مورخہ26جولائی بروز جمعہ
گزشتہ چند سالوں سے جلسہ سالانہ یُوکے پوری دُنیا میں اجتماعی طور پر ایک جگہ اکٹھا ہوکر بڑے اہتمام اور ذوق و شوق کے ساتھ سننے کا سلسلہ شروع ہوا اور اللہ کے فضل سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ ایم ٹی اے انٹرنیشنل کے ذریعہ یہ دو طرفہ نظارے پورے جلسہ کے دوران دکھائے جاتے رہے یعنی دور دراز ملکوں کے احمدیوں کو جلسہ سنتے دیکھ رہے تھے جو بہت ہی ایمان افروز ہوتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس پیشگوئی کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ :
’’مَیں تیرے تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔‘‘
قادیان دارالامان میں اس سال بھی مسجد اقصیٰ میں جلسہ سالانہ یُوکے اجتماعی رنگ میں اکٹھا ہوکر سننے کا اہتمام کیا گیا۔ اس کے لئے کثیر تعداد میں کرسیاں بچھائی گئیں، بڑی اسکرین لگائی گئی اور ہال کو خوبصورت سجایا گیا۔ حضور کی آمد اور پرچم کشائی سے قبل ہال پوری طرح بھر گیا تھا اور سب اپنی اپنی نشست پر بیٹھ چکے تھے اور حضور کی آمد کے منتظر تھے اور ایم ٹی اے پر چل رہے Live پروگرام سے استفادہ فرمارہے تھے۔
ہندوستان وقت کے مطابق رات 9 بجے کے قریب حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز پرچم کشائی کے لئے تشریف لائے۔ پرچم کشائی کی اور اجتماعی دعا کروائی۔ بعدہٗ حضور انور جلسہ گاہ کے اسٹیج پر تشریف فرما ہوئے۔ حضور کی آمد پر اسٹیج سے پُرجوش نعرے لگائے گئے۔
تلاوت قرآن کریم سے پروگرام کا آغاز ہوا۔ مکرم فیروز عالم صاحب نے سورہ آل عمران کی آیات 133 تا 137 کی تلاوت کی اور ترجمہ تفسیر صغیر سے پیش کیا۔ نظم مکرم محمد عصمت اللہ صاحب نے پڑھی۔ آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا منظوم کلام :
ہمیں اس یار سے تقویٰ عطا ہے
نہ یہ ہم سے کہ احسانِ خدا ہے
خوش الحانی سے پڑھ کر سنائی۔ جلسہ گاہ کے ارد گرد کا ماحول چمچماتی دھوپ کی وجہ سے بہت ہی نکھرا نکھرا اور خوشنما نظر آرہا تھا۔ مختلف ممالک میں ایک جگہ جمع ہوکر جلسہ سننے والے احمدیوں کو بھی Live دکھایا جارہا تھا ، یہ نظارہ بہت ہی ایمان افروز تھا۔ اس کے بعد سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فارسی منظوم کلام مکرم دانش خرم اور مکرم احسان احمد نے پڑھی۔
خلاصہ خطاب حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ
تشہد،تعوذ اورسورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِانورایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا کہ : الحمد للہ! اللہ تعالیٰ ایک مرتبہ پھر ہمیں جلسہ سالانہ یوکے میں شمولیت کی توفیق دے رہا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خوا ہش اور جلسے کے انعقاد کےمقصد کے مطابق ہم ایک مرتبہ پھر اپنے نفس کی اصلاح ،پاکیزگی ، آپسی محبت اور بھائی چارہ بڑھانےکی خاطر یہاں جمع ہوئے ہیں۔پس! ان تین دنوں میں اس مقصد کو سامنے رکھیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اسے کوئی معمولی جلسہ نہ سمجھو۔ پس! یہ مقصد تب ہی پورا ہوسکتا ہے کہ جب ہم اس مقصد کے حصول کے لیے مسلسل کوشش کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جلسے کے جو مقاصد بیان فرمائے ہیں ان میںزہد، تقویٰ، خدا ترسی، نرم دلی،محبت و مؤاخات، عاجزی اور راست بازی اور دینی مہمات کے لیے سرگرمی دکھانا شامل ہیں۔ یہ وہ مقاصد ہیں جنہیں ان دنوں میں ہر ایک کو اپنے پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔
زہد کی تشریح کرتے ہوئے حضور انور نے فرمایا : اس ایک لفظ میں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے ہمارے لیے اصلاح کے تمام پہلو بیان کردئیے ہیں۔ہمیں اپنا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم یہ حالت پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ زہد کے حصول کے لیے اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کرنا ضروری ہے۔ لغویات کو ردّ کرنا ضروری ہے۔ بداخلاقی سے رکنا اور اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرنا یہ زہد ہے۔ رنجشوں کو دُور کرکے صلح کی بنیاد ڈالنا یہ زہد ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر محبت اور بھائی چارے کو فروغ دینا یہ زہد ہے۔
پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ایک مقصد جلسے کا تقویٰ پیدا کرنا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بےشمار جگہ تقویٰ کی طرف توجہ دلائی ہے۔ صرف یہ کہہ دینا کہ ہم ایمان لاتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں کافی نہیں، اگر تقویٰ کی شرط پوری نہیں، اگر خدا تعالیٰ کا خوف اور اس کی محبت کے لوازمات پورے نہیں۔ جب یہ ہوگا تو تب ہی حقیقی نمازیں بھی ہوں گی۔حضور نے تقویٰ اختیار کرنے کے متعلق تفصیلی نصیحت فرمائی پھر فرمایا:حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جلسے کا ایک مقصد آپس میں محبت اور مؤاخات کاپیدا ہونا بیان فرمایاہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ کہ آپس میں بے انتہا رحم کرنے والے ہیں۔ جب ہر ایک رحم کر رہا ہوگا تو لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ محبت اور پیار بڑھے گا۔ بھائی چارے کی فضا قائم ہوگی۔
پھرحضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے عاجزی کے خلق کی طرف توجہ دلائی ہے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک مقابلے سے انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ’’تیری عاجزانہ راہیں اسے پسند آئیں‘‘یہ نمونہ ہے جسے ہمیں اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ پس تم رحمان خدا کے بندے بن کر اپنے عمل اللہ تعالیٰ کی رحمانیت کو جذب کرنے والا بناؤ۔یہ معاشرے میں امن کی بنیاد ہے۔معاشرے جھوٹی اناؤں سے خراب ہوتے ہیں ۔ ملکوں کا ٹکراؤ تکبر کی وجہ سے ہے۔ یہی چیز دنیا کو عالمی جنگ کی طرف لے جا رہی ہے۔حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں
بدتر بنو ہر ایک سے اپنے خیال میں
شاید اسی سے دخل ہو دار الوصال میں
پھرسچائی اور راستی کی تعلیم کی طرف حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے توجہ دلائی ہے ۔ یہ ایک احمدی کا خاصہ ہونا چاہئے۔ اگر ہم نے بیعت کا حق ادا کرنا ہے تو عملی تبدیلیاں پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ خدا تعالیٰ کی پہچان کروانے ، دنیا کو اسلام کی حقیقی تعلیم سے روشناس کروانے کے لئے ہراحمدی کو اپنی تمام تر استعدادیں بروئے کار لاتے ہوئے اپنے اندر ایک خاص تبدیلی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا کو اسلام کا ایک خوبصورت پیغام پہنچانے کی ضروت ہے۔ جب ہمارے مردوں عورتوں بچوں بوڑھوں کی دعائیں عرش تک جائیں گی تب ہی ہم دنیا میں انقلاب لانے والے بن سکیں گے ، دشمن سے بچ سکیں گے ، فتوحات کے نظارے دیکھیں گے۔ یہ بہت بڑا کام ہے جس کی حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے ہم سے توقع کی ہے۔ اگر ہم میں وہ اعلی اخلاق نہیں اور وہ درد نہیں پیدا ہو رہا جس سے ہم تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں۔ تو ہم اپنے عہد بیعت کو ادا نہیں کررہے۔یہ عہد کریں اور اس کے لئے اِن دنوں میں دعائیں بھی کریں کہ ہم اُس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک دنیا میں خدا تعالیٰ کی حکومت قائم نہ کر دیں، شیطان اور شیطان کے چیلوں کا خاتمہ نہ کردیں اوردنیا کو گمراہی سےنہ نکال دیں۔
ان دنوں میں مظلوم فلسطینیوں کو بھی دعاؤں میں یاد رکھیں اللہ تعالیٰ ان کے لئے بھی جلد آسانیاں پیدا فرمائے۔
پاکستان کے مظلوم احمدیوں کو بھی دعاؤں میں یاد رکھیں جنہیں جلسوں سے محروم کر دیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ اُن کےلئے بھی جلد آزادی اور آسانی کے سامان پیدا فرمائے۔
معائنہ انتظامات : قبل ازیں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مورخہ 25 جولائی کو جلسہ کے انتظامات کا معائنہ فرمایا اور جلسہ کے کارکنان کو نصیحت فرمائی۔
مورخہ 27 جولائی بروز ہفتہ :
حضور انور جلسہ سالانہ کے دوسرے روز قبل دوپہر مستورات کے جلسہ گاہ سے خطاب فرماتے ہیں اور بعد دوپہر مردانہ جلسہ گاہ سے دوران سال جماعت پر ہونے والے اللہ تعالیٰ کے افضال و انعامات کا تذکرہ فرماتے ہیں۔
مستورات سے خطاب:
پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو مکرمہ روبینہ کاشف صاحبہ نے کی،نظم مکرمہ شوکت زکریا صاحبہ نے پڑھی۔اس کے بعد تعلیمی اعزازات کا اعلان کیا گیا۔اسکے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے خطاب کا آغاز کرتے ہوئےفرمایا:اللہ تعالیٰ کا یہ احسان ہے کہ اس نے ہمیں اس زمانے کے امام کو ماننے کی توفیق دی اور ہم اللہ تعالیٰ کے وعدے اور آنحضرت ﷺ کی پیش گوئی کو پورا ہوتے دیکھنے والے بن گئے۔ پس! یہ بات ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکرگزار بنانے والی ہونی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کی شکرگزاری اس کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق عبادت کا حق ادا کرنے سے ہوتی ہے اورعبادت کا بہترین طریق نماز کی ادائیگی ہے۔یہ حکم مردوں اور عورتوں سب کے لیے ہے۔
صحابیات، جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کی سند حاصل کی ان کے متعلق تو روایات میں آتا ہے کہ وہ عبادات میں مردوں سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتی تھیں۔ ساری ساری رات عبادت کرتیں اور دن میں روزے رکھتیں۔ یہ صرف پرانی باتیں نہیں بلکہ اس زمانے میں بھی اللہ تعالیٰ نے ایسی عورتیں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی جماعت کو عطا فرمائی ہیں جو اپنی عبادتوں کے معیار بلند کرنے والی ہیں۔حضور انور ایدہ اللہ نے حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا کی عبادات اور تربیت کی ایک مثال دینے کے بعد فرمایا:پس!بڑے خوف اور شکرگزاری کے جذبات سے لبریز ہوکر ہر ماں کوبچوں کی پیدائش کے بعد عبادتوں کی طرف توجہ دینی چاہیے۔اگر ماں باپ نیک نمونے دکھانے والے، عبادات کا حق ادا کرنے والے، ایمان میں پختہ ہوں تو بچے دین کی طرف مائل ہوتے ہیں ورنہ دُور چلے جاتے ہیں۔دنیا میں جس تیزی سے لغویات بڑھتی جا رہی ہے، اس بات کی بہت زیادہ ضرورت ہے کہ ماں باپ کو بچوں کی ہر مجلس اور ہر عادت اور ہر حرکت کا علم ہو۔
فرمایا:خدا کرے کہ ہر ماں اپنے ہر بچے کے دل میں خدا کی محبت اور آخرت کی اہمیت گاڑ دے۔ آپ جن کے ہاتھوں میں مستقبل کی نسلوں کو سنبھالنے کی ذمہ داری ہے، آپ کا کام ہے کہ نمازوں کی حفاظت کریں۔ اور اپنے نمونے قائم کرتے ہوئے اپنے بچوں کی نگرانی کریں اور ان کو عبادت کرنے والا بنائیں۔اگر ماں یا باپ یا ان میں سے کوئی ایک اپنے نمونے قائم کر کے تربیت نہیں کر رہا اور بچوں کے لیے دعا نہیں کر رہا تو بچوں کے بگڑنے کے امکانات زیادہ ہو جاتے ہیں۔انٹرنیٹ کے غلط اور ناجائز استعمال سے بچنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا:احمدی بچیاں اپنی عصمت، عزت، اپنے خاندان کے وقاراور اپنی جماعت کے تقدس کو مدنظر رکھتے ہوئے، اپنے خدا کی رضا کو حاصل کرنے کے لیے اِن چیزوں سے بچیں۔
اسلامی پردہ کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضور انور نے فرمایا:اسلام حیا کاحکم دیتا ہے۔ پس اپنی حیا کا خیال رکھیںاور اس کی حدود میں رہتے ہوئے جو فیشن کرنا ہے کریں۔اسلامی پردے کی تاریخ قرآن کریم نے بڑی کھول کر بیان کر دی ہے اس کو پڑھیں اس پر عمل کریں۔یہ جماعت احمدیہ کا مؤقف نہیں ہے بلکہ یہ قرآن کریم کی تعلیم ہے۔اپنے پردے کا خیال رکھیں۔اپنے سروں، چہروں، جسم کو ڈھانپ کر رکھیں۔کوئی زینت کی چیز نظر نہ آئے۔چادر سے بھی اگر کسی کو پردہ کرنا ہے توسارے بال، گال، ٹھوڑی اور سینہ ڈھکا ہو پھر ہی وہ صحیح پردہ ہے۔دنیا سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ہر عورت ہر بچی یہ کوشش کرے کہ پوری دنیا کو متاثر کرنا ہے۔ دنیا کو اللہ تعالیٰ کے قدموں میں لے کر آنا ہے۔ ہم نے دنیا میں انقلاب لانا ہے، دنیا کو سیدھی راہ دکھانی ہے، دنیا کو خدا تعالیٰ کے حضور جھکنے والا بنانا ہے، دنیا کوآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلےلانے والا بنانا ہے۔اس کے لیے ہمیں اپنی حالتوں کو بھی، اپنی نسلوں کی حالتوں کو بھی تبدیل کرنا ہوگا۔جب یہ ہوگا تو پھر ایک انقلاب ہوگا جو ہم دنیا میں پیدا کر سکیں گے ۔اس کے لیے احمدی عورتوں،لڑکیوں اور بچیوں کو خاص طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ آپ ہی ہیں جو لڑکوں کی بھی اصلاح کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔
مردانہ جلسہ گاہ سے بعد دوپہر خطاب
تلاوت و نظم کے بعد حضور انور ایدہ اللہ نے خطاب کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا:اس سال ایک نیا ملک ’تائیوان ‘ احمدیت میں شامل ہوا ہے۔ اس طرح اُن ممالک کی کُل تعداد جہاں احمدیت قائم ہے اب 214ہوگئی ہے۔پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں 384 نئی جماعتوں کا قیام ہوا ہے۔908 ایسے نئے مقامات ہیں جہاں جماعت باقاعدہ تو قائم نہیں ہوئی تاہم احمدیت کا پودا وہاں لگا ہے۔جماعت کو اللہ تعالیٰ کے حضور148 نئی مساجد پیش کرنے کی توفیق ملی ہے، ان میں سے106نئی مساجد تعمیر ہوئی ہیں اور بقیہ بنی بنائی ملی ہیں۔ مشن ہاؤسز میں 117کا اضافہ ہوا ہے۔الحمدللہ جماعت کی طرف سے اب 78 زبانوں میں قرآن کریم کے تراجم تیار ہوچکے ہیں۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مختلف زبانوں میں جماعتی کتب کے تراجم اور انکی طباعت کے بارے میں بتایا۔ نیز عربی ، فارسی، چینی ،فرنچ،ٹرکش ڈیسک کی طرف سے ہونے والے کاموں پر روشنی ڈالی۔ نیز پریس اینڈ میڈیا، الاسلام ویب سائٹ اور ایم ٹی اے انٹرنیشنل کے کاموں کے بارے میں بتایا۔واقفین نو کے متعلق حضور انور نے فرمایاکہ اس وقت دنیا میں واقفین نَو کی کُل تعداد83055ہے جس میں 48582لڑکے اور34473لڑکیاں ہیں۔رپورٹس کے مطابق اِس وقت کُل2947واقفین نَو بشمول مربیان مختلف فیلڈز میں خدمات بجا لارہے ہیں۔
فرمایا:مجلس نصرت جہاں کے تحت13 ممالک میں40 ہسپتال اور کلینکس قائم ہیں جن میں 36 مرکزی 53لوکل اور74وقتی ڈاکٹرز کام کر رہے ہیں۔ افریقہ کے 13ممالک میں620 پرائمری اور مڈل اسکولز اور دس ممالک میں81 سیکنڈری اسکولز کام کررہے ہیں۔دوران سال برونڈی، سیرالیون،بینن، زمبابوے، فن لینڈز، اٹلی، کیمرون، پرتگال اور اسپین کے علاوہ الحزیرہ میں چھ زمینیں اور چارعمارات خریدی گئیں۔اس کے علاوہ دوران سال مختلف ممالک میں15تعمیراتی پراجیکٹس مکمل ہوئے اور مزید15 کی تعمیر شروع ہوچکی ہے۔
بیعتوں کی تعداد بیان کرتے ہوئے حضور انور نے فرمایا کہ امسال ہونے والی بیعتوں کی تعداد اللہ تعالیٰ کے فضل سے دو لاکھ اڑتیس ہزار پانچ سو اکسٹھ ہے۔ گذشتہ سال کی نسبت اکیس ہزار تین سو ترانوے کا اضافہ ہے۔117 ممالک سے482سے زائد اقوام احمدیت میں داخل ہوئی ہیں۔اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے قبول احمدیت کے ایمان افروز واقعات بیان فرمائے۔
ث آج کے روز دوپہر کے اجلاس میں درج ذیل علمائے کرام کے خطابات ہوئے :
مکرم ایاز محمود خان صاحب مبلغ سلسلہ وکالت تصنیف لندن بعنوان ’’احمدیت کا سفرنو مبائعین کے واقعات کی روشنی میں‘‘ بزبان اُردو۔
مکرم ڈاکٹر عزیز حفیظ صاحب چیئر مین ہیومنٹی فرسٹ برطانیہ بعنوان ’’ قبولیت دعاخدا تعالیٰ کی ہستی کی بہترین دلیل‘‘ بزبان انگریزی۔
مکرم فرید احمد نوید صاحب پرنسپل جامعہ احمدیہ انٹرنیشنل گھانابعنوان’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بنی نوع انسان سے ہمدردی‘‘ بزبان اُردو۔
ث آج کے روز شام کے اجلاس میں جلسہ میں تشریف لانے والے معزز مہمانوں کے مختصر خطابات ہوئے جس میں مہمانان کرام نے اپنے تاثرات اور نیک خیالات کا اظہار فرمایااور جلسہ کے انتظامات کی تعریف کی۔
مستورات کا جلسہ
آج لندن وقت کے مطابق صبح دس بجے مستورات کا اجلاس ہوا۔اجلاس کی صدارت نیشنل صدر صاحبہ لجنہ اماء اللہ یوکے مکرمہ ڈاکٹر قرۃ العین صاحبہ نے کی۔اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو کہ مکرمہ سجیلہ نعیم صاحبہ نے کی، مکرمہ وجیہہ باجوہ صاحبہ نے نہایت خوش الحانی سے نظم پیش کی۔اس اجلاس میں تین تقاریر ہوئیں۔پہلی تقریر ’’قرآن کریم ہماری مشعل راہ‘‘کے عنوان پر مکرمہ ڈاکٹر ملیحہ منصور صاحبہ معاونہ صدر واقفات نو لجنہ اماء اللہ برطانیہ نے کی، دوسری تقریر’’ احمدیت یعنی حقیقی اسلام کی طرف میرا سفر کیسے شروع ہوا‘‘ کے عنوان پر مکرمہ عاصمہ رانا صاحبہ نو مبائعہ نے کی۔ تیسری تقریر ’’دورحاضر اور مائوں کیلئے تربیت اولاد میں درپیش دشواریاں‘‘ کے عنوان پر مکرمہ شرمین بٹ صاحبہ معاونہ صدر پریس اینڈ میڈیا لجنہ اماء اللہ برطانیہ نے کی۔
مورخہ 28 جولائی بروز اتوار
عالمی بیعت
مورخہ 28 جولائی بروز اتوارہندوستانی وقت کے مطابق تقریباً ساڑھے پانچ بجے دوپہر عالمی بیعت کی ایمان افروز تقریب عمل میں آئی۔بیعت لینے سے قبل حضور انور نے بیعت کرنے والوں کی مجموعی تعداد کا اعلان فرمایا۔بعدہ حضور انور نے بیعت کے الفاظ پڑھے۔ نئے داخل ہونے والوں کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے احمدیوں نے بھی ایم ٹی اے کے ذریعہ تجدید بیعت کی سعادت حاصل کی۔
اختتامی خطاب حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ
حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نےہندوستانی وقت کے مطابق تقریباً رات9 بجے اختتامی خطاب فرمایا۔خطاب سے قبل شاہ چارلس سوم کا خصوصی پیغام سنایا گیا۔بعدہ تعلیمی اعزازات کا اعلان کیا گیا۔اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوا ،پھر فارسی قصیدہ اور اردو نظم کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے خطاب فرمایا۔تشہد، تعوذ اور سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آنحضرتﷺ سے عشق و محبت کے حوالے سے کچھ کہوں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعویٰ ہی یہی ہے کہ مَیں نے جو کچھ بھی پایا ہے وہ محمدﷺ کے وسیلے سے پایا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ آنحضرتﷺ کی دس روزہ پیروی سے وہ روشنی ملتی ہے جو اس سے پہلے دس ہزار برس کے مجاہدے سے بھی ممکن نہیں۔حضور علیہ السلام فرماتے ہیں:یہ عجیب ظلم ہے کہ نادان لوگ کہتے ہیں کہ عیسیٰ آسمان پر زندہ ہے حالانکہ زندہ ہونے کی علامات آنحضرتﷺ کے وجود میں پاتا ہوں۔ وہ خدا جسے دنیا نہیں جانتی ہم نے اس خدا کو اس نبی کے ذریعے سے دیکھ لیا۔مَیں کھول کر کہتا ہوں کہ وہ شخص لعنتی ہے جو آنحضرتﷺ کے سوا آپؐکے بعد کسی اور کو نبی یقین کرتا ہے اور آپؐکی ختمِ نبوت کوتوڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی ایسا نبی آنحضرتﷺ کے بعد نہیں آسکتا جس کے پاس وہی مُہرِ محمدی نہ ہو۔حضور علیہ السلام فرماتے ہیں:شریعت والا نبی کوئی نہیں آ سکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہو سکتا ہے مگر وہی جو پہلے امتی ہو ۔ پس اسی بنا پر میں امتی بھی ہوں اور نبی بھی۔
آنحضرت ﷺ پر غیروں کی طرف سے جو ناپاک حملے کئے جاتے ہیں اس تعلق میںحضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
خدا کی قسم اگر میری ساری اولاد اوراولاد کی اولاد اور میرے سارے دوست اور وہ سارے معاون میری آنکھوں کے سامنے قتل کر دئیےجائیں اور خود میرے اپنے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دئیے جائیں اور میری آنکھ کی پتلی نکال پھینکی جائے، اور مَیںاپنی تمام مرادوں سے محروم کر دیا جاؤں اور اپنی تمام خوشیوں اور تمام آسائشوں کو کھوبیٹھوں تو ان ساری باتوں کے مقابل پر بھی میرے لیے یہ صدمہ زیادہ بھاری ہے کہ رسول اکرم ﷺ پر ایسے ناپاک حملے کیے جائیں۔
خطاب کے آخر میں حضور انور نے فرمایاکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنے آقا ﷺ سے جو عشق و محبت تھا اس محبت کے اظہار کے لیے اپنی زبانوں کو ہمیشہ درود سے تر رکھیں۔ یہاں سےجائیں تو عشق رسول ﷺ پہلے سے بڑھ کر قائم کریں۔ درود شریف کی حقیقت اور اس کے پڑھنے کی ضرورت کے بارے میں پہلے سے زیادہ توجہ دیں۔
آج کے روز مردانہ جلسہ گاہ سے درج ذیل علمائے کرام کے خطابات ہوئے۔
مکرم مبارک احمد تنویر صاحب استاذ جامعہ احمدیہ جرمنی بعنوان’’خلافت احمدیہ ،امت مسلمہ میں وحدت کا ذریعہ‘‘ بزبان اُردو۔
مکرم ڈاکٹر زاہد احمد خان صاحب صدر قضاء بورڈ برطانیہ بعنوان’’خاندانی تنازعات میں اصلاح احوال‘‘ بزبان انگریزی۔
مکرم عبد السمیع خان صاحب استاذ جامعہ احمدیہ کینیڈا بعنوان’ ’آنحضورﷺ صفات الٰہی کے بہترین مظہر‘‘ بزبان اُردو
مکرم رفیق احمد حیات صاحب امیر جماعت برطانیہ بعنوان’’عصر حاضر کے برے اثرات سے بچائو‘‘ بزبان انگریزی۔
ث حضور انور کے اختتامی خطاب سے قبل معزز مہمانوں کے مختصر خطابات ہوئے جن میں مہمانان کرام نے اپنے تاثرات اور نیک خیالات کا اظہار فرمایااور جلسہ کے انتظامات کی تعریف کی۔
نمائشیں
امسال جلسہ سالانہ یوکے میں درج ذیل نمائشیں لگائی گئیں۔
نمائش روزنامہ الفضل،مخزن تصاویر،شعبہ امور خارجہ کی نمائش، ہیومنٹی فرسٹ کی نمائش، ایم ٹی اے نمائش ، وقف نو مرکزیہ اور وقف نو جرمنی کی مشترکہ نمائش۔
…٭…٭…٭…