فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: كُلُّ مَيِّتٍ يُخْتَمُ عَلٰى عَمَلِهِ إِلَّا الَّذِي مَاتَ مُرَابِطًا فِي سَبِيلِ اللّٰهِ، فَإِنَّهُ يُنْمَى لَهُ عَمَلُهُ إِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَيَأْمَنُ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ ، وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ ۔ (سنن ترمذي/كتاب فضائل الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1621)
حضرت فضالہ بن عبید رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر میت کے عمل کا سلسلہ بند کر دیا جاتا ہے سوائے اس شخص کے جو اللہ کے راستے میں سرحد کی پاسبانی کرتے ہوئے مرے، تو اس کا عمل قیامت کے دن تک بڑھایا جاتا رہے گا اور وہ قبر کے فتنہ سے مامون رہے گا،میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا: مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس سے جہاد کرے۔
عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ أَنَّهُ رَجَعَ مِنْ بَعْضِ غَزَوَاتِهِ فَقَالَ رَجَعْنَا مِنَ الْجِهَادِ الْأَصْغَرِ إلى الجِهَادِ الَّا كَبَرِ قِيلَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ وَمَا الجِهَادُ الاكْبَرُ قَالَ وَهِيَ مُجَاهِدَةُ النَّفْسِ
(رد المختار علی الدر المختار ج ۳ ص ۲۳۵)
ایک دفعہ سیدنا محمد مصطفی ﷺ ایک جنگ سے واپس لوٹ رہے تھے تو آپ نےفرمایا کہ ہم جہاد اصغر(سب سے چھوٹے جہاد )سےواپس آرہے ہیں اور جہاد اکبر(سب سے بڑےجہاد )کی طرف جا رہے ہیں۔ آپؐ سے دریافت کیا گیا کہ جہاد اکبر کیا ہے۔ آپ نے فرمایاوہ مجاہدہ نفس ہے۔