اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-01-16

مرکز احمدیت قادیان دارالامان میں 129ویں جلسہ سالانہ کا، کامیاب و بابرکت انعقاد

(قسط دوم)
مورخہ28؍دسمبر 2024ء بروز ہفتہ
دوسرا دن پہلا اجلاس
یہ اجلاس محترم منیراحمدصاحب حافظ آبادی سیکرٹری مجلس کارپرداز بہشتی مقبرہ قادیان کی زیر صدارت منعقدہوا۔ تلاوت قرآن مجید عزیزشیخ محمدیحییٰ متعلم جامعہ احمدیہ قادیان نے کی اور ترجمہ مکرم مولوی عبدالوکیل نیاز صاحب نائب ناظر اصلاح وارشاد جنوبی ہند قادیان نے پیش کیا۔بعدہٗ مکرم یاسراحمدنائیک نے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کامندرجہ ذیل منظوم کلام’’ہمیں اُس یارسے تقویٰ عطاہے٭نہ یہ ہم سےکہ احسانِ خداہے‘‘پڑھا۔
اجلاس کی پہلی تقریر مکرم کے طارق احمدصاحب ایڈیشنل ناظر اصلاح وارشاد نورالاسلام قادیان نے ’’عالمی جنگ کے بداثرات سے محفوظ رہنے کے لئے حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکےارشادات ‘‘ کے عنوان پر کی۔آپ نے سورۃ بنی اسرائیل کی آیت نمبر16کی تلاوت کرکےاس کا ترجمہ پیش کرنے کےبعد پیشگوئیوں سے متعلق حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے دواقتباسات پیش کئے ۔
فاضل مقرر نے فرمایا: ہر انسان آج کے دورمیں بد امنی کا شکار ہے اور امن و آشتی کی پامالی ہوتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا اور کانوں سے سن رہا ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں جنگ کی آگ بھڑک چکی ہے۔ آج کے دور میں خدا کی ایک قہری تجلی ایک اور عالمی جنگ کی صورت میں ظاہر ہوسکتی ہے۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ایسی جنگ کے بداثرات اور تباہی صرف ایک روایتی جنگ یا صرف موجودہ نسل تک ہی محدود نہیں رہیں گے۔ درحقیقت اس کے ہولناک نتائج آئندہ کئی نسلوں تک ظاہر ہوتے رہیں گے۔امام آخر الزمان حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ساری زندگی مسلمانوں کو بھی اور دنیا کو بھی بار بار انذار کیا کہ اگر انہوں نے توبہ نہ کی اور سچے خدا پر اور اس کے رسولﷺ اور وقت کے امام پر ایمان نہ لائے تو اللہ تعالیٰ کے سخت عذاب میں گرفتار ہوں گے۔ تاریخ اب گزشتہ سیاہ ابواب کے اوراق کی ایک مرتبہ پھر ورق گردانی کر رہی ہے۔ اور خدا کی قہری تجلی کا ظہور ہورہا ہے۔اس زمانہ کا نقشہ کھینچتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:
’’میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس ملک کی نوبت بھی قریب آتی جاتی ہے۔ نوح کا زمانہ تمہاری آنکھوں کے سامنے آجائے گا اور لوط کی زمین کا واقعہ تم بچشم خود دیکھ لو گے۔ مگر خدا غضب میں دھیما ہے۔ توبہ کرو تا تم پر رحم کیا جائے۔ جو خدا کو چھوڑتا ہے وہ ایک کیڑا ہے نہ کہ آدمی۔ جو اُس سے نہیں ڈرتا وہ مردہ ہے نہ کہ زندہ۔‘‘
(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ۲۶۹)
فرمایا : انسان کے لئے تیسری عالمی جنگ کے بداثرات سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں سوائے اس کے کہ خدا تعالیٰ کی طرف جھکے اور خدا تعالیٰ کو اپنا معاون و مددگار بنائے۔ گذشتہ دو دہائیوں سے سیدنا حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے خطرات سے متنبہ فرمارہے ہیں اور افراد جماعت کو دعاؤں کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح اور تربیت کی طرف خصوصی توجہ دلارہے ہیں تاکہ افراد جماعت اس عالمگیر تباہی کے ہولناک بداثرات سے اپنے آپ کو اور اپنی آئندہ نسل کو محفوظ کرسکیں۔ فاضل مقرر نے اس ضمن میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے متعدد ارشادات پیش فرمائے۔ اور آخر پر درج ذیل اقتباس پیش کرکے اپنی تقریر ختم کی۔ حضور انور فرماتے ہیں:
’’دنیا بڑی خوفناک تباہی کی طرف بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ نہ مسلمانوں میں انصاف رہا ہے، نہ غیر مسلموں میں انصاف رہا ہے اور نہ صرف انصاف نہیں رہا بلکہ سب ظلموں کی انتہاؤں کو چھو رہے ہیں۔ پس ایسے وقت میں دنیا کی آنکھیں کھولنے اور ظلموں سے باز رہنے کی طرف توجہ دلا کر تباہی کے گڑھے میں گرنے سے بچانے کا کردار صرف جماعت احمدیہ ہی ادا کر سکتی ہے۔ اس کے لئے جہاں ہم میں سے ہر ایک کو اپنے اپنے دائرے میں عملی کوشش کرنی چاہئے، وہاں عملی کوشش کے ساتھ ہمیں دعاؤں کی طرف بھی بہت توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مسلمان ممالک کی ناانصافیوں اور شامتِ اعمال نے جہاں اُن کو اندرونی فسادوں میں مبتلا کیا ہوا ہے وہاں بیرونی خطرے بھی بہت تیزی سے اُن پر منڈلا رہے ہیں بلکہ اُن کے دروازوں تک پہنچ چکے ہیں۔ بظاہر لگتا ہے کہ بڑی جنگ منہ پھاڑے کھڑی ہے اور دنیا اگر اُس کے نتائج سے بےخبر نہیں تو لاپرواہ ضرور ہے۔ پس ایسے میں غلامانِ مسیح محمدی کو اپنا کردار ادا کرتے ہوئے دنیا کو تباہی سے بچانے کے لئے دعاؤں کا حق ادا کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کا حق ادا کرنے والا بنائے اور دنیا کو تباہی سے بچا لے۔آمین۔‘‘
(الفضل انٹرنیشنل17؍مئی2013ء،صفحہ7)
اجلاس کی دوسری تقریر مکرم مظفر احمد ناصرصاحب ناظر اصلاح و ارشاد مرکزیہ قادیان نے ’’خلیفہ وقت کا مقام و مرتبہ خلافت کی اطاعت اور اس سے وابستگی کی اہمیت و برکات‘‘ کے عنوان پر کی۔آپ نے سورۃ النورکی آیت 56کی تلاوت کرکے اس کا ترجمہ پیش کیا۔بعدہٗ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے الفاظ میں خلافت کے معانی بیان کئے۔
فاضل مقرر نے نظام سے منسلک رہنے کی اہمیت پر یہ حدیث بیان فرمائی کہ حضرت ابن عباسؓروایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے حاکم سے ناپسندیدہ بات دیکھے وہ صبر کرے کیونکہ جو نظام سے بالشت بھر جدا ہو اس کی موت جاہلیت کی موت ہو گی۔
آپ نے اطاعت کے حوالہ سے حضرت عبداللہ بن رواحہؓ اورحضرت خالد بن ولیدؓکی مثالیں پیش کیں۔ فرمایا:آخرین کے دور میں بھی رسول کریم ﷺ کے غلام صادق حضرت مرزاغلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور آپ کے خلیفہ کی اطاعت کی ایسی ایسی عظیم مثالیں ملتی ہیں کہ اولین کے دور کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔اس ضمن میںفاضل مقرر نے حضرت میاں کریم بخش صاحب کا واقعہ،انتخاب خلافت خامسہ کے وقت تمام افرادکے ایک حکم پر بیٹھ جانے کا واقعہ،حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کی نصیحت پر حضرت ابو عبد اللہ صاحب کا 65سال کی عمرمیں قرآن کریم حفظ کرنےکاواقعہ پیش کیا۔آپ نے فرمایا : خلافت کی اطاعت اور نظام جماعت کی اطاعت لازم ملزوم ہیں یہ ایک ہی سکہ کے دو پہلو ہیں ۔حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنظام جماعت کی اطاعت کے بارے فرماتے ہیں:
ہمیشہ یاد رکھو کہ تمہارا مطمح نظر، تمہارا مقصد حیات صرف اور صرف خداتعالیٰ کی رضا ہونا چاہئے اور یہی کہ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور اس کے نظام کے جو احکامات و قواعد اور فیصلے ہیں ان کی پابندی کرنی ہے اور اس بارے میں اپنی اطاعت میں بالکل فرق نہیں آنے دینا۔‘‘
( خطبہ جمعہ 27؍ اگست 2004)
فاضل مقرر نے خلیفہ وقت سے عشق ومحبت کے چندواقعات پیش کرنے کےبعد ان الفاظ پراپنی تقریرختم کی ۔اللہ کرے کہ ہر احمدی مرد و عورت اس عہد کو پورا کرنے والا ہو۔ خلافت سے وفا اورمحبت میں اعلیٰ درجہ کے معیار قائم کرنے والا ہو۔ اللہ تعالی ہمیں ہمیشہ خلافت سے وابستہ رکھے اور اپنے پیاروں کا پیار عطا فر ما تا چلا جائے۔ آمین ثم آمین۔
اجلاس کی تیسری تقریر مکرم رفیق احمد بیگ صاحب ناظر بیت المال آمد قادیان نے ’’مالی قربانی کے سلسلہ میں افراد جماعت کا عدیم المثال نمونہ اورافضال الٰہیہ ‘‘ کے عنوان پر کی۔آپ نےابتداء میں لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ کی تلاوت کی اور اس کا ترجمہ پیش کیاکہ تم ہرگز نیکی کو پا نہیں سکو گے یہاں تک کہ تم اُن چیزوں میں سے خرچ کرو جن سے تم محبت کرتے ہو۔
فرمایا:اللہ تعالیٰ نے اس دورمیں ہمیں خلافت احمدیہ کی نعمت عظمیٰ سے نوازا ہے جس سے ہماری تربیت اور تزکیہ کے سامان ہورہے ہیں۔قرآن کریم میں تزکیہ نفوس کا ایک اہم ذریعہ انفاق فی سبیل اللہ بیان ہواہے۔ حضور انور احباب جماعت کو اللہ کے راستہ میں اپنا مال خرچ کرنے کی بار بار تلقین فرماتے ہیں۔پیارے آقا کے خطبات و خطابات میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ اور عالمگیر جماعت احمدیہ کےمخلصین کی مالی قربانیوں کی ایمان افروز داستان ہمارے ایمان و ایقان میںتقویت کا موجب بنتی ہے۔ مالی قربانی کے یہ واقعا ت صحابہ کی قربانیوں کی یادتازہ کرتے ہیں۔قربانیوں کے ان واقعات کو دیکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ شعر برملا زبان پر آتاہے کہ :
مبارک وہ جو اب ایمان لایا…٭…صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا
فاضل مقرر نے اس ضمن میں حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ ، حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی رضی اللہ عنہ کی مالی قربانی کے ایمان افروز واقعات بیان فرمائے۔
آنحضرتﷺ نے فرمایا دو شخصوں کے سوا کسی پر رشک نہیں کرنا چاہئے۔ ایک وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور اس نے اسے راہ حق میں خرچ کر دیا، دوسرے وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے سمجھ، دانائی اور علم و حکمت دی جس کی مدد سے وہ لوگوں کے فیصلے کرتا ہے اور لوگوں کو سکھاتا ہے۔فاضل مقرر نے دُنیا کے مختلف ممالک سے احمدیوں کی مالی قربانیوں کے ایمان افروز واقعات بیان فرمائے۔اور آخر پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ازالہ اوہام سے آپؑکا ایک اقتباس پیش کرنے کے بعد اپنی تقریرختم کی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں  :
’’میرے پیارے دوستو! میں آپ کو یقین دلاتاہوں کہ مجھے خدائے تعالیٰ نے سچا جوش آپ لوگوں کی ہمدردی کے لئے بخشا ہے اور ایک سچی معرفت آپ صاحبوں کی زیادت ایمان و عرفان کے لئے مجھے عطا کی گئی ہے اس معرفت کی آپ کو اور آپ کی ذرّیت کو نہایت ضرورت ہے۔ سو میں اس لئے مستعد کھڑاہوں کہ آپ لوگ اپنے اموال طیّبہؔ سے اپنے دینی مہمات کے لئے مدد دیں اور ہر یک شخص جہاں تک خدائے تعالیٰ نے اس کو وسعت وطاقت و مقدرت دی ہے اس راہ میں دریغ نہ کرے اور اللہ اور رسول سے اپنے اموال کو مقدّم نہ سمجھے اور پھر میں جہاں تک میرے امکان میں ہے تالیفات کے ذریعہ سے اُ ن علوم او ر برکات کو ایشیااور یورپ کے ملکوں میںپھیلاؤں جو خدا تعالیٰ کی پاک روح نے مجھے دی ہیں۔‘‘(ازالہ اوہام رُوحانی خزائن جلد 3 صفحہ 516)
اللہ تعالیٰ ہم سب کو مالی قربانی کے اعلیٰ معیارحاصل کرنےکی توفیق عطافرمائے۔آمین۔
دوسرا دن دوسرا اجلاس
دوسرے د ن کے دوسرے اجلاس کی صدارت مکرم سیّد تنویر احمد صاحب صدر مجلس وقف جدید نے کی۔ مکرم حافظ فاروق احمد اعظم صاحب نے سورۃ الحجرات کی آیات 12 تا 14 کی تلاوت کی جس کا اُردو ترجمہ مکرم شمیم احمد غوری صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ بھارت نے پیش کیا۔ اس کے بعد مکرم مرشد احمد ڈار اور ان کے ساتھیوں نے بہت ہی خوش الحانی کے ساتھ سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا درج ذیل منظوم کلام ترانہ کی شکل میں پیش کیا۔
مری رات دن بس یہی اِک صدا ہے
کہ اس عالم کون کا اک خدا ہے
اسی نے ہے پیدا کیا اس جہاں کو
ستاروں کو سورج کو اور آسماں کو
بعدہٗ اِس اجلاس کی پہلی تقریر مکرم مولانا منیر احمد خادم صاحب نے’’ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا خطاب احمدیت یعنی حقیقی اسلام اس کا پس منظر اور دیر پا اثرات‘‘ کے عنوان پر کی۔آپ نے اپنے خطاب کے شروع میں سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وہ رؤیا بیان فرمائی جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیکھا کہ میں شہر لندن میں ایک منبر پر کھڑا ہوں اور انگریزی زبان میں ایک نہایت مدلل بیان سے اسلام کی صداقت ظاہر کر رہا ہوں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کی یہ تعبیر بیان فرمائی کہ اگر چہ میں نہیں مگر میری تحریریں ان لوگوں میں پھیلیں گی اور بہت سے راستباز انگریز صداقت کا شکار ہو جائیں گے۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے بعض ایسی خوابیں دیکھیںجن سے آپؓنے یہ نتیجہ نکالا کہ ولایت کا سفر اور کانفرنس میں خطاب اللہ تعالیٰ کا منشاء اور اس کی تقدیر سے ہے۔اس سفر میں حضور رضی اللہ عنہ ریل سے بمبئی پہنچے اور بمبئی سے بذریعہ بحری جہازعدن کے لئے روانہ ہوئے عدن سے پورٹ سعید اور پھر قاہرہ سے بیت المقدس ۔بیت المقدس سے شام اور پھر لندن پہنچے۔
حضور رضی اللہ عنہ نے لندن میں کئی ہفتے قیام فرمایا اور اس اثناء میں وہاں تبلیغ اسلام کے حوالہ سے بہت سے منصوبے پیش فرمائے برطانوی پریس میں حضور رضی اللہ عنہ کی آمد، آپ کی شخصیت، اور آپ رضی اللہ عنہ کے اسلام کو یورپ میں پھیلانے کے عزم کا ایک وسیع چرچا ہوا ۔ بعض متعصب کیتھولک اخبارات نے لکھا کہ یہ عیسائیت کے خلاف ایک سازش ہے اور بعض نے لکھا کہ برطانیہ میں آنے والے کسی لارڈ کو بھی اتنی کوریج نہیں دی جاتی جتنی امام جماعت احمدیہ کو دی گئی ۔ اسی دوران حضور رضی اللہ عنہ نےبرطانیہ کی پہلی مسجد ـ’’مسجد فضل ‘‘کا سنگ بنیاد 19 اکتوبر 1924ء کو رکھا ۔
حضور رضی اللہ عنہ کا عظیم الشان لیکچر جس نے سامعین کو ایک گھنٹہ تک ورطۂ حیرت میں مبتلا کردیااور سب نے نہایت غور اور توجہ سے جسے سنا اس کے متعلق بیسیوں دانشوروںنے اپنی آراء پیش کیں۔ اس وقت کے اخبار مانچسٹر گارڈین نے لکھا کہ :
’’اس کانفرنس میں ایک ہلچل ڈالنے والا واقعہ جو اس وقت ظاہر ہوا وہ آج سہ پہر کو اسلام کے ایک نئے فرقہ کا ذکر تھا۔نئے فرقہ کا لفظ ہم نے آسانی کے لئے اختیار کیا ہے ورنہ یہ لوگ اس کو درست نہیں سمجھتے ۔اس فرقہ کی بناان کے قول کے بموجب آج سے چونتیس سال پہلے اس مسیح نے ڈالی جس کی پیشگوئی بائبل اور دوسری کتابوں میں ہے اس سلسلہ کا یہ دعویٰ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے صریح الہام کے ماتحت اس سلسلہ کی بنیاد اس لئے رکھی ہے کہ وہ نوع انسان کو اسلام کے ذریعہ خدا تعالیٰ تک پہنچائے۔ایک ہندوستان کے باشندے نے جو سفید دستار باندھے ہوئے ہے اور جس کاچہرہ نورانی اور خوش کن ہے اور سیاہ داڑھی رکھتاہےاور جس کا لقب ہز ہولینس خلیفۃ المسیح الحاج میرزا بشیرالدین محمود احمد یا اختصاراً خلیفۃالمسیح ہے مندرجہ بالاتحدی اپنے مضمون میں پیش کی۔جس کا عنوان ہے ’’ اسلام میں احمدیہ تحریک‘‘…آپ کے ایک اور شاگرد نے جو سرخ رومی ٹوپی پہنے ہوئے تھا،آپ کا پرچہ کمال خوبی کے ساتھ پڑھا…آپ نے اپنے مضمون کو جس میں زیادہ تر اسلام کی حمایت اور تائید تھی ایک پر جوش اپیل کے ساتھ ختم کیاجس میں انہوں نے حاضرین کو اس نئے مسیح اور اس نئی تعلیم کے قبول کرنے کے لئے مدعو کیا۔اس بات کا بیان کردینا بھی ضروری ہے کہ اس پرچہ کے بعد جس قدر تحسین وخوشنودی کا چیئرز کے ذریعہ اظہار کیا گیا اس سے پہلے کسی پرچہ پر ایسا نہیں کیا گیا تھا‘‘
اِس اجلاس کی دوسری تقریر مکرم مولانا تنویر احمد خادم صاحب انچارج شعبہ رشتہ و ناطہ نے ’’جماعت احمدیہ و خدمت خلق‘‘ کے عنوان سے بزبان پنجابی کی۔ آپ نے فرمایا : رضائے الٰہی کے حصول کے لیے جائز امور میںبغیر فرق مذہب اور رنگ ونسل مخلوقِ خدا کی خدمت، اعانت اور مدد کرنے کو خدمتِ خلق کہتے ہیں۔خدمت خلق محبت الٰہی کا تقاضہ ،ایمان کی روح اور دنیا وآخرت کی سرخ روئی کا ذریعہ ہے۔صرف مالی اعانت ہی خدمت خلق نہیں ہے بلکہ کسی کی کفالت کرنا ، کسی کو تعلیم دینا ،مفید مشورہ دینا ،کسی کوکوئی ہنر سکھانا، علمی سرپرستی کرنا، تعلیمی ورفاہی ادارہ قائم کرنا، کسی کے دکھ درد میں شریک ہونا اور ان جیسے دوسرے امور خدمت خلق کی مختلف راہیں ہیں۔
اسلام میں احترام انسانیت اور مخلوقِ خدا کے ساتھ خدمت وغم خواری کو بہت ہی قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے،چنانچہ قرآن مقدس اور احادیث نبویہ میں جگہ جگہ خدمت انسانیت کو بہترین اخلاق اورعظیم عبادت قراردیا گیا ہے۔مقرر موصوف نے قرآن کریم اور احادیث نبویہ کے حوالہ سے خدمت خلق کے متعلق اسلامی تعلیمات پیش کیں اور اس ضمن میں آنحضرت ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اُسوہ حسنہ بیان فرمایا۔ نیز اس تعلق میں جماعت احمدیہ پوری دُنیا میں جس رنگ میں خدمت خلق کے کام سرانجام دے رہی ہے اس کا تذکرہ فرمایااور اس تعلق میں غیروں کے تاثرات بھی بیان فرمائے۔
تأثرمکرم عبدالقادر مدلل صاحب صدر جماعت فلسطین
اِس اجلاس میں مکرم عبد القادر مدلل صاحب صدر جماعت احمد یہ فلسطین نے اپنے تأثرات میں فرمایا کہ : خدا تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں شامل ہونے کے پچیس سال کے بعد اس مقدس بستی میں حاضر ہونے کی میری دیرینہ خواہش کو پورا کر دیا۔میرے پیارے سیدی احمد علیہ السلام … میں ایک لمبے عرصہ سے آپ کی کتب و تحریرات کے سمندر میں غوطہ زن رہا ہوں، اور ان تحریرات نے مجھے دل کی گہرائیوں تک مسحور کر رکھا ہے۔ لیکن آج جب مجھے ان راہوں اور گلیوں میں بھی چلنے کی توفیق مل رہی ہے جہاں آپ علیہ السلام کے بابرکت قدم پڑے، تو میرا دل دوبارہ اسی سحر کے احساس سے معطر ہو رہا ہے۔اَے میرے مالک ! تو میرے دل کی کیفیت کو بہتر جانتا ہے اور اسکی بے ترتیب دھڑکنوں سے خوب واقف ہے۔سیدی ! میری پر نم آنکھیں، گو آپ کو سامنے دیکھ تو نہیں سکتیں لیکن ان مقامات پر آپ کی موجودگی کو محسوس کرتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہمارے درمیان زمانی مسافتیں ختم ہو کر رہ گئی ہیں اور آپ ایک نئے جوش و ولولے سے ہم میں محمدی عشق کی روح کو زندہ کرتے ہوئے اس زمین سے دور آسمانوں کی بلندیوں کی طرف لئے جارہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ زمین کی کشش ثقل ختم ہو گئی ہے اور ہم ہواؤں میں اڑے پھرتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ آنکھ کا اندھا پن جاتا رہا ہے اور اسکی جگہ روشن آنکھ اور تیز نظر نے لے لی ہے۔میرے آقا، میں چشم تصور سے آپ کو، مسجد مبارک کی پرانی سیڑھیوں سے عشق الٰہی میں مخمور، لوگوں کے غموں کا بوجھ اٹھائے ہوئے آتاد یکھتا ہوں ، آپ اشک بھری آنکھوں کے ساتھ کبھی بیت الدعاء میں اپنے محبوب خدا سے راز و نیاز کرتے ہیں تو کبھی بیت الفکر میں ، کبھی بیت الریاضت میں اپنے ربّ سے مناجات کرتے ہیں تو کبھی مسجد مبارک میں۔ اس تصور میں ڈوبنے سے میری اسی قدر تمنا ہے کہ شاید مجھے بھی آپ علیہ السلام کے عشق الٰہی کا کوئی معمولی حصہ بھی مل جائے، تو میرے دل کی تسکین کا باعث ہو جائے گا اور میری روح کی پیاس بجھانے کا سامان ہو جائے گا۔میرے آقا، میں جب آپ کی اور آپ کے خاندان اور آپ کے صحابی حضرت مولوی نورالدین کی رہائش گاہوں میں گیا ہوں، اور ان رہائش گاہوں کے کمروں اور دہلیزوں سے گزرا ہوں، تو ایسے لگا ہے جیسے ان مقدس مقامات کے ذرے ذرے سے ایک عجیب روحانی قوت پھوٹ پھوٹ کر میری روح میں سرایت کر رہی تھی، اور میری روح کی تسکین واطمینان کا باعث بن رہی تھی۔ اور شاید یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے، کیونکہ میں جس گھر کی بات کر رہا ہوں وہ آپ علیہ السلام کا گھر ہے ، اور جس جگہ کی بات کر رہا ہوں وہ قادیان دارالامان ہے۔میرے آقا ، میں آپ کی دارالضیافت میں بھی گیا، جس نے شروع میں آپ کے اصحاب کی ضیافت کی، اور جو ان لوگوں کی پناہ گاہ بن گئی جن کا کوئی ٹھکانا نہیں تھا، اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ سیدی آپ خاندانوں کے خاندانوں کو اپنے مائدہ پر کھلانے والے بن چکے ہیں اور آپ کے نام کے لنگر دنیا کے ہر کونے میں چل رہے ہیں۔ میرے آقا، تیری بستی میں قدم قدم پر ہم تجھے یاد کرتے ہیں اور بات بات پر تیرا ذکر کر رہے ہیں۔
اے وہ جس نے انسانی ہمدردی کی مثال قائم کرتے ہوئے اللہ کی تمام مخلوق کو ، یہاں تک کہ اپنے دشمنوں کو بھی اپنے نفس پر ترجیح دی۔ اے وہ جس کی محبت ماؤں کی اولاد سے محبت سے بھی بڑھ کر تھی۔ آج آپ کے خدام آپ کی معطر سیرت میں مذکور ہمدردی خلائق کے ان داستانوں کو زندہ کر رہے ہیں جو آپ نے بے شمار غریبوں، مسکینوں اور محتاجوںکے ساتھ حسن سلوک کر کے رقم کی تھیں۔میرے آقا، جیسے ہی میں بہشتی مقبرہ میں داخل ہوا، تو میرے دل میں ایک لازوال سکون، اطمینان اور راحت نے گھر کر لیا۔ اور جب میں آپ کے مزار مبارک کے قریب پہنچا، تو اس کے درودیوار پر لکھی تحریروں کو پڑھ کر میرے دل میں ایک ٹیس اٹھی، اور اس فانی دنیا سے نفرت سی ہو گئی… پھر جب میں آپ کے مزار مبارک کے اور قریب ہو ا، تو دل کا سارا بوجھ اشکوں کے ذریعہ اتارنے کی کوشش کی۔ میرے آقا، بہشتی مقبرہ میں بار بار میں اس جگہ بیٹھا، جہاں آپ اپنے اصحاب کے ساتھ بیٹھ کر عرفان کی مجالس لگاتے تھے یہاں پہنچ کر بار بار میرے دل نے یہ تمنا کی کہ کاش میں بھی آپ علیہ السلام کے ساتھ ان مجالس میں بیٹھا ہوتا۔پھر جب میری نظر سفید منار پر پڑی تو اس کی خوبصورتی کو دیکھ کر اور عظمت کو محسوس کر کے میرا دل فرحت و سرور سے بھر گیا۔پھر میں نے قدرتِ ثانیہ کے مقام کی طرف دیکھا اور کہا: میرے آقا، آپ کی ہر بات سچ ثابت ہوئی۔ اے صادق و صدوق ! دنیامیں کتنے لوگوں نے خلافت قائم کرنے کی کوشش کی، لیکن ان کی تمام کوششیں محض جھاگ اور سراب ثابت ہوئیں جبکہ آپ کے بعد قائم ہونے والی قدرت ثانیہ زمین پر قائم و دائم ہے۔ اور دور دراز علاقوں سے ، ہر رنگ و نسل کے لوگ اس کی طرف آتے چلے جار رہے ہیں۔سیدی ! ان مقامات کی یادیں میرے دل میں لمبے عرصہ تک زندہ رہیں گی، جو مجھے ان مقدس لمحات کی یاد دلاتی رہیں گی جو میں نے آپ کی بستی میں اور آپ کے مزار کے قرب وجوار میں گزارے۔ میں یہاں سے ایسی انمٹ یادیں لے کر جارہا ہوں جو اس مقام سے جدائی کے درد اور تڑپ کے احساس کے وقت کسی قدر تسکین کا باعث ہوں گی۔ چنانچہ آج میں تو ان مقامات سے جدا ہو رہا ہوں، لیکن انکی یادیں مجھ سے کبھی جدا نہیں ہوں گی۔
ضض ضض