اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




ارشاد نبویﷺ

2025-12-25

تمام مخلوق اللہ کاخاندان ہے اللہ کو سب سے پیارا وہ ہے جو اسکے خاندان سے حسن سلوک کرتا ہے

عَنْ اَبِیْ نَضْرَۃَ حَدَّثَنِیْ مَنْ سَمِعَ خُطْبَۃَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ فِیْ وَسْطِ اَیَّامِ التَّشْرِیْقِ فَقَالَ یَا اَیُّھَا النَّاسُ اَلَا اِنَّ رَبَّکُمْ وَاحِدٌ وَاِنَّ اَبَاکُمْ وَاحِدٌ ، اَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی عَجَمِیٍّ وَلَا لِعَجَمِیٍّ عَلٰی عَرَبِیٍّ وَلَا لِاَحْمَرَ عَلٰی اَسْوَدَ وَلَا لِاَسْوَدَ عَلٰی اَحْمَرَ اِلَّا بِالتَّقْوٰی اَبَلَّغْتُ ؟ قَالُوْا بَلَّغَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ۔
ثُمَّ قَالَ : اَیُّ یَوْمٍ ھٰذَا ؟ قَالُوْا : یَوْمُ حَرَامٍ ، قَالَ : اَیُّ شَھْرٍ ھٰذَا ؟ قَالُوْا : شَھْرُ حَرَامٍ، قَالَ : ثُمَّ اَیُّ بَلَدٍ ھٰذَا؟ قَالُوْا: بَلَدُ حَرَامٍ، قَالَ :
فَاِنَّ اللہَ قَدْ حَرَّمَ بَیْنَکُمْ دِمَاءَکُمْ وَاَمْوَالَکُمْ، قَالَ:وَلَا اَدْرِیْ،قَالَ اَوْ بَلَدَکُمْ ھٰذَا ۔ اَبَلَّغْتُ ؟ قَالُوْا : بَلَّغَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ قَالَ:
لِیُبَلِّغِ الشَّاھِدُ الْغَائِبَ۔
حضرت ابونضرہؓبیان کرتے ہیں کہ مجھے اس شخص نے بتایا جس نے حضور کا وہ خطبہ حجّۃالوداع سُنا جو آپؐنے ایام مِنٰی میں دیا تھا ۔ کہ آپ نے اپنے اس خطبہ میں فرمایا اے لوگو! تمہارا خدا ایک ہے ۔ تمہارا باپ ایک ہے یاد رکھو کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر اور کسی سُرخ و سفید رنگ والے کو کسی سیاہ رنگ والے پر اور کسی سیاہ رنگ والے کو کسی سرخ و سفید رنگ والے پر کسی طرح کی کوئی فضیلت نہیں۔ ہاں تقویٰ اور صلاحیت وجہ ترجیح اور فضیلت ہے ۔ کیا میں نے یہ اہم پیغام پہنچادیا لوگوں نے (بلند آواز سے) عرض کیا ہاں اللہ کے رسول نے یہ پیغامِ حق اچھی طرح پہنچادیا پھر آپؐنے فریا یہ کون سا دن ہے؟ لوگوں نے جواب دیا (ایّام حج کا) بڑا محترم دن ہے۔ پھر آپؐنے پوچھا یہ کون سا مہینہ ہے؟ لوگوں نے جواب دیا یہ (ذوالحجہ کا) بڑا محترم مہینہ ہے ۔ پھر پوچھا یہ کون سا شہر ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا ۔ یہ (مکّہ کا) بڑا محترم شہر ہے۔ اس پر آپؐنے فرمایا ۔ تمہاری جانیں تمہارے اموال (راوی کو یاد نہیں کہ آپؐنے آبرو کا ذکر بھی فرمایا یا نہیں) اسی طرح قابلِ عزّت اور حُرمت والے ہیں جس طرح یہ دن یہ مہینہ اور یہ شہر حُرمت والے ہیں (یعنی جس طرح ان کی بے حُرمتی کا تم خیال بھی نہیں کرسکتے اسی طرح لوگوں کی جانوں اور ان کے مالوں اور ان کی آبرووں کی بے حرمتی بھی ناجائز ہے۔) پھر آپؐنے پوچھا۔ کیا میں نے یہ اہم پیغام پہنچادیا ہے ؟  لوگوں نے عرض کیا ہاں اللہ کے رسول نے سب کچھ پہنچادیا ہے ۔ آپؐنے فرمایا تو جو موجود ہیں وہ ان تک بھی اس پیغام کو پہنچادیں جو یہاں موجود نہیں ۔
(مسند احمدجلد 5 صفحہ 411 مسند احمد جلد1 صفحہ 230 عن ابن عباسؓ)
(بحوالہ حدیقۃ الصالحین مصنفہ ملک سیف الرحمٰن صاحب حدیث 704)
عَنْ ابْنِ عُمَرَ   رَضِیَ   اللہُ  عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ   اللہِ صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَسَلَّم : لَا تَحَاسَدُوْا وَلَا تَنَاجَشُوْا وَلَا تَبَاغَضُوْا وَلَاتَدَابَرُوْا وَلَا یَبِعْ بَعْضُکُمْ عَلٰی بَیْعِ بَعْضٍ، وَکُوْنُوْا عِبَادَ اللہِ اِخْوَانًا ۔ اَلْمُسْلِمُ اَخُوالْمُسْلِمِ : لَا یَظْلِمُہٗ وَلَا یَحْقِرُہٗ وَلَا یَخْذُلُہٗ التَّقْوٰی ھٰھُنَا ۔ وَیُشِیْرُ اِلٰی صَدْرِہٖ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ بِحَسْبِ امْرِیءٍ مِّنَ الشَّرِّ اَنْ یَحْقِرَ اَخَاہُ الْمُسْلِمَ کُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُہٗ وَمَالُہٗ وَعِرْضُہٗ ۔
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ایک دوسرے سے حسد نہ کرو۔ ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کے لئے بڑھ چڑھ کر بھاؤ نہ بڑھاؤ ۔ ایک دوسرے سے بُغض نہ رکھو ایک دوسرے سے پیٹھ نہ موڑو یعنی بے تعلقی کا رویّہ اختیارنہ کرو ایک دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرو بلکہ اللہ تعالیٰ کے بندے اور آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو ۔ مسلمان اپنےبھائی پر ظلم نہیں کرتا ۔ اس کی تحقیر نہیں کرتا ۔ اس کو شرمندہ یا رسوا نہیں کرتا ۔ آپؐنے اپنے سینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ۔ تقویٰ یہاں ہے ۔ یہ الفاظ آپؐنے تین دفعہ دہرائے پھر فرمایا ۔ انسان کی بدبختی کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقارت کی نظر سے دیکھے ہر مسلمان کا خون ، مال اور عزّت و آبرو دوسرے مسلمان پر حرام اور اس کے لئے واجب الاحترام ہے ۔
(مسلم کتاب البر والصلۃ باب تحریم ظلم المسلم وخذلہ)
(بحوالہ حدیقۃ الصالحین مصنفہ ملک سیف الرحمٰن صاحب حدیث 705)
عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍ   رَضِیَ   اللہُ  عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ   اللہِ صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَسَلَّم : اَنَا وَ کَافِلُ الْیَتِیْمِ فِیْ الْجَنَّۃِ ھٰذَا وَاَشَارَ بِالسَّبَّابَۃِ وَالْوُسْطٰی وَفَرَّجَ بَیْنَھُمَا ۔
حضرت سہل بن سعدؓبیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ میں اور یتیم کی دیکھ بھال میں لگارہنے والا جنّت میں اس طرح  ساتھ ساتھ ہوں گے ۔ آپؐنے وضاحت کی غرض سے انگشتِ شہادت اور درمیانی انگلی کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ رکھ کر دکھایا کہ اس طرح ۔
(بخاری باب فضل من یعول یتیمًا)
(بحوالہ حدیقۃ الصالحین مصنفہ ملک سیف الرحمٰن صاحب حدیث 712)
عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ   اللہِ صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اَعْطُوْا الْاَجِیْرَ اَجْرَہٗ قَبْلَ اَنْ یَّجِفَّ عَرَقَہٗ۔
حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ مزدور کو اس کی مزدوری اس کاپسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو۔
(ابن ماجہ کتاب الرھون باب اجرا الاجراء)
(بحوالہ حدیقۃ الصالحین مصنفہ ملک سیف الرحمٰن صاحب حدیث 728)
عَنْ   اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ   رَضِیَ   اللہُ  عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ   اللہِ صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : قَالَ اللہُ تَعَالٰی ثَلَاثَۃٌ أَنَا خَصْمُھُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ، رَجُلٌ اَعْطَیٰ بِیْ ثُمَّ غَدَرَ وَرَجُلٌ بَاعَ حُرًّا فَأَکَلَ ثَمَنَہٗ وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ اَجِیْرًا فَاسْتَوْفٰی مِنْہُ وَلَمْ یُعْطِہٖ اَجْرَہٗ ۔
حضرت ابوہریرہؓنے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : تین شخص ایسے ہیں جن سے قیامت کے دن مَیں سخت بازپُرس کروں گا۔ ایک وہ جس نے میرے نام پر کسی کو امان دی اور پھر دھوکا بازی اور غدّاری کی ۔ دوسرا آدمی وہ ہے جس نے کسی آزاد کو پکڑ کر بیچ دیا اور اس کی قیمت لے کر کھاگیا ۔ تیسرا آدمی وہ ہے جس نے کسی کو مزدوری پر رکھا، اس سے پورا پورا کام لیا لیکن اس کو طے شدہ مزدوری نہ دی۔
(بخاری کتاب البیوع باب اثم من باع حرًّا و ابن ماجہ)
(بحوالہ حدیقۃ الصالحین مصنفہ ملک سیف الرحمٰن صاحب حدیث 728)
عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ :  لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یُحِبَّ لِاَخِیْہِ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِہٖ۔
حضرت انسؓبیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ دوسرے کے لئے بھی وہی چیز پسندنہیں کرتا جووہ اپنے لئے پسند کرتا ہے ۔ یعنی اگر اپنے لئے آرام ، سُکھ اور بھلائی چاہتا ہے تو دوسرے کے لئے بھی یہی چاہے۔
(بخاری کتاب الایمان باب من الایمان ان یحب لاخیہ ما یحب لنفسہ)
(بحوالہ حدیقۃ الصالحین مصنفہ ملک سیف الرحمٰن صاحب حدیث 731)
…٭…٭…٭…