اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-01-09

مرکز احمدیت قادیان دارالامان میں 129ویں جلسہ سالانہ کا، کامیاب و بابرکت انعقاد

الحمد للہ کہ جلسہ سالانہ قادیان مورخہ 27 ، 28،29 دسمبر2024 بروز جمعہ ہفتہ اتوار، قادیان دارلامان کی مقدس بستی میں منعقد ہو کر بخیر وخوبی اختتام پذیر ہوا۔جلسہ سے پہلے ہی ملک کے طول و عرض سے عشاق احمدیت بڑے ہی ذوق و شوق اور جوش و خروش کے ساتھ جلسہ میں شرکت کی خاطر قادیان آنے لگے۔ اور جلسے کے ایام جوں جوں قریب آتے گئے قادیان دارالامان کی رونقوں میں توں توں اضافہ ہوتا گیا یہاں تک کہ قادیان پوری طرح مہمانوں سے بھر گیا۔ جدھر نکلو ، جدھر نظر دوڑاؤ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمان نظر آتے۔ بیرون ملک سے بھی بڑی تعداد میں عشاق احمدیت جلسہ میں شریک ہوئے۔ قادیان دارالامان کی پیاری بستی، ایک بار پھر خوشیوں اور رونقوں سے بھر گئی۔ مہمانوں کی آمد سے قبل ہی نظامت بجلی وروشنی کی طرف سے محلہ کی تمام گلیوں اور سڑکوں کو ٹیوب لائٹوں کے ذریعہ روشن کردیا گیا ۔ بہشتی مقبرہ،دارالمسیح ، مسجد مبارک ، مسجد اقصیٰ، منارۃ المسیح اور دارلضیافت کو بجلی کے چھوٹے چھوٹے رنگین بلبوں سے دُلہن کی طرح سجایا گیا۔اس طرح مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کی رُوحانی بستی اپنی باطنی جگمگاہٹ کے ساتھ ساتھ ظاہری طور پر بھی جگمگا اُٹھی۔
جلسہ سے پہلے تک موسم نہایت خوشگوار تھا۔ جلسہ گاہ پوری طرح تیار تھا اور بے صبری سے اپنے بیٹھنے والوں کا انتظار کررہا تھا۔ دس بجے جلسہ کی افتتاحی تقریب شروع ہونی تھی۔ احباب و مستورات جلسہ گاہ کی طرف بصد شوق وقت سے پہلے رواں دواں تھے کہ اچانک بارش شروع ہوگئی جسکے باعث جلسہ، بستان احمدکی بجائے مسجد اقصیٰ میں منعقد کرنا پڑا۔ چنانچہ بارش کے باعث ابتدائی دو دن جلسہ مسجد اقصیٰ میں ہوا ۔ تیسرے دن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے موسم اچھا رہا اور جلسہ بستان احمد یعنی جلسہ گاہ میں منعقد ہوا۔
معائنہ کارکنان و انتظامات جلسہ
مورخہ 23دسمبر بروز سوموار بستان احمد میں صبح پونے گیارہ بجے نمائندہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ، مکرم مولانا محمد انعام غوری صاحب ناظر اعلیٰ و امیر جماعت قادیان نے جلسہ سالانہ قادیان 2024کی’’ معائنہ کارکنان و انتظامات جلسہ‘‘ کی تقریب میں کارکنان جلسہ سے خطاب فرمایا۔ اور بعدہٗ جلسہ سالانہ کے انتظامات کا معائنہ فرمایا۔نمائندہ حضور انور جونہی بستان احمد میں تشریف لائے ان کا اَھْلًا وَّسَھْلًا وَّمَرْھَبًا کے نعروں سے استقبال کیا گیا۔ سب سے پہلے نمائندہ حضور انور نے اپنے اپنے بینر تلے کھڑے منتظمین و ناظمین جلسہ سے مصافحہ فرمایا۔تقریب کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ عزیز لقمان تقی نے سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات کی تلاوت کی اور ان کا ترجمہ پیش کیا۔ اسکے بعدمکرم ناظر صاحب اعلیٰ نے خطاب فرمایا۔ آپ نے فرمایا کہ اگرچہ ہمارا یہ جلسہ سالانہ ملکی جلسہ سالانہ ہے لیکن قادیان دارلامان کے دائمی مرکز ہونے کی وجہ سے اور رسول کریم ﷺ کے ظلِّ کامل حضرت مسیح موعود و مہدی معہود کا مولد و مسکن و مدفن ہونے کے لحاظ سے اس جلسہ کی ایک خاص حیثیت اور اہمیت ہوجاتی ہے۔ اور اس لحاظ سے بھی کہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ہمارے جلسہ کے لئے اختتامی خطاب فرماتے ہیں جو ایم ٹی اے کے ذریعہ پوری دُنیا میں لائیو نشر ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں دُنیا کے مختلف ممالک سے وفود قادیان آتے ہیں اس لحاظ سے یہ جلسہ ملکی جلسہ نہ رہ کر ایک عالمی جلسہ بن جاتا ہے۔مزید برآں یہ کہ قادیان وہ مقدس بستی ہے جہاں شعائر اللہ ہیں۔ خدا کا نبی یہاں چلا پھرا اور زندگی گزاری اور اس نے اسلام کی نشا ٔۃ ثانیہ کی یہاں سے بنیاد رکھی اور ساری دُنیا میں یہاں سے جماعت پھیلی، اس لحاظ سے قادیان دارالامان کا جلسہ ایک خاص اہمیت کا حامل جلسہ ہوجاتاہے۔ لہٰذا اس جلسہ میں ڈیوٹی دینے والے خدام، انصار اور لجنہ کیلئے بڑی سعادت ہے کہ انہیں اس جلسہ میں خدمت کی توفیق مل رہی ہے۔ جہاں ڈیوٹی دینے والوں کی سعادت ہے وہاں ان کی ذمہ داری بھی بہت بڑھ جاتی ہے کہ احسن رنگ میں وہ اپنی ڈیوٹیوں کا حق ادا کریں۔
نمائندہ حضور انور نے فرمایا : جلسہ سالانہ کے تین اہم شعبے ہوتے ہیں ۔افسر جلسہ سالانہ کے تحت جلسہ کے مہمانوںکے قیام و طعام کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ افسر جلسہ گاہ کے تحت مہمانوں کی روحانی اور علمی پروگرام ہوتے ہیں اور افسر خدمت کے تحت جلسہ کی سیکورٹی اور نظم و ضبط کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اور ہر شعبہ اپنی جگہ اہم ہے۔ جلسہ کے کام سرانجام دینے کے لئے کارکنان کو باقاعدہ آن ڈیوٹی کیا جاتا ہےاس لحاظ سے دوہری ذمہ داری ہوجاتی ہے کہ پوری ذمہ داری اور اخلاص کے ساتھ خدمت کریں۔اگردفتر کا کوئی اہم کام ہو تو ڈیوٹی کے ساتھ ساتھ اس کی بھی فکر ہونی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی خوشنودی کی خاطر پورے اخلاص کے ساتھ ،نیک نیتی کے ساتھ استغفار اور دعاؤں کے ساتھ اپنے فرائض کو انجام دینے کی ضرورت ہے۔ پھر اگر کچھ کمی رہ جائے تو اللہ تعالیٰ ستاری فرماتا ہے۔
اس کے بعد نمائندہ حضور انور نے مہمان نوازی کے متعلق حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے بعض ارشادات پیش فرمائے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشادات کی روشنی میں آپ نے ناظمین وافسران و انچارج صاحبان کو اُن کی ذمہ داریوںکی طرف توجہ دلائی اور سیکورٹی سےمتعلق چوکس رہنےکی طرف بھی توجہ دلائی۔اور آخر پر خصوصیت کے ساتھ نماز باجماعت کی بھی تاکید فرمائی۔ فرمایا کہ ایسا نہ ہو کہ ایک طرف تو ہم جلسہ سالانہ کے مہمانوں کی خدمت کرکے ثواب کمائیں اور دوسری طرف نمازوں میں سستی کی وجہ سے اپنا سارا ثواب ضائع کردیں۔ پس اخلاص و وفا کیساتھ خدمت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ اس الٰہی جلسہ کے لئےاور اس میں شامل ہونے والوں کے لئے اور خدمت کرنے والوں کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو دعائیں کی ہیں ہم اُن دعاؤں سے حصہ لینے والے ہوں۔ آمین۔
مورخہ 27؍دسمبر2024 بروز جمعہ
افتتاحی اجلاس
مورخہ 27 دسمبر2024 ءبروز جمعۃ المبارک 129 ویں جلسہ سالانہ قادیان کے افتتاحی اجلاس کی کاروائی کا آغازجلسہ گاہ بستانِ احمد کی بجائےبارش اور موسم کی خرابی کے باعث مسجد اقصیٰ کے قدیمی حصہ میں ٹھیک صبح 10بج کر 57 منٹ پرہوا۔ مسجد اقصیٰ کے حصہ جدید اور قدیم میں مرد حضرات کے لئے جلسہ کی کاروائی دیکھنے اور سننے کا انتظام کیا گیا جبکہ عورتوں کے لئے مسجد انوار میں لائیو اسٹریمنگ کےذریعہ جلسہ کی کارروائی کی آڈیو سننے کا انتظام کیا گیا۔اچانک بارش کی وجہ سے انتظامیہ نے تقریباََ ایک گھنٹہ کے اندر اندر اسٹیج اور لائیو اسٹریمنگ کے تمام انتظامات مکمل کئے اور صدر اجلاس کی اجازت کے ساتھ جلسہ کی کارراوئی کا آغاز ہوا۔ مکرم طارق احمد لون صاحب آف جماعت احمدیہ کاٹھ پورہ کشمیر نے سورۃ المومن کی آیت نمبر 61 تا 66 کی تلاوت کی اور ان آیات کا ترجمہ مکرم جاوید احمد لون صاحب ناظر دیوان صدر انجمن احمدیہ قادیان نے پیش کیا۔
اس کے بعد محترم مولانا محمد کریم الدین شاہد صاحب صدر اجلاس نے افتتاحی خطاب فرمایا۔آپ نے اپنے افتتاحی خطاب میں فرمایا کہ جلسہ سالانہ قادیان کی بنیا د سید نا حضرت اقدس مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام نے 1891ء میں اللہ تعالیٰ کے اذن سے رکھی۔ آپ نے اپنے خطاب میں سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشادات کی روشنی میں جلسہ کی اہمیت و برکات کی طرف توجہ دلائی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
اس جلسہ کو معمولی انسانی جلسوں کی طرح خیال نہ کریں ۔ یہ وہ امر ہے جس کی خالص تائید حق اور اعلائے کلمہ اسلام پر بنیاد ہے۔ اس سلسلہ کی بنیادی اینٹ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے رکھی ہے اور اس کے لئے قومیں تیار کی ہیں جو عنقریب اس میں آملیںگی کیونکہ یہ اُس قادر کا فعل ہے جس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں ۔
( مجموعہ اشتہارات جلد اول اشتہار7دسمبر 1892)
بعدہٗ آپ نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد پیش فرمایا :
اگر خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش نہیں ہو رہی، اگر تقویٰ میں ترقی کرنے کی کوشش نہیں ہو رہی، اگر اخلاق کے اعلیٰ نمونے دکھانے کی کوشش نہیں ہو رہی، اگر بندوں کے حقوق ادا نہیں ہو رہے تو پھر جلسہ پر آنے کا مقصد ہی پورا نہیں ہوتا اور اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ ( خطبہ جمعہ 23 ؍اگست 2024 )
صدر اجلاس نے شاملین جلسہ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعائیں پیش کیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں  :
’’ہر ایک صاحب جو اس للّہی جلسہ کے لئے سفر اختیار کریں خدا تعالیٰ اُن کے ساتھ ہو اوراُن کو اجر عظیم بخشے اور ان پر رحم کرے اور اُن کی مشکلات اور اضطراب کے حالات اُن پر آسان کر دیوے اور اُن کے ہم و غم دور فرمادے۔ اور ان کو ہر ایک تکلیف سے مخلصی عنایت کرے۔ اور اُن کی مرادات کی راہیں ان پر کھول دیوے۔ اور روز آخرت میں اپنے ان بندوں کے ساتھ اُن کو اُٹھاوے جن پر اس کا فضل و رحم ہے ۔ اور تا اختتام سفر اُن کے بعد اُن کا خلیفہ ہو ۔ اے خدا اے ذو المجد والعطاء اور رحیم اور مشکل کشا یہ تمام دعائیں قبول کر اور ہمیں ہمارے مخالفوں پر روشن نشانوں کے ساتھ غلبہ عطا فرما کہ ہر یک قوت اور طاقت تجھ ہی کو ہے۔ آمین ثم آمین ۔“
آپ نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد پیش فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعائیں صرف انہی کے حق میں پوری ہوں گی جو اس مقصد کو سمجھ رہے ہوں گے۔ اس غرض کو سمجھ رہے ہوں گے جس کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جلسہ کا اجرا فرمایا تھا۔ ( خطبہ جمعہ 23 ؍اگست 2024 )
پہلا دن پہلا اجلاس
صدر اجلاس کی افتتاحی تقریر اور دعا کے بعد محترم نصرمن اللہ صاحب نائب ناظر امور عامہ نےنظم ’’میرے مولا میری یہ اک دعا ہے‘‘ سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود ؑ کے کلام میں سے چند اشعار لہن داؤدی میں پیش کیا۔ اِس اجلاس کی پہلی تقریر محترم مولانا محمد حمید کوثر صاحب ناظر دعوت الی اللہ شمالی ہند نے’’ ہستی باری تعالیٰ صفت سمیع الدعا کی روشنی میں‘‘کے عنوان پر کی۔فاضل مقرر نے قرآن کریم کی آیات کی روشنی میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری پکار سنوں گا۔آج کی جدید نسل، مذہب، اور اللہ تعالیٰ سے اس لئے دور ہوتی چلی جا رہی ہے کہ ان کے مذہبی راہنما ان کو اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کی پہچان کرنے کا جو طریق بتاتے ہیں وہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتا ۔ اس کو ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر کوئی انسان اپنی کسی حاجت روائی کے لئے کسی گھر کے دروازےکو اِس اُمید کے ساتھ کھٹکھٹائے کہ گھر والا اس کی مددکرےگا۔مگر بار بار کھٹکھٹانےکے اگر دروازہ نہیں کھلتا تو وہ یہ نتیجہ اخذ کرنے میں حق بجانب ہوگا کہ گھر کے اندر کوئی نہیں ہےاور اگر ہوتاتو جواب دیتا۔وہ ناامید ہوکر یہ سمجھ لیتا ہے کہ خدا کا وجود ہے ہی نہیں۔اس کے بالمقابل سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ :
’’ جو ڈھونڈتا ہے پاتاہے اور جومانگتا ہے اسکو دیاجاتا ہے اور جو کھٹکھٹاتا ہے اسکے واسطے کھولا جاتا ہے۔‘‘
(براہین احمدیہ روحانی خزائن جلد1صفحہ429)
فاضل مقرر نے اللہ تعالیٰ کی صفت سمیع الدعا کی روشنی میں آنحضرت ﷺ کی قبولیت دعا کے واقعات بیان فرمائے جن میں ایک ایمان افروز واقعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام کا بیان فرمایا۔ پھر مقرر موصوف نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی دعا کے نتیجہ میں ایک بہت بڑے سونامی کے رُک جانے اور تھم جانے کا واقعہ بیان فرمایا جبکہ حضور انور فجی میں تھے اور وہ انتہائی طاقتور سونامی فجی سے ٹکرانے والا تھا۔آپ نے قبولیت دعا کے متعدد ایمان افروز واقعات بیان فرمائے جن سے اللہ تعالیٰ کی ہستی کے سمیع الدعا ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔
اس اجلاس کی دوسری تقریر محترم مولانا عطاء المجیب لون صاحب پرنسپل جامعہ احمدیہ قادیان و صدر انصار اللہ بھارت نے فرمائی۔آپ کی تقریر کا موضوع تھا ’’اسلامی آداب و اخلاق کھانے پینے، صفائی ،راستوں کے حقوق ،غض بصر، آداب مجالس، آداب مساجد ‘‘ مقرر موصوف نے فرمایا: روحانیت کی تمام تر بنیاد ادب پر ہے۔ روحانیت کی ترقی کے لئے ہم پر لازم ہے کہ ہم اسلام کے پیش کردہ آداب کو ہمیشہ ملحوظ رکھیں ۔ یہی وہ کنجی ہے جس کے ذریعہ ہم کامل اخلاق کی طرف اپنا قدم آگے بڑھاسکتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ روحانیت کے اعلیٰ مدارج کی طرف رواں دواں رہ سکتے ہیں ۔
رسول کریم ﷺ جس زمانہ میں دنیا میں مبعوث ہوئے اُس زمانہ میں انسان کی کیا حالت تھی اُس کا اظہار اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ کر فرمایا کہ ظَہَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِیعنی کیا انسانی آداب کے لحاظ سے ، کیا اخلاقی لحاظ سے اور کیا روحانی لحاظ سے ہر لحاظ سے انسان کی حالت بد سے بد تر تھی ۔ فساد ہی فساد تھا ۔ اور انسان کی حالت مردہ کی طرح تھی ۔ایسے میں رسول اکرم ﷺ کی بعثت کا مقصد بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اِعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہَ يُحْيِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا۝۰ۭ یعنی یہ بات جان لو کہ اب اللہ تعالیٰ نئے سرے سے زمین کو بعد اس کے مرنے کے زندہ کرے گا۔
اس مقام سے اُٹھا کر آنحضرت ﷺ نے اُن کو اُس مقام تک پہنچایا جس میں اُنہوں نے نہ صرف انسانی آداب سیکھے ، بلکہ انہوں نے اخلاق کے بھی اعلیٰ ترین معیار حاصل کئے اور پھر روحانیت کے بھی بلند ترین مقام پر فائز ہوئے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کو رَضِيَ اللہُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْہُکی عظیم سند عطا کی یعنی اللہ تعالیٰ اُن سے راضی ہوااور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہوئے ۔
مقرر موصوف نے قرآن کریم کی آیات اور احادیث نبویہ کی روشنی میں کھانے پینے کے آداب،صفائی کے آداب،راستوں کے حقوق ا و ر اس کےآداب مثلاً غض بصراور سلام کا جواب دینا وغیرہ،مساجد کے آداب ، مجالس کے آداب وغیرہ امور پر روشنی ڈالی۔ اور آخر پر فرمایا : ہمیں اس حقیقت کو بھی سمجھنا ہوگا کہ یہ آداب ہی در اصل ایک مومن کا حقیقی زیوراور اُس کی اصل پہچان ہیں ۔ یہ ناممکن ہے کہ ایک مومن کے اندر ایمان تو ہو لیکن وہ اِن آداب زندگی سے عاری ہو ۔ یہ آداب زندگی ہی حقیقی اور سچے اخلاق کے حصول کا ذریعہ ہیں اور پھر اخلاق حسنہ سے آراستہ ہونے کے بعدہی ایک انسان ایمان اور تقویٰ کے اعلیٰ مدارج حاصل کرسکتا ہے ۔
پس ضرورت اس بات کی ہے کہ غیر قوموں کی رِیس میں ہم زندگی کے اِن آداب سے ہاتھ نہ دھو بیٹھیں، اِس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہم حسن اخلاق اور ایمان سے بھی بے بہرہ ہوجائیں گے۔ پس ہمیں چاہئے کہ اِن آداب کو خود بھی اپنائیں اور اپنی آئندہ آنے والی نسل کو بھی اِن آداب سے واقف کرائیں تاکہ ہماری آئندہ آنے والی نسلیں بھی اِن آداب و اخلاق سے مزین و آراستہ ہوں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین ۔
پہلا دن دوسرا اجلاس
جلسہ سالانہ قادیان 2024ء کے پہلے دن کادوسرا اجلاس ٹھیک اڑھائی بجے شروع ہوا ۔یہ اجلاس محترم مولانامحمد حمید کوثرصاحب ناظردعوت الی اللہ مرکزیہ (شمالی ہند)وانچارج شعبہ تاریخ احمدیت بھارت کی صدارت میں منعقد ہوا ۔عزیزم محمد ابراہیم متعلم جامعہ احمدیہ قادیان نے سورۃ آل عمران 160 تا164 کی تلاوت کی اور ان کا ترجمہ مکرم مولوی نورالدین ناصر صاحب صدرعمومی قادیان نے پیش کیا۔
ترانہ مکرم سعید احمد ملکانہ صاحب مربی سلسلہ ، کارکن نظامت جائیداداور عزیزدبیر احمد شمیم آف قادیان نے پڑھا جنہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے پاکیزہ منظوم کلام ’’اے شاہ مکی ومدنی سید الوریٰ‘‘ کے چند اشعار نہایت خوش الحانی سے پڑھے ۔
اجلاس کی پہلی عالمانہ تقریر محترم مولانا محمدانعام غوری صاحب ناظراعلیٰ صدرانجمن احمدیہ قادیان نے ’’سیرت آنحضرت ﷺ (غزوات میں آپؐکے حسنِ اخلاق )‘‘کے موضوع پر کی ۔
فاضل مقرر نے فرمایا کہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ ہر امکانی حد تک جنگ وجدال سے بچتے اور امن کی راہیں اختیار فرماتے۔ آپ کے اخلاق فاضلہ کاظہور عظیم الشان رنگ میں غزوات میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ فاضل مقرر نےجنگ بدر ،جنگ احد ،جنگ خندق کے مختلف واقعات کوبیان کرتے ہوئے ان غزوات میں ظاہر ہونے والے حضورﷺ کے اخلاق فاضلہ پر تفصیل سے روشنی ڈالی جس سے یہ امر واضح ہوتاہے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنی جماعت کو جنگ کے آداب وغیرہ امور کے تعلق سے اصولی اور مستقل ہدایات فرمادی تھیں اور آپؐخود بھی ان مخدوش مواقع پر بھی اپنا عظیم نمونہ پیش کرتے رہے ۔
آخر پر فاضل مقرر نے فتح مکہ کے واقعہ کا دلنشین پیرایہ میں تذکرہ کیا اوراس موقع پر حضور ﷺ کےبے نظیر اور بے مثال اخلاق کا جوظہور ہوا اس کی تفصیلات پیش کیں اور یہ بھی فرمایا کہ غزوات میں آنحضرت ﷺ کے اخلاق فاضلہ کا ذکر نامکمل رہے گا اگر جنگوں کے ہنگامی حالات میں آپؐکی عبادات کا حال بیان نہ کیا جائے ۔فرمایا کہ جنگوں کے دوران خوف وخطر کےماحول میں بھی آپﷺ نے نماز باجماعت نہیں چھوڑی ۔آپ نے موضوع کی مناسبت سےآخر میں حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا یہ اقتباس پیش کیا کہ :
’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی سے ذاتی دشمنی نہیں تھی۔یعنی آپؐکے دل میں ان (مشرکین)کےلئے کسی ذاتی دشمنی کے جذبات نہیں تھے بلکہ اللہ تعالیٰ کے دین کومٹانے والوں کے خلاف جنگ تھی ۔پھر آپؐنےجنگ کے اصول وقواعد مقرر فرمائے ۔معاہدوں کا بھی پاس کیا اوران چیزوں پر انتہائی درجہ تک عمل بھی کیا ۔آجکل کی دنیا کی طرح نہیں کہ اصول وضوابط تو بے شمار بنائے ہیں لیکن عمل کوئی نہیں بلکہ دوہرے معیار ہیں ۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ یکم دسمبر 2023ء)
اجلاس کی دوسری تقریر مکرم مولوی تنویر احمد ناصرصاحب نائب ناظر نشرواشاعت نے ’’سیرت صحابہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اور حضرت مرزا شریف احمد صاحب رضی اللہ عنہ ‘‘کے عنوان پر کی ۔
فاضل مقرر نے اپنی تقریر کے پہلے حصے میں حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مختصر سیرت بیان کرتے ہوئے آپکے اوصاف حمید ہ کا تذکر ہ کیا،آپ کے قبول اسلام اورپھر ہجرت کے واقعہ پرروشنی ڈالی ۔اورمدینہ ہجرت کرکے آنے کے بعد آپکی مالی کمزوری کےا حوال بیان کرکے پھر حضرت سید الشہداء،اسد اللہ اور اسدالرسول حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی غزوات(جنگ بدر،غزوہ بنو قینقاع اور جنگ احد) میں شمولیت اور آپ کی بہادری کا ذکر کرکے پھر آپ کے بے شمار فضائل وخصائص اور امتیازات میں سے بعض پر روشنی ڈالی ۔
اس کے بعد تقریر کےد وسرے حصہ میں حضرت مرزا شریف احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مختصرسیرت بیان کرتے ہوئے آپ کے اوصاف حمیدہ کا تذکرہ کیا ۔ نیزبتایا کہ یہ بھی مبشر اولاد میں سے تھے، آپ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے کئی بشارات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو دیں ۔ آپ کی زندگی میں کئی خطرات کے مراحل آئے مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی دی گئی بشارات کے مطابق آپؓکی حفاظت فرمائی ۔آپ کے اوصاف اور خصائص کے حوالے سے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے رضی اللہ عنہ ،حضرت صاحبزادی نواب مبارکہ بیگم صاحبہ ؓ ، حضرت صاحبزادہ مرزا منصوراحمد صاحبؓوغیرہ کےبیانات پیش کئے اورپھر فرمایا کہ :
حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحبؓ اوصافِ حمیدہ کا دلکش نمونہ تھے ۔آپ کا حلیہ اور آواز سیدناحضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حلیہ مبارک اور آواز سے بہت ملتی تھی اور اندازگفتگو بہت سادہ اور دلکش تھا۔قرآن شریف اور احادیث نبویہ سے آپ کو ازحد محبت تھی ۔نماز فجر کےبعد بلاناغہ قرآن شریف کی تلاوت بآواز بلند فرماتے ۔سورۃ فاتحہ، درود شریف اور یَاحَیُّ یَاقَیُّوْمُ بِرَحْمَتِکَ نَسْتَغِیْثُ اور سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللہِ الْعَظِیْمُ کاورد بکثرت کرتے ۔سفر میں نماز ہمیشہ پہلے وقت میں ادافرماتے آپ صاحب کشف اور مستجاب الدعوات تھے ۔
آپ نےتقریر کے آخر میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا یہ اقتباس پیش کیا کہ ’’یہ لوگ جنہیں خدا تعالیٰ کے انبیاء کی صحبت حاصل ہوتی ہے یہ لوگ انبیاء کا قرب رکھتے ہیں ۔خدا تعالیٰ کے نبیوں اور اس کے قائم کردہ خلفاء کےبعد دوسرے درجہ پر دنیا کے امن اور سکون کا باعث ہوتے ہیں ۔‘‘
صدراجلاس کی اجازت سے پہلے دن کا دوسرا اجلاس بخیر وخوبی اختتام پذیر ہوا۔ آج بروز جمعہ ہندوستانی وقت کے مطابق ٹھیک 6:30بجے تمام مساجد میں اجتماعی طورپر اورگھروں میں بھی مستورات وغیرہ نے حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خطبہ جمعہ لائیو سنا ۔
…٭…٭…٭…