اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




ارشاد نبویﷺ

2026-09-10

رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سننا اصل زندگی ہے

عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي، فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَانِي، فَلَمْ آتِهِ حَتَّى صَلَّيْتُ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ:" مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَ، أَلَمْ يَقُلِ اللّٰهُ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلّٰهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ (سورة الأنفال آية :25)’’ ثُمَّ قَالَ:" لَأُعَلِّمَنَّكَ أَعْظَمَ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ"، فَذَهَبَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَخْرُجَ، فَذَكَرْتُ لَهُ، وَقَالَ مُعَاذٌ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، سَمِعَ حَفْصًا، سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا، وَقَالَ: هِيَ" الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ( الفاتحة:2) السَّبْعُ الْمَثَانِي‘‘.

[صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4647]

حضرتابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکارا۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نہ پہنچ سکا بلکہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ آنے میں دیر کیوں ہوئی؟ کیا اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم نہیں دیا ہے ’’ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلّٰهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ‘‘کہ ”اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی آواز پر لبیک کہو، جبکہ وہ (یعنی رسول) تم کو بلائیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسجد سے نکلنے سے پہلے میں تمہیں قرآن کی عظیم ترین سورۃ سکھاؤں گا۔ تھوڑی دیر بعد آپ باہر تشریف لے جانے لگے تو میں نے آپ کو یاد دلایا۔ اور معاذ بن معاذ عنبری نے اس حدیث کو یوں روایت کیا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے خبیب نے، انہوں نے حفص سے سنا اور انہوں نے ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے، سنا اور انہوں نے بیان کیا وہ (سورۃ فاتحه) (الحمد لله رب العالمين)ہے جس میں سات آیتیں ہیں جو ہر نماز میں مکرر پڑھی جاتی ہیں۔

تشریح:يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلّٰهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ :اس آیت میں لِمَا يُحْيِيْكُمْ کے معنی ہیں: اس بات کی طرف جو تمہاری اصلاح کرے۔ احیاء بمعنی اصلاح ہے۔ اللہ اور رسول کی بات مانو کیونکہ وہ ان باتوں کی راہنمائی کرتے ہیں جن سے تمہاری اصلاح ہوگی۔ تفسیر سورة آل عمران باب ۱۲ میں بھی یہ مضمون بیان ہوا ہے۔