یہ دور جس میں خلافتِ خامسہ کے ساتھ خلافت کی نئی صدی میں ہم داخل ہو رہے ہیں انشاء اللہ تعالیٰ احمدیت کی ترقی اور فتوحات کا دور ہے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی تائیدات کے ایسے باب کھلے ہیں اور کھل رہے ہیں کہ ہر آنے والا دن جماعت کی فتوحات کے دن قریب دکھا رہا ہے۔ میں تو جب اپنا جائزہ لیتا ہوں تو شرمسار ہوتا ہوں۔ میں تو ایک عاجز، ناکارہ، نااہل، پُر معصیت انسان ہوں۔ مجھے نہیں پتہ کہ خدا تعالیٰ کی مجھے اس مقام پر فائز کرنے کی کیا حکمت تھی۔ لیکن یہ میں علیٰ وجہ البصیرت کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اس دور کو اپنی بے انتہا تائید و نصرت سے نوازتا ہوا ترقی کی شاہراہوں پر بڑھاتا چلا جائے گا۔ انشاء اللہ۔ اور کوئی نہیں جو اس دَور میں احمدیت کی ترقی کو روک سکے اور نہ ہی آئندہ کبھی یہ ترقی رکنے والی ہے۔ خلفاء کا سلسلہ چلتا رہے گا اور احمدیت کا قدم آگے سے آگے انشاء اللہ تعالیٰ بڑھتا رہے گا۔
گزشتہ پانچ سالوں میں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش کا ذکر بھی جلسے کی تقریروں میں ہوتا رہا ہے اور اب بھی انشاء اللہ تعالیٰ ہو گا۔ پس خلافتِ احمدیہ کے ساتھ جو ترقی وابستہ کی گئی ہے اور جس کا اظہار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے رسالہ الوصیت میں بھی فرمایا ہے۔ یہ ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے اور ہر وہ شخص جو خلافت سے جڑا رہے گا، جو اپنے ایمان اور اعمالِ صالحہ میں ترقی کرے گا اُسے اللہ تعالیٰ ان انعامات کے نظارے کرائے گا جو خلافت کے ساتھ جڑے رہنے سے ہر فردِ جماعت پر بھی ہوں گے۔ اور اللہ تعالیٰ خلافتِ احمدیہ کو بھی ایسے افراد عطا فرماتا رہے گا جو اخلاص و وفا میں بڑھتے چلے جانے والے ہوں گے۔ جو قیام و استحکامِ خلافت کے لئے سردھڑ کی بازی لگا دینے والے ہوں گے۔ جن کے دلوں کواللہ تعالیٰ خود خلافت کی محبت سے بھر دے گا اور بھر رہا ہے اور بھرا ہوا ہے۔ اور میں تو ایسے نظارے روزانہ ہر قوم اور ہر ملک میں دیکھ رہا ہوں۔ ابھی افریقہ کے دورے کے نظارے آپ نے دیکھ لئے کہ وہ لوگ کس طرح محبت سے سرشار ہیں۔ میری تو بہت عرصہ پہلے خدا تعالیٰ نے یہ تسلی کروائی ہوئی ہے کہ اس دور میں وفاداروں کو خدا تعالیٰ خود اپنی جناب سے تیار کرتا رہے گا۔ پس آگے بڑھیں اور اپنے ایمان اور اعمالِ صالحہ کا محاسبہ کرتے ہوئے آپ میں سے ہر ایک ان بابرکت وجودوں میں شامل ہو جائے جن کو خدا تعالیٰ خلافت کی حفاظت کے لئے خود اپنی جناب سے ننگی تلوار بنا کر کھڑا کرے گا۔
گزشتہ دنوں مجھے ایک دوست نے لکھا کہ جہاں ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ خلافت کے سو سال پورے ہو رہے ہیں وہاں اس بات سے فکر بھی پیدا ہوئی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے سے ہم سو سال دور چلے گئے ہیں اور اس وجہ سے ہم میں کمزوریاں بڑھتی نہ چلی جائیں۔ فکر بڑی جائز ہے لیکن خدا تعالیٰ کے وعدے، آنحضرت ﷺ کی حدیث اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ارشاد کو اگر ہم سامنے رکھیں گے تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرتے ہوئے خلافت کے ساتھ جڑے رہنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے انعامات کے وارث بنتے چلے جائیں گے۔ انشاء اللہ۔
یہ بھی الٰہی توارد ہی سمجھتا ہوں کہ اس خط کے ساتھ ہی امریکہ سے ہمارے ایک مبلغ نے حضرت مصلح موعودؓ کے ایک عہد کی طرف توجہ مبذول کروائی جو آپ نے 1959ء میں خدام کے اجتماع پر خدام سے لیا تھا اور فرمایا تھا کہ یہ ایسا عہد ہے جسے انصار بھی دہرایا کریں اور دہراتے چلے جائیں اور تمام جلسوں پر دہرایا جائے اور اگلی نسلوں کو منتقل کرتے چلے جائیں یہاں تک کہ اسلام اور احمدیت کا غلبہ دنیا کے چپہ چپہ پر ہو جائے۔ مجھے پہلے دوست کے خط کی وجہ سے یہ توجہ تھی اور یہ خط آنے پر مزید توجہ پیدا ہوئی اور مجھے یہ تجویز اچھی لگی کہ خلافتِ احمدیہ کے سو سال پورے ہونے پر تمام دنیا کے احمدی یہ عہد دہرائیں۔
پس آج میں معمولی تبدیلی کے ساتھ اس صد سالہ جوبلی کے حوالے سے آپ سے بھی یہ عہد لیتا ہوں تاکہ ہمارے عمل زمانے کی دوری کے باوجود ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم اور اللہ کے حکموں اور اسوہ سے دور لے جانے والے نہ ہوں بلکہ ہر دن ہمیں اللہ تعالیٰ کے وعدے کی قدر کرنے والا بنائے۔ پس اس حوالے سے اب میں عہد لوں گا۔ آپ سے میری درخواست ہے کہ آپ بھی جو یہاں موجود ہیں احباب بھی کھڑے ہو جائیں اور خواتین بھی کھڑی ہوںجائیں، دنیا میں موجود لوگ جو جمع ہیں وہ سب بھی کھڑے ہو کر یہ عہد دہرائیں۔
’’اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔‘‘
آج خلافت احمدیہ کے سو سال پورے ہونے پر ہم اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ ہم اسلام اور احمدیت کی اشاعت اور محمد رسول اللہ ﷺ کا نام دنیا کے کناروں تک پہنچانے کے لئے اپنی زندگیوں کے آخری لمحات تک کوشش کرتے چلے جائیں گے اور اس مقدس فریضہ کی تکمیل کے لئے ہمیشہ اپنی زندگیاں خدا اور اس کے رسول ﷺ کے لئے وقف رکھیں گے۔ اور ہر بڑی سے بڑی قربانی پیش کر کے قیامت تک اسلام کے جھنڈے کو دنیا کے ہر ملک میں اونچا رکھیں گے۔
ہم اس بات کا بھی اقرار کرتے ہیں کہ ہم نظامِ خلافت کی حفاظت اور اس کے استحکام کے لئے آخری دم تک جہدو جہد کرتے رہیں گے۔ اور اپنی اولاد در اولاد کو ہمیشہ خلافت سے وابستہ رہنے اور اس کی برکات سے مستفید ہونے کی تلقین کرتے رہیں گے تاکہ قیامت تک خلافت احمدیہ محفوظ چلی جائے اور قیامت تک سلسلہ احمدیہ کے ذریعہ اسلام کی اشاعت ہوتی رہے اور محمد رسول اللہ ﷺ کا جھنڈا دنیا کے تمام جھنڈوں سے اونچا لہرانے لگے۔ اے خدا تو ہمیں اس عہد کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرما۔ اَللّٰھُمَّ اٰمِیْن۔ اَللّٰھُمَّ اٰمِیْن۔ اَللّٰھُمَّ اٰمِیْن۔
پس اے مسیح محمدی کے غلامو! آپ کے درخت وجود کی سرسبز شاخو! میں امید کرتا ہوں کہ اس عہد نے آپ کے اندر ایک نیا جوش اور ایک نیا ولولہ پیدا کیا ہوگا۔ شکر گزاری کے پہلے سے بڑھ کر جذبات ابھرے ہوں گے۔ پس اس جوش اور ولولے اور شکر گزاری کے جذبات کے ساتھ خلافت احمدیہ کی نئی صدی میں داخل ہو جائیں۔ یہ 27 مئی کا دن ہمارے اندر ایک نئی روح پھونک دے، ایک ایسا انقلاب برپا کر دے جو تا قیامت ہماری نسلوں میں یہی انقلاب پیدا کرتاچلا جائے۔ اللہ تعالیٰ کا اس دور میں ہمیں داخل کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے درخت وجود کی سرسبز شاخیں بننے کی ہم کوشش کرتے ہیں اور کر رہے ہیں۔
آپ علیہ السلام اپنی جماعت کو کس پیار کی نظر سے دیکھتے ہیں، کتنا حسن ظن رکھتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں:
’’جو کچھ ترقی اور تبدیلی ہماری جماعت میں پائی جاتی ہے یہ زمانے بھر میں کسی دوسرے میں نہیں۔‘‘ (ملفوظات جلد 5 صفحہ 536۔ جدید ایڈیشن)
کیا یہ حسن ظن ہم سے تقاضا نہیں کرتا کہ ہم اپنے اندر انقلاب پیدا کرنے کی پہلے سے بڑھ کر کوشش کریں۔ اپنے عہد کو پورا کرنے کے لئے ہر قربانی کے لئے تیار رہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اس احسان پر جو خلافت کی صورت میں اس نے ہم پر کیا اپنی روحانی ترقی کی نئی منزلوں کی نشاندہی کریں۔ اللہ تعالیٰ کے اس احسان پر اپنے عہدِ بیعت کو نبھانے کی پہلے سے بڑھ کر کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ کے اس احسان پر، خلافت سے وفا اور اطاعت کے معیار بلند سے بلند تر کرتے چلے جائیں۔ اس احسان کے شکرانے کے طور پر اپنوں اور غیروں میں پیار اور محبت کے نغمے بکھیرتے چلے جائیں۔ یقیناً یہی نیکیاں اور شکر گزاری ہمارا مطمح نظر ہونی چاہئیں۔ یقیناً پیار اور محبت کے سوتے ہمارے دلوں سے پھوٹنے چاہئیں۔ یقیناً عہد وفا کے نئے نئے راستوں کا تعین ہماری زندگی کا مقصد ہونا چاہئے۔ اور جب یہ ہوگا تو ہم اللہ تعالیٰ کے انعام کی قدر کرنے والے ٹھہریں گے۔ جب یہ ہوگا تو ہم دائمی خلافت کے فیض سے فیضیاب ہونے والے بنتے چلے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے انعاموں اور فضلوں کی نہ ختم ہونے والی بارشیں ہم پر برسیں گی۔
پس اے میرے پیار و اور میرے پیاروں کے پیارو! اٹھو آج اس انعام کی حفاظت کے لئے نئے عزم اور ہمت سے اپنے عہد کو پورا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور گرتے ہوئے، اس سے مدد مانگتے ہوئے میدان میں کود پڑو کہ اسی میں تمہاری بقا ہے، اسی میں تمہاری نسلوں کی بقا ہے اور اسی میں انسانیت کی بقا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو بھی توفیق دے۔ اللہ تعالیٰ مجھے بھی توفیق دے کہ ہم اپنے عہد کو پورا کرنے والے ہوں۔ اَللّٰھُمَّ اٰمِیْن
ژژژ