام مرادوں سے محروم کر دیا جائوں … میرے لئے یہ صدمہ زیادہ بھاری ہے کہ رسول اکرم ؐ پر ایسے ناپاک حملے کئے جائیں۔
(آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 15 عربی حصہ کا اردو ترجمہ)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ــتمام آدم زادوں کیلئے اب کوئی رسول اور شفیع نہیں مگر محمدؐ … سو تم کوشش کرو کہ سچی محبت اس جاہ و جلال کے نبی کے ساتھ رکھو اور اسکے غیر کو اس پر کسی نوع کی بڑائی مت دو کہ آسمان پر تم نجات یافتہ لکھے جائو۔
(کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19 صفحہ13)
فاضل مقرر نے اپنی تقریر کے آخر میں حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کا درج ذیل ارشاد پیش کرتے ہوئے اپنی تقریر ختم کی۔
آج ہر احمدی کی ذمہ داری ہے بہت بڑی ذمہ داری ہے جس نے اس زمانہ کے امام کو پہچاناہےکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے جذبہ سے بہت درود پڑھیں دعائیں کریں ۔ اپنے لئےبھی اور دوسروں کیلئے بھی ۔ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو تباہی سے بچائے …آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنی دعائوں میں امت مسلمہ کو جگہ دیں۔
(خطبہ جمعہ 24 جنوری 2006ء)
تاثرات و تعارفی تقاریر مہمانان کرام
مکرم حافظ اسماعیل احمد اڈوسی صاحب مربی سلسلہ کو آرڈینیٹر ایم ٹی اے گھانا نے اپنے خیالات کا اظہارکرتے ہوئے بتایا کہ گھانا سے 29 افرادِ جماعت پر مشتمل قافلہ بغرض شمولیت جلسہ سالانہ قادیان آیا ہے جن میں 11 جامعہ احمدیہ گھانا سے فارغ التحصیل مربیان ہیں۔ قادیان ہماری جماعت کا دل ہے اور آج جماعت احمدیہ پوری دنیا میں پھیل چکی ہے۔ گھانا میں بہت سے احباب نے سچی خوابیں دیکھ کر سلسلہ عالیہ احمدیہ میں شمولیت اختیار کی ہے۔
اس کے بعد مکرم Rufatzhan Tukamdvامیر قافلہ قزاکستان نے اپنے تاثرات بیان کئے کہ اُن کے لئے یہ بڑی سعادت اور خوش قسمتی ہے کہ جلسہ سالانہ قادیان میں شمولیت اور مخاطب ہونے کا شرف حاصل ہو رہا ہے ۔ فرمایا قزاکستان میں چھ سو سے زائد مقامی لوگوں نے بیعت کی اور احمدیت یعنی حقیقی اسلام سے لوگ متاثر بھی ہو رہے ہیں ۔ہمارے لئے دعا کریں کہ جلد ہماری جماعت کی رجسٹریشن ہو جائے اور حضرت مسیح موعود ؑ کی پیشگوئی کہ احمدیت کو روس میں ریت کے ذروں کی مانند دیکھتا ہوں، جلد پوری ہوتی دیکھیں اور زارروس کا عصاجلد جماعت کے ہاتھ میں آئے ۔موصوف نے آخر پر قزاکستان کیلئے دعا کی درخواست کرتے ہوئے اپنے تاثرات ختم کئے۔بعدہ صدر اجلاس نے اجلاس کے اختتام کا اعلان فرمایا۔
اختتامی تقریب
جلسہ سالانہ قادیان 2024ءکااختتامی اجلاس زیرصدارت مکرم مولانامحمدانعام غوری صاحب ناظراعلیٰ وامیرمقامی قادیان منعقدہوا۔ مکرم مرشداحمدڈار صاحب استاذجامعہ احمدیہ قادیان نے قرآن کریم کی سورۃ حم السجدۃ کی آیات 31تا35 کی تلاوت کی جبکہ مکرم عطاء اللہ نصرت صاحب نائب ناظربیت المال آمدقادیان نے اُردوترجمہ پڑھ کرسنایا۔اس کے بعد مکرم تنویر احمدناصر صاحب نائب ناظرنشرواشاعت قادیان نے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی مندرجہ ذیل نظم نہایت خوش الحانی سے پڑھکرسنائی۔
ہے عجب میرے خدا میرے پہ احساں تیرا
کس طرح شکر کروں اَے مرے سلطاں تیرا
بعدہٗ مکرم منیراحمدحافظ آبادی صاحب سیکرٹری مجلس کارپرداز قادیان نے سال 2024ء میںوفات یافتہ ستر(70)موصیوں کے اسماء پڑھ
سنائے۔تاکہ اُن کی مغفرت کے لیے احباب جماعت دعا کرسکیں۔محترم صدر اجلاس ناظرصاحب اعلیٰ وامیر مقامی قادیان نے جلسہ سالانہ کے انتظامات میں مدد کرنے والے حکام اعلیٰ اور تمام احباب کا شکریہ اداکرنے کے بعد مقامی طور پر اختتامی دعا کروائی۔
بعدہ لندن سے جلسہ کی اختتامی تقریب کے سلسلہ میں خصوصی نشریات کا آغاز ہوا۔جلسہ سالانہ قادیان میں شامل ہونے والے مخلصین میں پیداہونے والی پاک تبدیلی کے حوالہ سے اور اسی طرح پوری دُنیا سے احباب جماعت میں قادیان کی زیارت کی خواہش کے حوالہ سے، نیز جلسہ سالانہ قادیان کے روح پرور نظاروں اور قادیان کے پرکشش مقامات سے متعلق ایک نہایت دلچسپ ڈاکومنٹری ایم ٹی اے بھارت کی طرف سےایم ٹی اے انٹرنیشنل سے نشر کی گئی جسے جلسہ گاہ اور اسٹیج پر بیٹھے احباب نے بہت ہی انہماک اورنہایت خاموشی کے ساتھ دیکھا اور سنا۔
سیّدنا حضرت امیرالمومنین خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی تشریف آوری اور فلک بوس نعرہ ہائے تکبیر کےساتھ ایم ٹی اے انٹرنیشنل سے جلسہ سالانہ قادیان 2024ء کی اختتامی تقریب کا آغاز ہوا ۔اس موقع پر افریقہ کے 8 ممالک ٹوگو، مالی، گنی کناکری ،نائیجر، گنی بساؤ،سینیگال،برکینافاسو، امریکہ کے ویسٹ کورس کے جلسہ ہائے سالانہ بھی منعقد ہو رہے تھے اورقادیان دارالامان کے علاوہ ان ممالک کے بھی براہ راست مناظربار بار دکھائے جاتے رہے۔
ہندوستانی وقت کے مطابق ٹھیک 4 بجےحضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ فلک شگاف نعروں کی گونج میں ایوان مسرور تشریف لائے۔ حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے تمام شاملین کو ’السلام علیکم و رحمۃ اللہ‘ کا تحفہ پیش فرمایا۔ تلاوتِ قرآن کریم مکرم نسیم احمدباجوہ صاحب نے کی۔آپ نے سورۃ الاحزاب کی آیات39تا49 کی تلاوت کی اور ان کا ترجمہ پیش کیا۔ بعد ازاں مکرم ناصرعلی عثمان صاحب نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا منظوم کلام بعنوان ’’شانِ اسلام‘‘ میں سے منتخب اشعار پیش کیےجس کا پہلا شعر یہ ہے:
وہ پیشوا ہمارا جس سے ہے نُور سارا
نام اُس کا ہے محمدؐ دلبر مرا یہی ہے
ٹھیک 4بجکر20 منٹ پر حضور انور منبر پر رونق افروز ہوئے اور’السلام علیکم ورحمۃ اللہ‘ کا تحفہ عطا فرما نے کے بعد اختتامی خطاب کا آغاز فرمایا۔تشہد، تعوذ، سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا دعویٰ ہے کہ مَیں ہی وہ مسیح موعود ہوں اور مہدی معہود ہوں جس کے آنے کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرمائی تھی اور اب کوئی مسیح آسمان سے نہیں آئے گا ،کوئی مہدی نہیں آئے گا کیونکہ یہی مسیح موعود کے آنے کا وقت تھا ،جس میں خدا تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے اور اِس زمانے میں وہ تمام حالات ظاہر ہوئے جن کی نشاندہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی۔ وہ تمام پیشگوئیاں پوری ہوئیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح کی نشانی کے طور پر بتائی تھیں۔ آپؑ نے دنیا کو دعوت دی اور خاص طور پر مسلمانوں کو دعوت دی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کو دیکھو غور کرو اور سمجھو کہ اسی میں سعادت ہے۔اسی میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکموں کے تعمیل ہے۔ آپؑنے واضح فرمایا کہ مجھ پر یہ الزام نہ دو کہ میں نے نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی۔ یہ سرا سر جھوٹا الزام ہے جو مجھ پر لگایا گیا ہے۔ مَیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں آپ کے دین کی اشاعت کے لیے آیاہوں۔ میرے دل میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عشق کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے بے شمار کتابوں میں اپنی تحریرات میں اپنی تقریروں میں اپنی مجالس میں اپنی جو پرائیویٹ زندگی ہے اس میں آپ نے ان باتوں کا اظہار فرمایا۔ آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق و محبت کا ایک ایسا اظہار فرمایا ہے جس کی مثال کہیںنہیں ملتی ایسا عشق و محبت جو کہیں اور دیکھنے میں نہیں آتا چنانچہ اِس حوالے سے میں آج کچھ اقتباسات پیش کروں گا ۔جس سے اس عشق و محبت پر کچھ جھلک پڑتی ہے جو آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تھا پس آپ علیہ السلام پر اور آپ کے ماننے والوں پر یہ الزام لگانے والے کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام یا آپ کے ماننے والے توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتکب ہو رہے ہیں انتہائی گھناؤنا اور غلط الزام ہے۔
بعدازاں حضورانورنے حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کے مختلف اقتباسات پیش فرمائے۔
’’میں ہمیشہ تعجب کی نگہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد ہے (ہزار ہزار درود اور سلام اس پر) یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے۔ اس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہو سکتا اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔ افسوس کہ جیسا حق شناخت کا ہے اس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔ وہ توحید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ دنیا میں لایا۔ اُس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی اور انتہائی درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اس کی جان گداز ہوئی اِس لئے خدا نے جو اُس کے دل کے راز کا واقف تھا اُس کو تمام انبیاء اور تمام اولین و آخرین پر فضیلت بخشی اور اُس کی مرادیں اُس کی زندگی میں اُس کو دیں۔ وہی ہے جو سرچشمہ ہر ایک فیض کا ہے اور وہ شخص جو بغیر اقرار افاضہ اُس کے کسی فضیلت کا دعویٰ کرتا ہے۔ وہ انسان نہیں بلکہ ذریّتِ شیطان ہے کیونکہ ہر ایک فضیلت کی کنجی اُس کو دی گئی ہے اور ہر ایک معرفت کا خزانہ اُس کو عطا کیا گیا ہے۔ جو اُس کے ذریعہ سے نہیں پاتا وہ محروم ازلی ہے۔ ہم کیا چیز ہیں اور ہماری حقیقت کیا ہے۔ ہم کافر نعمت ہوںگے اگر اس بات کا اقرار نہ کریں کہ توحید حقیقی ہم نے اِسی نبی کے ذریعہ سے پائی اور زندہ خدا کی شناخت ہمیں اِسی کامل نبی کے ذریعہ سے اور اسکے نُور سے ملی ہے اور خدا کے مکالمات اور مخاطبات کا شرف بھی جس سے ہم اُس کا چہرہ دیکھتے ہیں اِسی بزرگ نبی کے ذریعہ سے ہمیں میسر آیا ہے اس آفتاب ہدایت کی شعاع دھوپ کی طرح ہم پر پڑتی ہے اور اُسی وقت تک ہم منور رہ سکتے ہیں جب تک کہ ہم اُس کے مقابل پر کھڑے ہیں۔‘‘
(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 118 تا 119)
پھر آپؑفرماتے ہیں۔
’ہم جب انصاف کی نظر سے دیکھتے ہیں تو تمام سلسلہ نبوت میں سے اعلی درجہ کا جوانمرد نبی اور زندہ نبی اور خدا کا اعلیٰ درجہ کا پیارا نبی صرف ایک مرد کو جانتے ہیں ۔ یعنی وہی نبیوں کا سردار، رسولوں کا فخر تمام مرسلوں کا سرتاج جس کا نام محمد مصطفےٰ و احمد مجتبیٰ ﷺ ہے ۔ جس کے زیر سایہ دس دن چلنے سے وہ روشنی ملتی ہے جو پہلے اس سے ہزار برس تک نہیں مل سکتی تھی۔‘‘
(سراج منیر۔روحانی خزائن جلد12 صفحہ 89)
نیز فرماتے ہیں۔
’’ایک رات اس عاجز نے اس کثرت سے درود شریف پڑھا کہ دل و جان اس سے معطر ہو گیا۔ اسی رات خواب میں دیکھا کہ آب زلال کی شکل پر نور کی مشکیں اس عاجز کے مکان میں لئے آتے ہیں اور ایک نے ان میں سے کہا کہ یہ وہی برکات ہیں جو تو نے محمدکی طرف بھیجی تھیﷺ۔ اور ایسا ہی عجیب ایک اور قصہ یاد آیا ہے کہ ایک مرتبہ الہام ہوا جس کے معنے یہ تھے کہ ملاء اعلیٰ کے لو گ خصومت میں ہیں یعنی ارادہ الٰہی احیاء دین کے لیے جوش میں ہے لیکن ہنوز ملاء اعلیٰ پر شخص محیی کی تعین ظاہر نہیں ہو ئی اس لئے وہ اختلاف میں ہے۔ اسی اثناء میں خواب میں دیکھا کہ لوگ ایک محیی کو تلاش کرتے پھرتے ہیں۔ اور ایک شخص اس عاجز کے سامنے آیا اور اشارہ سے اس نے کہا ھٰذَا رَجُلٌ یُّحِبُّ رَسُوْلَ اللّٰہِ یعنے یہ وہ آدمی ہے جو رسول اللہ سے محبت رکھتا ہے۔ اور اس قول سے یہ مطلب تھا کہ شرط اعظم اس عہدہ کی محبت رسول ہے۔ سو وہ اس شخص میں متحقق ہے۔ ‘‘
(براہین احمدیہ حصہ چہارم، روحانی خزائن، جلداوّل صفحہ 598حاشیہ در حاشیہ نمبر3)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’اس زمانہ میں بھی جو کچھ خدا تعالیٰ کا فیض اور فضل نازل ہو رہا ہے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہی کی اطاعت اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہی کی اتباع سے ملتا ہے۔ میں سچ کہتا ہوں اور اپنے تجربہ سے کہتا ہوں کہ کوئی شخص حقیقی نیکی کرنے والا اور خدا تعالیٰ کی رضا کو پانے والا نہیں ٹھہر سکتا اور ان انعام و برکات اور معارف اور حقائق اور کشوف سے بہرہ ور نہیں ہو سکتا، جو اعلیٰ درجہ کے تزکیہ نفس پر ملتے ہیں، جب تک کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اتباع میں کھویا نہ جائے اور اس کا ثبوت خود خدا تعالیٰ کے کلام سے ملتا ہے۔قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِي يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(آل عمران:32)اور خدا تعالیٰ کے اس دعویٰ کی عملی اور زندہ دلیل میں ہوں۔ ان نشانات کے ساتھ جو خدا تعالیٰ کے محبوبوں اور ولیوں کے قرآن شریف میں مقرر ہیں مجھے شناخت کرو۔‘‘
(ملفوظات جلد اوّل 132)
حضرت ڈاکٹرمیرمحمداسماعیل صاحب رضی اللہ عنہ بیان فرماتےہیںکہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ اپنے مکان کے ساتھ والی چھوٹی مسجد میں، جو مسجد مبارک کہلاتی ہے، اکیلے ٹہل رہے تھے اور آہستہ آہستہ کچھ گنگناتے جاتے تھے اور اس کے ساتھ ہی آپؑ کی آنکھوں سے آنسوؤں کی تار بہتی چلی جارہی تھی۔ اس وقت آپؑ حضرت حسّان بن ثابتؓ کا یہ شعر پڑھ رہے تھے جو حضرت حسّانؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وفات پر کہا تھا:
کُنْتَ السَّوادَ لِنَاظِرِیْ فَعَمِیَ عَلَیْکَ النّاظِرُ…٭…مَنْ شَآءَ بَعْدَکَ فَلْیَمُتْ فَعَلَیْکَ کُنْتُ اُحَاذِرٗ
یعنی تُو میری آنکھ کی پتلی تھا جو آج تیری وفات کی وجہ سے اندھی ہو گئی ہے اب تیرے بعد جو چاہے مرے مجھے تو صرف تیری موت کا ڈر تھا جو واقع ہو گئی۔ مَیں نے گھبرا کر عرض کیا کہ حضرت! یہ کیا معاملہ ہے اور حضور کو کونسا صدمہ پہنچا ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا میں اس وقت حسّان بن ثابتؓ کا یہ شعر پڑھ رہا تھا اور میرے دل میں یہ آرزو پیدا ہو رہی تھی کہ ’’کاش یہ شعر میری زبان سے نکلتا۔
آخرمیں حضورانورنے فرمایا:
اللہ تعالیٰ مسلمان امت کو عقل اورشعور دے اوروہ بلا وجہ کی مخالفت سے باز آئیں ،سوچیں کہ کیا اللہ تعالیٰ ان سے پوچھےگانہیں کہ تم نے بغیرتحقیق کے مخالفت کی کیونکہ اکثریت صرف بغیرتحقیق کئے مولوی کے کہنے پر مخالفت کرتے ہیں۔کچھ تو غور کرو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو عقل دے کہ یہ اس طرح سوچیں اور ہمیں بھی توفیق دے کہ ہم یہ حبّ پیغمبری کا دعویٰ اپنے ہر عمل سے ثابت کریں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جو عشق و محبت ہے اس میں بڑھتے چلے جائیں اور صرف زبانی باتیں نہ ہوں بلکہ ہم نےجو حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مانا ہے ہم اس ماننے کا حق ادا کرنے والے بنیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق و
محبت کی وہ معیار قائم کریں جو اعلیٰ ترین معیار ہو ۔اپنا جائزہ لیتے رہیں جو حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کے جذبات تھے کیا وہ جذبات ہمارے دلوں میں بھی پیدا ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی توحید کو دنیا میں قائم کرنے کے لیے وہ کوشش کریں جن کا ہم سے مطالبہ کیا گیا ہے اور جو اس کا حق ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا دنیا میں لہرانے کے لیے ہر قربانی کے لیے تیار رہیں اللہ تعالیٰ کی توحید دنیا میں قائم کرنے کے لیے، ہر قربانی کے لیے ہر وقت تیار ر ہیں اور اس وقت تک چین سے نہ بیٹھیں جب تک اس مقصد کو حاصل نہ کر لیں اس کو پورا کرنے کے لیے ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہوئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ قادیان میں جلسہ میں شامل ہونے والے ہر فرد کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور جو اپنے گھروں میں بیٹھے سن رہے ہیں ان کو بھی اپنی حفظ و امان میں رکھے اور حقیقی طور پر اسلام کی تعلیم پر عمل کرنے کی اور آنحضرت ﷺ سے عشق و محبت کا اظہار کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنی بیعت کا حق ادا کرنے والے ہوں۔
اس وقت ہمارے قادیان کے جلسے کے ساتھ دنیا کے مختلف ممالک میں جلسے ہو رہے ہیں۔ یہ سب اس لیے یہاں جمع ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پیغام کو سمجھیں اور دنیا میں پہنچانے کی کوشش کریں اور اپنی اصلاح کرنے کی بھی کوشش کریں اللہ تعالیٰ ان سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے اور وہ سب برکات لے کر جلسے سے جائیں جن برکات کے لینے کے لیے اس جلسے میں شامل ہوئے ہیں۔
حضور انور نے جلسہ سالانہ قادیان کی حاضری بتاتے ہوئے فرمایا کہ اِس وقت 42 ممالک کی نمائندگی وہاں ہو رہی ہے اور 16 ہزار 91 کی حاضری ہے ۔ فرمایا قادیان کے لحاظ سے اچھی حاضری ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو فیضیاب ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ اب دعا کر لیں۔
5 بجکر 19 منٹ پر حضور انور نے دعا کروائی۔ دعا کے بعد پہلے قادیان دار الامان سے پھر (1)ٹوگو (2) برکینا فاسو (3)گنی بساؤ (4) نائیجر (5) سینیگال سے شاملین جلسہ نے روایتی انداز میں ترنم کے ساتھ عربی اور مقامی زبانوں میں ترانے پیش کر کے خلافت احمدیہ سے اپنی والہانہ عقیدت کا اظہار کیا۔5بجکر43 پر حضور انور ’السلام علیکم ورحمۃ اللہ‘ کا تحفہ عطا فرما کر ایوان مسرور سے تشریف لے گئے۔