عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ’’ إِذَا ضُيِّعَتِ الْأَمَانَةُ، فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ‘‘، قَالَ كَيْفَ إِضَاعَتُهَا يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ قَالَ’’ إِذَا أُسْنِدَ الْأَمْرُ إِلَى غَيْرِ أَهْلِهِ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ‘‘ (بخار ی کتاب الرقاق۔باب رفع الامانۃحدیث نمبر :6496)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا :جب امانتیں ضائع ہونے لگیں تو قیامت کا انتظار کرنا۔سائل نے عرض کیا :یا رسو ل اللہ ! ان کے ضائع ہونے سے کیا مراد ہے؟ فرمایا:جب نااہل لوگوں کو حکمران بنایا جائے تو قیامت کا انتظار کرنا۔
عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ ’’ إِنَّ الْخَازِنَ الْمُسْلِمَ الْأَمِينَ الَّذِي يُنْفِذُ، وَرُبَّمَا قَالَ يُعْطِي مَا أُمِرَ بِهِ فَيُعْطِيهِ كَامِلًا مُوَفَّرًا، طَيِّبَةً بِهِ نَفْسُهُ، فَيَدْفَعُهُ إِلَى الَّذِي أُمِرَ لَهُ بِهِ أَحَدُ الْمُتَصَدِّقَيْنِ ‘‘ (مسلم کتاب الزکوٰۃ باب اجر الخازن الامین والمرأۃ)
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺنے فرمایا کہ وہ مسلمان جو مسلمانوں کے اموال کا نگران مقرر ہوا اگر وہ ا مین اور دیانتدار ہے اور جو اسے حکم دیا جاتاہے اسے صحیح صحیح نافذ کرتاہے اور جسے کچھ دینے کا حکم دیا جاتا ہے اسے پوری بشاشت اور خو ش دلی کے ساتھ اس کاحق سمجھتے ہوئے دیتاہے تو ایساشخص بھی عملاً صدقہ دینے والے کی طرح صدقہ دینے والا شمار ہوگا۔